لاہور(مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو اور سعودی وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے واشنگٹن میں ملاقات کی ہے، جس میں علاقائی سلامتی اور استحکام پر بات چیت، ایران، غزہ، سوڈان اور یمن کی صورتِ حال سمیت آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمد و رفت کے تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔عرب میڈیا کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ اور سعودی وزیرِ خارجہ کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن میں حوثی جنگجوں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں نے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں میں کارروائیاں تیز کرنے کے ساتھ سعودی عرب کے ہوائی اڈوں اور تیل کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا ہے۔سعودی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے خطے میں سیاسی و سیکیورٹی صورتِ حال، یمن کے بحران اور اس کے حل کے لیے جاری کوششوں پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ دونوں نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری راستوں کی سلامتی اور آزادانہ آمد و رفت یقینی بنانے کی اہمیت پر زور دیا۔سعودی وزیرِ خارجہ فیصل بن فرحان امریکی ہم منصب مارکو روبیو سے ملنے واشنگٹن پہنچ گئے۔ملاقات سے قبل امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا تھا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے حوثیوں کے خلاف امریکی فوجی مدد طلب کی تھی۔عرب میڈیا نے امریکی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ امریکا نے براہِ راست حملے کرنے سے انکار کیا ہے تاہم سعودی عرب کو انٹیلی جنس اور اہداف سے متعلق معاونت فراہم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔دوسری جانب مارکو روبیو نے لبنان کے وزیرِ اعظم نواف سلام سے بھی ملاقات کی، نواف سلام نے امریکا سے لبنان اور اسرائیل کے درمیان امریکی ثالثی میں طے پانے والے جنگ بندی معاہدے پر عمل درآمد کے لیے عملی اقدامات کا مطالبہ کیا۔عرب میڈیا کے مطابق لبنان میں جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کا جنوبی علاقوں سے مرحلہ وار انخلا اور لبنانی فوج کو وہاں تعینات کر کے حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے تاہم ابتدائی تعیناتی کے بعد عمل درآمد رک گیا ہے۔حزب اللہ ہتھیار چھوڑنے سے انکار کرتے ہوئے پہلے اسرائیلی انخلا کا مطالبہ کر رہی ہے۔لبنانی وزیرِاعظم نے مکمل اسرائیلی انخلا، تمام ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں لانے اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے واضح نظام الاوقات اور قابلِ اعتماد نگرانی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے متاثرین کی امداد، تعمیرِ نو، بے گھر افراد کی واپسی اور لبنانی فوج کے لیے مسلسل عالمی تعاون پر بھی زور دیا ہے۔
