اسلام آباد، پشاور(ویب ڈیسک ، نیوز ایجنسیاں ) حکومت اور اپوزیشن کے درمیان سیاسی معاملات پر مذاکرات کے پہلے دور میں فریقین کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے ،دوسرا دور آج (ہفتہ کو) ہوگا، ادھر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے لانگ مارچ کو زندگی موت کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ بانی سے ملاقات اور ہسپتال منتقلی کی شرط سے پیچھے نہ ہٹا جائے ، دوسری جانب وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کے پی حکومت کو واضح پیغام دیا ہے کہ اب ایسے نہیں چلے گا۔ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جمعے کے روزسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کے چیمبر کے کمیٹی روم میں مذاکرات ہوئے ۔ حکومت کی جانب سے مذاکراتی وفد کی قیادت سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے کی جب کہ دیگر ارکان میں وزیر داخلہ محسن نقوی، وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری، وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری اور رانا ثنا اللہ بھی شریک تھے ۔ اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم میں سینیٹ میں اپوزیشن لیڈر علامہ راجا ناصر عباس، چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر، سابق سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر، عامر ڈوگر اور سلمان اکرم راجہ شامل تھے ۔پیپلزپارٹی کی جانب سے سینیٹر شیری رحمان، نوید قمر اور اعجاز جاکھرانی اجلاس میں شریک ہوگئے ۔اپوزیشن وفد کا سپیکر چیمبر پہنچنے پر سردار ایاز صادق نے استقبال کیا۔ذرائع کے مطابق مذاکراتی دور میں فریقین کے درمیان بعض معاملات پر گرما گرمی بھی دیکھنے میں آئی تاہم اس دوران دونوں جانب سے بات چیت میں کوئی تعطل نہیں آیا اور مذاکرات بدستور جاری رہے ۔سفارشات کے تبادلے کے بعد دونوں فریق اپنے اپنے اراکین کے ساتھ سر جوڑ کر بیٹھ گئے اور اپنے اپنے مطالبات اور تجاویز پر مشاورت کی ۔ذرائع کے مطابق اپوزیشن رہنما ئوں نے اپنے قائدین کو بھی مذاکرات میں ہونے والی پیش رفت اور زیرِ بحث معاملات سے آگاہ کیا ۔دوسری جانب حکومتی ارکا ن نے اپوزیشن کی جانب سے پیش کیے گئے مطالبات اور سفارشات پر مشاورت کی ۔ذرائع کے مطابق کمیٹی روم میں جاری مذاکرات میں رانا ثنااللہ اور راجا ناصر عباس کے درمیان عدالتی معاملات پر تبادلہ خیال کے دوران تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا۔ راجا ناصرعباس نے عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد نہ ہونے اور بانی چیئرمین سے ملاقاتوں پر پابندی کے حکومتی اقدامات پر تنقید اور مایوسی کا اظہار کیا۔اس موقع پر رانا ثنااللہ نے موقف اپنایا کہ عدالتیں اپنا کام کر رہی ہیں اور حکومت لانگ مارچ سے متعلق عدالتی فیصلوں پر عمل درآمد یقینی بنائے گی۔حکومتی وفد نے سخت موقف اپناتے ہوئے واضح کیا کہ احتجاج کے نام پر اسلام آباد پر چڑھائی کی اجازت ہرگز نہیں دی جائے گی اور لانگ مارچ یا اڈیالہ جیل پر حملے کی دھمکیاں دینا درست سیاسی رویہ نہیں ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومتی ارکان نے یہ بھی موقف اپنایا کہ صرف حکومت ہی نہیں بلکہ اپوزیشن کو بھی لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔اس موقع پرسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے مداخلت کی اور فریقین پر افہام و تفہیم کے ذریعے معاملات کو آگے بڑھانے پر زور دیا۔ ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے اراکین نے مذاکرات کے دوران زیادہ تر خاموشی اختیار کیے رکھی۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے مذاکرات کے دوران خیبر پختونخوا کے حالات اور امن و امان کی صورتِ حال پر حکومتی اور اپوزیشن رہنماؤں کو بریف بھی کیا۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق سے صحافیوں نے کمیٹی روم پہنچنے سے قبل سوال کیا کہ کیا وہ مذاکرات میں سہولت کاری کا کردار ادا کر رہے ہیں اور کیا اس عمل کا کوئی نتیجہ نکلے گا۔اس پر سپیکر نے جواب میں سورہ فاتحہ کی پہلی آیت الحمدللہ رب العالمین پڑھی۔سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کا مزید کہنا تھا کہ وہ صرف سہولت کار کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دعاگو ہیں کہ مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوں، اختلافِ رائے اور مسائل کے حل کا واحد راستہ مذاکرات ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کا دفتر مسائل کے حل اور مذاکرات کیلئے ہمیشہ کھلا ہے۔سپیکر ایاز صادق نے کہا کہ عہدے اور دفاتر عارضی ہوتے ہیں، پارلیمان ہی وہ فورم ہے جہاں مسائل کا حل نکالا جاسکتا ہے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر کا کہنا تھا کہ مذاکرات اچھے ماحول میں ہوئے، امید ہے بات چیت کا سلسلہ ہفتہ کو بھی جاری رہے گا۔جمعے کے روز مذاکرات سے قبل وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات ہورہے ہیں، اچھی امید کے ساتھ مذاکرات میں بیٹھیں گے۔ مسائل کا حل بات چیت کے ذریعے نکالنا ملک کے لیے بہتر ہے۔طارق فضل چوہدری کا کہنا تھا کہ بار بار اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کے بجائے سیاسی رویہ اپنانا پڑے گا، مذاکرات میں ممکنہ حل کی جانب بڑھیں گے۔وزیر مملکت داخلہ طلال چوہدری کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے ہر جگہ مذاکرات کی دعوت دی، پارلیمانی جماعتوں سے مذاکرات میں کبھی جھجک نہیں رہی۔ انہوں نے کہا کہ آئیں مسائل پارلیمنٹ کے اندر بیٹھ کر بات چیت کے ذریعے حل کریں اور اس موقع کو ضائع نہ کریں۔سلمان اکرم راجا نے کہا کہ ہم انصاف کی بات کریں گے، انصاف مکمل ختم ہوچکا ہے، ہمیں پانی پی ٹی آئی سے ملاقات اور مشاورت چاہیے،اگریہ ملاقات ہوتی ہے تو معاملہ آگے بڑھے گا، ورنہ ایسا ہی رہے گا، ہمیں پانی پی ٹی آئی کی رہائی اور انصاف چاہیے ۔ اسد قیصر کا کہنا ہے کہ ہم بانی سے اس لیے ملاقات چاہتے ہیں تاکہ ان سے مل کر ایجنڈا طے کریں، ہم بانی سے ملاقات کریں گے اور اس کی روشنی میں آگے بڑھاجائیگا، عمران خان کی بہنوں کے حوالے سے بات ہوگی لیکن بانی سے ملنے کا معاملہ سب سے اہم ہے، سب سے پہلے ہم سمجھتے ہیں کہ ہمیں اپنے لیڈر سے ملاقات کرنے دی جائے۔عامر ڈوگر کا کہنا تھا میں شروع سے ملاقات اور مذاکرات کا حامی ہوں، سیاسی معاملات کو محاذ آرائی میں تبدیل نہیں کرنا چاہیے، ہم نہیں چاہتے کسی ادارے کے ساتھ ہمارا تصادم یا لڑائی ہو۔علامہ ناصر عباس نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان سے محمود اچکزئی کی ملاقات کا معاملہ رکھیں گے، بانی سے ملاقات کے بغیر معاملات حل ہو ہی نہیں سکتے، ان مذاکرت کے حوالے سے کچھ شرائط طے ہونی چاہیے، مسائل کا آسان ترین حل بانی پی ٹی آئی سے ملاقات ہے۔دریں اثناء وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے اپنی پریس کانفرنس میں کے پی حکومت کے خلاف چارج شیٹ پڑھ کر سنائی اور واضح پیغام دیا ہے کہ اب ایسا نہیں چلے گا۔سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ آپ دہشتگردی کی سہولت کاری میں ملوث ہوکر سیاست کے پیچھے نہیں چھپ سکتے، ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ واضح الفاظ بتا دیا ہے۔خواجہ آصف نے کہا ہم دہشت گردی سے لڑ رہے ہیں، آپ آگے کیوں نہیں آتے؟ آپ کیا بزدل ہیں یا دہشت گردوں سے ملے ہوئے ہیں؟ دہشت گردی کے بیانیے میں کنفیوژن ڈالتے ہیں، پولیس کی کیپسٹی بلڈنگ کیوں نہیں کرتے۔خواجہ آصف نے گزشتہ روز کی پریس کانفرنس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کے پی حکومت کی تقریبا چارج شیٹ پڑھ کرسنا دی، بالکل واضح پیغام، اب ایسا نہیں چلے گا۔ وزیر دفاع کا کہنا ہے ہماریلئے سب سے اہم یہ ہے کہ ریاست ہے تو سیاست ہے، ریاست ہے تو جمہوریت ہے اور ریاست ہے تو میں اور آپ ہیں۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ لانگ مارچ کیلئے ایک دن میں 4کروڑ روپے جمع ہوگئے۔پشاور میں چندہ مہم کے دوران کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ لانگ مارچ کیلئے چندہ مہم کا آغاز کردیا ہے اور کال کے بعد صرف ایک دن میں 4کروڑ روپے جمع ہوئے۔انہوں نے کہا کہ چندہ مہم میں حصہ لینے والوں کے مشکور ہیں، یہ مہم جاری رہے گی اور فنڈز کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے جنوبی اضلاع والوں کیلئے پیغام ہے کہ اب لانگ مارچ زندگی اور موت کا مسئلہ بن گیا ہے، یہ اب عمران خان کی رہائی یا تحریک انصاف کا مسئلہ نہیں بلکہ امن کے قیام کا مسئلہ ہے۔وزیراعلی نے کہا کہ یہ جنگ آپ نے خود لڑنی ہے، ہم انتظامات نہ کرسکیں آپ نے خود تیاری کرنی ہے، یہ جہاد ہے اور ظالم کو روکنا بھی جہاد ہے۔ سہیل آفریدی نے مزید کہا کہ لانگ مارچ پرامن ہوگا دو ہاتھوں دو پائوں کے ساتھ نہتے آنا ہے، ہم نے انتشار پھیلانے نہیں دینا۔ قبل ازیں خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ محمد سہیل آفریدی نے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین بیرسٹر گوہر سے کہا ہے کہ حکومت سے مذاکرات میں بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات اور ان کی ہسپتال منتقلی کی شرط سے کسی صورت پیچھے نہ ہٹاجائے۔چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر نے حکومت سے مذاکرات کے بعد وزیراعلی سہیل آفریدی سے رابطہ کیا اورانہیں مذاکرات کے حوالے سے آگاہ کیا۔دوسری جانب پی ٹی آئی کی قیادت مشاورت کے لیے آج پشاور میں سرجوڑ کر بیٹھے گی جس کے لیے بیرسٹر گوہر سمیت پارٹی رہنما اسلام آباد سے پشاور کے لیے روانہ ہوگئے ہیں، اس موقع پر حکومت سے ہونے والے مذاکرات پر مشاورت کی جائے گی۔دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے سیکرٹری اطلاعات اور ترجمان شوکت یوسف زئی نے کہا ہے کہ عمران خان کی رہائی، ہسپتال منتقلی اور مقدمات کی جلد سماعت کے تین مطالبات کے لیے لانگ مارچ کی تیاری مکمل ہے۔پی ٹی آئی خیبرپختونخوا کے ترجمان شوکت یوسفزئی نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان تحریک انصاف کا لانگ مارچ جنوبی اضلاع سے شروع ہوگا، وزیراعلی سہیل افریدی جنوبی اضلاع سے جلوس کی قیادت کریں گے۔ادھروزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور و مسلم لیگ ن کے رہنما رانا ثنا اللہ نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی کو لانگ مارچ کی کال واپس لینی چاہیے، لانگ مارچ اور انتشار کسی مسئلے کا حل نہیں، مذاکرات سے معاملات طے ہو سکتے ہیں۔ پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ جو معاملات عدالتوں میں زیرِ سماعت ہیں، ان کا فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے اور جو معاملات مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر طے ہو سکتے ہیں، ان پر بات ہونی چاہیے ۔
مذاکرات بے نتیجہ
بریکنگ نیوز
- مذاکرات بے نتیجہ ختم آج پھر اجلاس لانگ مارچ ختم کریں حکومتی وفد بانی سے ملاقات کرائیں اپوزیشن رہنما
- شہباز شریف آسان کاروبار ایکٹ پورے ملک میں نافز کیا جائے
- شمالی وزیرستان سکیورٹی فورسز کا انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن 7خوارج جہنم واصل
- بس بہت ہو گیا پاک فوج 9 مئی جیسے حالات کو پوری قوت سے کچلنے کا اعلان
- ایرانی قوم کی ہمت، بہادری اور ثابت قدمی نے پوری دنیا کو حیران کر دیا : پیوٹن
- ڈیزل بحران اور ٹرمپ کی دھمکی’ ایمانوئل میکرون کی زیر صدارت جی 7 کا ہنگامی اجلاس
- سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے شہدا اسکوائر میں ریلیوں میں شرکت کی، منتظمین کا دعویٰ
- اسرائیل جانیوالا طیارہ ہائی جیک کرنیکی کوشش متحدہ عرب امارات نے دہشتگردی قرار دیدیا
- دہشت گردی کی کوئی درجہ بندی نہیں ہوتی ہر حکومت کو 5 سال پورے کرنے چاہیں مریم نواز
- محمد آصف زندہ ہیں تو بھارت نے کشمیر میں کس بے گناہ کو شہید کیا عطا تارڑ
- اسحاق ڈار کی زیر صدارت اجلاس، گیس کے غیر حساب شدہ نقصانا ت پر غور
- مدینہ منورہ پر حملہ امت مسلمہ کے دلوں عقیدے پر حملہ ہے : فضل الرحمن
- راہل گاندھی کی مدھیہ پردیش میںقبائلیوں کی حالت زارپر بی جے پی حکومتوں پر کڑی تنقید
- مدینہ حملہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر تابر توڑ جوابی کاروائیاں
- حکومت نے پٹرول2.10 روپے ڈیزل 30 پیسے مہنگا کر دیا
- آئی ایم ایف نے پاکستان کو پیٹرول پر سبسڈی سکیم کی مخالفت کردی
- میکرو اکنامک استحکام برقرار رکھنا حکومت کی اہم ترجیح وزیر خزانہ
- حکومت اپوزیشن مذاکرات برائے نام، شیر افضل مروت
- امید ہے اپوزیشن لانگ مارچ غیر مشروط ختم کردے گی: بلاول بھٹو
- مکہ معاہدہے کے حامی خطے کے ممالک کا اپنی سلامتی کی ذمہ داری خود سنبھالنا خوش آئیند روسی سفیر
