راولپنڈی(خصوصی رپورٹر)میونسپل کارپوریشن راولپنڈی کی خصوصی تحقیقاتی کمیٹی نے جنرل بس سٹینڈ پیرودھائی میں خلاف میرٹ امور، قومی رقوم کے غلط استعمال اور مالی بے ضابطگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے جنرل بس سٹینڈ کی بہتری کے لئے اپنی سفارشات ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو پیش کردی ہیں جبکہ جنرل بس سٹینڈ کی خستہ حالی اور تجاوزات کی بھرمار کے ساتھ حفاظتی انتظامات کو بھی انتہائی ناقص قرار دیتے ہوئے جنرل بس سٹینڈ کو سکیورٹی رسک قرار دیا گیا ہے یہ سفارشات گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر کیپٹن (ر) ندیم ناصر کی سربراہی میں منعقدہ اجلاس میں پیش کی گئیں اجلاس میں سیکریٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر سوشل سروسز فضائل مدثر، ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر میونسپل سروسز جنید عالم اور کمیٹی کے دیگر اراکین نے شرکت کی۔ اجلاس میں جنرل بس سٹینڈ کی مجموعی صورت حال، انتظامی و مالی معاملات، سکیورٹی، ٹرانسپورٹ آپریشنز اور مسافروں کو فراہم کی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیتے ہوئے اسے جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کے لئے کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات کا جائزہ لیا گیا کمیٹی کی رپورٹ میں بتایا کہ جنرل بس سٹینڈ پیرودھائی 1976 سے قائم ہے جس کا رقبہ 210 کنال سے زائد ہے اور اس وقت سی کلاس بس سٹینڈ کے طور پر کام کر رہا ہے جہاں روزانہ تقریبا 40 ہزار مسافروں کی آمدورفت ہوتی ہے، جبکہ تقریبا 65 پبلک سروس گاڑیاں فی گھنٹہ یہاں سے گزرتی ہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ رپورٹ کے مطابق 65 ٹرانسپورٹ کمپنیوں کے لئے 37 فعال سٹینڈ دستیاب ہیں، تاہم مسافروں اور ٹرانسپورٹ آپریشنز کی ضروریات کے پیش نظر موجودہ انفراسٹرکچر اور انتظامی نظام میں بہتری کی ضرورت ہے۔ کمیٹی نے سفارش کی کہ بس سٹینڈ کو سی کلاس سے بی کلاس میں اپ گریڈ کرنے کے لئے اور مستقبل کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے نئے ماسٹر پلان کی تیاری اور بے کی تعداد تقریبا 80 تک بڑھانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے ساتھ گاڑیوں کی پارکنگ، آمد و روانگی، مختلف شہروں کے لئے ٹرانسپورٹ آپریشنز اور ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کے لئے منظم اور کمپیوٹرائزڈ نظام کی تنصیب کا بھی جائزہ لیاگیا۔ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2018-19 سے 2025-26 تک جنرل بس سٹینڈ کی مجموعی آمدن تقریبا 66 کروڑ 82 لاکھ روپے رہی، جس میں دکانوں، پٹرول پمپس، ہوٹلوں، کینٹین اور دیگر عمارتوں کے کرایوں کی آمدن شامل نہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس عرصے کے دوران تقریبا 17 کروڑ ایک لاکھ روپے ترقیاتی کاموں، 6 کروڑ 71 لاکھ روپے آپریشنل اخراجات پر خرچ ہوئے، جبکہ تقریبا 43 کروڑ 10 لاکھ روپے میونسپل کارپوریشن کے جنرل فنڈ میں رکھے گئے۔ کمیٹی نے بس سٹینڈ کی سکیورٹی صورت حال کا جائزہ لیتے ہوئے چار دیواری کی عدم موجودگی، داخلی و خارجی راستوں پر ناکافی انتظامات، غیر فعال سی سی ٹی وی کیمروں اور مسافروں کے سامان کی چیکنگ کے لئے مناسب سہولیات نہ ہونے کی نشاندہی کی۔ رپورٹ میں ٹریول آئی سسٹم پر مکمل عمل درآمد اور رات کے اوقات میں سکیورٹی بہتر بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا۔ مسافروں، ٹرانسپورٹرز اور عملے کے تحفظ کے لئے چار دیواری کی تعمیر، سکیورٹی کمپنی کی خدمات حاصل کرنے، کم از کم 25 سکیورٹی گارڈز کی تعیناتی، سی سی ٹی وی کیمروں کی فعالیت اور کنٹرول روم کے قیام کی سفارش کی گئی۔ داخلی و خارجی راستوں کی نگرانی اور سکیورٹی چیکنگ کے نظام کو بھی مثر بنانے کی تجویز دی گئی۔ اس بات کا بھی جائزہ لیاگیا کہ بعض مقامات پر ایک سے زائد ٹرانسپورٹ کمپنیاں ایک ہی بے استعمال کر رہی ہیں، جبکہ بے کی سب لیٹنگ، غیر منظم پارکنگ اور بس سٹینڈ سے باہر مسافروں کو سوار کرنے کے باعث ٹرانسپورٹ آپریشنز متاثر ہوتے ہیں۔ اسی طرح دکانوں، کانٹرز، ریڑھیوں اور عارضی کاروباری سرگرمیوں کے باعث بعض راستے متاثر ہونے کی نشاندہی بھی کی گئی۔ کمیٹی نے بے کی ازسرنو جانچ، شفاف الاٹمنٹ، غیر مجاز سب لیٹنگ کے خاتمے، کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ اور گاڑیوں کی پارکنگ و روانگی کے باقاعدہ نظام کی سفارش کی۔ بس سٹینڈ کی اراضی کو اصل مقصد کے مطابق استعمال میں لانے، تجاو
