راولپنڈی(شاہد ملک سے)خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے فیصلے کے بعد پی ٹی آئی راولپنڈی کی قیادت معمول کے مطابق گزشتہ 3 سال سے خود ساختہ روپوشی کے باعث کارکنوں کو کوئی حمکت عملی نہ دے سکے،جس کے باعث آج تک صرف چند عہدیداروں کے علاوہ نہ تو اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج میں شامل اور نہ ہی کسی دوسرے جلسے جلوس میں شرکت کر سکے،جس کی وجہ سے کارکنوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے، جبکہ تحریک انصاف پاکستان کے دور حکومت میں سب سے زیادہ وزیر مشیر راولپنڈی کے تھے،اسی وجہ سے گزشتہ روز راولپنڈی کے تمام شہر کے اہم راستوں پر ٹریفک کی آمدورفت جاری رہی جبکہ کاروباری مراکز، بازار اور تعلیمی ادارے بھی کھلے رہے۔ دوسری جانب خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی کے نفاذ اور گورنر راج کے خلاف راولپنڈی بار ایسوسی ایشن نے مکمل ہڑتال کی اور اس اقدام کے خلاف جنرل باڈی اجلاس طلب کرکے گورنر راج کو نامنظور قرار دے دیا۔تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخوا میں 11 اکتوبر کو وفاقی حکومت کی سفارش پر صدر مملکت آصف علی زرداری نے آئین کے آرٹیکل 232 اور 234 کے تحت ایمرجنسی اور گورنر راج نفاذ کی منظوری دی۔ وفاقی حکومت نے اس فیصلے کی وجہ صوبے میں امن و امان کی صورت حال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات نہ کرنے کو قرار دیا، جبکہ پاکستان تحریک انصاف نے اسے جمہوری مینڈیٹ کے خلاف اقدام قرار دیتے ہوئے مسترد کیا ہے۔ سرکاری اعلان کے مطابق ایمرجنسی کے تحت صوبے کے 12 اضلاع کے انتظامی امور کے لیے الگ انتظامی ڈھانچہ قائم کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔ادھر راولپنڈی میں سیاسی صورت حال کے پیش نظر سکیورٹی انتظامات سخت کیے گئے تھے۔ شہر میں 9 ہزار 500 سے زائد پولیس اہلکار تعینات کیے گئے تھے اور فلیگ مارچ بھی کیا گیا تھا، جبکہ دفعہ 144 کے نفاذ کے تحت عوامی اجتماعات اور اسلحے کی نمائش پر پابندی عائد ہے۔ اس کے باوجود شہریوں کے معمولات زندگی جاری رہے اور شہر میں کاروباری و تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق دکھائی دیں۔دوسری جانب راولپنڈی بار ایسوسی ایشن نے خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مکمل ہڑتال کی۔ وکلا نے اس اقدام کو جمہوری نظام، صوبائی خودمختاری اور عوامی مینڈیٹ کے حوالے سے تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔ بار ایسوسی ایشن کے جنرل باڈی اجلاس میں گورنر راج نامنظور قرار دیتے ہوئے آئین، قانون اور جمہوری اصولوں کے مطابق معاملات حل کرنے پر زور دیا گیا۔ملک کی سیاسی صورت حال کے تناظر میں راولپنڈی میں امن و امان برقرار رکھنا انتظامیہ کے لیے اہم چیلنج ہے، تاہم شہر میں معمولات زندگی جاری رہنے کے ساتھ وکلا کی ہڑتال نے خیبرپختونخوا میں وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف قانونی برادری کے احتجاج کو نمایاں کر دیا ہے۔جبکہ سابق صوبائی وزیر قانون محمد بشارت راجہ،محمد ناصر راجہ،سابق ایم پی اے تنویر بٹ،سمیت درجنوں ایم پی اے،ایم این اے،ہونے کے باوجود کوئی بھی احتجاج نہ کر سکا،جس کی وجہ سے کارکنوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے،
بریکنگ نیوز
- PTIراولپنڈی قیادت کوئی حکمت عملی نہ دے سکی کارکنوں میں مایوسی کی لہر
- اٹک: لانگ مارچ کی اسپیشل ڈیوٹی کیلئے دیگر اضلاح سے آئے پولیس اہلکار کی واپسی کا عمل جاری ہے۔
- جنرل بس سٹینڈ کی بہتری کیلئے سفارشات ڈپٹی کمشنر راولپنڈی کو پیش
- موٹر سائیکل چور گینگ کیخلاف کارروائیاں ، 2 گینگز کے 5 ملزمان گرفتار 3 مسروقہ موٹر سائیکل اور رقم برآمد
- اکبر نیازی ہسپتال ، 3 صحت مند بچوں کی مفت پیدائش
- چکلالہ پولیس کی کارروائی، قتل،اقدام قتل کے مقدمہ میں مطلوب اشتہاری گرفتار
- قاضی سعید الحسن ڈائریکٹر ایڈمنسٹریشن مقرر
- سی ڈی اے کی صفائی مہم، شہریوںنے سینیٹیشن ٹیموں کی کارکردگی کو سراہا گیا
- پشاور، ریڈیو پاکستان حملہ کیس میں وزیراعلی سہیل آفریدی سمیت 5 ملزم نامزد
- آئیسکو ریجن میں سالانہ سسٹم مینٹیننس شیڈول 2026.2027 جاری
- گورنر راج کے بعد پی ٹی آئی کے سیاست بد ترین آزمائش سے دو سے چار احتجاجی کال بے اثر
- مندرہ ککھڑی موڑ کے قریب سے الیکٹریشن کا قیمتی موٹر سائیکل تین اشخاص چوری کرکے لے گئے
- مری شہر کو صاف ستھرا رکھنے اور صفائی کے بہترین انتظامات پر سینیٹری ورکرز میں 10 ہزار روپے فی کس نقد انعام تقسیم
- ڈی ایچ او سید تقی عباس کا تحصیل جنڈ کے چار سرکاری سکولوں کا تفصیلی دورہ
- ڈیجیٹل پاکستان کے دعوے مگر انٹرنیٹ کی رفتار اور معیار پر سوالات برقرار
- لاہور ہائیکورٹ ‘ میڈیکل کے طلبائسے زائد فیس وصول کرنے کیخلافدرخواستوں پر حکم امتناعی میں توسیع
- روس نے کسی ملک پر حملہ کیا تو پوار جنگی نظام تباہ کر دینگے نیٹو کی سخت وارننگ
- سابق امیدوار اسمبلی سرور علوی کا رشید مغل اور دیگر صحافیوں سے اظہار یکجہتی
- سابقہ دشمنی کی بنا پر 20 سالہ نوجوان کو فائرنگ کرکے قتل کردیا گیا
- فاطمہ فرٹیلائزر ماحولیاتی تحفظ کیلئے پہلی کمپنی بن گئی
