Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • وزیراعلیٰ کے پی کے سہیل آفریدی چارسدہ میں جلسہ عام سے خطاب کررہے ہیں۔
    • اسلام آباد انتظامیہ نے دارالحکومت میں دفعہ 144 کے حوالے سے خبردار کردیا
    • ملک بھر میں سیلز ٹیکس چوری کا فوری تدارک ہونا چاہئے محمد اورنگزیب
    • ترسیلات زر کی وصولی پہلی سہ ماہی کے دوران 14.73 فیصد کا اضافہ
    • عمرہ کے نام پر انسانی سمگلنگ کا شبہ 2 لاکھ پاکستانی زائرین وطن واپس نہ پہنچ سکے
    • آئین کا آرٹیکل 232، ایمرجنسی کیلئے صوبائی اسمبلی کی قرارداد ضروری، مگر صدر اعلان کرسکتے ہیں
    • عوام کی عزتِ نفس ‘ وقار پر صرف ایک شخص کھڑا ہوا’ وہ خان ہے: فواد چودھری
    • حمزہ شہباز کی اپنے حلقے میں تعزیت کیلئے متعدد پارٹی ورکرز کے گھرآمد
    • چین کی امریکی جوہری تنصیبات کے باہمی دوروں سے متعلق رپورٹ کی تردید
    • پولیو پروگرام کے افسران کی تنخواہیں کلیئر ورکرز معاوضہ سے محروم
    • لائبہ اعجاز خود کشی کیس میں پیشرفت ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل نے مقدمہ درج کر لیا ‘وزیر اعظم کا نوٹس’ ملزم کی فوری گرفتاری کا حکم
    • ڈی ڈی ایم اینٹری سٹیٹس رپورٹ کاعکس۔
    • نواز شریف لندن چلے گئے 5روز قیام اور طبی معائنے کا امکان
    • پنجاب پولیو پروگرام کے سربراہ خالد پرویز کاموقف دینے سے گریز
    • ہماری بیٹیاں بے پناہ صلاحیتوں، حوصلے اور خوابوں کی مالک ہیں:بلاول بھٹو
    • کراچی، انمول پنکی کے بھائی کو اشتہاری قرار دے دیا گیا
    • خیبرپختونخوا؛ ٹانک میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے الیکشن کمیشن کے ڈائریکٹر جنرل شہید ہوگئے
    • اداکارہ کومل عزیز کے وزن اضافے پرسوشل میڈیا پر تبصرے
    • صوابی میں نامعلوم افراد نے نوجوان کو قتل کر دیا
    • ڈپٹی کمشنر میرپور کا دوہرے سرٹیفکیٹ کی منسوخی کا نوٹیفکیشن جاری
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ساہیوال کا واقعہ: سی ٹی ڈی پنجاب کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

    By Daily Khabrainجنوری 23, 2019
    Share Facebook Twitter Email WhatsApp
    Share
    Facebook Twitter Email WhatsApp

    لاہور (ویب ڈیسک ) دہشت گردوں کے خلاف کارروائیوں کے لیے شہرت رکھنے والا کاو¿نٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پنجاب کیا کبھی ساہیوال جیسے واقعات کی وجہ سے توجہ کا مرکز بن سکتا تھا؟دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے قائم کیے جانے والے اس ادارے کے قیام اور موجودہ شکل تک پہنچنے میں اس کے ارتقا پر نظر رکھنے والے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے امکانات ہمیشہ سے موجود تھے۔ایسا کیوں ہے؟ اس کو سمجھنے کے لیے ساہیوال کے واقعے کے پس منظر میں سی ٹی ڈی کے قیام کی وجوہات، اس کے پاس موجود اختیارات، اس کے کام کرنے اور خصوصاً انٹیلی جنس اکٹھا کرنے کے طریقہ کار پر نظر ڈالنا ضروری ہے۔ابتدا میں کاو¿نٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ یا سی ٹی ڈی پولیس کا کرمنل انویسٹیگیشن ڈیپارٹمنٹ تھا۔ سنہ 2007 کے بعد پاکستان میں دہشت گردی کی لہرسے داخلی سلامتی کے خطرے سے نمٹنے کے لیے ایک غیر فوجی ادارے کی ضرورت محسوس ہوئی۔یہ ایسا ادارہ تھا جو انٹیلی جنس جمع کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے واقعات کی تحقیقات کرنے، مجرموں کو سزا دلوانے اور دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہو۔ اس کے لیے سی آئی ڈی کا انتخاب کیا گیا۔صوبائی سطح پر اس کی موجودگی پہلے سے تھی۔ سنہ 2010 میں سی آئی ڈی کا نام بدل کر سی ٹی ڈی کر دیا گیا جس کا دائرہ کار صوبائی سطح تک بڑھایا گیا۔سنہ 2015 میں سی ٹی ڈی کے لیے مخصوص پولیس سٹیشن قائم کیے گئے جہاں دہشت گردی سے متعلقہ مقدمات درج کیے جاتے اور ان کی تفتیش کی جاتی ہے۔سی ٹی ڈی کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا نظام موجود ہے۔ اس کی روشنی میں ادارہ اپنی کارروائیاں ترتیب دیتا ہے۔ اس کے دفاتر صوبوں کے مراکز کے علاوہ دیگر مقامات پر بھی قائم ہیں۔چند برس قبل سی ٹی ڈی کے اندر ایک کاو¿نٹر ٹیررزم فورس بھی قائم کی گئی۔ سی ٹی ڈی پنجاب کی ویب سائٹ کے مطابق پڑھے لکھے 1200 جوانوں پر مشتمل اس فورس کو جدید تقاضوں کے عین مطابق پاک فوج اور دوست ممالک سے تربیت دلوائی گئی ہے۔‘تربیت کے بعد انھیں پنجاب بھر میں تعینات کیا گیا، جہاں وہ اپنے مقررہ کام سرانجام دیتے ہیں۔دفاعی تجزیہ کار عامر رانا کے خیال میں یہ فورس ’ٹرینڈ ٹو کِل‘ ہوتی ہے۔ یعنی وہ دہشت گردوں کے خلاف ’جان سے مارنے‘ کی غرض سے کارروائی کرتے ہیں۔ انھوں نے کہااس میں تو کوئی دو رائے نہیں۔ ان کو جو احکامات ملیں گے انھیں ان پر عمل درآمد کرنا ہے۔تاہم ان کا کہنا تھا کہ سی ٹی ڈی کے آپریشنز کی منصوبہ بندی میں ”پورا تھِنک“ ٹینک شامل ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ ایک افسر نے فورس اکٹھی کی اور آپریشن کرنے چل پڑے۔ اس میں دیگر اداروں کی رائے بھی شامل ہوتی ہے۔سی آئی ڈی کے زمانے سے ہی ادارے کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے کا موثر نظام موجود ہے۔ عامر رانا کے مطابق سی ٹی ڈی معلومات اکٹھی کرنے کے ساتھ ساتھ ان کا تجزیہ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔سی ٹی ڈی کے پاس انٹیلی جنس اکٹھی کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے کا نظام موجود ہےتاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان فوج کی طرف سے شت گردوں کے خلاف رد الفساد جیسے آپریشن کیے گئے۔ اس دوران مشترکہ آپریشن بھی کیے جاتے رہے۔ ’اس کے بعد پھر سی ٹی ڈی پنجاب پر باقی اداروں کا اثر و رسوخ آنا شروع ہوا۔خیال رہے کہ ساہیوال کے واقعے کے فوراً بعد بھی جاری کردہ بیان میں سی ٹی ڈی پنجاب نے کہا تھا کہ مذکورہ کارروائی جس انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی گئی اس میں پاکستان کے بنیادی حساس ادارے آئی ایسں آئی کی اِن پ±ٹ یا رائے بھی شامل تھی۔کیا ساہیوال میں کچھ مختلف ہوا؟ساہیوال کے واقعے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ ’سی ٹی ڈی کی جانب سے آپریشن انٹیلی جنس کی بنیاد پر کیا گیا۔‘ سی ٹی ڈی کے مو¿قف کے مطابق یہ آپریشن ساہیوال میں مارے جانے والے چار افراد میں شامل ذیشان نامی شخص کے خلاف کیا گیا۔تو کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ ذیشان کے خلاف انٹیلی جنس کی نوعیت ایسی تھی کہ آپریشن کرنے والی ٹیم کو گولی چلانے کے احکامات دیے گئے تھے؟تجزیہ نگار عامر رانا کا خیال ہے کہ اس واقعے کو الگ تھلگ نہیں دیکھنا چاہیے۔ سی ٹی ڈی پنجاب کے مطابق انھوں نے حالیہ دنوں میں گوجرانوالہ اور فیصل آباد میں ایسے ہی آپریشن کیے تھے۔ ساہیوال آپریشن بھی اس کی ایک کڑی تھا۔’یہ دیکھنا ہوگا کہ کیا یہ ایک ادارہ جاتی فیصلہ تھا کہ جہاں بھی کوئی مشتبہ افراد ہیں انھیں بےاثر کیا جائے؟ پھر یہ کہ ایسا فیصلہ کس سطح پر اور کس خطرے کے پیشِ نظر کیا گیا؟پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تجزیہ کار، پولیس سمیت تمام قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کردار کو مانتے ہیں۔ اس میں سی ٹی ڈی کا بھی بڑا ہاتھ ہے۔ تاہم صوبہ پنجاب ہی میں سی ٹی ڈی کی موجودگی میں دہشت گردوں کی جانب سے بڑی کارروائیاں بھی کی گئیں۔ان میں لاہور میں مناواں پولیس اکیڈمی پر حملہ، ایف آئی اے کی عمارت پر دھماکہ، ماڈل ٹاو¿ن، داتا دربار، مال روڈ اور گڑھی شاہو میں بم دھماکوں جیسے واقعات شامل ہیں۔عامر رانا کا ادارہ پاکستان انسٹیٹیوٹ آف پیس سٹڈیز ایسے واقعات کی باقاعدہ جانچ پڑتال کرتا ہے۔ ان کا ماننا ہے کہ سی ٹی ڈی سندھ نے اس جنگ میں نسبتاً زیادہ کامیابی حاصل کی ہے۔ انھوں نے کالعدم تنظیم داعش کے انصارلاشریعہ جیسے نیٹ ورک ختم کیے ہیں۔سی ٹی ڈی پنجاب کو بڑا خطرہ تین کالعدم گروہوں سے تھا۔ ان میں ایک پنجابی طالبان کے ٹوٹے ہوئے گروپ تھے۔ مگر ان میں سے بیشتر کو قبائلی علاقوں یا پھر افغانستان میں بےاثر بنایا گیا ہے۔’تاہم پنجاب کو جماعت الاحرار جیسی کالعدم تنظیم کا سامنا رہا جسے ختم کرنے میں سی ٹی ڈی پنجاب نے اہم کردار ادا کیا ہے۔اسی طرح تحریکِ طالبان پاکستان کے چند سلیپنگ سیل ختم کرنے میں بھی ان کا کردار رہا ہے۔ جہاں تک داعش یا القاعدہ جیسے بڑے خطرات سے نمٹنے کی بات ہے تو اس کا کریڈٹ تمام اداروں کو مشترکہ طور پر جاتا ہے۔ساہیوال جیسے واقعات کیوں ہوتے ہیں؟حکومتِ پنجاب نے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کی روشنی میں ساہیوال کے واقعے میں گولی چلانے والے پانچ سی ٹی ڈی اہلکاروں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی عدالت میں قتل کے مقدمات چلانے کا حکم دیا ہے۔تمام تر توجیہات کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا گولی چلانا ہی آخری راستہ تھا؟ کسی کے خلاف دہشت گردی کے خدشات تھے تو اسے گرفتار کر کے صفائی کا موقع کیوں نہیں دیا گیا؟عامر رانا کا خیال ہے کہ ایسے واقعات کے بار بار ہونے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ سی ٹی ڈی سمیت داخلی سلامتی کے اداروں کو بےپناہ اختیارات تو دیے گئے ہیں تاہم ان کے احتساب کو یقینی بنانے کے لیے کوئی موثر نظام دستیاب نہیں۔اگر ایسے واقعات ہوتے رہے تو ان کے نتائج الٹ بھی نکل سکتے ہیں۔ آج بھی ایسے عناصر موجود ہیں جو ایسے واقعات کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔عامر رانا کا کہنا ہے کہ ساہیوال کے واقعے میں حکومت کے پاس ایسا نظام بنانے کا ایک اور موقع موجود ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      ایڈیلیڈ اسٹرائیکرز کو تجربہ کار کھلاڑیوں کی تلاش بی بی ایل کا آغاز 12 دسمبر سے ہو گا

      ٹرمپ کے بجائے جج کو نوبیل امن انعام’ امریکا نے عالمی عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

      سائبیرین لیبارٹری واقعے پر جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، ماریہ زخارووا

      تازہ ترین

      ٹرمپ کے بجائے جج کو نوبیل امن انعام’ امریکا نے عالمی عدالت پر پابندیاں عائد کردیں

      سائبیرین لیبارٹری واقعے پر جھوٹی معلومات پھیلائی جا رہی ہیں، ماریہ زخارووا

      پٹرول 66 پیسے سستا ڈیزل52 پیسے مہنگا

      خیبر پختونخوا میں گورنر راج آخری آپشن ہوگا:بلاول بھٹو

      سونے کی قیمت میں 6 ہزار روپے کا بڑا اضافہ 10 گرام سونا 3 لاکھ 80 ہزار کے قریب

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.