کراچی (ویب ڈیسک)ایس ایس پی ملیر راﺅ انوار(SSP Rao Anwaar) پر لگائے گئے تمام الزامات غلط ثابت ہوئے ، وزیراعلیٰ سندھ کی جانب سے بنائی گئی کمیٹی نے ایس ایس پی کو کلیر قرار دیدیا۔ببانگِ دہل سندھ اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار کو گرفتار کر کے انہیں اپنے ساتھ لے گئے تو معطلی ان کا مقدر بنی ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے اس مسئلے کے حل کے لئے ایک کمیٹی بنائی جس میں ڈی آئی جی سمیت دو ایس ایس پیز شامل تھے۔گزشتہ رات وزیراعلیٰ ہاﺅس سے ایس ایس پی راﺅ انوار کو خوش خبری ملی کہ کمیٹی نے ان پر لگائے گئے تمام الزامات غلط قرار دیئے اور انہیں فوری وزیراعلیٰ ہاﺅس طلب کیا جہاں ان کی ملاقات وزیراعلیٰ سندھ سے ہوئی۔یہ پہلا موقع نہیں کہ ایس ایس پی ملیر کو معطل کر کے عہدے سے ہٹایا گیا ہو ، اس قبل بھی سیاسی جماعت کے دو عہدیداروں کی گرفتاری کے بعد انھیں اپنی سیٹ سے ہاتھ دھونا پڑا تھا پھر کمیٹی بنائی گئی اور تمام الزامات غلط ثابت ہوئے۔ملک دشمن عناصر ہوں یا کالعدم تنظیموں کے کارندے راﺅ انوار ہر وقت ان سے برسرِ پیکار رہے ، یہی وجہ ہے کہ ایس ایس پی راﺅ انوار پر متعدد بار حملے بھی ہو چکے ہیں۔عہدے پر بحالی کے بعد ایس ایس پی راﺅ انوار کا کہنا کہ ایک بار پھر وہ ملک اور قوم کی خدمت کرنے کیلئے پر عزم ہیں۔
ایس ایس پی راﺅ انوار کو کلین چٹ مل گئی

