محمود کوٹ پارکو آئل ریفائنری میں اربوں روپے کی کرپشن کا انکشاف ہوا ہے۔انکشاف اس وقت ہوا جب پارکو میں کرپشن کے کرداروںکے درمیان لیں دین کے تنازع نے شدت اختیار کی۔تفصیل کے مطابق پارکو کے شعبہ ایل سی ڈی ایف ایریا جہاں کے پی کے کے ضلع کر سے بذریعہ آئل ٹینکر کروڈ آئل (خام تیل)آکر خالی ہوتا ہے جہاں مذکورہ آئل کو بڑے ٹینکوں میں سٹور کرنے کے بعد ریفائنری میں ریفائن ہونے کے لیے بھیج دیا جاتا ہے۔پارکو کے متعلقہ شعبہ میں کام کرنے والے ٹیکنالوجسٹ محمد طارق نے پارکو افسران بالا کو بتایا کہ کئی مہینوں سے پارکو کے چھوٹے بڑے ملازمین نے آئل مافیاسے گٹھ جوڑ کیا ہوا ہے۔آئل مافیا پارکو ملازمین کی وساطت سے آئل ٹینکر میں کروڈ آئل کی جگہ پانی بھر کر ان لوڈ کرتے ہوئے روزانہ پارکو کو کروڑوں کا نقصان پہنچانے میں مصروف کار ہیں۔کرپشن بے نقاب ہونے کے خوف سے کسی بھی پارکو آفیسر نے انکوائری کرنا مناسب نہ سمجھا جس پر محمد طارق نے ایم ڈی پارکو کو کراچی کو کرپشن بارے آگاہ کیا تو ہیڈ آفس سے انکوائری ٹیموں نے موقع پر پہنچ کر حقائق کی چھان بین کی تو معلوم ہوا کہ کروڈ آئل کے ٹینکوں میں تقریباً چوبیس لاکھ لٹر کروڈ آئل کی جگہ پانی پایا گیاجس کی محتاط اندازے سے مالیت ڈیڑھ ارب سے زائد بنتی ہے۔اربوں روپے کی کرپشن منظر عام پر آنے کے بعد پارکو افسران کے ہاتھ پاﺅں پھول کر رہ گئے ہیں۔اور اپنی اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لئے اپنے خفیہ ذرائع کے ذریعہ انکوائری ٹیم پر دباﺅ بڑھانا شروع کر دیا ہے۔یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کرپشن میں پارکو افسران کے علاوہ ڈسکون کمپنی کے ملازمین اور عسکری پرائیویٹ سکیورٹی کمپنی کے سکیورٹی گارڈ بھی ملو ث ہیں جن کے خلاف خفیہ ذرائع سے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔دوسری طرف پارکو کو انتظامیہ آئل کرپشن کو چھپانے کے لیے اپنے تمام ذرائع کو بوئے کار لانے میں مصروف ہے۔
پارکوآئل/ٹوٹل کمپنی کے پیٹرول میں پانی ملانے کا تہلکہ خیز انکشاف

