پی ایس ایل کا 10واں ایڈیشن 11 اپریل سے شروع ہورہا ہے۔ ملک کے چار شہروں کراچی، لاہور، راولپنڈی اور ملتان میں کھیلے جانے والے ایونٹ کا فائنل 18مئی کو لاہور میں شیڈول ہے۔
پی ایس ایل کے دونوں سیمی فائنلز اور فائنل سمیت 12میچز لاہور میں، 11راولپنڈی جبکہ پانچ پانچ میچز کراچی اور ملتان میں کھیلے جائیں گے۔
حیرت انگیز طور پر ملک کے بڑے سینٹر کراچی میں میچوں کی تعداد محدود کردی گئی ہے۔ ایونٹ کیلئے 22ہزار سے زائد زرقون کے پتھر سے تیارشدہ ٹرافی کو نہ صرف ملک کے کم و بیش تمام شہروں میں سفر کرایا گیا۔ ساتھ ہی ٹرافی کی کراچی کے ساحل پر توجہ طلب اور منفرد انداز میں رونمائی بھی کی گئی۔
یہ منظر قابل دید اس لیے بھی تھا کہ ایک غیرملکی غوطہ خور نے کھلے سمندر کی گہرائی میں غوطہ لگا کر کسی خزانے کی طرح اسے برآمد کیا۔ اس موقع پر پی ایس ایل کے آفیشلز، فرنچائز کے نمائندے اور کرکٹرز بھی موجود تھے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ 2016ء میں دبئی سے شروع ہونے والی پی ایس ایل نے نہ صرف پاکستان کرکٹ میں ایک انقلاب برپا کیا ہے بلکہ دنیائے کرکٹ میں پاکستان کے سوفٹ امیج کو بھی بہتر کیا ہے۔ پی ایس ایل میں غیرملکی کھلاڑیوں کی شرکت نے بھی اسے ایک مستند برانڈ کی صورت میں آگے بڑھایا ہے۔
یہ پی ایس ایل ہی ہے جس میں دنیائے کرکٹ کے مختلف ممالک کے شاندار کارکردگی کے حامل کھلاڑیوں نے شرکت کرکے دنیا کو یہ باور کرایا کہ نہ صرف پاکستان کرکٹ سے محبت کرنے والوں کا ملک ہے بلکہ یہاں انٹرنیشنل کرکٹ ہوسکتی ہے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ یہاں کم و بیش دو دہائیوں سے زیادہ عرصے تک نہ آنے والی ٹیموں نے اعتماد کے ساتھ ایک مرتبہ پھر پاکستان میں کھیلنے میں بھرپور دلچسپی کا اظہار کیا اور اب آسٹریلیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیمیں حالیہ سالوں میں مسلسل پاکستان آرہی ہیں۔
یقیناً یہ پاکستان کرکٹ کیلئے خوش آئند اور حوصلہ افزا علامت ہے جس کے پاکستان میں کرکٹ کی ترقی کے حوالے سے دوررَس مثبت نتائج سامنے آئیں گے۔
واضح رہے کہ 2024ء میں پی ایس ایل سیزن 9کا ٹائٹل اسلام آباد یونائیٹڈ حاصل کرنے میں کامیاب رہا تھا جو اس سے پہلے 2016اور 2018ء میں بھی اپنی بہترین کارکردگی کے باعث پی ایس ایل کا چیمپئن بننے میں کامیاب رہا تھا۔
اس طرح اسلام آباد یونائیٹڈ سب سے زیادہ بار پی ایس ایل کا ٹائٹل اپنے پاس رکھنے میں کامیاب رہی ہے۔ لاہور قلندرز دو مرتبہ جبکہ کوئٹہ، پشاور، کراچی اور ملتان کی ٹیمیں ایک ایک مرتبہ جیت چکی ہیں۔ اس مرتبہ اسلام آباد یونائیٹڈ کی ٹیم اپنے اعزاز کا دفاع کرے گی۔
یہ بات بھی توجہ طلب ہے کہ پی ایس ایل اور بھارت میں ہونے والی آئی پی ایل کم و بیش ایک ہی تاریخوں میں کھیلی جارہی ہیں جس کی وجہ سے بعض ایسے کھلاڑی جو اس سے قبل پی ایس ایل میں شرکت کرتے رہے ہیں، وہ آئی پی ایل کو ترجیح دیتے نظر آتے ہیں۔
یاد رہے کہ بھارت میں ہونے والی آئی پی ایل 22مارچ سے 25مئی تک جبکہ پی ایس ایل 11اپریل سے 18مئی تک شیڈول ہے۔

