Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • پنجاب میں گندم کی فی من قیمت 4,500 سے 4,800 روپے ہے، جبکہ خیبر پختونخوا (کے پی کے) میں فی من قیمت 5,000 روپے ہے
    • بھارت میں احتجاج شدت اختیار کرگیا اپوزیشن رہنما راہول گاندھی گرفتار
    • 22 جولائی سے ملک بھر میں پیٹرول پمپ بند کرنے کا اعلان
    • میسی کا ارجنٹائن کی ورلڈ کپ شکست پر جذباتی پیغام
    • گوجرانوالہ میں 220 ملی میٹر بارش، 10 سالہ ریکارڈ ٹوٹ گیا
    • لاہور کے اسپتال میں پنجاب کی پہلی روبوٹک سرجری کامیاب
    • امریکا کو ہتھیاروں کی کمی کا سامنا، ایران اب بھی مضبوط عسکری صلاحیت رکھتا ہے
    • ایران کا اسپین کو فلسطینی حمایت پر خراجِ تحسین
    • حکومت کا ڈیزل درآمد پر PSO کو خصوصی اختیار، دیگر کمپنیوں پر پابندی
    • نئی اے آئی چپس سے گوگل جیمنی کی کارکردگی میں 10 گنا بہتری
    • ورڈپریس خامیوں سے ہیکرز کا حملہ، لاکھوں ویب سائٹس خطرے میں
    • راولپنڈی، اسلام آباد اور لاہور میں اربن فلڈنگ الرٹ جاری
    • لینڈ سلائیڈنگ کے بعد جھیل سیف الملوک روڈ سیاحوں کے لیے بند
    • پاکستان میں سونے کی قیمت میں بڑا اضافہ
    • گیانا کشتی حادثہ: 27 لاشیں برآمد، عملے کی غفلت پر تحقیقات شروع
    • پاکستان نے قومی جیم اسٹون پالیسی منظور کر لی، 2030 تک 50 کروڑ ڈالر برآمدات کا ہدف
    • پیٹرول ڈیلرز کی روزانہ قیمتوں کے نظام کی حمایت، 8 فیصد مارجن بڑھانے کا مطالبہ
    • امریکی فوج کا ایران پر تازہ حملوں کا سلسلہ مکمل ہونے کا اعلان
    • امریکا کا مشرقِ وسطیٰ کشیدگی پر عالمی سطح پر احتیاطی انتباہ جاری
    • کینوا کی پی آئی اے کی نئی شناخت کے لیے قومی مقابلے کی تجویز
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    ایک مثالی ’صحافتی جدوجہد‘ کی کہانی

    By Khabrain Newsمئی 6, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    کسی بھی محاذ پر ’جدوجہد‘ میں اسکے ’نظریہ‘ کا مضبوط ہونا اور قیادت کا ثابت قدم رہنا عام طورپر اس کی کامیابی کی ضمانت سمجھا جاتا ہے مگر اس کا کوئی وقت مقرر نہیں ہوتا ،ضروری نہیں کہ جس قیادت نے اس جدوجہد کا آغاز کیا ہو کامیابی اسے اس کی زندگی میں مل جائے قیادت تو تبدیل ہوتی رہتی ہے کبھی کمزور تو کبھی مضبوط قیادت سامنے آتی ہے مگر تنظیم اس وقت کمزور پڑجاتی ہے جب قیادت کسی مصلحت کا شکار ہوجائے یا ’اتحاد ‘انتشار کا شکار ہوجائے۔

    پاکستان شاید دنیا کا واحد ملک ہے جہاں صحافیوں اور میڈیا میں کام کرنیوالے مزدوروں نے جدوجہد کی وہ مثالیں قائم کی ہیں جو خود دنیا کیلئےایک مثال ہیں۔ اس راہ میں قیدوبند بھی برداشت کی گئی، کوڑے بھی کھائے، جانوں کا نذرانہ بھی دیا ریاستی اور حکومتی جبر بھی برداشت کیا اور کالے قوانین کا سامنا بھی کیا اور اب بھی کررہے ہیں۔ حیرت ہوئی جب 3؍مئی کو صحافت کے ’عالمی دِن‘ کے موقع پر حکمرانوں کے بیانات پر نظر پڑی یعنی وہ آزادی صحافت کی بات کررہے ہیں جن کی وجہ سے صحافی بھی اور صحافت بھی ’پابندِ سلاسل‘ ہے جس معاشرے میں خبر جرح اور صحافی مجرم بناکر، ہتھکڑی لگا کر پیش کیا جائے وہ لوگ کیسے صحافیوں کو تحفظ کا یقین دلاسکتے ہیں۔

    بے گناہ کون ہے اس شہر میں قاتل کے سوا میں نے جنوبی ایشیا ہی نہیں دنیا بھر میں صحافتی جدوجہد کی تاریخ پر نظر ڈالی تو مجھے کم ہی ایسی کوئی تنظیم یا تحریک نظر آئی جس نے جدوجہد کی وہ تاریخ رقم کی ہو جو پاکستان میں 2؍اگست 1950ء میں پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (پی ایف یو جے) نے اپنے قیام سے آج تک رقم کی۔ مگر وہ بنیادی نظریہ تھا کیا اور قیادت کس طرح مثال بنی اس پر کتاب بھی موجود ہے، ڈاکیو منٹری بھی اور زندہ مثالیں بھی ان صحافیوں کی شکل میں جنہوں نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں مگر اصولوں پر ڈٹے رہے۔

    ان 75برسوں میں یقینی طور پر قیادت تبدیل ہوتی رہی کبھی مضبوط اور کبھی کمزور قیادت آئی ریاست نے ہر حربہ استعمال کیا دباؤ میں لانے کا ،کبھی سختی تو کبھی لالچ جو ہمیں تقسیم کی طرف بھی لےگیا مگر جو صحافی رہنما یا صحافی سرکارکی گود میں چلے گئے وقتی اور ذاتی فائدے کی خاطر ان کو تاریخ تحریک توڑنے والوں کے طور پر یاد رکھتی ہے اور جو نظریے سے مضبوطی کے ساتھ کھڑے رہے اُن کو تاریخ آزادیٔ صحافت کے ہیرو کے طور پر یاد رکھتی ہے وہ ایم اے شکور ہوں، اسرار احمد ہوں، کےجی مصطفیٰ ہوں، منہاج برنا ہوں،نثار عثمانی ہوں ،احفاظ الرحمٰن ہوں یا آئی ایچ راشد، ان سب میں دو قدریں مشترک تھیں۔(1) اپنے نظریے پر قائم رہنا اور (2) بحیثیت صحافی اپنے کام سے غافل نہ ہونا۔مگر آخر یہ نظریہ تھا کیا جو ریاستوں اور حکومتوں کو قبول نہیں تھا اور اس کو روکنے کی خاطر میڈیا پر ایسے ایسے کالے قوانین لاگو کیے گئے جس نے انگریزوں کے دور کے قوانین کو بھی جو تحریکِ آزادی کو کُچلنے کیلئے 1857میں بنائے گئے تھے،پیچھے چھوڑ دیااور آج کا ’’پیکا قانون‘‘ اس کی ایک بدترین شکل ہے۔ وہ نظریہ تین بنیادی نکات پر مشتمل تھا۔

    (1) ملک میں آزادی صحافت اور لوگوں کو اطلاعات تک رسائی حاصل ہو۔ (2) میڈیا میں کام کرنیوالوں کے معاشی حقوق کا تحفظ اور (3) صحافیوں کی بہتر پروفیشنل تربیت تاکہ وہ اچھے صحافی بن سکیں۔ اس نظریے کے بنیادی اصولوں کیلئے ایک ضابطہ اخلاق بھی تنظیم کے آئین کا حصہ بنایا گیا جس میں صحافیوں اور ممبران کو ایک سمت دی گئی۔ آج ہمارے بہت سے دوست اور نئے آنیوالے کئی سوالات بھی اُٹھاتے ہیں جن میں کچھ دوررس اور کچھ تحریک اور تاریخ سے ناواقفیت کی بنیاد پر ہوتے ہیں۔ اس تحریک نے ہر اُس سویلین اور فوجی حکمران کو چیلنج کیا ،مزاحمت کی جس نے میڈیا کی آزادی کو سلب کرنے کی کوشش کی۔ اس سلسلے میں آج کے صحافیوں کی GEN-Z کو بتانا بہت ضروری ہے۔

    اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ صحافت، ذمہ داری کے بغیر ممکن نہیں مگر اس ذمہ داری اور غیر ذمہ داری کاتعین حکومت یا آئینی طور پر اس کا کوئی ماتحت ادارہ نہیں کرسکتا بلکہ اس کا فیصلہ صرف اور صرف ایک پروفیشنل ایڈیٹر یا مدیر کرسکتاہے کیونکہ حکومتیں تو خود غیر ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک حکمران صرف اُن صحافیوں سے خوف زدہ نظر آئے جن کی خبروں اور تبصروں نے ان کی نا اہلی اور کرپشن کو بے نقاب کیا۔

    اس ملک میں ایسے ایسے قوانین بنائے گئے جن سے نہ صرف آزادی صحافت ختم کی گئی بلکہ حقائق بیان کرنے والوں کو جیلوں میں ڈالا گیا۔ پی ایف یو جے کی تاریخ گواہ ہے کہ اُس نے ہمیشہ اِن قوانین کے خلاف آواز اٹھائی اور عملی جدوجہد کی چاہے اُس کیلئے کئی سو صحافیوں کو جیلیں بھرناپڑیں۔ حکومت کو متبادل اور مثبت تجاویز بھی دی گئیں۔ آج صحافتی جد وجہد ایک ایسے قانون کے خلاف ہورہی ہے جس نے نہ صرف صحافیوں کو بلکہ معاشرے کے ہر اُس طبقے کو متاثر کیا جہاں سے تنقیدی آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔

    اِس قانون کو سب سے پہلے 2016ء میں پیکا کے نام سے متعارف کرایا گیا۔ بظاہر مقصد ملک میں ’’سائبرکرائمز‘‘کا خاتمہ تھا،آج اس قانون کو 10سال ہوگئے ہیں ان برسوں میں تین مختلف حکومتیں آئیں دو مسلم لیگ (ن) کی اور ایک پاکستان تحریک انصاف کی۔ ہر حکومت کے دوران اُس وقت کی اپوزیشن یقین دلاتی کہ وہ اقتدار میں آئی تو اس کو ختم یا تبدیل کر دے گی مگر اقتدار کی اپنی مصلحتیں ہوتی ہیں وہ قانون آج ایک سیاہ قانون بن کر رہ گیاہے۔ لہٰذا میڈیا سے تعلق رکھنے والی ساری تنظیمیں اس کے خلاف ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ مزاحمت کی وہ شکل آخر کیوں نظر نہیں آتی جو ہمیں ماضی میں نظر آئی۔

    ہم دو کشتیوں کے سوار نہیں ہوسکتے۔ جدوجہد اور مصلحت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتیں البتہ قومی سطح پر ایک مربوط مذاکراتی عمل صرف پیکا کے حوالے سے ہی نہیں تمام کالے قوانین جو میڈیا کی آزادی کو سلب کرنےکیلئے آج بھی موجود ہیں کا آغاز ہوگیا ہے اور اگر ہمارے حکمراں ایسے کالے قوانین کا سہارا لے کر آج اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتے ہیں تو پھر واحد راستہ ’’جدوجہد‘‘ کا ہی رہ جاتا ہے مگر یہ ہر طرح کی مصلحتوں سے ماورا ہونی چاہئے۔ میڈیا اسٹیک ہولڈرز کا ایک پلیٹ فارم پر آنا خوش آئند ہے مگر کیا ہم موجودہ حالات میں قربانی دینے کو تیار ہیں یہ فیصلہ قیادت نے کرنا ہے جدوجہد اسی کا نام ہے۔

    Khabrain News

      Keep Reading

      کیا یہ واقعی عوام دوست بجٹ ہے یا صرف اعداد و شمار کا کھیل؟

      فیفا ورلڈ کپ، 48 ٹیمیں ایک خواب

      عہدہ ختم تو اہمیت ختم

      تازہ ترین

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      شارجہ سے پاکستان آنیوالا نجی کارگو طیارہ کراچی کے قریب لاپتا، ریسکیو آپریشن شروع

      نواز شریف کارڈیالوجی سرگودھا، افتتاح رواں ماہ متوقع

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.