یقیناً آپ بھی ان افراد میں شامل ہیں جنہیں اکثر و بیشتر اچانک کچھ میٹھا کھانے کی طلب ضرور ہوتی ہے۔
چینی کا استعمال موجودہ عہد میں عام ہے اور اس کی زیادہ مقدار کا استعمال مختلف امراض کا خطرہ بڑھاتا ہے۔
مگر اس سے مکمل دوری بھی صحت کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔
یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔
کویت کے Dasman ڈائیبیٹس انسٹیٹیوٹ کی تحقیق میں بتایا گیا کہ چینی کا استعمال مکمل طور پر روک دینا اتنا مفید نہیں جتنا لوگ تصور کرتے ہیں۔
تحقیق میں بتایا گیا کہ درحقیقت چینی سے مکمل دوری معدے اور میٹابولک صحت پر منفی اثرات مرتب کرسکتی ہے۔
اس تحقیق میں چوہوں کو شامل کرکے انہیں کم چکنائی والی ایسی غذا کا استعمال کرایا گیا جس میں چینی بالکل موجود نہیں تھی۔
تحقیق میں چوہوں کے ایک اور گروپ کو بھی شامل کرکے کم چکنائی والی ایسی غذا استعمال کرائی گئی جس میں چینی موجود تھی۔
16 ہفتوں تک دونوں گروپس کو ان غذاؤں کا استعمال کرایا گیا اور دیکھا گیا کہ چینی سے مکمل دوری سے چوہوں کے جسموں میں انسولین کی حساسیت، میٹابولک ہارمونز کی گردش، گلوکوز کی سطح، معدے میں موجود بیکٹیریا جبکہ جگر اور آنتوں میں ورم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ چینی سے دور رہنے والے چوہوں کو متعدد منفی اثرات کا سامنا ہوا۔
ان کا گلوکوز کنٹرول متاثر ہوا، انسولین کی مزاحمت بڑھ گئی، معدے میں بیکٹیریا کا توازن بگڑ گیا، آنتوں میں ورم بڑھا جبکہ جگر پر چربی چڑھنے کا خطرہ بڑھ گیا۔
محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہےکہ غذا سے چینی کو مکمل طور پر نکالنا معدے اور میٹابولزم کی صحت کے لیے نقصان دہ ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس تحقیق سے متوازن غذائی انتخاب کی اہمیت ظاہر ہوتی ہے تاکہ معدے اور مدافعتی نظام کو تحفظ مل سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل پہلے کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی گئی تھی کہ چینی کے استعمال کو مکمل ترک کرنے سے جسم پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
محققین کے مطابق نتائج سے مستقبل میں غذائی سفارشات کو مرتب کرنے میں مدد ملے گی۔
