اسرائیلی میڈیا کے مطابق وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز کی جانب سے ترکیہ کے خلاف سخت بیانات پر بعض اسرائیلی سکیورٹی حکام نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ ترکیہ کے خلاف جارحانہ بیان بازی اور اقدامات دونوں ممالک کے درمیان غیر ضروری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نیتن یاہو کی حکومت 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ترکیہ اور ترک صدر رجب طیب اردوان کے خلاف اپنی سیاسی بیان بازی میں اضافہ کر رہی ہے۔ نیتن یاہو اور ان کی جماعت لیکود نے ترکیہ اور اردوان کو اپنی انتخابی مہم میں نمایاں طور پر موضوع بنانا شروع کر دیا ہے۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق بعض سکیورٹی حکام کا مؤقف ہے کہ ترکیہ کے ساتھ موجود اختلاف کو کسی وسیع تر عوامی محاذ آرائی یا براہِ راست فوجی تصادم کی طرف نہیں لے جانا چاہیے۔ حکام نے خاص طور پر نیتن یاہو اور کاٹز کے حملے کے بعد دیے گئے سخت بیانات پر بھی تحفظات ظاہر کیے۔
یہ کشیدگی شام کے صوبہ ادلب میں واقع ابو الدحور ملٹری ایئربیس پر اسرائیلی حملے کے بعد مزید نمایاں ہوئی۔ چینل 12 کے مطابق اسرائیلی فوج نے منگل کی صبح اس اڈے پر حملے کی حمایت کی، جو ترکیہ کی سرحد سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ تاہم بعض سکیورٹی اہلکار چاہتے تھے کہ کارروائی اور اس کے بعد کے بیانات کو اس انداز میں نہ پیش کیا جائے جس سے انقرہ کے ساتھ براہِ راست تصادم کا خطرہ بڑھے۔
18 اگست کو اسرائیلی حملے میں ابو الدحور ایئربیس کے رن وے اور دیگر تنصیبات کو نقصان پہنچا۔ اسرائیل نے بعد میں مؤقف اختیار کیا کہ شام کی جانب سے ممکنہ طور پر ترکیہ کی فوجی موجودگی کی اجازت دینا ایک طے شدہ سکیورٹی صورتِ حال کی خلاف ورزی کے قریب تھا۔ ترکیہ نے اسرائیل کے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے حملے کو شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی قرار دیا۔
حملے کے بعد امریکا نے بھی تشویش کا اظہار کیا۔ شام کے لیے امریکی خصوصی ایلچی ٹام بارک نے اسرائیلی کارروائی کو "غیر ضروری کشیدگی” قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں استحکام کے لیے مددگار نہیں۔
دوسری جانب ترکیہ نے نیتن یاہو پر خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی پالیسی اپنانے کا الزام عائد کیا ہے۔ یوں شام میں اثر و رسوخ، ترکیہ کی ممکنہ فوجی موجودگی اور اسرائیل کی سکیورٹی ترجیحات کے باعث دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔
اسرائیلی سکیورٹی حکام کی تازہ تشویش سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسرائیل کے اندر بھی یہ رائے موجود ہے کہ ترکیہ کے ساتھ اختلاف کو انتخابی سیاست یا سخت عوامی بیانات کے ذریعے مزید بڑھانے کے بجائے براہِ راست تصادم سے بچنے کے لیے محتاط حکمتِ عملی اختیار کی جائے۔

