کوئٹہ میں پانی کا بحران سنگین، یومیہ 2 کروڑ گیلن کمی کا سامنا
کوئٹہ کی آبادی 25 لاکھ سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ شہریوں کی یومیہ پانی کی ضرورت تقریباً 5 کروڑ گیلن ہے، تاہم واسا (واٹر اینڈ سینی ٹیشن ایجنسی) کی جانب سے صرف 3 کروڑ گیلن پانی روزانہ فراہم کیا جارہا ہے، جس کے باعث شہر میں یومیہ 2 کروڑ گیلن پانی کی کمی کا سامنا ہے۔ واسا کے 417 ٹیوب ویلز میں سے تقریباً 50 خراب ہونے کے باعث بھی صورتحال مزید گھمبیر ہوگئی ہے۔ شہری قلتِ آب کے باعث مجبوراً مہنگے داموں ٹینکروں سے پانی خریدنے پر مجبور ہیں، جہاں ایک ٹینکر 5 سے 6 ہزار روپے تک میں فروخت ہورہا ہے۔ سمنگلی روڈ، جناح ٹاؤن، سریاب، قمبرانی روڈ، سرکی روڈ، رحمت کالونی، بینک کالونی، سیٹلائٹ ٹاؤن اور سبزل روڈ سمیت متعدد آبادیوں میں پانی کا بحران شدت اختیار کرگیا ہے، خواتین اور بچے دور دراز سے پانی لانے پر مجبور ہیں۔ کوئٹہ کے اطراف میں کوئی بڑا ڈیم موجود نہیں، جبکہ زیرِ زمین پانی کے ذخائر میں اضافے کا واحد قدرتی ذریعہ بارشیں ہیں۔ شہر میں سالانہ اوسط بارش صرف 185 ملی میٹر ہوتی ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی کے ذخیرے میں غیر قانونی ٹیوب ویلز کے ذریعے مسلسل اضافہ کیا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق بارشوں کے پانی کو محفوظ بنانے، غیر قانونی ٹیوب ویلز پر پابندی اور شجرکاری کے بغیر پانی کا بحران مزید سنگین ہوسکتا ہے۔
کوئٹہ میں پانی کا بحران سنگین، یومیہ 2 کروڑ گیلن کمی کا سامنا

