Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • 27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز
    • امام، رضوان کو بڑا جھٹکا، پریذیڈنٹ ٹرافی میں کھیلنے کی اجازت نہ ملی
    • سائم ایوب کو CPL سے بلانا ٹیسٹ کرکٹ کی توہین: کمنٹیٹرناصر حسین
    • یمن کے موخا ایئرپورٹ پر سعودی فضائی حملے
    • ڈرون حملوں سے بچاوں کیلئے کے پی تھانوں اور چیک پوسٹوں پر آئرن جالیاں نصب
    • پولیو سے متعلق غلط معلومات کے ادراک کیلئے ڈاکٹروں کی ٹاسک فورس تشکیل دینے کافیصلہ
    • سندھ میں بد ترین کرپشن عوام مشکلات کا شکار ہیں حافظ نعیم الرحمان
    • ایران، خلیجی ممالک کا عمان میں اہم اجلاس آبنائے ہرمز پر معاہدے کی کوشش
    • فلپائن کے مسافر بحری جہاز میں خوفناک آتشزدگی،5افرادہلاک
    • قائداعظم کی 78ویں برسی قوم کا بانیٔ پاکستان کو خراجِ عقیدت
    • علاقائی جنگ، سعودی تیل پیداوار 1990 کے بعد کم ترین سطح پر
    • کتا مار مہم میں کروڑوں کی کرپشن یونین500 سیکٹری شکنجہ شکنجہ میں ا گئے
    • سابق وفاقی وزیر حماد اظہر تک رسائی کیلئے عدالت میں درخواست دائر
    • سرکاری سکولوں میں نئے داخل ہونیوالے طلباء کو مفت درسی کتب کی عدم فراہمی کا سامنا
    • لاہور بورڈ میں ری چیکنگ کا عمل شفاف’ مثال سامنے آ گئی
    • بھارت، جاپان تاریخی ٹی20 ٹکراؤ تمام ٹکٹ فروخت ہوگئے
    • بانی پی ٹی ائی پنجاب کی پارلیمانی قیادت کا سٹریٹ موومنٹ شروع کرنے کا فیصلہ
    • موسمیاتی تبدیلیاں اگست2026 انسانی تاریخ کا گرم ترہن مہینہ قرار
    • اگست 2026 انسانی تاریخ کا گرم ترین مہینہ قرار عالمی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    انتظامی افسروں کے استعفوں سے نیا پنڈورا باکس کھل گیا

    By Khabrain Newsستمبر 10, 2026
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    ملتان (خصوصی رپورٹر) این ایف سی یونیورسٹی ملتان میں پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کے وائس چانسلر کا منصب سنبھالنے کے بعد ادارے میں ہل چل ، نئے وی سی کے آنے کے بعد ادارے میں نظم و ضبط، انتظامی معاملات اور مختلف شعبہ جات کی کارکردگی کا جائزہ لیے جانے کے ساتھ ساتھ بعض اہم عہدوں پر موجود شخصیات کی جانب سے استعفوں نے بھی کئی سوالات کو جنم دے دیا ہے
    ۔ یونیورسٹی کے تعلیمی حلقوں میں حالیہ دنوں کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر نعیم اسلم کے استعفے کو خاص طور پر زیر بحث لایا جا رہا ہے۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ نئے وائس چانسلر نے ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد مختلف شعبہ جات کی کارکردگی اور انتظامی معاملات کا جائزہ لینا شروع کیا تو کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ سے متعلق بھی بعض شکایات اور تحفظات ان کے علم میں لائے گئے۔ ذرائع کے مطابق ان میں شعبے کی تعلیمی پیش رفت، ایکریڈیشن، فیکلٹی مینجمنٹ اور طلبہ سے متعلق بعض شکایات شامل تھیں۔ یونیورسٹی کے بعض حلقوں میں یہ سوال بھی شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ نے متعلقہ کمپیوٹر ایکریڈیشن کونسل سے مطلوبہ ایکریڈیشن کے حصول کے لیے ماضی میں کیا اقدامات کیے اور اس معاملے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ کسی بھی کمپیوٹنگ پروگرام کی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل کے لیے ایکریڈیشن بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ دوسری جانب یونیورسٹی میں بعض طلبہ کی جانب سے یہ شکایات بھی گردش کر رہی ہیں کہ ماضی میں۔ ایک اور شعبہ میں تھیسسز کمپوزنگ، پرنٹنگ اور دیگر تعلیمی معاونت کے نام پر مبینہ طور پر رقوم وصول کی جاتی تھیں۔ بعض ذرائع نے یہ الزام بھی عائد کیا ہے کہ وزٹنگ فیکلٹی سے متعلق بعض معاملات میں مبینہ مالی لین دین یا کمیشن کی شکایات موجود تھیں۔ اس لیے ضروری تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ ان شکایات کی باضابطہ تحقیقات کرائے، متعلقہ طلبہ اور اساتذہ کے بیانات قلم بند کرے اور اگر کوئی مالی بے ضابطگی ثابت ہو تو ذمہ دار عناصر کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔ ایک سابق استاد کے بارے میں بھی یونیورسٹی حلقوں میں یہ بات گردش کر رہی ہے کہ انہیں مبینہ طور پر ترقی کے مناسب مواقع نہیں مل سکے اور بعد ازاں وہ محمد نواز شریف یونیورسٹی منتقل ہوگئے جہاں انہیں فل پروفیسر کا عہدہ حاصل ہوا۔ اگر یہ معاملہ درست ہے تو یہ سوال اپنی جگہ اہم ہے کہ ایک ہی استاد دوسری یونیورسٹی میں بہتر پیشہ ورانہ ترقی حاصل کرسکتا ہے تو سابق ادارے میں اس کی ترقی کے راستے میں کیا رکاوٹیں موجود تھیں۔ پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کے حامی تعلیمی حلقوں کا کہنا ہے کہ نئے وائس چانسلر نے کسی فرد کو محض عہدے یا سابقہ اثر و رسوخ کی بنیاد پر تحفظ دینے کے بجائے ادارے کی کارکردگی کو ترجیح دینے کا عندیہ دیا ہے۔ ان حلقوں کے مطابق اگر کسی شعبے، عہدے دار یا استاد کے خلاف شکایات موجود ہیں تو ان کی بنیاد پر شفاف انکوائری ہونی چاہیے اور جو شخص قصوروار ثابت ہو اسے قانون کے مطابق جواب دہ ہونا چاہیے، جبکہ بے گناہ شخص کو بھی الزامات سے بری کیا جانا چاہیے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ این ایف سی آئی ای ٹی کی سرکاری ویب سائٹ ادارے کو ایک وسیع تعلیمی ادارے کے طور پر پیش کرتی ہے، جہاں کمپیوٹر سائنس سمیت تقریباً 20 تعلیمی شعبے اور 200 پی ایچ ڈی و ایم ایس اسکالر فیکلٹی کا ذکر موجود ہے۔ اس پس منظر میں کسی ایک شعبے کی ایکریڈیشن، فیکلٹی استحکام یا انتظامی کارکردگی سے متعلق سوالات کو معمولی معاملہ قرار نہیں دیا جاسکتا، کیونکہ ان کا براہ راست تعلق ادارے کی تعلیمی ساکھ اور طلبہ کے مستقبل سے بنتا ہے۔ یونیورسٹی کے بعض حلقوں نے پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کی جانب سے انتظامی معاملات کو سختی سے دیکھنے اور مبینہ طور پر غیر مؤثر انتظامی طریقہ کار کو تبدیل کرنے کے عزم کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے میں طویل عرصے سے موجود مسائل کا حل کسی ایک شخصیت کے خلاف مہم نہیں بلکہ میرٹ، شفافیت اور احتساب میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نئے وائس چانسلر کو چاہیے کہ وہ تمام شکایات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں۔ ڈاکٹر نعیم اسلم کے استعفے کی اصل وجوہات، کمپیوٹر سائنس ڈیپارٹمنٹ کی ایکریڈیشن کی مکمل صورتحال، طلبہ کی مبینہ شکایات اور وزٹنگ فیکلٹی سے متعلق چہ میگوئیاں جاری ہے۔جبکہ یونیورسٹی انتظامیہ کا موقف ہے کہ ڈاکٹر نعیم اسلم نے بہتر آپشن ملنے پر استعفیٰ دیا یے۔ باقی کچھ نہیں۔ جبکہ ارکیٹیکچر ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والے فراڈ اور دھوکہ دہی کے حوالے سے انتظامیہ کا کہنا تھا کہ اس بارے انکوائری کمیٹی نے رپورٹ مرتب کرلی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر مہوش زہرہ، سبجیکٹ ٹیچر ڈاکٹر عدنان اور کنٹرولر رسول بارے انکوائری رپورٹ سینڈیکیٹ میں پیش کی جائے گی۔ کیونکہ سینڈیکیٹ سزا دینے کی مجاز اتھارٹی ہے۔ ادھر ملتان کی ایک یونیورسٹی کے سنئیر پروفیسر جو وی سی بھی رہ چکے ہیں۔ اس معاملے پر نام شائع نہ کرنے کی شرط پر کہنا ہے کہ بیرون ملک بیٹھے طالبعلم کی جگہ دوسرے طالبعلم کو بٹھا کر پیپر دلوانا یونیورسٹی کا سنگین ترین جرم ہے جس کی سزا پیپر میں بٹھانے والے سربراہ اور سبجیکٹ ٹیچر کے لیے ملازمت سے برخاستگی ہے۔ جبکہ کنٹرولر امتحانات کی نا اہلی پر ان کو تاحیات کسی بھی انتظامی عہدے کے لیے نا اہل قرار دیا جانا چاہیے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ میں پروفیسر ڈاکٹر شبر عتیق کو گزشتہ کئی عشروں سے جانتا ہوں وہ ایک ایماندار آفیسر ہیں۔ اور وہ کرپشن، فراڈ اور دھوکہ دہی بالکل برداشت نہیں کرتے۔
    این ایف سی

    Khabrain News

      Keep Reading

      ڈرون حملوں سے بچاوں کیلئے کے پی تھانوں اور چیک پوسٹوں پر آئرن جالیاں نصب

      پولیو سے متعلق غلط معلومات کے ادراک کیلئے ڈاکٹروں کی ٹاسک فورس تشکیل دینے کافیصلہ

      سندھ میں بد ترین کرپشن عوام مشکلات کا شکار ہیں حافظ نعیم الرحمان

      تازہ ترین

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      نئے صوبے ،شہبازشریف متحرک ‘ممتاز صنعت کاروں,کاروباری شخصیات سے طویل ملاقات

      آبنائے ہرمز کے قریب امریکی آبدوز پکڑنے کا ایرانی دعویٰ

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.