نیتن یاہو کا بڑا دعویٰ، جنوبی شام میں اسرائیل کا مکمل کنٹرول
اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیل کو جنوبی شام کے بعض علاقوں میں مکمل کنٹرول حاصل ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شام کے جنوبی علاقوں میں اسرائیلی فوجی موجودگی اور کارروائیاں مسلسل جاری ہیں۔
اقوام متحدہ کی آزاد بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن برائے شام نے حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ جنوبی شام میں اسرائیلی فوجی سرگرمیاں مزید مستقل اور گہری ہوگئی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فورسز نے قنیطرہ اور درعا سمیت مختلف علاقوں میں گشت، چھاپوں، عارضی چیک پوسٹوں اور فوجی تنصیبات کا قیام جاری رکھا ہے۔
اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیلی کارروائیوں کے نتیجے میں مقامی آبادی متاثر ہوئی ہے اور درجنوں شامی شہریوں کو اسرائیلی فوج نے حراست میں لیا ہے۔ کمیشن نے بعض کارروائیوں کو ممکنہ طور پر جنگی جرائم کے زمرے میں آنے پر بھی تشویش ظاہر کی ہے۔
اسرائیل کا مؤقف ہے کہ جنوبی شام میں اس کی فوجی موجودگی عارضی حفاظتی اقدام ہے اور اس کا مقصد اسرائیلی شہریوں کو ممکنہ خطرات سے محفوظ رکھنا ہے۔ اسرائیلی حکومت نے شام میں کسی علاقائی عزائم کی تردید کی ہے۔
دوسری جانب شام اور اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوجی موجودگی شام کی خودمختاری اور 1974 کے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی فوج دسمبر 2024 میں بشار الاسد حکومت کے خاتمے کے بعد شام میں قائم اقوام متحدہ کے زیرِ نگرانی بفر زون میں داخل ہوئی تھی۔

