اسلام آباد ( عادل عباسی )ملک بھر کے مختلف شہروں میں قائم 108 کمپنیاں مبینہ طور پر 1120 ارب روپے کی ٹیکس چوری کے معاملے پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے ریڈار پر آگئیں۔ذرائع کے مطابق ایف آئی اے نے ٹیکس فری علاقوں کے نام پر کاروباری سرگرمیوں میں ملوث قرار دی جانے والی تمام 108 کمپنیوں کو نوٹسز جاری کیے تھے، جن میں سے 60 سے زائد کمپنیوں کے بیانات قلمبند کیے جا چکے ہیں، جبکہ باقی کمپنیوں کے بیانات بھی ریکارڈ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ کمپنیوں نے فاٹا اور پاٹا کے نام پر 371 ارب روپے کا گھی درآمد کیا، جبکہ 214 ارب روپے مالیت کا اسٹیل بھی ٹیکس فری علاقوں کے نام پر منگوایا گیا۔ اسی طرح 108 کمپنیوں کی جانب سے 174 ارب روپے کا کپڑا درآمد کیے جانے کا بھی ریکارڈ سامنے آیا ہے۔ذرائع کے مطابق خیبرپختونخوا میں 65 ارب روپے کی چائے بھی ٹیکس فری علاقوں کے نام پر منگوائی گئی۔ ایف آئی اے کی ابتدائی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ مجموعی طور پر 1120 ارب روپے مالیت کے درآمد شدہ سامان پر ٹیکس ادا نہیں کیا گیا۔تحقیقاتی ذرائع کے مطابق مذکورہ سامان میں سے 1120 ارب روپے مالیت کا سامان سندھ، پنجاب اور بلوچستان منتقل کیا گیا، تاہم دستاویزات میں اسے فاٹا اور پاٹا کے علاقوں میں ظاہر کرنے کی مبینہ کوشش کی گئی۔ایف آئی اے نے تحقیقات کے دوران اہم دستاویزی ریکارڈ بھی حاصل کرلیا ہے، جس کی روشنی میں کمپنیوں کی درآمدات، سامان کی ترسیل اور ٹیکس ادائیگیوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ذرائع کے مطابق جن کمپنیوں کے تاحال بیانات ریکارڈ نہیں کیے جا سکے، انہیں ایک بار پھر نوٹسز جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مبینہ ٹیکس چوری اور ذمہ دار کمپنیوں و افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی کا امکان ہے۔
