ملتان (خصوصی رپورٹر) ہسپتالوں کی نجکاری و
نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی 21 لاکھ سے 35 لاکھ روپے بھاری ٹیوشن فیس علاؤہ دیگر اخراجات کے باعث ذہین طلباء وطالبات نے میڈیکل کی تعلیم سے منہ موڑ لیا۔1990 میں حکومت کی جانب سے نجی میڈیکل کالجز کی جانب جھکاؤ شروع ہوا۔اس وقت سرکاری 20 میڈیکل و ڈینٹل کالجز اور صرف 2 نجی میڈکل و ڈینٹل کالج تھے۔اب بڑھتے بڑھتے نجی میڈیکل و ڈینٹل کالجز کی تعداد درجنوں میں ہے۔لیکن ایم بی بی ایس کی ڈگری لینے تک ٹیوشن فیس ایک کروڑ سے تجاوز کر جاتی ہے۔باقی ہاسٹل ،کتابیں ودیگر اخراجات الگ ہیں۔پاکسنان میڈیکل کمیشن کے 2021کے ڈیٹا بیس کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر 176 میڈیکل اور ڈینٹل کالجز ہیں۔ان میں 45 سرکاری اور 72 نجی میڈیکل کالجز جبکہ 17 سرکاری اور 42 نجی ڈینٹل کالجز ہیں۔انہی وجوہات و مستقل جاب ناہونے سے ایم ڈی کیٹ امتحان میں بھی مسلسل امیدواروں کی تعداد کم ہوتی جارہی ہے۔سال 2022 میں 2 لاکھ 4ہزار 253 امیدواروں نے شرکت کی۔سال 2023 میں یہ تعداد کم ہو کر ایک لاکھ 80 ہزار 534 پر آ گئی ۔سال 2025 میں 1 لاکھ 40 ہزار 71 جبکہ امسال 2026 میں تعداد مزید کم ہو کر1 لاکھ 38 ہزار158 پر پہنچ گئی ۔طبی و سماجی حلقوں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز،وزیر اعظم پاکستان سمیت دیگر سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے
میڈیکل تعلیم
