لاہور(کورٹ رپورٹر) لاہور ہائیکورٹ نے قتل کیس میں سزائے موت پانے والے محمد فرحان کی اپیل منظور کرتے ہوئے ایڈیشنل سیشن جج فیصل آباد کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر اسے بری کرنے کا حکم دے دیا، جسٹس فاروق حیدر کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سزائے موت کے خلاف اپیل پر تحریری فیصلہ جاری کیا، عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن قتل کا مقدمہ شک و شبہ سے بالاتر ثابت کرنے میں ناکام رہی، گواہوں کے بیانات قابل اعتبار نہیں، ایف آئی آر کے اندراج میں تاخیر اور ریکارڈ میں تضاد موجود ہے، پوسٹ مارٹم کیلئے پولیس کاغذات جمع کرانے میں تاخیر کی کوئی معقول وجہ نہیں بتائی گئی، مقتول کے بیٹے اور بھائی کی گواہی بھی مشکوک قرار پائی، گواہ فیکٹری میں اپنی موجودگی کی قابل قبول وجہ ثابت نہ کرسکے، مبینہ قتل میں استعمال ہونے والا لوہے کا راڈ بھی برآمد نہیں ہوسکا، فرانزک ٹیم کے بیان اور ریکوری میمو میں تضاد ہے، وقوعہ کی جگہ سی سی ٹی وی کیمروں کی تنصیب بھی ثابت نہیں ہوسکی جبکہ مقدمے میں پیش کی گئی یو ایس بی کو بھی ناقابل اعتبار قرار دیا گیا، عدالت کے مطابق پراسیکیوشن قتل کی مبینہ وجہ بھی ثابت نہیں کرسکی، محمد فرحان پر محمد امجد کو لوہے کا راڈ مار کر قتل کرنے کا مقدمہ 24 ستمبر 2022 کو تھانہ نشاط آباد میں درج ہوا تھا جبکہ سیشن جج فیصل آباد نے 30 مارچ 2023 کو اسے سزائے موت سنائی تھی، ہائیکورٹ نے قرار دیا کہ استغاثہ شواہد کی بنیاد پر جرم ثابت کرنے میں ناکام رہا، عدالت نے حکم دیا کہ محمد فرحان کو فوری جیل سے رہا کیا جائے بشرطیکہ وہ کسی دوسرے مقدمے میں مطلوب نہ ہو۔
