لاہور(جنرل رپورٹر)سپیشلائزڈ ہیلتھ کیئر اینڈ میڈیکل ایجوکیشن کا 19 ارب روپے مالیت کا میڈیکل ڈسپوزیبلز ٹینڈر منسوخ ہونے کے بعد ایڈیشنل سیکرٹری پروکیورمنٹ انور بریار کو بھی عہدے سے ہٹا دیا گیا، تاہم سابقہ ٹینڈر کی منسوخی کی اصل وجوہات تاحال واضح نہیں کی گئیں جس سے پروکیورمنٹ کے عمل کی شفافیت پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔روزنامہ خبریں نے ٹینڈرز میں ہونے والی بے ضابطگیوں کی نشاندھی کی تھی جس کے بعد محکمہ صحت کو ٹینڈر منسوخ کرنا پڑا جبکہ خبریں کی خبروں پر پنجاب اسمبلی میں دو تحریک التوا کار بھی جمع ہوئیں تھیں ۔ خبریں نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ اگر نئے ٹینڈر کے عمل میں اینٹی کرپشن کو شامل کرنے کی تجویز دی جا رہی ہے تو سابقہ ٹینڈر کی منسوخی کے ذمہ دار افسران کا معاملہ بھی اینٹی کرپشن کو بھجوایا جائے۔ ذرائع کے مطابق نئے ٹینڈر میں محکمہ صحت کی جانب سے دو نئی شقیں شامل کی گئی تھیں جن کے تحت کسی وینڈر کو ماضی میں شوکاز نوٹس جاری ہونے کی صورت میں اسے ٹینڈر کے عمل سے باہر کرنے کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ ان شقوں پر مختلف کمپنیوں نے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا جسکے بعد محکمہ صحت نے فوری مذکورہ شقیں ختم کر دیں۔ محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ان شقوں کے خاتمے کے فوری بعد ایڈیشنل سیکرٹری پروکیورمنٹ انور بریار کو بھی عہدے سے تبدیل کر دیا گیا۔ ذرائع کا مزید کہنا تھا کہ پیپرا کے رولز 35 کے تحت تمام بولیاں مسترد کرنے کا اختیار موجود ہے تاہم بڈرز کی درخواست پر منسوخی کی وجوہات کمیونیکیٹ کرنا لازم ہے جبکہ رولز 36 کے تحت دوبارہ بڈنگ سے قبل سابقہ بڈز مسترد کرنے کی وجوہات کا جائزہ لینا ہوتا ہے۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ 19 ارب روپے کا سابقہ ٹینڈر آخر کن وجوہات کی بنیاد پر منسوخ ہوا اور اس فیصلے کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے ذرائع کے مطابق صرف ایڈیشنل سیکرٹری پروکیورمنٹ کی تبدیلی سے معاملہ ختم نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے پروکیورمنٹ سیل، افسران کی تعیناتی، تکنیکی صلاحیت اور فیصلہ سازی کے نظام کا جائزہ ضروری ہے۔سابقہ ٹینڈر کی منسوخی کی وجوہات واضح نہ ہونے، نئے ٹینڈر میں متنازع شقیں شامل کیے جانے اور پھر عدالتی کیس کے بعد انہیں ختم کرنے کے معاملے پر کئی سوالات جنم لے رہے ہیں۔ ماہرین نے وزیر اعلی پنجاب سے سابقہ 19 ارب روپے کے ٹینڈر کی مکمل رپورٹ طلب کر کے منسوخی کی وجوہات، پیپرا کی ڈائریکشن، پروکیورمنٹ کمیٹی کے منٹس، متنازع شقوں کی منظوری اور متعلقہ افسران کی ذمہ داری واضح کرنے کی اپیل کی ہے چ تاکہ نئے ٹینڈر کا عمل شفاف، میرٹ پر اور تمام وینڈرز کے لیے یکساں بنیادوں پر مکمل ہو سکے۔
