ملتان ( رپورٹ: مظہر خان) حکومت نے واٹس ایپ طرز پر اپنی ایپلی کیشن بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کے بعد فائر وال کا استعمال کر کے واٹس ایپ کو بتدریج روکا جائے گا اور بعد ازاں واٹس ایپ پاکستان میں استعمال نہیں ہو سکے گا ، باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ اس وقت پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک میں واٹس ایپ کی ایپلی کیشن کافی مقبول ہے ، ایک اندازے کے مطابق اس وقت پاکستان میں ساڑھے 9 کروڑ کے لگ بھگ صارفین واٹس ایپ کا استعمال مواصلات کے لیے کرتے ہیں، جس کے ذریعے ٹیکسٹ میسجز، وائس پیغامات ، تصاویر اور ویڈیوز کی شیئرنگ کے ساتھ ساتھ آڈیو و ویڈیو کالز اور فائلز شیئرنگ کی جاتی ہے تاہم واٹس ایپ کے ڈیٹا تک رسائی نہ ہونے کے برابر ہے کیونکہ واٹس ایپ، اینڈ ٹو اینڈ انکرپٹڈ یعنی بھیجنے والا اور حاصل کرنے والا ہی اس کو پڑھ ، سن یا دیکھ سکتا ہے، ذرائع نے بتایا ہے کہ اسی وجہ سے شاید پاکستان اپنی نئی اپیلی کیشن متعارف کروانا چاہتا ہے اور اس اپیلی کیشن کے متعارف ہونے کے بعد واٹس ایپ کے استعمال کو روکنے یا محدود کرنے کے لیے فائر وال کا استعمال کیا جائے گا ، نئی اپیلی کشن پر بھرپور انداز میں کام جاری ہے، اس ایپلی کشن کو دنیا کے دیگر ممالک میں بھی استعمال کیا جا سکے گا، اس نئی اپیلیکشن کے ذریعے شہریوں کی سرگرمیوں کی مانیٹرنگ آسان و ممکن بنائی جا سکے گی جبکہ نئی اپیلیکشن کے ذریعے صارفین کی کالز اور ڈیٹا تک رسائی ممکن بنائی جا سکے گی۔
واٹس ایپ
