لاہور (جنرل رپورٹر)پنجاب یونیورسٹی شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان کے زیراہتمام تاریخ نویسی: جدید رجحانات اور نئے زاویہ نظرکے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی علمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب کا انعقاد الرازی ہال میں ہوا۔ کانفرنس کا مقصد پاکستان میں تاریخ نویسی کے بدلتے ہوئے رجحانات اور نئے تحقیقی و علمی طریقہ کار کا جائزہ لینا تھا۔ افتتاحی سیشن میں ملک اور بیرونِ ملک سے ممتاز مورخین، ماہرینِ تعلیم، محققین، سکالرز اور طلبہ نے شرکت کی۔ اس موقع پروائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر محمد علی، برطانیہ کی کیمبرج یونیورسٹی کی فیکلٹی آف ہسٹری کے پروفیسر سجیت سیواسندرم، پنجاب یونیورسٹی کے ڈین فیکلٹی آف آرٹس اینڈ ہیومینٹیز پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین، بیکن ہا س نیشنل یونیورسٹی کے ڈین آف لبرل آرٹس پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران، برطانیہ کی باتھ سپا یونیورسٹی کے پروفیسر ایمریٹس ڈاکٹر افتخار ایچ ملک، کانفرنس سیکریٹری و چیئرپرسن شعبہ تاریخ و پاکستان سٹڈیز پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ افتخار، اساتذہ اور طلبہ کی بڑی تعداد موجود تھی۔ اپنے خطاب میں وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد علی نے کہا کہ تاریخ نویسی محض ماضی کے واقعات کو قلم بند کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ ایک مسلسل علمی عمل ہے، جس میں ماخذ،شواہد، مختلف تشریحات اور بدلتے ہوئے فکری زاویوں کا محتاط جائزہ لینا ضروری ہے۔ انہوں نے قومی بیانیے کی تشکیل میں تاریخی تحقیق، تنقیدی غوروفکراور علمی آزادی کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے زور دیا کہ بامعنی مکالمے اور علم کے فروغ کے لیے علمی آزادی اور آزادانہ تحقیق ناگزیر ہیں۔ کانفرنس کی سیکریٹری اور شعبہ تاریخ و پاکستان سٹڈیز کی چیئرپرسن پروفیسر ڈاکٹر رخسانہ افتخار نے استقبالیہ خطاب کیا اور دو روزہ علمی و تحقیقی مباحثے کا باقاعدہ آغاز کیا۔ بین الاقوامی سطح کے ممتاز کلیدی مقرر پروفیسر سجیت سیواسندرم، پروفیسر ڈاکٹر طاہر کامران اور پروفیسر ڈاکٹر افتخار ایچ ملک نے بھی خطاب کیا اور تاریخ نویسی کے عالمی تناظر اور جدید تحقیقی طریقہ کار پر اظہارِ خیال کیا۔ افتتاحی سیشن کے اختتام پر پروفیسر ڈاکٹر محبوب حسین نے شرکا کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں ایک انٹرایکٹو سیشن منعقد ہوا، جس میں طلبہ کو بیرونِ ملک سے آئے ہوئے اسکالرز اور کلیدی مقررین کے ساتھ براہِ راست تبادلہ خیال کا موقع ملا۔ کانفرنس 29 ستمبر 2026 تک جاری رہے گی، جس کے دوران مختلف موضوعاتی سیشنز اور تحقیقی مقالہ جات پیش کیے جائیں گے
