اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے ابتدائی سرمایہ حاصل کرنا چیلنج کا صرف ایک حصہ ہے، جبکہ کاروبار کو وسعت دینے کے لیے درکار اضافی فنڈنگ کا حصول اب بھی ایک اہم رکاوٹ ہے۔ یہی اہم مسئلہ انویسٹر سمٹ 2026 کا مرکزی نقطہ ہے، کانفرنس کا انعقاد منگل کے روز نیشنل انکیوبیشن سینٹر (NIC) اسلام آباد میں کیا گیا، جہاں سرمایہ کاروں، کارپوریٹ اداروں، پالیسی سازوں اور اسٹارٹ اپس کے فانڈڑز نے شرکت کی۔سمٹ میں سیڈ فنڈنگ کے بعد اسٹارٹ اپس کو درپیش چیلنجز، بالخصوص سیریز اے اور کاروباری ترقی کے لیے درکار سرمایہ (Growth Capital) کے حصول کی تیاری پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکا نے اسٹارٹ اپس کی ترقی کی صلاحیت، یونٹ اکانومکس، سرمایہ کاروں کی جانب سے خطرہ مول لینے کی استعداد، کارپوریٹ گورننس اور مزید سرمایہ کاری (Follow-on Capital) تک رسائی کے لیے مضبوط اور مثر راستے تشکیل دینے کی ضرورت پر تبادلہ خیال کیا۔پاکستانی اسٹارٹ اپ فانڈرز کے لیے سرمایہ تک رسائی کے مواقع پیدا کرنا کے عنوان سے منعقدہ پینل ڈسکشن میں ڈاکٹر یاسر امجد، ڈائریکٹر ایکسیلیریشن اینڈ گروتھ، NIC اسلام آباد؛ کامل عزیز، ہیڈ آف انویسٹمنٹس، زین وی سی؛ ڈِکلے اوزجان، سینئر ایسوسی ایٹ، انویو وینچرز، جنہوں نے ترکیہ سے آن لائن شرکت کی؛ اور شاہد عباسی، سمیت شریک بانی زائلیکسا اِنک نے شرکت کی۔ایک پینلسٹ نے گفتگو کے دوران نشاندہی کی کہ، بنیادی مسئلہ عموما یہ نہیں ہوتا کہ کمپنی نے مارکیٹ میں اپنی جگہ بنائی ہے یا نہیں، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ سرمایہ کار واضح طور پر دیکھ سکیں کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے۔شاہد عباسی نے بھی اس امر پر زور دیا کہ فنڈ ریزنگ کا انحصار بڑی حد تک سرمایہ کار کے خطرہ مول لینے کی استعداد اور صبر پر ہوتا ہے، خصوصا میڈ ٹیک جیسے ایسے شعبوں میں جہاں کاروبار کو آگے بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر سرمایہ درکار ہوتا ہے۔گفتگو کے دوران کارپوریٹ گورننس کو بین الاقوامی سرمایہ کاروں کے لیے ایک اہم ترجیح کے طور پر بھی اجاگر کیا گیا۔ ایک پینلسٹ نے اس حوالے سے مختصرا کہا، میرے لیے کارپوریٹ گورننس سب سے پہلے ہے۔این آئی سی اسلام آباد کے پروجیکٹ ڈائریکٹر سید احمد مسعود نے سینٹر کے اسٹارٹ اپ پورٹ فولیو میں موجود سرمایہ کاری کے مواقع کو اجاگر کرتے ہوئے کہا، آپ کو NIC کے اسٹارٹ اپس میں سرمایہ کاری کرنی چاہیے کیونکہ ہم انتہائی منتخب اور معیاری ڈیل فلو فراہم کرتے ہیں۔ یہ واقعی اچھی سرمایہ کاری کے مواقع ہیں، اور اس ایکو سسٹم سے سامنے آنے والے فانڈرز کا معیار خود اس کی گواہی دیتا ہے۔ اگر آپ پاکستان میں جدت کے مستقبل میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو NIC اسلام آباد کے اسٹارٹ اپس کو ضرور سنجیدگی سے زیرِ غور لائیں۔سمٹ کے دوران Dakia AI، Xylexa، Prompt to Flow، Biz B، Najoomi، Stayovers، Tez Ads، AI Sehat Bridge اور Sky Technology Inn نے بھی سرمایہ کاروں اور اسٹارٹ اپ ایکو سسٹم سے وابستہ اہم اسٹیک ہولڈرز کے سامنے اپنے کاروبار اور منصوبے پیش کیے۔سمٹ کے اختتام پر Ignite National Technology Fund کے چیف ایگزیکٹو آفیسر بلال عباسی نے پاکستانی اسٹارٹ اپس کے لیے دستیاب وسیع تر فنڈنگ اور معاونتی نظام کو اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اسٹارٹ اپس کے لیے تحقیق و ترقی (R&D) کی مد میں 10 کروڑ روپے جبکہ مصنوعات کی کمرشلائزیشن کے لیے 20 کروڑ روپے تک کی معاونت دستیاب ہے۔بلال عباسی نے Ignite کے وسیع تر مقصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ادارہ اسٹارٹ اپس کے لیے ایک مکمل ویلیو چین تشکیل دینے کے لیے کام کر رہا ہے، جس میں مہارتوں کی ترقی، انکیوبیشن، ایکسیلیریشن، فنڈنگ اور بین الاقوامی مارکیٹ تک رسائی شامل ہیں۔انویسٹر سمٹ 2026 نے اس امر کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا کہ پاکستانی اسٹارٹ اپس کے فانڈرز کو ابتدائی کاروباری پیش رفت سے پائیدار ترقی کی جانب بڑھنے کے لیے درکار سرمائے، مہارت اور کاروباری نیٹ ورکس سے مثر انداز میں منسلک کیا جائے۔سرمایہ کار اور ایکو سسٹم پارٹنرز جو NIC اسلام آباد کے ساتھ تعاون اور روابط میں دلچسپی رکھتے ہیں، سینٹر کے سرکاری ذرائع کے ذریعے رابطہ کر سکتے ہیں۔
