یمن میں حوثی جنگجوؤں اور سعودی عرب کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے سعودی دارالحکومت ریاض میں سعودی آئل کمپنی آرامکو کی ایک تنصیب کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا، جس کے بعد وہاں آگ اور دھویں کے بادل اٹھتے دیکھے گئے۔ تاہم سعودی حکام اور آرامکو نے فوری طور پر حملے کی تصدیق نہیں کی۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع کے مطابق ریاض میں آرامکو کی تنصیب پر کارروائی سعودی حملوں کے جواب میں کی گئی۔ حوثیوں کا کہنا ہے کہ حملے میں تنصیب کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا اور وہاں آگ بھڑک اٹھی۔
دوسری جانب حوثی ذرائع نے الزام عائد کیا ہے کہ سعودی طیاروں نے یمن کے دارالحکومت صنعاء پر درجنوں فضائی حملے کیے۔ مقامی رپورٹس کے مطابق شہر کے مختلف علاقوں میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں جبکہ جنگی طیاروں کو میزائل داغتے ہوئے دیکھا گیا۔
حوثیوں کے زیرِ انتظام میڈیا نے دعویٰ کیا کہ سعودی طیاروں نے صنعاء پر 26 حملے کیے، تاہم سعودی حکام کی جانب سے ان دعوؤں پر فوری تصدیق یا تفصیلی بیان سامنے نہیں آیا۔
بعد ازاں یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت سے وابستہ فورسز نے بھی کہا کہ انہوں نے صنعاء، صعدہ اور تعز میں حوثیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ یمنی فوج کے ترجمان کے مطابق کارروائی میں حوثیوں کے اہم اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور حوثیوں کے درمیان 2022 کی جنگ بندی کے بعد کئی برس تک نسبتاً سکون رہا، تاہم رواں سال جولائی میں دوبارہ لڑائی شروع ہونے کے بعد دونوں جانب سے میزائل اور فضائی حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ تازہ جھڑپوں نے یمن میں جاری انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کے خدشات بھی پیدا کردیئے ہیں۔
حوثیوں کی ریاض پر کارروائی، سعودی عرب کا صنعاء پر جوابی فضائی حملہ

