لاہور(افضل سیال سے ) سی او ایم سی ایل کلیم یوسف نے جعلی نقشے ، سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل،جعلسازی کرنے اور غیرقانونی تعمیرات کروا کر سرکاری خزانے کو 16کروڑ کا نقصان پہنچانے والے بلڈنگ پلان کلرک انیدالحیات کو مبنیہ طور پر بھاری رشوت لیکر بحال کردیا ۔ کرپشن اور نقشوں کی جعل سازی کے ذریعے رنگے ہاتھوں پکڑے جانے والے معطل بلڈنگ پلان کلرک انیدالحیات کو صرف دو سال سروس کاٹ کردوبارہ نشتر زون میں بحال کردیاگیا ۔ ذرائع کے مطابق کلرک نے انکوائری کے دوران ڈسپیچ رجسٹرڈ میں جعلی انٹریاں کرنے کے اقبال جرم کیا ، کلیم یوسف نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کرپٹ کلرک کو بحال کیا ۔ تفصیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر لاہور اور ایڈمنسٹریٹر ایم سی ایل علی اعجاز کے احکامات پر نشتر زون میں بلڈنگ پلان کلرک انیدالحیات کے خلاف سولہ کینال پر مشتمل فروبل انٹرنیشنل سکول کے نقشوں میں جعل سازی پر انکوائری کی گئی جس میں متعلقہ کلرک میٹروپولیٹن کارپوریشن کے سرکاری ڈسپیچ رجسٹر میں غیر مجاز اور غیر قانونی اندراج کے ذریعے سرکاری ریکارڈ میں ردوبدل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا اسی بنیاد پر متعلقہ ملازم کے خلاف PEEDA ایکٹ 2006 کے تحت کارروائی شروع کی گئی تھی ، میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ڈسپیچ رجسٹر میں ایسی انٹریاں موجود تھیں جس کا اصل سرکاری ریکارڈ میں کوئی اندراج نہیں تھا، دستاویز کے مطابق نشتر زون میں واقع **فروبِل انٹرنیشنل اسکول، ناتھا سنگھ والا، لاہور کے مالکان سے بھاری رشوت لیکر سرکاری ریکارڈ میں جعلسازی کی اور غیر قانونی بلڈنگ بنوا کر سرکاری خزانے کو سولہ کروڑ کا نقصان پہنچایا، سی او ایم سے ایل کلیم یوسف نے کرپٹ کلرک کے خلاف کاروائی کرنے کی بجائے مک مکا کرتے ہوئے صرف دو سال کی سروس کاٹ کر انیدالحیات کلرک کو بحال کردیا ، ذرائع کے مطابق سی سی او ایم سی ایل نے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے کرپٹ کلرک کو بحال کرکے لامحدود سوالات کو جنم دیا ہے۔
