معروف برطانوی ناول نگار اور سابق سیاستدان جیفری آرچر 86 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔ ان کے ناشر ہارپرکولنز کے مطابق آرچر پیر کے روز اپنے گھر میں اچانک اور پُرسکون انداز میں، تحریر کے دوران انتقال کرگئے۔
جیفری آرچر عالمی سطح پر سب سے زیادہ فروخت ہونے والے مصنفین میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی کتابوں کی 30 کروڑ سے زائد کاپیاں دنیا بھر میں فروخت ہوئیں۔ ان کا مشہور ناول ’’کین اینڈ ایبل‘‘ (Kane and Abel) 1979 میں شائع ہوا اور ان کی سب سے کامیاب تصانیف میں شامل رہا۔
آرچر نے 1976 میں اپنے پہلے ناول ’’Not a Penny More, Not a Penny Less‘‘ سے ادبی سفر کا آغاز کیا۔ ان کی کتابیں دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں شائع ہوئیں اور انہوں نے کئی برس عالمی بیسٹ سیلر فہرستوں میں جگہ بنائے رکھی۔
ادبی دنیا کے ساتھ ساتھ جیفری آرچر کا سیاسی سفر بھی خاصا نمایاں رہا۔ وہ 1969 سے 1974 تک برطانوی پارلیمنٹ کے رکن رہے اور بعد ازاں کنزرویٹو پارٹی کے ڈپٹی چیئرمین بھی مقرر ہوئے۔ 1992 میں انہیں ہاؤس آف لارڈز کا تاحیات رکن بنایا گیا۔
ان کا سیاسی کیریئر ایک قانونی مقدمے کے باعث شدید متاثر ہوا۔ 2001 میں انہیں جھوٹی گواہی اور انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کے جرم میں چار سال قید کی سزا سنائی گئی، جس میں سے انہوں نے تقریباً دو سال جیل میں گزارے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ ان کا آخری ناول ’’Adam and Eve‘‘ ان کی وفات کے اگلے روز، 6 اکتوبر کو شائع ہونا تھا۔ ناشر کے مطابق یہ وہ آخری ناول تھا جسے آرچر نے اپنے ادبی سفر کا اختتام قرار دیا تھا۔
جیفری آرچر نے اپنی وفات سے صرف ایک روز قبل لندن میں ایک تقریب میں مداحوں سے ملاقات بھی کی تھی، جہاں انہوں نے اپنی نئی کتاب کے حوالے سے گفتگو کی اور کتابوں پر دستخط کیے۔

