پشاور، اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) صوبائی اپیکس کمیٹی نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر اعظم نے خیبر پختونخوا سے متعلق وزراء کی 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کردی ہے جبکہ اتحادی جماعتوں کا آج اجلاس طلب کرلیا ہے۔ ادھر اسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی پولیس کے حوالے کردی گئیں جبکہ 12 اضلاع میں امن و ترقی کیلئے فوری فنڈز کی فراہمی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ ایڈووکیٹ جنرل آفس کے تمام 57 افسروں کو فارغ کردیا گیا، ادھر صوبے میں زندگی معمول پر آرہی ہے۔ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پولیس اور سی ٹی ڈی کو جدید آلات، بکتر بند گاڑیاں، مؤثر اسلحہ اور مطلوبہ نفری فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کی زیر صدارت صوبائی اپیکس کمیٹی کا اہم اجلاس گورنر ہاؤس پشاور میں منعقد ہوا، جس میں وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، ایڈوائزری کونسل کے اراکین، کور کمانڈر پشاور، چیف سیکرٹری، انسپکٹر جنرل پولیس اور دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے آغاز میں امن و امان کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔اجلاس میں صوبے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال، دہشت گردی کے مکمل خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کیلئے کیے جانے والے اقدامات کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ فورم نے تمام متعلقہ اداروں کو دہشت گردی کے خاتمے اور امن و امان کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے مربوط، مؤثر اور فیصلہ کن اقدامات یقینی بنانے کی ہدایت کی۔اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا اور امن و امان کے قیام کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔ فورم نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ اور صوبے میں پائیدار امن کا قیام تمام ریاستی اداروں کا مشترکہ مقصد اور اولین ترجیح ہے، جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔اجلاس میں خیبرپختونخوا کے عوام کو درپیش دیرینہ مسائل کے حل پر بھی خصوصی توجہ دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ تعلیم، صحت اور شہریوں کے معیار زندگی سے متعلق امور کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا گیا کہ ان شعبوں میں بہتری عوامی سکیورٹی اور پائیدار امن کے لیے بھی ضروری ہے۔فورم نے صوبے کے پسماندہ اور متاثرہ علاقوں میں بنیادی سہولیات کی فراہمی، سماجی و اقتصادی ترقی کے فروغ اور عوام کا معیار زندگی بلند کرنے کے لیے خصوصی اقدامات پر اتفاق کیا۔ اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ عوامی مسائل کے حل، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور سرکاری خدمات عوام کی دہلیز تک پہنچانے کو یقینی بنایا جائے گا۔اس سلسلے میں عوامی تجاویز، ضروریات اور مقامی ترجیحات کو پالیسی سازی اور عملی اقدامات کا حصہ بنانے پر بھی زور دیا گیا۔ فورم نے امن، استحکام اور ترقی کے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو باہمی تعاون اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام جاری رکھنے کی ہدایت کی۔دریں اثناء وزیراعظم نے کے پی میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے نفاذ پر اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کے لیے آج اجلاس طلب کرلیا۔نجی ٹی وی کے مطابق مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کی پارلیمانی پارٹی کی صدارت وزیراعظم کریں گے، اجلاس پارلیمنٹ ہاس کے کمیٹی روم نمبر دو میں منعقد ہوگا، وزیراعظم کے پی میں ایمرجنسی اور گورنر راج کے فیصلوں پر اراکین کو اعتماد میں لیں گے۔قبل ازیںوزیراعظم نے خیبر پختونخوا میں امور کی نگرانی کے لیے 11 رکنی مانیٹرنگ کمیٹی قائم کردی۔ذرائع کے مطابق کمیٹی صوبے میں گورننس، لا اینڈ آرڈر اور روز مرہ کے امور کی مانیٹرنگ کرے گی، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار مانیٹرنگ کمیٹی کے کنونئیر مقرر کیے گئے ہیں۔کمیٹی میں رانا ثنا اللہ، اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، امیر مقام، طارق فضل چودھری، خالد مقبول صدیقی کمیٹی شامل ہیں، مانیٹرنگ کمیٹی میں پیپلز پارٹی، بی اے پی اور آئی پی پی کا ایک ایک نمائندہ شامل ہوگا۔علاوہ ازیںاسلام آباد پولیس کی 10 بکتر بند گاڑیاں کے پی کے پولیس کے حوالے کردی گئیں۔وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس حوالے سے ایکس پر پوسٹ میں بتایا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر اسلام آباد پولیس کی 10 نئی بکتر بند گاڑیاں خیبرپختونخوا پولیس کے حوالے کی گئی ہیں، بکتر بند گاڑیاں دہشت گردی کے خلاف آپریشنز مضبوط بنانے کے لیے دی گئی ہیں۔ادھر خیبر پختونخوا میں گورنر راج اور ایمرجنسی کے بعد مخصوص اضلاع کے لیے گریڈ 20 کے آفیسر محمد یحییٰ اخونزادہ کو ایڈمنسٹریٹر تعینات کر دیا گیا۔جاری اعلامیہ کے مطابق محمد یحیی اخونزادہ وفاقی حکومت کی ہدایات کے مطابق مخصوص 12 اضلاع کی ایڈمنسٹریشن کے امور دیکھیں گے۔ مذکورہ 12 اضلاع میں 8 ضم قبائلی اضلاع، مہمند، خیبر، باجوڑ، کرم، اورکزئی، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کے ساتھ 4 بندوبستی اضلاع ڈیرہ اسماعیل خان، ٹانک، بنوں اور لکی مروت شامل ہیں۔ ان کے ساتھ ایڈیشنل آئی جی پی اور دیگر افسروں کی تقرری بھی کی جائے گی۔اس سے قبل وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کی زیر صدارت علاقائی ترقیاتی سیکرٹریٹ کے ممبران کا اہم اجلاس ہوا جس میں خیبر پختونخوا کے 12 اضلاع میں پائیدار امن اور تیز رفتار ترقی کیلئے فنڈز کی فوری فراہمی کا فیصلہ کیا گیا۔اجلاس میں کور کمانڈر پشاور، ایڈیشنل چیف سیکرٹری، علاقائی ترقیاتی سیکرٹریٹ کے ممبران اور دیگر اعلی سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران ضم شدہ اضلاع کے علاوہ بنوں، لکی مروت، ٹانک اور ڈیرہ اسماعیل خان میں امن و امان، ترقیاتی ضروریات اور عوام کو درپیش مسائل کا جائزہ لیا گیا۔دوسری جانب خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد پشاور اور صوبے کے دیگر شہروں میں زندگی معمول پر آنے لگی ہے جبکہ قانونی اور آئینی ماہرین نے گورنر راج کے نفاذ اور ہنگامی اقدامات کو آئینی آپشنز قرار دیا ہے۔ پیر کو صوبائی دارالحکومت پشاور میں سڑکوں پر ٹریفک رواں دواں رہی اور سرکاری دفاتر بھی کھلے رہے۔ نوشہرہ اور ملحقہ اضلاع کی تمام بڑی سڑکیں بھی معمول کی ٹریفک کے لیے کھول دی گئی ہیں۔ سرکاری اور نجی دفاتر بھی دوبارہ کھل گئے ہیں، تاہم احتیاطی تدبیر کے طور پر تعلیمی ادارے بند رکھے گئے ہیں۔ دریں اثناقانونی اور آئینی ماہرین نے خیبر پختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ اور ہنگامی اقدامات کو آئینی آپشنز قرار دیتے ہوئے کہا کہ صوبے میں سکیورٹی کی بگڑتی ہوئی صورتِ حال اور صوبائی حکومت کی جانب سے، بالخصوص دہشت گردی کے خلاف مؤثر اقدامات کرنے میں، اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکامی کے تناظر میں یہ اقدامات کیے گئے ہیں۔قبل ازیںخیبرپختونخوا میں گورنر راج کے نفاذ کے بعد بیوروکریسی اور پولیس ڈیپارٹمنٹ میں بڑے پیمانے پر اکھاڑ پچھاڑ کے بعد ایڈووکیٹ جنرل آفس کے 57 افسران کو بھی عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ایڈووکیٹ جنرل آفس کے ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل الیاس نے صوبے میں گورنر راج اور ایمرجنسی لگائے جانے کے اقدام پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پہلے ہی استعفیٰ دے دیا تھا۔
اپیکس کمیٹی
