All posts by Daily Khabrain

PDMمیں نے بنائی،ایجنڈے سے ہٹ چکی، ایجنڈے پر واپس آئے،بلاول بھٹو زرداری

ملتان (سجاد بخاری‘نعیم ثاقب سے) پی ڈی ایم میں نے بنائی اور جس مسودہ پر ہم سب نے دستخط کئے تھے پاکستان پیپلزپارٹی آج بھی اس معاہدے پر قائم ہے۔ ہماری اسمبلیوں سے استعفے نہ دینے کی بات سچ ثابت ہوئی۔ شہبازشریف سے فون پر بات صرف الیکشن کمیشن ممبران کی نامزدگی کے بارے میں ہوئی۔ پاکستان پیپلزپارٹی انتہاء پسندی اور دہشتگردی کے خلاف ہے۔ ہم پاکستان کو ایک جدید اسلامک ملک بنانا چاہتے ہیں جس کی مثال دی جاسکے۔ موجودہ حکومت کی نالائقی عوام نے دیکھ لی ہے اور جنوبی پنجاب صوبے کا صرف لولی پاپ دیا جارہا ہے۔ ان خیالات کا اظہار پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے ”خبریں“ میڈیا گروپ کے چیف ایڈیٹر امتنان شاہد سے ایک ملاقات میں کیا۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ پی ڈی ایم کو میں نے خود بنایا اور اس کے اندر تمام اُصول وضوابط طے ہوئے کہ کونسا کام کس وقت کیا جائے گا۔ اس میں لانگ مارچ، دھرنے اور جلسے جلوس سے آغاز ہونا تھا جبکہ آخری آپشن استعفوں کا تھا مگر پی ڈی ایم کی قیادت نے آخری بات یعنی استعفے پہلے دینے کی کی جس کی ہم نے مخالفت کی اور آج استعفے نہ دینے کی ہماری بات سچ ثابت ہوئی۔ میں آج بھی پی ڈی ایم کے ساتھ چلنے کو تیار ہوں اگر وہ پی ڈی ایم کے ایجنڈے پر قائم رہتے ہیں تو مگر چونکہ وہ اپنے ایجنڈے سے ہٹ چکے ہیں لہٰذا ہماری راہیں پی ڈی ایم سے جدا ہوچکی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب تک اپوزیشن اکٹھی رہی اس وقت تک فتوحات کا سلسلہ بھی جاری رہا۔ پاکستان بھر میں بائی الیکشن میں پی ڈی ایم کے اُمیدوار زیادہ جیتے اور ہم نے قومی اسمبلی اور سینٹ میں بھی کامیابی حاصل کی۔ ایک اور سوال کے جواب میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت جنوبی پنجاب صوبہ کے سلسلے میں یہاں کے عوام کو لولی پاپ دے رہی ہے اور وہ صوبہ بنانے میں سنجیدہ نہیں ہے جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی نے اپنے دورِحکومت میں اس کیلئے باقاعدہ پارلیمنٹ کا کمیشن بنایا اور اس کمیشن نے ایک رپورٹ تیار کی جو آج بھی موجود ہے اور بل کی شکل میں ہم نے اسے سینٹ سے منظور کرایا مگر بدقسمتی سے قومی اسمبلی میں ہمارے پاس چونکہ اکثریت نہیں تھی لہٰذا ہم اسے پاس نہ کراسکے، اگر موجودہ حکومت مخلص ہے تو وہی ہمارا بل اسمبلی میں لے آئے، ہم حکومت کی امداد کریں گے۔ شہبازشریف سے بات کرنے کے سوال پر بلاول بھٹو زداری نے کہا کہ میری ان سے بات ہوئی تھی اور وہ الیکشن کمیشن کے دو ممبران جوکہ نامزد ہونے ہیں‘ اس کی بابت مشورہ کیا جانا تھا جس پر ہم نے مشترکہ طور پر ایک کمیٹی بنادی ہے جو چند نام پیش کرے گی پھر اس پر بات ہوسکے گی۔ افغانستان کی صورتحال پر بلاول بھٹو زرداری نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ انتہاء پسندی اور دہشتگردی کی مذمت کی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے ملک میں یہ دونوں لعنتیں ختم ہوں جس کیلئے ہم نے کئی جانوں کی قربانیاں بھی دی ہیں لہٰذا پاکستان پیپلزپارٹی چاہتی ہے کہ وہ پاکستان کو ایک جدید اسلامک ملک بنائے جس کی مثال دُنیا دے سکے۔ موجودہ حکومت کی کارکردگی پر بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ یہ انتہائی نالائق حکومت ہے۔ اس نے گزشتہ 3سالوں میں کچھ بھی ڈلیور نہیں کیا۔ یہ حکومت تمام شعبوں میں ناکام ہوچکی ہے۔ عوام نے جو اُمیدیں اس سے وابستہ کی تھیں وہ سب کی سب ختم ہوچکی ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کے بارے میں بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ مجھے انتہائی افسوس ہے کہ امریکہ جیسی سُپرپاور کے ساتھ ہمارے تعلقات صحیح نہیں ہیں، اس سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی ناکام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ایک متوازن قسم کی خارجہ پالیسی بنائیں جس سے ناصرف امریکہ جیسی بڑی طاقت بلکہ دیگر ممالک سے ہماری عزت اور ہماری برابری کی بنیاد پر رشتہ قائم ہو اور ہم پوری دُنیا سے ملکر ایک کلیدی کردارادا کریں۔ انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور پاکستان میں اب فاصلے بڑھ گئے ہیں، موجودہ حکومت میں دُنیا بھر میں پاکستان کی سٹینڈنگ متاثر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے امریکی صدر کا حکومت پاکستان سے رابطہ نہ کرنے کا انتہائی افسوس ہے۔ ایک اور سوال کے جواب میں چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ہم نے طے کیا ہے کہ ہم سب سے پہلے پنجاب حکومت کو ہٹائیں گے اور پھر اس کے بعد وفاق میں عمران خان کی حکومت کو ہٹائیں گے اور یہ ہم نے ثابت بھی کیا ہے مگر افسوس کہ اپوزیشن کو یا تو ہماری بات سمجھ نہیں آرہی یا پھر وہ پی ڈی ایم کے بنیادی اُصولوں سے ہٹ چکی ہے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ اپنے بل بوتے پر جمہوریت کیلئے جدوجہد کی ہے اور آئندہ بھی کرتی رہے گی۔ اس ملاقات میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی بھی موجود تھے۔

ایک امکانی طورپربڑا خطرہ

خضر کلاسرا
بلاول بھٹو زرداری کا دورہ جنوب خاص توجہ کا مرکزیوں بن گیاہے کہ سید یوسف رضاگیلانی، بلاول بھٹوزرداری کے دورہ کو یادگار بنانے کیلئے وزیراعظم عمران خا ن کے سینیٹ کے الیکشن کے امیدوار حفیظ شیخ کی شکست جیسا سرپرائز دینے جارہے ہیں۔ اس میں وہ کتنا کامیاب ہوتے ہیں؟ اس کیلئے زیادہ انتظارنہیں کرنا پڑے گا۔ سیدیوسف گیلانی کے بارے میں اس بات پر تو سب اتفاق کرتے ہیں کہ موصوف سیاسی میدان میں مخالف پر وار کرنے میں ثانی نہیں رکھتے ہیں۔ اس کی مثال یوں بھی دی جاسکتی ہے کہ گیلانی نے نوازشریف کو ملتان سے اس وقت شکست دی تھی جب وہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ بھی تھے۔ اسی طرح ابھی حال ہی میں حفیظ شیخ کو اس وقت شکست سے دوچار کیا،جب وزیراعظم عمران خان اپنی پوری حکومتی طاقت سے اس کے پیچھے بحیثیت تحریک انصاف امیدوار کھڑے تھے لیکن گیلانی صاحب نے وزیراعظم عمران خان کے امیدوار کو چاروں شانے چت کرکے پورے ملک میں ایک نئی بحث کا آغاز کروادیا کہ وزیراعظم عمران خان کیساتھ تو اس کی پارٹی کے ارکان اسمبلی بھی نہیں ہیں۔کیوں کہ گیلانی کی جیت اس بات کی چغلی کھاکررہی تھی کہ تحریک انصاف کے ارکان اسمبلی کے ووٹوں کے بغیر جیت ممکن نہیں تھی۔
میرے جیسے لوگ گیلانی کی بحیثیت سینیٹ کے امیدوار اسلام آباد آمد پر ہی یہ بات کر رہے تھے کہ جو اپنے تئیں سمجھدار وزیراعظم عمران خان کو اسلام آباد کی سینیٹ کی نشت پر گیلانی کو بحیثیت امیدوار آسان لینے کا لقمہ دے رہے ہیں، وہ مخلص نہیں ہیں۔یوں یہی کرداروزیراعظم عمران خان کو اعتماد دے کر بڑے اپ سیٹ سے دوچارکروائینگے۔ پھر وہی ہوا کہ اقتدار میں آنے کے بعد پہلی بار وزیراعظم عمران خان، سید یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں حفیظ شیخ کی شکست پر سنبھلتے، سنبھلتے یوں جاسنبھلے کہ ایوان سے اعتماد کا ووٹ لینا پڑا تھا جوکہ خاصا مشکل امتحان تھا کہ کہیں گیلانی وزیراعظم عمران خان کے ہی انویسٹر مطلب جہانگیر ترین کو اس کیخلاف استعمال کرکے وزیراعظم عمران خان کو ہی اعتماد کا ووٹ لینے سے نہ کردے۔ یہی وجہ تھی کہ چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی وزیراعظم عمران خان اور جہانگیر ترین کے مشترکہ دوستوں اور سمجھداروں نے اس بات کو یقینی بنایا کہ گیلانی کے وار کو یہاں اب کامیاب نہ ہونے دیاجائے۔ادھر گیلانی بھی وزیراعظم عمران خان کیخلاف کوئی باریک گیم چل کر مسلم لیگ نواز کی قیادت کیلئے سیاسی میدان میں آسانی پیدا کرنے کے موڈ میں نہیں تھے؟سید یوسف رضاگیلانی کی سیاسی چالوں کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتاہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کے دور اقتدار میں جب گیلانی وزیراعظم تھے تو موصوف نے سب سے زیادہ فنڈز اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نواز کے ارکان اسمبلی کو دیئے جوکہ عموماً پاکستان جیسے ملک میں نہیں ہوتاہے،یہاں تو یہ فیشن ہے کہ اپوزیشن ارکان اسمبلی کو دیوار کے ساتھ لگا کر رکھاجاتاہے، فنڈز تو کہیں خوابوں اور خیالوں میں ملتے ہیں۔سید یوسف رضا گیلانی کے نواز لیگی ارکان اسمبلی کو فنڈز دینے کا انکشاف اس وقت ہوا جب پاکستان پیپلزپارٹی کے پارلیمنٹرین نوید قمر نے قومی اسمبلی میں سوال پوچھا کہ سید یوسف رضا گیلانی نے بحیثیت وزیراعظم سب سے زیادہ فنڈز کس جماعت کے ارکان اسمبلی کو دیئے ہیں تو پتہ چلا کہ سید یوسف رضا گیلانی نے سب زیادہ فنڈز اپنی جماعت پیپلزپارٹی کے ارکان اسمبلی کو نہیں بلکہ نوازلیگی ارکان اسمبلی کو جاری کیے ہیں۔یقینا پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت اورارکان قومی اسمبلی کیلئے یہ بات صدمہ سے کم نہیں تھی کہ گیلانی اپنی پارٹی پر مخالف جماعت مسلم لیگ نواز کو برتری دے رہے ہیں۔ اب یہاں سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ گیلانی کو ایسا کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ اپنی پارٹی قیادت اور پیپلزپارٹی ارکان اسمبلی کو ناراض کیاجائے۔ہمارے خیال میں سید یوسف رضا گیلانی وہ سیاسی سرمایہ کاری نواز لیگی ارکان اسمبلی پر ان دنوں کیلئے کررہے تھے؟ مطلب اپوزیشن کے وقت کیلئے کررہے تھے، اس وقت کیلئے جب پاکستان پیپلزپارٹی کو مسلم لیگ نواز سمیت تحریک انصاف پر برتری کی ضرورت ہوگی۔
ہمارے خیال میں ایک تو نوازلیگی دور میں نوازلیگی ارکان اسمبلی وہ حکومت کا جہاں بھی حصہ تھے، ان کو یوسف رضا گیلانی بحیثیت وزیراعظم اپنے اوپر فنڈز کی شکل میں احسانات یاد تھے، اور گیلانی کیلئے وہ کچھ کرنے کا پنجاب کی روایات کے مطابق جذبہ رکھتے تھے۔ دوسرا سید یوسف رضاگیلانی نے بحیثیت وزیراعظم جو سیاسی سرمایہ کاری نوازلیگی ارکان اسمبلی اور جنوب کے مختلف پارٹیوں کے ارکان اسمبلی پر کی تھی اس کا فائدہ گیلانی کو وزیراعظم عمران خان کو ہوم گراونڈ مطلب اسلام آباد میں حفیظ شیخ کو سینیٹ کے الیکشن میں شکست سے دوچار کرکے ملاہے۔پاکستان پیپلزپارٹی کے بارے میں،تجزیہ کاروں کی یہ متفقہ رائے ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی وفاق میں اس وقت حکومت بنانے کی پوزیشن میں آسکتی ہے جب پیپلزپارٹی سندھ کے بعد پنجاب کے جنوب میں بڑی اکثریتی پارٹی کے طور پر سامنے آئے جیسا کہ ہم نے 2008ء کے الیکشن میں دیکھاتھا۔ اب یہ تو دیوار پہ لکھا سچ ہے کہ مسلم لیگ نواز کو وسطی پنجاب میں پیپلزپارٹی وہ ٹف دینے کی پوزیشن میں نہیں ہے جوکہ بینظیر بھٹو کے وقت تک دیاجاتارہاہے۔ اب دلی دور است جیسی صورتحال ہے؟ وسطی پنجاب میں تو نوازلیگی اس قدر الیکشن سیاست میں مضبوط ہوچکے ہیں کہ 2018ء کے الیکشن میں تحریک انصاف کو اسٹبشلمنٹ کی مکمل آشیر باد حاصل ہونے کے باوجود تحریک انصاف کو مسلم لیگ نواز کے مقابلے میں وہ نتائج نہیں ملے، جس کی وہ توقع کررہے تھے۔
یوں مسلم لیگ نواز کو تحریک انصاف نے وسطی پنجاب میں اکثریتی پارٹی تسلیم کرتے ہوئے اس کوشش میں ہے کہ پنجاب کے جنوب کو اپنے حصار میں رکھا جائے، جیسا کہ ہم نے 2018 ء کے الیکشن سے پہلے بھی دیکھا کہ عمران خان کیلئے وزیراعظم ہاوس تک پہنچنے کیلئے اس وقت تک راہ ہموار نہیں ہوئی جب تک جنوب کے ارکان اسمبلی نے صوبہ محاذ کے نام پر ایک دھڑا بنا کر منصوبہ بندی کے تحت تحریک انصاف کو جوائن نہیں کیا تھا۔مطلب اسلام آباد کیلئے تحریک انصاف، پاکستان پیپلزپارٹی یا نوازلیگی قیادت کو پنجاب کے جنوب کے سیاسی میدان میں اپنے آپ کو مضبوط ثابت کرنا ہوگا وگرنہ جس کے پیچھے جنوب کھڑا نہیں ہوگا وہ وفاق کے اقتدار سے دور ہی نہیں بلکہ بہت دور ہوجائیگا۔اس بات کا اندازہ وزیراعظم عمران خان، نوازلیگی لیڈر نواز شریف اور آصف علی زرداری کو بخوبی ہوچکا ہے؟ یوں الیکشن کا ذکر ہوتے ہی سب پارٹیوں کی نظریں جنوب پر مرکوزہو جاتی ہیں۔
تحریک انصاف اور مسلم لیگ نواز پرپاکستان پیپلزپارٹی کو جنوب میں برتری یوں ہے سید یوسف رضاگیلانی جنوب کے مرکز ملتان سمیت بہاولپور اور تھل میں خاصا اثرورسوخ اور اعتمادرکھتے ہیں جوکہ سیاست اور سیاست سے ہٹ کر بھی ہے۔ جنوب میں گیلانی کے بارے میں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز کی طرح یہ بات مشہور ہے کہ گیلانی دھوکہ نہیں دے گا۔اسی طرح سمجھدار کہتے ہیں کاروبار میں ہی نہیں سیاست میں بھی اعتماد چلتاہے۔ادھر سید یوسف رضاگیلانی اس وقت پوری تیاری کے ساتھ وزیراعظم عمران خان کی جماعت تحریک انصاف کو اگلے الیکشن میں جنوب سے آ ٓوٹ کرنے کی تیاری کررہے ہیں۔ کیوں کہ وزیراعظم عمران خان ہی نہیں اسٹبشلمنٹ بھی نہیں چاہ رہی ہے کہ نوازلیگی قیادت اگلے الیکشن میں اکثریتی جماعت کے طورپر سامنے آکر اقتدار سنبھال لے۔یوں گیلا نی کا فوکس نوازلیگ کی بجائے تحریک انصاف پرہے کہ اس کو جنوب میں الیکشن میں حفیظ شیخ جیسے انجام سے دوچار کیاجائے۔
(کالم نگاراسلام آباد کے صحافی اورتجزیہ کار ہیں)
٭……٭……٭

الوداع! اے کشمیر کے شیر دل مجاہد

مریم ارشد
زندگی میں ایسے بہت سے لوگ ہوتے ہیں جن سے ہم نہ تو کبھی ملتے ہیں اور ناں ہی انہیں دیکھا ہوتا ہے۔ لیکن ان کی شخصیت میں کچھ عجب سا رنگ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اپنی شخصیت کی اتنی گہری چھاپ لیے ہوتے ہیں کہ کوئی رشتہ نہ ہونے کے باوجود بھی وہ اپنے اپنے سے لگتے ہیں۔ محترم سیّد علی شاہ گیلانی بھی کچھ ایسے ہی انسان تھے۔ ان کے چہرے کی متانت، سنجیدگی، نرمی اور افکار کی مضبوطی دل کی اتھاہ گہرائیوں میں اترتی جاتی ہے۔ سیّد علی گیلانی کی استقامت کو آج تک کوئی ہلا نہیں سکا۔ کشمیری عوام کے لیے وہ ایک ایسے چھتناور درخت تک کی حیثیت رکھتے تھے جس کے سائے تلے ایک قوم پنپ رہی تھی۔ ان کے چہرے پر جو ایک ٹھہراؤ تھا وہ بلا شبہ ایک داستان گو جیسا تھا۔ ہم سب ان کی وفات پر سوگوار ہیں۔ سیّد علی گیلانی 91 برس کی عمر میں اپنے لوگوں کی آزادی کے خواب پلکوں پہ سجائے اس دارِ فانی سے کُوچ کر گئے۔ وہ کشمیریوں کے ایسے عظیم رہنما تھے جس نے اپنی زندگی اپنے لوگوں کی آزادی اور سکون کے لیے وقف کر دی تھی۔ سیّد علی گیلانی آزادی کی بند سیپ میں چھپا وہ قیمتی موتی تھا جو عزم و استقلال کی چلتی پھرتی تصویر تھا۔ بقول شاعر:
؎جو رُکے تو کوہِ گراں تھے ہم
جو چلے تو جاں سے گزر گئے
سیّد علی شاہ گیلانی 1929 کو سَو پُور بارہ مُولا میں پیدا ہوئے۔ وہ آل پارٹیز حریت کانفرنس کے سربراہ بھی رہے۔ وہ جماعت اسلامی جموں و کشمیر کے رُکن بھی رہے۔ وہ عمر بھر مضبوطی سے چٹان کی طرح اپنے اصولوں اور مؤقف پر ڈٹے رہے۔ سیّد علی شاہ گیلانی کشمیریوں کی آزادی کی ان تھک تحریک کا وہ روشن ستارہ تھے جو ظلم کی اندھیری راتوں میں چمکتا تھا۔ وہ خود تو کشمیر کی جنت نظیر وادی کی آزادی کی تمنا اس دل میں لیے ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔ لیکن یہ تحریک جو عمروں سے بھی لمبی ہے یہ کشمیر کی آزادی تک چلتی ہی رہے گی۔ بھارت نے ایک بار پھر اپنا ظالم اور مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے پیش کیا۔ بھارتی حکومت نے ان کی تدفین میں بھی رکاوٹیں کھڑی کیں۔ ان کی رحلت کی خبر سنتے ہی بھارتی حکومت نے ان کے گھر کا گھیراؤ خار دار تاریں لگا کر کیا۔ وصیتیں بھی امانتیں ہیں اور امانتیں بلا شبہ لوٹانے کے لیے ہوتی ہیں۔ مگر ظالم بھارت نے سیّد علی شاہ گیلانی کی وصیت کے مطابق ان کی تدفین سری نگر کے شہدا کے قبرستان میں نہیں ہونے دی۔ زبردستی ان کی تدفین حیدر پورہ کے آبائی قبرستان میں کی گئی۔ حتیٰ کہ ان کے بیٹے اور بہو کو زخمی بھی کیا۔ ان کے اہلِ خانہ کو پوری طرح سے آخری رسومات بھی ڈھنگ سے ادا نہیں کرنے دیں۔ سیّد علی گیلانی کی رحلت سے کشمیر کی عوام یتیم ہوگئی ہے۔ لیکن دنیا بھر کی سُپر طاقتوں کو انڈیا کی مارکیٹ تو نظر آتی ہے وہ افغان عورتوں کی آزادی کی بات تو کرتی ہیں مگر ان کو کشمیر کے درماندہ عوام دکھائی نہیں دیتے کیا؟ مقبوضہ جموں و کشمیر کے بابائے حقِ خود ارادیت کے انتقال سے نہ صرف کشمیر بلکہ تمام مسلمانوں میں ایک ایسا خلا پیدا ہوگیا ہے جو صدیوں تک نہیں بھر سکے گا۔ آج سے چھ برس پہلے جب سیّد علی شاہ گیلانی سعودی عرب میں اپنی بیمار بیٹی سے ملنے جانے کے لیے پاسپورٹ آفس گئے۔ تب بھارتی پولیس نے انہیں نظر بندی سے رہائی دی تھی۔ تب پاسپورٹ والوں نے کہا کہ انہوں نے اپنی شہریت کے خانے کو خالی رکھا مزید کہا کہ ان کی عرضی نا مکمل اور غیر قانونی ہے۔ تب اس شیر دل مجاہد نے کہا: “By Birth I am not Indian, we are under occupation” ہمارا کاز بہت مقدس ہے۔ ہم قبضہ ہوجانے کے خلاف جدوجہد کر رہے ہیں گزشتہ 69 سال سے and that will continue انشاء اللہ!
سید علی گیلانی صاحب کی کتابوں میں معصوم شہریوں کے قتل کی شدید مذمت کی گئی خواہ وہ کسی بھی مذہب یا طبقے سے تعلق رکھتے ہوں۔ لگ بھگ دو ڈھائی سال پہلے جب بزرگ رہنما سیّد علی گیلانی کو پھر سے نظر بند کیا گیا تو ان کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں وہ کہہ رہے تھے: ”بتاؤ ہم کیوں بند ہیں؟ دروازہ کھولو! ہندوستان کی جمہوریت کا جنازہ نکل رہا ہے؟ کون اجازت نہیں دے رہا۔ دروازہ کھولو! ان کی ضعیف مگر توانا آواز نے بھارتی فوجیوں کو للکارا۔ دنیا بھر میں ان کی یہ آواز سنی گئی مگر افسوس صد افسوس! اقوام متحدہ جو انسانوں کے حقوق کی خاطر بنائی گئی اس کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ اے دنیا کی طاقتو! ہم تم سے سوال کرتے ہیں کہ کیا کشمیریوں کو یہ حق بھی نہیں کہ انہیں ان کی مرضی سے دفن کیاجاسکے۔ یہ بات مودی حکومت کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتی ہے۔ کشمیر پر قابض بھارتی فوج نے اس شیر دل مردِ مجاہد کو 12 برس سے مسلسل نظر بند رکھا۔ لیکن سلام ہے اس عظیم رہنما کو جو عمر بھر بھارتی سامراج کے سامنے ڈٹے رہے۔ سیّد علی گیلانی کی زندگی کا سفر بہت طویل تھا۔ انہوں نے بہت سے نشیب و فراز کو نہ صرف دیکھا بلکہ دلیری سے سامنا بھی کیا۔ وہ ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سیّد پیر شاہ گیلانی ایک قلی کی حیثیت سے کام کرتے تھے اور بہت محنتی آدمی تھے۔ وہ ان پڑھ تھے لیکن تعلیم کے ساتھ ان کی بہت محبت تھی۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی اولاد تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو۔ سیّد علی گیلانی نے لاہور کے اورینٹل کالج سے اُردو اور فارسی میں تعلیم حاصل کی۔
بھارت نے اپنی مکارانہ چالوں سے روزِ اول سے ہی پوری کشمیر ریاست پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے۔ 370 ہٹانے کے بعد بھارت نے کشمیر میں تمام مواصلاتی نظام بھی بند کر دیا۔ اب ان کے انتقال کے فوراً بعد ہی انٹرنیٹ اور موبائل سروس پھر سے بند کر دی گئی۔انہوں نے اپنی آخری سانس تک آزادی کی جنگ لڑی۔ اپنے لوگوں کی وہ پودوں کی طرح پتوں، شاخوں، گلابوں اور پھولوں کی طرح آبیاری کرتے رہے۔ ایسے لوگ صدیوں میں پیدا ہوتے ہیں۔ خدا ان کی قبر کو جنت کا باغیچہ بنائے! آمین! بلا شبہ وہ ایک شہید ہیں۔ الوادع! اے کشمیر کے شیر دل مجاہد! ایسے لوگ نایاب ہیں۔ بقول شاعر:
ڈھونڈو گے ہمیں ملکوں ملکوں
ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم
(کالم نگارقومی وسماجی ایشوزپرلکھتی ہیں)
٭……٭……٭

جی ایس پی پلس کا مستقبل؟

مرزا روحیل بیگ
جی ایس پی پلس یورپی یونین کی جانب سے ایک ایسا ترجیحی نظام ہے جو کہ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کے عام قوانین سے چھوٹ اور آسانی فراہم کرتا ہے۔ جس کی سہولت یورپی یونین کی جانب سے 90 سے زائد ترقی پذیر ممالک کو دی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ نے 1971 میں ایک قرارداد منظور کی کہ یورپی ممالک ترقی پذیر ممالک کی برآمدات بڑھانے اور وہاں پر روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لئے ان ممالک کی مصنوعات کو یورپی منڈیوں تک رسائی دے۔ جس کے بعد جنرلائزڈ سکیم آف پریفرنسز کا آغاز ہوا۔ جس کے تحت یورپی منڈیوں تک پہنچنے والی مصنوعات کے ڈیوٹی ٹیرف کو ختم یا ان میں کمی کر دی جاتی ہے۔ اس سکیم کے تین مرحلے ہیں جس میں بنیادی جی ایس پی، جی ایس پی پلس اور ایوری تھنگ بٹ آرمز یعنی اسلحے کے علاوہ سب شامل ہیں۔ جس ملک کو بھی یہ درجہ دیا جاتا ہے اسے انسانی حقوق، مزدوروں کے حقوق، ماحولیات کے تحفظ اور گورننس میں بہتری سمیت 27 بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کرنا ہوتی ہے۔
انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے بنیادی اصولوں کے تحت صنعتوں اور کارخانوں میں یونین سازی کو یقینی بنانا ہو گا، جبکہ جبری یا رضاکارانہ مشقت، چائلڈ لیبر، کام کی جگہ پر جنس، رنگ و نسل اور عقیدے کی بنیاد پر امتیازی طرز عمل کو ختم کرنا ہو گا۔ رواں برس یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان میں توہین مذہب کے حوالے سے الزامات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو جی ایس پی پلس اسٹیٹس پر نظر ثانی کی قرارداد منظور کی۔ اگر خدانخواستہ پاکستان سے جی ایس پی پلس کا درجہ واپس لے لیا جاتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان ان ممالک کو مصنوعات برآمد نہیں کر سکے گا۔ تاہم ڈیوٹی فری سہولت واپس ہونے کی وجہ سے اسے جی ایس پی پلس کے حامل دیگر ممالک بشمول بنگلہ دیش سے مقابلہ کرنے میں مشکلات کا سامنا ہو گا۔ یورپی یونین کے لئے پاکستانی برآمدات کا حجم جی ایس پی پلس اسٹیٹس سے قبل 2013 میں 4 ارب 53 کروڑ 80 لاکھ یورو تھا جو 2019 تک 65 فیصد اضافے کے بعد 7 ارب 49 کروڑ 20 لاکھ یورو ہو گیا تھا۔ وزارت خزانہ کے-20 2019 کے اقتصادی سروے کے مطابق گزشتہ مالی سال میں ڈالر کے مقابلے میں یورو کی قیمت میں کمی کے باوجود پاکستان یورپی منڈیوں میں اپنی تجارت بڑھانے میں کامیاب ہوا ہے۔
ویلیو ایڈڈ مصنوعات کے ساتھ پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات میں چھ اعشاریہ نو فیصد اضافہ ہوا۔ پاکستان یورپی منڈیوں میں کم و بیش آٹھ ارب ڈالر کی مصنوعات برآمد کرتا ہے جبکہ وہاں سے درآمدی بل پانچ ارب ڈالر کا ہے۔ دنیا کے بہت کم ممالک ہیں جن کے ساتھ ہمارا تجارتی حجم مثبت رہتا ہے اور ہمیں وہاں خسارہ نہیں ہوتا۔ ان میں ایک امریکا اور یورپ ہے۔ ہمارا یورپ کے ساتھ کم و بیش تین ارب ڈالر کا سر پلس ہے۔ عمومی طور پر یورپی یونین ممالک پر درآمدی ڈیوٹی کی شرح 10 سے 14 فیصد ہے اگر پاکستان سے یہ سہولت واپس لے لی جائے تو پاکستان کو بڑا نقصان ہو گا۔ سال -20 2019کے مطابق یورپی یونین پاکستان کی برآمدات کی سب سے بڑی منڈی ہے اور جی ایس پی پلس کے تحت پاکستانی مصنوعات کو یورپی یونین کے 27 ملکوں میں بغیر کوئی ڈیوٹی کے رسائی حاصل ہے۔ یورپی یونین کو بیچی جانے والی اشیا میں سے سب سے زیادہ 76 فیصد حصہ ٹیکسٹائل مصنوعات کا بنتا ہے۔ حکومت کو جی ایس پی اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیئے ہنگامی اقدامات کرنا ہوں گے، ورنہ پاکستان کو مستقبل میں بڑی معاشی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ پاکستان کو یورپی یونین میں موجود ہر ملک کی قیادت کے ساتھ ملاقات کر کے صورتحال کو واضح کرنا ہو گا۔ اگر خدانخواستہ یہ سہولت ختم ہوئی تو پاکستان کی معیشت کو بھاری نقصان کا اندیشہ ہے۔
ہم گزشتہ کئی عشروں سے امریکا اور یورپی ممالک کے صف اول کے اتحادی بنے ہوئے ہیں اور ان کی ہر جائز و ناجائز خواہش اور فرمائش کے سامنے سر تسلیم خم کر رہے ہیں مگر پھر بھی ناپسندیدہ بنے ہوئے ہیں۔ ہم ان کی تمام تر غلامیوں اور احکامات کی بجا آوریوں کے باوجود مصر کی طرح بھی نہ ہو سکے جس نے اپنے قرضے معاف کرا لیئے یا بھارت کی طرح بھی نہ ہوئے جو ان کے نہ توکوئی ناجائز مطالبات مانتا ہے اور نہ ان کی سنتا ہے۔ یہی بھارت پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ہمہ وقت متحرک رہتا ہے اور وہ اس وقت بھی پاکستان کے خلاف یورپی یونین کے ممالک میں لابنگ کر رہا ہے۔ لہٰذاحکومت یورپی یونین میں موجود کمرشل قونصلرز کو مزید متحرک کرے تاکہ جی ایس پی پلس کا درجہ برقرار رہے، کیونکہ پاکستان کی معاشی فلاح و بقا کا راز اسی میں مضمر ہے۔
(کالم نگارجرمنی میں مقیم،بین الاقوامی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭’

غیر معمولی سکیورٹی تدابیر

اکرام سہگل
ہو سکتا ہے کہ ہماری مغربی سرحدوں پر بگاڑ عارضی طور پررک جائے،لیکن پاکستان کے لیے نقصان دہ مختلف گروہوں کی ابھرتی ہوئی عداوتیں جاری رہیں گی۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کے اندر غیر فعال ایکٹوسٹس کے ابھرنے کے خطرے کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے ہمیں مشرقی اور مغربی دونوں محاذوں کے لیے ان کو روکنے کی اپنی قابل اعتماد صلاحیت کو برقرار رکھنا چاہیے۔ ان دونوں محاذوں کے درمیان فرق ان کی خطرات کی نوعیت میں ہے۔ اس کے باوجود کہ بھارت نے ایک پلیٹ فارم کے طور پر افغانستان میں مختلف گروہوں کو چار دہائیوں پر مشتمل طویل پراکسی وار کے لیے استعمال کیا۔ جیسا کہ پہلے سوویت یونین 1980-1990 اور پھر امریکا 2000-2021، ہمارا مشرقی محاذ روایتی خطرے کے وسیع اور بھرپور میدان سے نمٹنے کی صلاحیت کا تقاضا کرتا ہے۔
لہٰذا ہمیں اپنی سکیورٹی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے صرف خطرناک اثرات کے سد باب ہی تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ مسلح افواج کی سرعت رفتار اور مستعدی کی از سر نو تنظیم/ اپ گریڈنگ کے ساتھ ساتھ افغانستان میں امریکی تجربے کی روشنی میں کم از کم سپلائی اور لڑائی کے تناسب کو یقینی بنایا جائے۔ جو ہماری ایف سی اور رینجرز دونوں کی، ہمارے وجود کے لیے چیلنج بننے والے ممکنہ خطرات کو ختم کرنے کی صلاحیت کو کئی گنا بڑھائیں گے۔ ہمیں قانون نافذکرنے والے سویلین اداروں (ایل ای ایز) کی صلاحیت کو بھی لازمی طور پر مضبوط بنانا ہوگا۔ بشمول، جی ایچ کیو میں ملٹری سیکریٹری برانچ کی طرح پولیس کے لیے کیریئر پلاننگ، پوسٹنگز اور پروموشنز وغیرہ۔ اگرچہ یہ بین السطور پر بے معنی لگ رہا ہے، اس سے سیاست دانوں کو جوڑ توڑ کا موقع ملتا ہے اور مجرمانہ جاگیر داری نظام اس کی بدولت قائم رہتا ہے۔
علاقے کے جغرافیے کو دیکھیں تویہ سرحد کے آر پار ایک دوسرے سے بالکل مختلف آبادی کا مرکب بنا ہوا ہے، ایک دوسرے سے مختلف نوعیت کی مذہبی شدت پسندی پھیلی ہوئی ہے، وہ ایک دوسرے کے مخالف قوتوں والی صلاحیت کے حامل ہیں، اور اب افغانستان سے امریکی افواج کا انخلا بھی اس میں شامل ہو گیا ہے، لیکن اس کے باوجود کہ یہ جذباتی طور پر پرکشش ہے لیکن احتیاط بڑھانے کی ضرورت کو ہمیں اور تقویت دینی چاہیے۔ اگرچہ نیشنل ایکشن پلان سے متعلق زبانی کلامی بہت ساری باتیں ہوچکی ہیں لیکن اس کے باوجود اس کا پوری طرح سے اطلاق نہیں کیا گیا ہے۔ کچھ سیاسی ارادے کی کمی کے باعث دہشت گردوں کے سلیپر سیلز کو نظرانداز کیا گیا۔ یہ بہت آسانی کے ساتھ متحرک ہو سکتے ہیں جس کے نتائج ہمارے شہری علاقوں کی آبادی کے لیے الم ناک ہو سکتے ہیں۔ فطری اور فوری تشویش ناک چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہمیں غیر معمولی اقدامات کی اشد ضرورت ہے، ذمہ دار اداروں کی بے عملی کا سبب ان کی فرائض سے مجرمانہ غفلت ہی ہوگی۔
ایف سی کے نئے ونگز کی تشکیل نہ صرف بارڈر سکیورٹی کو بڑھائے گی بلکہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں ملحقہ قبائلی علاقوں میں امن و امان کو بھی قائم رکھے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ رینجرز کی انٹیلی جنس کی صلاحیت کو مزید تقویت دینے کی بھی ضرورت ہے، تاکہ پنجاب اور سندھ کے شہری علاقوں میں ممکنہ دہشت گردانہ سرگرمیوں کو روکا اور ختم کیا جا سکے۔ بدقسمتی سے مطلوبہ صلاحیت کے حصول کے لیے نئی بھرتیوں اور انہیں ٹریننگ دینے کا کوئی وقت نہیں ہے۔ چوں کہ مغربی محاذ پر کمانڈ اسٹرکچر پہلے سے موجود ہے، اس لیے موجودہ قوت کو دوگنا کرنے کے لیے چند اضافی ایف سی ونگز کی تشکیل سے اہم خُلا پر ہوجائے گا۔ جس طرح جنوب میں بلوچستان میں کیا گیا، ویسے ہی سندھ اور فاٹا کے لیے شمال میں ایک اور ایف سی ہیڈکوارٹرز بنانا چاہیے۔ اندرونی سکیورٹی کے لیے لا انفورسمنٹ ایجنسیز کے لیے ضروری تعمیرات ہونی چاہئیں، صرف رینجرز ہی کے لیے نہیں، بلکہ پولیس اور نچلی عدلیہ کے لیے بھی (مثلاً تمام پولیس تھانوں میں چوبیس گھنٹے دستیاب مجسٹریٹس کے لیے)۔
ایک حقیقت جو عام طورپر ڈھکی رہتی ہے، یہ ہے کہ ہمارے فوجی جوان بہت جلدی یعنی تیس سال کے درمیان یا چالیس سال کے شروع میں ریٹائر ہو جاتے ہیں، جب کہ میجر رینک کے افسران چالیس سال کے درمیان میں ریٹائرڈ ہو جاتے ہیں۔ سویلین سیکٹر میں تقریباً ہر کسی کو ملازمت درکار ہوتی ہے، اور مارکیٹ اتنی بڑی اور وسیع نہیں ہے کہ اتنی تعداد میں ریٹائرڈ ہونے والوں کو کھپایا جا سکے۔ تربیت یافتہ افرادی قوت کے اتنے بڑے ذخیرے کو، درکار اضافی ایف سی ونگز اور ایل ای ایز کی تشکیل کے لیے نہایت آسانی کے ساتھ استعمال کیا جا سکتا ہے۔
ریٹائر ہونے والوں کو آپشن دیا جا سکتا ہے کہ وہ ایف سی یا ایل ای ایز کے لیے 55 سال کی عمر تک (حتیٰ کہ 58 سال) اپنی ملازمت جاری رکھ سکتے ہیں۔ ان افراد کے لیے یہ آپشن بہت پُرکشش ہوگی کیوں کہ انہیں زندگی کے اہم موڑ پر بے آسرا کیا جاتا ہے، اور انہیں نیا کیریئر شروع کرنے کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس اسکیم کے تحت ان افراد کو ان کے اپنے صوبے اور اضلاع میں کھپا دیا جائے تو یہ آپشن ان کے لیے اور بھی پرکشش ہو جائے گا۔ اگلا مرحلہ ان لوگوں کی ٹریننگ کو تمام تین سروسز سے نئی ملازمت میں بدلوانے کا ہوگا۔ اس ملازمت کے لیے نارمل پیادہ فوج یا مشینوں سے لیس انفینٹری کے ایف سی یا رینجرز کو کسی ٹریننگ کی ضرورت نہیں ہوگی۔ انجینئرنگ اور سگنلز وغیرہ کے فوجی دستوں سے ریٹائرڈ اسپیشلسٹ آسانی سے اسپیشلسٹس کی ملازمتیں سنبھال سکتے ہیں۔ انسداد بغاوت اور انسداد دہشت گردی کے تجربے کی وجہ سے مطلوبہ تجربے سے لیس پہلے ہی سے تربیت یافتہ افرادی قوت کی مرکب صلاحیت بلاشبہ انمول ہے۔ مقامی عدالت یا تفتیشی پولیس کی پوسٹوں کے لیے دو سے تین ماہ کے شارٹ کورسز کی ضرورت ہوگی، جو اس تربیت کے حصول کے لیے کافی ہوں گے۔ اس کے لیے کم سے کم اخراجات درکار ہوں گے، اور نئی بھرتیوں اور ان کی ٹریننگ کے لیے درکار وسیع اخراجات کی بچت ہوگی۔
اس سے ایک اور بڑا مسئلہ حل ہو سکے گا۔ پاکستان کے لیے دفاع سے متعلق اخراجات بے انتہا بڑھ چکے ہیں۔ میرے آرٹیکل پنشن بم کی ٹک ٹک (مطبوعہ 16 اکتوبر 2020) میں پنشن کے اخراجات کے بڑے مسئلے کے حل کی طرف اشارے کیے گئے ہیں، جو اس وقت 470 ارب روپے ہو چکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مقاصد کے لیے یہ اخراجات جتنے بھی بتائے جائیں، سوال یہ ہے کہ مستقبل قریب میں ان اخراجات کو پورا کرنے کے لیے آمدن کے ذرائع کیا ہیں؟ پنشن فنڈ کو خود انحصار بنانے کے منصوبوں کے لیے جہاں ایک الگ اور تفصیلی اسٹڈی کی ضرورت ہے، وہاں ہمیں اپنی دفاعی صلاحیت کو بڑھانا ہوگا، بالخصوص مغربی محاذ پر۔ ان رکاوٹوں کے باوجود آج کے چیلنجز سے نبردآزما ہونا پڑے گا۔
اس سیٹ اپ کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھانے کے لیے، ہمارے پاس کراسنگ پوائنٹس اور خاردار سرحد (ایک اچھی طرح تیار شدہ آئیڈیا) کی الیکٹرانک کوریج کے ذریعے معلومات فوری جمع کرنے کی صلاحیت ہونی چاہیے۔ الیکٹرانکس کے ذریعے خفیہ معلومات اکٹھا کرنا کم خرچ ہو چکا ہے، جس کے لیے مقامی انڈسٹری کام آ سکتی ہے۔ اس کے ساتھ انسانی انٹیلی جنس بھی جوڑی جا سکتی ہے، جس کے عملے کی اچھی خاصی تعداد دستیاب ہے، جو سرحدوں اور شہروں دونوں کو گہرائی میں کور کر سکتے ہیں۔ ہیومن انٹیلی جنس کے لیے جدید مہارتوں اور اچھی عمارتوں کی ضرورت ہوتی ہے۔
مجوزہ اقدامات اگر بروقت اٹھائے جاتے ہیں تو اس سے سرحدوں کی حفاظت کا ہمارا عزم منعکس ہوگا۔ اس سے پاکستان مخالف قوتوں کی کارروائیاں رک جائیں گی، جو مغربی سرحدوں کے پار سے تاحال اپنے نیٹ ورکس چلا رہی ہیں۔ پہلے ہی سے تربیت یافتہ افرادی قوت نئی قوت کھڑی کرنے کے مقابلے میں باکفایت اور سستی ہوگی، جو کہ وقت اور لاگت دونوں کے حساب سے استطاعت سے باہر کا آپشن ہے۔
(فاضل کالم نگار سکیورٹی اور دفاعی امور کے تجزیہ کار ہیں)
٭……٭……٭

بلاول بھٹو زرداری کا دورہ جنوبی پنجاب

سید سجاد حسین بخاری

آج کل پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری دس روزہ سرائیکی وسیب کے دورے پر ہیں۔ اس دورے میں انہوں نے ملتان کے علاوہ مظفرگڑھ‘ ڈیرہ غازیخان‘ میلسی‘ دنیاپور اور آج وہ تین روزہ دورے پر رحیم یارخان چلے گئے ہیں اور پھر گیارہ ستمبر کو بلاول بھٹو زرداری لیہ کی تحصیل کروڑ لعل عیسن آئیں گے جہاں پر پاکستان پیپلزپارٹی کے پرانے گھر سیہڑ ہاؤس جائیں گے جہاں پر سردار بہادرخان سیہڑ ان کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے اور شمولیت کا اعلان بھی کرینگے۔ سیہڑخاندان کے سربراہ سردار بہرام خان سیہڑ مرحوم پاکستان پیپلزپارٹی کے ایم این اے بھی رہے ہیں اور مرحوم نے 1981ء میں درجنوں رہنماؤں کے ساتھ قیدوبند کی مصیبتیں بھی کاٹی تھیں مجھے بھی بطور صدر سٹوڈنٹس یونین اسلامیہ ڈگری کالج ملتان ان تمام رہنماؤں کے ساتھ ملتان سنٹرل جیل میں تین ماہ نظربندی کے گزارنے کا اعزاز حاصل ہے۔ مرحوم بہرام خان سیہڑ کے بعد ان کے بھائی سردار جہانگیرسیہڑ ہواؤں کے رخ کو اچھی طرح سمجھتے تھے لہٰذا انہوں نے غیرجماعتی الیکشن اور ضیاء الحق کی حکومت کا ساتھ دیا۔ سردار بہادرخان سیہڑ زمانہ طالبعلمی سے ترقی پسند سوچ سے بھی دو ہاتھ آگے کی سوچ رکھتے تھے لہٰذا پاکستان پیپلزپارٹی ہی ذہنی طور پر ان کی پناہ گاہ تھی جہاں پر وہ ذہنی آسودگی حاصل کرسکتے تھے۔ بات دوسری طرف چلی گئی۔مقصد بلاول بھٹو زرداری کے دس روزہ دورے کے اثرات پر کرنی ہے کہ اس دورے سے بلاول بھٹو نے کیا حاصل کیا۔ جی ہاں میری نظر میں بلاول بھٹو کے اس دورے کی اشد ضرورت تھی کیونکہ ایک تو اس خطے میں پاکستان پیپلزپارٹی تقریباً نیم مردہ حالت میں تھی کیونکہ بے نظیر کی شہادت سے ایک خلا پیدا ہوگیا تھا اور پرانے کارکن وجیالے جماعتی پالیسیوں اور ناروا سلوک سے تنگ آکر گھر بیٹھ گئے تھے۔ کچھ نے دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرلی تھی پھر تحریک انصاف نے جنم لیا تو ن لیگ کا مخالف ووٹ پی ٹی آئی میں چلاگیا لہٰذا پی پی فارغ ہوگئی۔ جوبااثر سیاستدان تھے انہوں نے جب دیکھا کہ مقتدر حلقے تو ن لیگ اور پی ٹی آئی کو اقتدار دینا چاہتے ہیں لہٰذا وہ ان دونوں جماعتوں میں شامل ہوگئے۔پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے بھی سندھ تک اپنے آپ کو محدود کرلیا اس لئے سرائیکی خطہ پی پی کا جوکبھی مرکز ہوتا تھا بدل گیا۔
بلاول بھٹو زرداری نے اس دس روزہ دورے میں بنیادی کام یہ کیا کہ وہ پرانے جیالوں کے گھروں میں گئے۔ مرنے والوں کی فاتحہ خوانی کی جس سے پرانے جیالوں کے حوصلے بلندہوئے اور اپنائیت کا انہیں احساس ہوا۔ یہ ایک اچھا قدم تھا جس کی سخت ضرورت تھی۔ دوسرا کام بلاول بھٹو نے چند ایک قدآور شخصیات کو پارٹی میں شامل کرانے کا کیا مثلاً سابق گورنر سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ اور اس کے بیٹے سابق وزیراعلیٰ پنجاب دوست محمد خان کھوسہ کو پی پی میں شامل کیا یہ خاندان لغاریوں کا متبادل ضرور ہے مگر ان کے مقابلے میں مالی اور سیاسی طور پر کمزور ہے اور اس خاندان نے 2018ء کا الیکشن تحریک انصاف میں لڑا تھا اور شکست کھائی تھی۔ اسی طرح وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان خان بزدار کے آبائی شہر تونسہ شریف کی حضرت سلیمان تونسوی کی درگاہ کے سجادہ نشین خواجہ عطا اللہ پی پی میں شامل ہوئے وہ بھی نگران حکومت میں مذہبی امور کے وفاقی وزیر رہے ہیں ان کے خاندان کی ہمیشہ قومی اسمبلی کی ایک نشست ہوتی ہے اور آج کل خواجہ شیراز تحریک انصاف کے ایم این اے ہیں۔ تونسہ کا خواجہ خاندان بھی تقسیم ہے۔ دیکھتے ہیں مستقبل میں خواجہ عطا اللہ قومی اسمبلی کی سیٹ اپنے ہی خاندان کے مقابلے میں نکال سکتے ہیں یا نہیں۔ لیہ‘ تونسہ اور ڈیرہ غازیخان کی تینوں شخصیات اپنے تئیں بااثر اور بھاری بھرکم تو ہیں مگر سیٹیں نکالنا تھوڑا مشکل نظرآرہا ہے۔ ہاں اگر کوئی جماعتی ویو بن گئی تو تینوں کامیاب ہوجائیں گے ورنہ مشکل۔
بلاول بھٹو نے اس دورے کے دوران متعدد وفود سے ملاقاتیں بھی اور مکالمے بھی ہوئے۔ اخبار کے ایڈیٹروں اورکالم نگاروں سے بھی انہوں نے ایک طویل اور خوشگوار ملاقات کی جس میں میں نے بلاول کو اپنی عمر اور تجربے سے زیادہ منجھاہوا پایا۔ بلاول کو ملکی اور بین الاقوامی سیاست پر مکمل دسترس ہے اور اسے تاریخ کا بھی مکمل علم ہے۔ وہ تمام چیزوں کو بھی خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں اور ان پر دسترس بھی انہیں حاصل ہے۔ بلاول کا اپنا مستقبل پاکستان کی سیاست میں روشن ہے مگر پی پی کے مستقبل کیلئے انہیں بہت محنت کرنا پڑے گی۔ بلاول کا ٹارگٹ سرائیکی وسیب یا جنوبی پنجاب ہے مگر ان کا ٹارگٹ جہانگیرترین کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا۔پارٹی پروگرام میں چند نئی تبدیلیاں ضروری ہیں روٹی‘کپڑا‘ مکان والی نسل مرکھپ گئی یا آخری نسل باقی ہے مگر نوجوانوں کو بلاول بھٹوزرداری کو ایک انقلابی اور جدید پروگرام دینا ہوگا تب جاکر بلاول اس خطے میں کامیاب ہوں گے صرف بڑے قدکاٹھ کے سیاستدانوں کے پارٹی میں آنے سے فتح نہیں ملتی۔ اصل بات پاکستان کی 64فیصد نوجوان نسل کے مسائل ہیں ان کی طرف بلاول بھٹوزیادہ توجہ دیں اور سائنسی بنیادوں پر کام کریں۔ ماشاء اللہ خود آکسفورڈ جیسے تعلیمی ادارے سے فارغ التحصیل ہیں وہ اپنی عمر کے نوجوانوں کو بہت کچھ دے سکتے ہیں مگر اس کیلئے ایک نوجوان تھنک ٹینک کی ضرورت ہے اس میں کوئی شک نہیں سید یوسف رضا گیلانی‘ مخدوم احمدمحمود پی پی کاسرمایہ ہیں مگر ان کی اولادوں کو اب بلاول کا ہمسفر ہونا چاہئے۔ اس دورے میں دونوں مخدوموں اور نتاشہ دولتانہ نے دورے کو کامیاب کرانے کیلئے بہت کام کیا مگر ان کے اصل بازو ملتان کے کارکنان اور عہدیدار تھے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ اب بلاول نے اپنا میڈیا سیل بھی بنالیا ہے جو دورجدید کے تقاضوں کو پورا کررہا ہے اور اس میں بھی نوجوان شامل ہیں۔ میڈیا سیل کی طرح جماعت میں بھی نوجوانوں کی ضرورت ہے بلاول صاحب!
(کالم نگارقومی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭

طالبان نے افغانستان میں عبوری حکومت کا اعلان کردیا

طالبان کی جانب سے نئی عبوری حکومت کے ابتدائی اراکین کے ناموں کا اعلان کیا جارہا ہے۔

طالبان کے ترجمان کے ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے نئی حکومت کا اعلان کیا گیا ہے جس کے مطابق محمد حسن اخوند عبوری وزیر اعظم ہوں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد نے بتایا کہ طالبان کے سابق بانی امیر ملا عمر کے صاحبزادے اور ملٹری آپریشن کے سربراہ محمد یعقوب مجاہد  کو عبوری وزیر دفاع مقرر کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ سراج الدین حقانی وزیر داخلہ، ہدایت اللہ بدری وزیر خزانہ اور شیخ اللہ منیر نئی افغان حکومت میں وزیر تعلیم ہوں گے۔

ایران پر حملے کے پلان پر تیزی سے کام جاری ہے، اسرائیلی آرمی چیف

تل ابیب: اسرائیل آرمی چیف کا کہنا ہے کہ ایران پر حملے کے لیے تیزی سے تیاریاں جاری ہیں۔

اسرائیلی چیف آف جنرل اسٹاف اویو کوہاوی نے ایک انٹریو میں کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ کارروائی کے لیے تیاریوں میں تیزی آرہی ہے اور اسی مقصد کے لیے دفاعی بجٹ میں بھی اضافہ کیا گیا ہے، یہ انتہائی پیچیدہ کام ہے جس کے لیے خفیہ معلومات اور زیادہ سے زیادہ اسلحہ درکار ہے اور ہم اس پر کام کررہے ہیں۔

اسرائیلی فوجی سربراہ نے کہا کہ مشرقی وسطیٰ میں ہم ایران کے اتحادیوں پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں، ہمارا اصل مقصد خطے میں ایرانی اثرورسوخ کو کم کرنا ہے جب کہ اس طرح کے آپریشن پورے مشرقی وسطیٰ میں کیے جاتے ہیں جس میں حماس اور حزب اللہ بھی شامل ہیں۔

پی سی بی میں عہدیداروں کے آپریشن کلین اپ کا فیصلہ

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) میں عرصہ دراز سے چمٹے عہدیداروں کے آپریشن کلین اپ کا پلان بنالیا گیا۔

ذرائع کے مطابق مصباح الحق اور وقار یونس کے بعد اور بھی لوگوں کی چھٹی ہوگی۔ رمیز راجہ 13دسمبر کو عہدہ سنبھالنے کے بعد ایکشن لیں گے۔ آنے والے دنوں میں استعفوں اور جبری رخصت کا سلسلہ متوقع ہے۔

پی سی بی اور نیشنل ہائی پرفارمنس سنٹر میں نئے چہرے لائے جائیں گے۔ رمیز راجہ نئے آئیڈیاز رکھنے والی ٹیم کی مشاورت سے معاملات چلائیں گے۔ اکیڈمی میں بیٹنگ کوچ محمد یوسف سمیت اسٹاف میں تبدیلیوں کا عندیہ دیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ باقاعدہ سنبھالنے سے پہلے ہی بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں اور قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ سابق فاسٹ بولر وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار ہوگئے ہیں۔

 

پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان عہدوں پر سابق ٹیسٹ کرکٹر ثقلین مشتاق اور سابق آل راؤنڈر عبدالرزاق کو عارضی طور پر تعینات کردیا ہے۔

سطح سمندر میں اضافہ اورگلیشئر

ناظم علی ناظم
آج جو بات میں کرنے جا رہا ہوں یہ صرف پاکستان میں بسنے والے لوگوں کے لئے نہیں ہے بلکہ پوری دنیا پر ہندو مسلم سکھ عیسائی ہر مذہب کے لیے لمحہ فکریہ ہے کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں تباہی کی طرف جا رہے ہیں اور ہمیں ہر گز یہ معلوم نہیں ہے کہ ہمارے ہاتھوں سے بنائی ہوئی چیزیں ہمارے استعمال میں لائی جانے والی چیزیں ہمارے روزمرہ کی زندگی میں ہماری ضروریات بن کے جو چیزیں سامنے آئی ہے جن کے بغیر ہمارا گزارا نہیں ہے اور وہ ایسی چیزیں ہیں کہ جس پر ہمیں بڑا ناز بڑا مان اور بڑا ہی پیار بھی ہوتا ہے پیار اور ناز کیوں نہ ہو یہ چیزیں ہمیں روزانہ کی بنیاد پر خوراک مہیا کرنے میں مدد دیتی ہیں یہ چیزیں ہمیں روزانہ کی بنیاد پر سفر کرنے میں مدد دیتی ہیں یہ چیزیں ہمیں روزانہ کی بنیاد پر ہمارے ذریعہ معاش کو بحال رکھنے میں مدد دیتی ہیں اب ذرا غور کیجئے گا کہ وہی چیزیں جو ہمارے استعمال میں ہیں اور جوہماری زندگی ہماری سانسیں چلنے میں مدد کرتی ہیں وہی ہماری زندگی کو ختم کرنے میں کیا کردار ادا کر رہی ہیں۔
سائنسدانوں کی تحقیق کے مطابق بہت جلد سطح سمندر اوپر آنے والی ہے اسی صدی میں یہ سمندر 2 میٹر تک اوپر آنے والا ہے آپ اندازہ لگا لیجئے کہ سمندر 2 میٹر اوپر آتا ہے تو تباہی کہاں سے کہاں تک آئے گی۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ساحل سمندر پر جتنے بھی ملک آباد ہیں یہ ساحل سمندر سے کتنے اوپر ہیں جہاں سمندر کے اوپر آنے کی بات ہوتی ہے تو وہاں گلیشیر کے پگھلنے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا چونکہ چند سالوں میں گلیشئیر بہت زیادہ پگھلنا شروع ہو چکے ہیں اور بہت زیادہ پگھلنا ان کی مجبوری بھی ہے کیوں کہ ان کو اب ماحول ویسا نہیں مل رہا کہ یہ دیر بعد پگھلیں آپ اس چیز پر بھی غور کریں کہ چند سالوں میں ہی زیادہ گرمی آنا شروع ہوگئی ہے 2011 میں گرمی کی شدت بہت کم تھی اب 2011 کے بعد گرمی کی شدت بہت زیادہ بڑھ چکی ہے انیس سو پچاس کے بعد انتہائی گرمی محسوس کی جانے لگی جبکہ 1950 تک گرمی کی شدت اتنی نہیں ہوا کرتی تھی اب غور کرتے ہیں کہ گرمی کی شدت کیوں پڑ رہی ہے تو اس کی بڑی وجہ ہمارے استعمال میں آنے والی وہ گاڑیاں اور وہ کارخانے جو ہمارے استعمال کی چیزیں بناتے ہیں ان سے اٹھنے والا دھواں ان سے اٹھنے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ اور بے شمار ایسی چیزیں جو گرمی کی شدت کو بڑھانے میں مدد دیتی ہیں گلیشیئر کا پگھلنا زیرِ زمین پانی کا دور چلے جانا اور سطح سمندر کا اوپر آنا اور سردی کا سیزن کم سے کم رہنا کیوں کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ اب ملک پاکستان سمیت بہت سارے ممالک میں سردی کم رہنے لگی ہے اور گرمی کا سیزن زیادہ لمبے عرصے تک رہتا ہے۔
ایک وقت آنے والا ہے کہ سردی بالکل نام کی ہوگی اور سمندر گرم ہو جائیں گے اورلوگ تزابیت کا زیادہ سے زیادہ شکار ہوں گے اور قطبی گلیشیر جلد پگھلنا شروع ہو جائیں گے غور کریں کہ پاکستان میں کچھ عرصہ پہلے انسانوں کے ناک سے خون نکلنے کی بیماری سامنے آئی تھی اس کی بڑی وجہ بدلتا ہوا موسم اور ہمارے خود ساختہ ماحول کو خراب کرنے والے معاملات تھے سانس لینا مشکل ہو گیا تھا ہوا میں نمی کم ہوتی جارہی ہے جب ہوا تیز اور نمی کم ہوتی ہے تو جنگلات میں آگ بھی لگتی ہے جیسا کہ ترکی میں بہت بڑے پیمانے پر آگ لگ چکی ہے جو کہ ترکی کے بہت بڑے جنگلات کو راکھ کا ڈھیر بنا چکی ہے اور مزید آگ لگی ہوئی ہے جس کو بجھانے میں بہت سارے لوگ لگے ہوئے ہیں مگر ابھی تک وہ بجھا نہیں پائے اب ذرا غور کرتے ہیں کہ ہم کس طرح آنے والی تباہی سے بچ سکتے ہیں یہ زمین ہمارے لئے کس طرح مفید رہ سکتی ہے تو ہمیں چاہیے کہ ہم زیادہ سے زیادہ کنٹرول کریں جیسا کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری نے کہا کہ ہمیں اکٹھا ہونا ہوگا اور اس کا لائحہ عمل تیار کرنا ہوگا تاکہ ہماری آنے والی نسلیں اور ہم اس بڑی تباہی سے بچ سکے اب ذرا غور کرتے ہیں کہ سب سے زیادہ کاربن ڈائی آکسائیڈ چھوڑنے والے ممالک کون ہیں ان میں سب سے اوپر نام آتا ہے چائنہ کا جو کہ 9.3 پر ہے اس کے بعد امریکہ کا نام آتا ہے جو کہ چار اعشاریہ پلس ہے اور پھر بھارت ہے پھر جاپان ہے پھر ایران ہے اور ممالک بھی ہیں پاکستان کا نام ان میں بہت دور جا کر آتا ہے اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بات بھی فراموش نہیں کر سکتے کہ یہ تمام ممالک ساری دنیا کے لیے معاشی معاملات میں بھی سازگار ہیں اور تمام دنیا کے لیے انہوں نے ذریعہ معاش اس قدر بحال رکھا ہوا ہے کہ جس کی مثال نہیں ملتی مگر اس حد تک نہیں لُبِ لباب یہ ہے کہ ہمیں آج سوچنا ہو گا کہ ہماری آنے والی نسلیں اور ہم کس طرح خوش حال زندگی گزار سکتے ہیں اور صاف ستھرے ماحول میں کیسے رہ سکتے ہیں اور سمندر کی سطح کے بڑھ جانے جیسی آفت سے کیسے محفوظ رہ سکتے ہیں میرے خیال میں پاکستان کو یہ کردار ادا کرنا چاہیے کہ آگے بڑھے اور آنے والے تمام خطرات سے بچنے کے لئے اپنی قوم اور تمام انسانیت کو محفوظ بنائے اور اپنا کردار ادا کرے اور اقوام متحدہ کے اندر تمام ممالک کے سامنے ان مسائل کا حل تلاش کرنے کے لئے تجویز پیش کرے اور اپنے دوست ممالک کو بھی ایسی تجویز لانے پر زور دے کہ جس سے ہمارا آنے والا وقت پریشانیوں سے محفوظ ہو سکے۔
(کالم نگارسیاسی ومعاشرتی موضوعات پرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭