خدا یار خان چنڑ
ماہ ستمبر کا آغاز ہوتے ہی دل ودماغ پر ایک عجب سرشاری کی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ اپنا سر فخر سے بلند ہوتا محسوس ہوتا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو کہ 1965میں اسی ماہ کے دوران پاکستان کی بہادر فوج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن بھارت کو ایسی ذلت آمیز شکست دی کہ وہ برسوں اپنے زخم چاٹتا رہا۔ بھارت نے پاکستان کے قیام کوپہلے دن سے ہی قبول نہیں کیا تھا، بھارتی حکمرانوں کا خیال تھا کہ پاکستان چھ ماہ سے زیادہ دیر تک اپنا وجود برقرار نہیں رکھ سکے گا اور دوبارہ بھارت سے آن ملے گا۔ دراصل لاالہ الا اللہ کی بنیاد پر بننے والا پاکستان جب سے معرض وجود میں آیا تھا، تب سے یہ کفر کے دل میں کانٹے کی طرح چبھ رہا ہے اور وہ اس کومٹانے کے درپے رہے ہیں۔ انہوں نے جب دیکھا کہ یہ کٹا پھٹا پاکستان جس نے1947میں بے سروسامانی کی کیفیت اور مسائل کے انبار میں اپنے سفر کا آغاز کیا تھا۔ آج یہ بھرپور طاقت بن کر ابھر رہا ہے تو ان کے قلوب و اذہان میں طرح طرح کے منصوبے پنپنے لگے۔ وہ پاکستان کی سلامتی وبقاکو خطرے میں ڈالنے کیلئے مختلف محاذوں پر سازشوں میں مصروف رہنے لگے، لیکن انہیں ہر محاذ پر ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا۔
بھارتی حکمرانوں اور انتہا پسند ہندؤں کی فرسٹریشن بڑھتی جا رہی تھی اور وہ اس خطہ میں مسلمانوں کی ایک ہزار سالہ حکمرانی کا بدلہ انہیں غلام بنا کر لینے کے خواب کو جلد شرمندہ تعبیر ہوتا دیکھنا چاہتے تھے۔ 6ستمبر1965کی جنگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ بھارتی جنرل چودھری نے اپنے سپاہیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے یہ بڑھک ماری کہ ہم لاہور کے جم خانہ میں ناشتہ کریں گے، شراب پیئیں گے اورشغل وطرب کی محفل سجائیں گے۔لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ اس کا واسطہ کس بہادر فوج اور قوم سے پڑا ہے۔پاکستانی فوج کے جذبہ جہاد سے سرشار نوجوانوں نے سروں پہ کفن باندھ کر سیسہ پلائی دیوار بنتے ہوئے کچھ اس انداز سے دشمن کامقابلہ کیا کہ پہلے ہی ہلے میں جنگ کاپانسہ پلٹ کر رکھ دیا اور دشمن کو سرپٹ بھاگنے پر مجبور کر دیا اور وہ جنرل چودھری جو جمخانہ کلب میں شراب پینے کی خواہش لے کر آیا تھا، وہ بی آر بی نہر کا پل بھی عبور نہ کر سکا اور اپنی جھنڈے والی جیپ باٹاپور میں چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ ہڈیارہ نالے کے کنارے میجر شفقت بلوچ اس کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر کھڑے تھے، وہ بیان کرتے ہیں کہ جنرل چودھری لاہور جمخانہ میں شراب پینا چاہتا تھا، میں نے 3 دن اس کو ہڈیارہ نالے کے پانی کا ایک گھونٹ بھی نہیں پینے دیا۔
ہماری بری فوج کے جوان آخری جوان اور آخری گولی تک لڑو کے نعرے لگاتے ہوئے دیوانہ وار دشمن کی صفوں پرٹوٹ پڑے اور ان کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔ اس وقت پاکستان کے صدر جنرل ایوب خان نے قوم سے اپنے ولولہ انگیزخطاب میں کہا میرے عزیزہم وطنو! دس کروڑ پاکستانی شہریوں کے لیے آزمائش کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ آج صبح لاہور کے محاذ پربھارتی فوجوں نے حملہ کر دیا ہے۔ انہوں نے نہایت ہی بزدلانہ طریقے سے وزیرآباد میں کھڑی مسافر ٹرین پرگولیاں برسائی ہیں۔ پاکستان کے دس کروڑ عوام جن کے دل لاالہ الااللہ محمدرسولؐ اللہ کی آواز پر دھڑکتے ہیں، اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے جب تک بھارت کی توپیں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے خاموش نہیں ہوجاتیں۔ بھارتی حکمرانوں کو یہ پتہ نہیں کہ انہوں نے کس قوم کو للکارا ہے۔ تیار ہوجاؤضرب لگانے کے لیے کیونکہ جس بلا نے تمہاری سرحدوں پرسایہ ڈالا ہے، اس کی تباہی یقینی ہے۔ باضابطہ جنگ شروع ہونے پر مردانہ وار آگے بڑھو اور دشمن پر ٹوٹ پڑو۔ اللہ تمہارا حامی وناصر ہو۔ اس خطاب نے فوجی جوانوں اور قوم میں ایک نیا جذبہ بھر دیااور وہ وطن کی خاطر اپنا تن من دھن قربان کرنے کو تیار ہو گئے۔ پاک فضائیہ کے شاہینوں نے بھی اپنی سرزمین کا دفاع کرنے کے ساتھ ساتھ آگے بڑھ کر انبالہ، سرینگر اور پٹھانکوٹ کے ہوائی اڈوں پرحملہ کرکے دشمن کے بیسیوں جہاز تباہ کردیے اور فضائی لڑائی میں بھی برتری حاصل کر لی۔ ایم ایم عالم نے مختصر ترین وقت میں بھارت کے 5جنگی جہاز تباہ کرکے دشمن پر ہیبت طاری کردی۔ بحری فوج بھی کسی سے پیچھے نہیں تھی۔ بحریہ کے جوان اس وقت ناشتے میں مصروف تھے۔ جب ان کو پتا چلا کہ بزدل دشمن نے ایک غیرت مند قوم پر حملہ کرکے اس کی غیرت کو للکارا ہے تو وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر کھلے پانیوں میں اترگئے اور اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے جذبہ جہاد اور دینی حمیت سے سرشار ہو کر دوارکا کے قلعے تک جاپہنچے اور اس کو تہس نہس کرکے رکھ دیا۔ بقول شاعر:
دشت تو دشت ہیں دریا بھی نہ چھوڑے ہم نے
بحر ظلمات میں دوڑا دیے گھوڑے ہم نے
پاک فوج کی انہی صلاحیتوں کی وجہ سے اقوام متحدہ کے امن مشن میں اسے ہر دلعزیز گردانا جاتا ہے۔ کسی بھی آزمائش میں پاک سرزمین کے سپوت ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتے اور جواں مردی کی مثال بن جاتے ہیں۔ ہمیں اپنی افواج پر فخر ہے۔ یہ پاک فوج ہی ہے جس کے باعث ہم راتوں کو اپنے گھروں میں میٹھی نیند سوتے ہیں اور وطن کے یہ محافظ ہماری سرحدوں کی حفاظت کیلئے جاگتے رہتے ہیں۔ اللہ میرے وطن کے ہر ایک سپاہی کو اپنی حفظ وامان میں رکھے۔ آمین
پاکستان زندہ باد
پاک فوج پائندہ باد
(کالم نگارسیاسی وسماجی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭
All posts by Daily Khabrain
پاک ٹی ہاؤس سے دامن اکیڈمی تک
میم سین بٹ
لاہور کے ادبی ٹھکانوں میں پاک ٹی ہاؤس سب سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے تقسیم ہند سے قبل اس کانام انڈیا ٹی ہاؤس ہوتا تھا۔آزادی کے ایک سال بعد وائی ایم سی اے کے غیرمسلم کرایہ دارکے شرنارتھی بن کر بھارت چلے جانے پر اس کی جگہ لینے والے مسلمان مہاجر دکاندار نے انڈیا ٹی ہاؤس کو مشرف بہ اسلام کرلیا تھا اس کی اولاد نے دو عشرے قبل پاک ٹی ہاؤس کے دروازے تین مرتبہ ادیبوں،شاعروں، دانشوروں پر بند کئے تھے بلکہ تیسری مرتبہ تو پاک ٹی ہاؤس کا پروپرائٹر اس کے حقوق کرایہ داری کپڑے کے تاجر کو فروخت کرکے خود بیرون ملک منتقل ہو گیا تھا اور کپڑے کے تاجر نے پاک ٹی ہاؤس کو گودام بنا لیا تھا جہاں ادیب،شاعر،دانشوربیٹھ کر چائے کی پیالی پر بحث و مباحثہ کیا کرتے تھے وہاں برسوں کپڑے کے رنگ برنگے تھان پڑے رہے تھے یہ جنرل (ر) پرویز مشرف کا آمرانہ دور تھا تیسری بندش پر ادیب،شاعر،دانشور بالکل ہی مایوس ہو گئے تھے لیکن ہمار ادل کہتا تھا کہ پاک ٹی ہاؤس ایک دن ضرور بحال ہو جائے گا۔
استادمحترم عطاء الحق قاسمی کی کوششوں سے بالآخر سابق وزیراعظم نواز شریف نے اپنی جماعت کی پنجاب حکومت کے ذریعے نہ صرف پاک ٹی ہاؤس کو تعمیرومرمت اور تزئین و آرائش کے بعد بحال کروادیا تھا بلکہ اس اس کی افتتاحی تقریب میں بطور مہمان خصوصی شریک بھی ہوئے تھے۔ اس موقع پر ہم نے نواز شریف کو اپنی تیسری کتاب ”لاہور۔شہر بے مثال“ پیش کی تھی بعدازاں حلقہ ارباب ذوق کے دونوں دھڑے بھی الحمراء ادبی بیٹھک اور ایوان اقبال سے پاک ٹی ہاؤس میں واپس آگئے تھے بلکہ انجمن ترقی پسند مصنفّین سمیت دیگر تنظیمیں بھی پاک ٹی ہاؤس کی گیلری میں ہفتہ وار اجلاس منعقد کرنے لگی تھیں تاہم گزشتہ برس کرونا وبا شروع ہونے کے بعد پاک ٹی ہاؤس میں ادبی سرگرمیاں بھی معطل ہو گئی تھیں اور تقریباََ ڈیڑھ سال سے حلقہ ارباب ذوق اور انجمن ترقی پسند مصنّفین کے ہفتہ واراجلاس واٹس ایپ گروپس میں آن لائن ہو رہے ہیں اور ادیب، شاعر،دانشور ایک دوسرے کی صورت دیکھنے اور پاک ٹی ہاؤس میں بیٹھ کر گپ شپ کرنے کو ترس گئے ہیں۔
ہم نے حلقہ ارباب ذوق کے سابق سیکرٹری عامر فرازکے ساتھ پاک ٹی ہاؤس میں ملاقات کا پروگرام تشکیل دیااور شہزاد فراموش کے ساتھ جب پاک ٹی ہاؤس پہنچے تو پتا چلا کہ کرونا ایس او پیز کے تحت اندر داخلہ بند ہے البتہ باہر فٹ پاتھ پر شہتوت کے پیڑ تلے تین میزیں اور دس کرسیاں رکھی ہوئی تھیں وہاں عملے کے دوارکان کے سوا کوئی تیسرا فرد موجود نہ تھا کرونا وائرس غالباََ صرف پاک ٹی ہاؤس کے اندر حملہ کرتا تھاہم دونوں بیٹھ کر عامرفراز کا انتظار کرنے لگے جنہیں ڈی ایچ اے سے آنے میں کچھ تاخیر ہو گئی شہزاد فراموش کو علامہ اقبال ٹاؤن پہنچنا تھا وہ تو رخصت ہو گئے اور ہم تنہا بیٹھے ماضی کی یادوں میں کھو گئے۔ حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس پاک ٹی ہاؤس کی بالائی گیلری میں ہوا کرتے تھے اور اس زمانے میں عامر فراز،امجد طفیل،احمد فرید،زاہد حسن وغیرہ سیکرٹری رہے تھے،پاک ٹی ہاؤس کے اندر داخل ہوتے ہی پہلی میز کے گرد انتظار حسین، زاہد ڈار،مسعود اشعربیٹھے دکھائی دیتے تھے ان کے دائیں جانب ڈاکٹر انیس ناگی اور عقب میں صوفے پر اسرار زیدی خاموش بیٹھے ہوتے تھے پانچوں بزرگ ادیب دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔
تھوڑی دیربعد عامر فراز بھی آکر ہمارے ساتھ پاک ٹی ہاؤس اور حلقہ ارباب ذوق کی یادوں میں شریک ہو گئے۔جن دنوں پاک ٹی ہاؤس پہلی مرتبہ بند ہوا تھا تو سیکرٹری جاوید آفتاب کے ساتھ عامر فراز حلقے کے جائنٹ سیکرٹری تھے اس زمانے کا ایک گروپ فوٹو ہمارے پاس موجود ہے جس میں جاوید آفتاب اورعامرفراز دیگر دانشوروں کے ساتھ پاک ٹی ہاؤس کی بندش کیخلاف احتجاجی بینر تھامے اسی جگہ کھڑے دکھائی دیتے ہیں جہاں اس وقت ہم دونوں بیٹھے یادیں تازہ کر رہے تھے۔ ہمیں یاد آیا جب ہفتہ وار تعطیل کے بہانے دوسری مرتبہ پاک ٹی ہاؤس کے دروازے دانشوروں پر بند کئے گئے تو اس وقت عامر فراز حلقہ ارباب ذوق کے سیکرٹری تھے انہوں نے قریب ہی وائی ایم سی اے کے کمرے میں اتوار کو حلقے کے ہفتہ وار اجلاس کروانا شروع کردیئے تھے تاہم عامر فراز کے اسی دور میں حلقہ ارباب ذوق پاک ٹی ہاؤس میں واپس پہنچ گیاتھاکیونکہ وائی ایم سی اے کی انتظامیہ نے بھی ایڈوانس بکنگ بند کردی تھی اورایک اتوار کواجلاس میں شرکت کیلئے آنے والوں کوباہر کھڑا رہنا پڑا تھا پاک ٹی ہاؤس کی تیسری بندش کے وقت زاہد حسن سیکرٹری تھے اور سالانہ انتخابات کی پولنگ کے بعد نتائج کا اعلان ہونے پر پاک ٹی ہاؤس طویل عرصہ کیلئے بند کردیا گیاتھا۔
پاک ٹی ہاؤس کی چائے اور کولڈ ڈرنکس پی کردونوں ہم استاد دامن اکیڈمی پر جانے کیلئے ٹکسالی گیٹ چل دیئے،قدیمی مسجد سے ملحقہ چھوٹی اینٹو ں سے بنا استاد دامن کا حجرہ دیکھنے والے خود زمانہ قدیم میں پہنچ جاتے ہیں، روایت کے مطابق شہنشاہ اکبر کے دور میں شاہ حسین بھی اسی حجرے میں رہتے تھے استاد دامن نے بھی اپنی مجرد زندگی کا بیشتر زمانہ اسی حجرے میں بسرکیا تھا وہ اب شاہ حسین کے دربار پر ہی آسودہ خاک ہیں، استاد دامن اکیڈمی کے صدر محمد اقبال محمد ایڈووکیٹ اورچوہدری محمد انور حجرے میں موجود تھے، محمد اقبال محمد ایڈووکیٹ نے گپ شپ کے دوران انکشاف کیا کہ وہ بھی ماضی میں پاک ٹی ہاؤس جایا کرتے تھے حلقہ ارباب ذوق کے اجلاسوں میں بھی شریک ہوا کرتے تھے اس کے ساتھ ہی انہوں نے حلقہ ارباب ذوق کے سابق سیکرٹری رشید مصباح (مرحوم) اور ان کے دوست یونس علی دلشاد (مرحوم) کا ذکر چھیڑ دیا جو ان کے زمانہ طالب علمی میں جناح اسلامیہ کامرس کالج میں بطور استاد پڑھایا بھی کرتے تھے ہم بھی دو عشرے پہلے پاک ٹی ہاؤس کی گیلری میں حلقے کی ہفتہ وار نشستوں کے دوران جوشیلے نقادوں کی جانب سے دوسروں کی تخلیقات پر تنقیدی گفتگو سنتے رہے تھے ہم نے رشید مصباح کا فیصل آباد جبکہ عامرفراز نے گوجرانوالہ کے حوالے سے ذکرکیانشست کے اختتام پر ہمارے سوال کے جواب میں محمد اقبال محمد ایڈووکیٹ نے بتایا کہ وہ استاد دامن اکیڈمی کیلئے سرکاری گرانٹ نہیں لیتے حالانکہ سابق ڈی جی پی آر اورسابق سیکرٹری اطلاعات و ثقافت پنجاب شعیب بن عزیز نے انہیں خود پیشکش بھی کی تھی ہمیں خوشی ہوئی کہ محمد اقبال محمد ایڈووکیٹ ٹکسالی دروازے کے تاریخی حجرے والے شاہ حسین اور استاد دامن کی سرکار دربار سے فاصلے پر رہنے کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
(کالم نگارسیاسی اورادبی ایشوزپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭
عزت والے ہی عزت دیتے ہیں
ڈاکٹرعبدالقادر مشتاق
میری یہ عادت بن چکی ہے اور میں کوشش کرتا ہوں کہ صبح کے وقت کسی عالم دین کے خیالات سے استفادہ کیا جائے۔ دین کی سوجھ بوجھ پیدا کی جائے۔ کیونکہ اگلے جہان سوال کوشش کا ہونا ہے نتیجے کا نہیں۔ سوال ہو گا کہ دنیا میں خدا کے دین کو سمجھنے کے لئے تو نے کیا کوشش کی۔ اس لئے انسان کو کوشش ضرور کرنی چاہیے۔ سوشل میڈیا پر جب بھی بات ہوتی ہے تو اس کے نقصانات پر بھرپور تقاریر کی جاتی ہیں۔ اس کا نوجوانوں کو تباہ کرنے میں کیا کردار ہے اس پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ لیکن ہم اس کو دوسرے زاویے سے دیکھنے کے عادی نہیں ہیں۔ زاویہ بدلنے سے چیز کی نوعیت ہی بدل جاتی ہے۔ نوجوانوں کو اگر منزل ہی نہ دی جائے تو پھر گمراہی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اب منزل کس نے دینی ہے۔ والدین نے اور اساتذہ نے۔ کہتے ہیں کہ آج کے نوجوان والدین کا احترام نہیں کرتے، طلبہ و طالبات اساتذہ کی عزت نہیں کرتے۔ میں نے ایک دوست سے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے۔ اس نے کہا سوشل میڈیا نے اس قوم کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔ جب تک اس پر پابندی نہیں لگے گی یہ قوم نہیں سدھر سکتی۔ میں نے سوال کیا کہ کیا پابندی میں ہی عزت ہے؟ اس نے کہا کہ جی بالکل جب تک میڈیا پر پاکستان میں پابندی تھی اس وقت تک سب ٹھیک تھا۔ یہ بیڑا غرق ہو مشرف کا جس نے اس ملک کو تباہ کر دیا۔ بے حیائی اور فحاشی لے کر آیا۔ وہ بولتا چلا گیا اور بہت سے مسائل پر روشنی بھی ڈالتا جا رہا تھا۔ اس دوران ہمارا ایک اور دوست آگیا وہ بھی شریک گفتگو ہوا۔ جب پہلے والے دوست نے کہا کہ میڈیا کی یلغار نے ہمارے کلچر کو تباہ کر دیا ہے تو دوسرے دوست نے اچانک سوال کر دیا کہ آپ کا کلچر اتنا کمزور ہے کہ وہ دشمن کے وار کا مقابلہ ہی نہیں کر سکا اور ریت کی دیوار ثابت ہوا۔
یہ تو حقیقت ہے کہ طاقتور کلچر کمزور کلچر کو کھا جاتا ہے۔ میں نے جسارت کی اور درخواست کی کہ تباہی، مرنا، مارنا، کھانا کی باتیں بہت ہوگئی ہیں۔ ہم اس کو اس طرح سے کیوں نہیں دیکھتے کہ جب دو کلچر ملتے ہیں تو ان کے ملنے سے ایک نیا کلچر وجود میں آتا ہے۔ جو دونوں کلچرز کی خصوصیات اپنے اندر سمو ہوتا ہے۔ مغل حکمران اکبر نے ہندوؤں کو اپنے اقتدار اور اپنی پالیسیوں میں شامل کیا تو ہندووں اور مسلمانوں کے ملاپ سے بر صغیر پاک و ہند میں ایک نئے کلچر نے جنم لیا۔ اسی طرح جن لوگوں کے آباواجداد ہندو تھے اور بعد میں وہ بزرگان دین کی کاوشوں کی بدولت مسلمان ہو گئے ان کے رہن سہن میں آج بھی ہندو مذہب کی جھلک نظر آتی ہے۔ ان کی شادی اور فوتیدگی کی رسومات کا مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں بہت سی غیر اسلامی چیزیں نظر آئیں گی۔ میرے دوستوں میں سے ایک بولا کہ کیا کلچر مذہب سے زیادہ مضبوط ہے۔ میں نے کہا کہ مجھے بھی لگتا ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں صبح جلدی بیدار ہونا معمول ہے۔ سب مذاہب میں صبح جلدی بیدار ہونے کو اچھا شگون بھی قرار دیا گیا ہے۔ صبح جلدی بیدار ہوکر خدا کی عبادت سب کا مشترکہ معمول ہے۔ کوئی قرآن پڑھتا ہے، کوئی مسجد کا رخ کرتا ہے تو کوئی مندر اور گوردوارے کا۔ پھر میرے دوست نے گفتگو کو ایک نیا موضوع دینے کی کوشش کی اور کہا کہ عزت دینا اور لینا بھی ہمارا مشترکہ کلچر ہے؟ پہلے تو میں تھوڑا خاموش ہوا پھر مجھے ایک واقعہ یاد آیا جو یوٹوب پر ایک مولوی صاحب بیان کر رہے تھے کہ ایک دفعہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے اور ان کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق بیٹھے تھے اس دوران حضرت علی علیہ السلام تشریف لائے تو حضرت ابوبکر صدیق نے اپنی جگہ حضرت علیؓ کو دے دی اور آپ تھوڑا سا پیچھے ہو گئے۔ جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سب کچھ دیکھا تو فرمایا کہ عزت والے ہی دوسروں کو عزت دیتے ہیں۔ بہت خوبصورت بات تھی میرے نبی کی کہ عزت والے ہی دوسروں کو عزت دیتے ہیں۔ میں نے کہا کہ عزت کا تصور انسانیت سے جڑا ہے۔
دنیا میں جتنے بھی مذاہب آئے وہ انسانوں کی فلاح اور عزت واحترام کے لئے آئے۔ اس لئے اخلاقیات کا درس ہر مذہب میں موجود ہے۔ لیکن ہمارے نبی نے غلاموں، یتیموں، نادار اور غریب لوگوں کو عزت دی۔ برصغیر پاک و ہند میں بزرگان دین نے شودر لوگوں کو آنکھوں پر بٹھایا۔ ان کو معاشرے میں عزت دی۔ جس سے مذہب اسلام کا پرچار ہوا۔ اس لئے عزت لینے کے لئے عزت دینی پڑتی ہے۔ قربانی دینی پڑتی ہے۔ حضرت امام حسین علیہ السلام نے خدا کے مذہب کے لئے قربانی دی تو خدا نے لوگوں کے دلوں میں ان کے لئے محبت پیدا کر دی۔ دوست بولا کہ اس کا مطلب ہے کہ عزت لینے کے لئے خدا سے دوستی ضروری ہے۔ میں نے کہا کہ بہت ضروری ہے۔ کیونکہ وہ عزت رکھنے والا ہے چاہے یہ فانی دنیا ہو یا اگلا جہان۔ میرے والد گرامی روز تہجد پڑھتے تھے اور بعد میں اپنی دعا میں اکثر یہ الفاظ بولتے تھے کہ اے خدا کر کرم کروا کرم۔۔۔دونوں جہاں میں رکھ شرم۔ خدا ہی شرم رکھنے والا ہے۔ وہ آپ کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے اور گناہوں کو صیغہ راز میں رکھتا ہے وہ اس لئے کہ وہ آپ کو رسوا نہیں کرنا چاہتا۔ وہ آپ کے گناہ دیکھتا ہے پھر بھی خاموش رہتا ہے غصہ میں نہیں آتا۔ بار بار انسان کو موقع دیتا ہے کہ لوٹ آ۔ اس لئے کہتے ہیں کہ سارے مسائل اور مصیبتیں خدا کی طرف سے ہیں اور خدا کی طرف ہی لوٹ کر جانے والی ہیں۔ گفتگو کے دوران ہی دوست نے کہا آپ کے لئے چائے لاؤں۔ میں نے اسے تو کہا کہ ضرور، لیکن خدا کا دل میں شکر ادا بھی کیا کہ تو نے بات کرنے کی توفیق دی، دوستوں میں عزت دی، بہن بھائیوں کا پیار دیا، روزگار دیا، میرے بچوں کے لئے نان ونفقہ کا بندوبست کیا۔ تو بہت رحیم ہے، کریم ہے، غفور ہے۔ ہم جیسے گناہ سے لبریز انسانوں پر اگر تیرا اتنا کرم ہے تو تیرے نیک بندوں پر تیرے کرم کی تو کوئی حد ہی نہیں ہوگی۔ اس لئے خدا کے نیک بندے کبھی مرتے نہیں بلکہ ان کی خانقاہوں اور درگاہوں پر ہمیشہ حق کے چراغ جلتے ہیں، چاہے وہ خواجہ معین الدین چشتی کا مزار ہو یا پیر مہر علی شاہ کا۔
خدا سے محبت کرنے والوں کے لئے خدا اپنی مخلوق کے دلوں میں محبت پیدا کر دیتا ہے۔ جب مخلوق کے دلوں میں محبت پیدا ہوتی ہے تو انسان کو خود بخود معاشرے میں عزت ملنا شروع ہو جاتی ہے۔ لیکن ہماری کم عقلی ہے کہ ہم ہمیشہ انسانوں سے توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں عزت دیں۔ ان انسانوں سے میرا سوال ہے کہ اگر خدا انسانوں کو توفیق ہی نہ دے تو وہ آپ کو کیسے عزت دے سکتے ہیں؟ کیونکہ عزت تو خدا دینے والا ہے۔ وہ انسانوں کے دلوں میں آپ سے محبت پیدا کرنے کے لئے آپ سے ایسے کام کروا جاتا ہے جس سے آپ کی معاشرے میں عزت سے اضافہ ہوتا ہے۔ اگر آپ کو کہیں بے عزتی کا بھی سامنا کرنا پڑھے تو اس میں بھی خدا کی کوئی حکمت ہوتی ہے ورنہ خدا کبھی اپنے بندوں کو بے عزت نہیں ہونے دیتا۔ خدا ہم سب کو عزت دے اور ہماری عزتوں کو قائم رکھے۔
(کالم نگار جی سی یونیورسٹی فیصل آبادکے
شعبہ ہسٹری کے چیئرمین ہیں)
٭……٭……٭
7ستمبر یوم ختم نبوتؐ اور جماعت اسلامی کا کردار
محمد جاوید قصوری
قرآن و سنت کے واضح نصوص میں دین اسلام میں عقیدہ توحیدکے بعد دوسرا اہم اور بنیادی عقیدہ ختم نبوتؐ کاہے، پہلی امتوں کے لیے اس بات پر ایمان لانا لازم تھا کہ ان کے انبیا ورسل علیہم الصلوۃ والسلام کے بعد اور نبی ورسول آئیں گے اور اس امت کے لیے اس بات پر ایمان لانا ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد قیامت تک کوئی اور نبی یا رسول نہیں آئے گا۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد جو بھی پیدا ہوگا وہ امتی کہلائے گا لیکن نبی نہیں بن سکتا۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے آخری نبی ہیں اور اس کا ذکر بھی قرآن مجید میں سورہئ ”احزاب“ میں واضح طورپر موجود ہے کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے مردوں میں کسی کے باپ نہیں ہیں البتہ اللہ تعالی کے رسول اور آخری نبی ہیں۔در حقیقت حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ختم نبوتؐ اس امت پر پروردگار کریم کا احسان عظیم ہے کہ اس عقیدے ختم نبوت نے اس امت کو وحدت کی لڑی میں پرو دیا ہے۔ پوری دنیا میں آج مسلمان عقائد وعبادات، احکامات اور ارکان دین کے لحاظ سے جو متفق ہیں وہ صرف اسی عقیدہ کی برکت ہے۔ دنیا ئے کفر شروع سے ہی اس عقیدہ میں دراڑیں ڈالنے میں مصروف ہے تاکہ دین اسلام کی عالمگیریت اور مقبولیت میں رکاوٹ کھڑی کی جاسکے اور کسی طرح اس کے ماننے والوں کے ایمان کو متزلزل کیا جاسکے۔ان سازشوں کا سلسلہ دور نبوتؐ میں مسلمہ کذاب اور اسود عنسی سے شروع ہوا اور فتنہ قادیانیت تک آن پہنچا۔فتنہ قادیانیت کا آغاز ہندوستان کے ایک قصبہ قادیان سے ہوا اس کا بانی انگریز کا خود ساختہ ایجنٹ مرزا غلام احمد قادیانی تھا جس نے انگریز رؤسا کو خوش کرنے کیلئے کبھی خدائی کا دعویٰ کیا تو کبھی (نعوذباللہ)نبوت کااعلان کیا، کبھی حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے آپ کو افضل کہا اور کبھی سب انبیا ورسل علیہم الصلوۃ والسلام سے افضل ہونے کا دعوی کیا، کبھی مسیح موعود ہونے کا دعوی کیا تو کبھی تذکرہ نامی کتاب کو قرآن مجید (نعوذباللہ)سے افضل قراردیا، کبھی قادیان حاضری کو حج وعمرہ سے افضل کہا تو کبھی اپنے گھر والوں اور ماننے والوں کو صحابہ کرام اور اہل بیت عظام رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین سے افضل قراردیا، حتی کہ اپنی بیویوں کو امہات المومنین اور ماننے والوں کو صحابہ قرار دیا (نعوذ باللہ)، پہلی تحریک1953 میں امیر شریعت سید عطا اللہ شاہ بخاری رحم اللہ علیہ کی قیادت میں قادیانیت کے خلاف تحریک چلی۔ اس تحریک میں مفکر اسلام سید ابوالاعلی مودودی،مولانامفتی محمود، مولانا خواجہ خان محمد، آغا شورش کشمیری، مولانا شاہ احمد نورانی، مولانا عبدالستار خان نیازی، علامہ احسان الہی ظہیر، مولانا عبدالقادر روپڑی، نوابزادہ نصراللہ، مظفر علی شمسی اور دیگر اہم راہنما شامل تھے، حکومت تحریک کے آگے گھٹنے ٹیکنے پرمجبور ہوگئی۔ قومی اسمبلی میں مجلس عمل تحفظ ختم نبوتؐ کی نمایندگی مولانا مفتی محمود،مولانا شاہ احمد نورانی، پروفیسر غفور احمد، چودھری ظہور الٰہی مرحوم اور دیگر کررہے تھے۔مجاہد ملت جناب قاضی حسین احمد نے اس حوالے سے مجاہدانہ کردار ادا کیا۔
مجاہد ختم نبوت و بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلی مودودی نے اپنی تحریروں اور تقریروں کے ذریعے آسان اور عام فہم انداز میں بر صغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو عقیدہ ختم نبوت کو دل نشین طریقے سے پیش کیا اور مسلمانوں کو اس بات پر تیار کیا کہ حضور اکرمؐ کی ختم نبوتؐ سے بڑھ کر کوئی اور عبادت نہیں ہوسکتی۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں کے طلبا کو اپنی تحریروں کے ذریعے تحفظ ختم نبوت کے لیے تیار کیا۔ سید مودودی نے قادیانی مسئلہ نامی کتابچے کو پورے دلائل اور براہین سے تحریر کیا،اس تحریر کے ذریعے قادیانیت،مرزائیت کا زہر بے نقاب ہوا اور اسی جرم کی پاداش میں سید مودودی کو سزائے موت سنائی گئی اورقادیانیوں کے خلاف ایک ایسی ملک گیر تحریک چلی جس نے اقتدار کے ایوانوں کو ہلاکر رکھ دیا۔
اس تحریک کے عینی شاہد مجاہد ختم نبوت جناب لیاقت بلوچ کہتے ہیں کہ ” طلبہ کے جلسے عوامی رنگ پکڑتے گئے، یہ معاملہ رفتہ رفتہ حکومت اور انتظامیہ کے لیے درد سرکا باعث بن گیا۔اس کے بعد اللہ کی خاص مہربانی اور حکمت سے تمام دینی جماعتیں،تمام اکابرعلما اس تحریک میں شامل ہوگئے اوراس تحریک کی قیادت سنبھالی اور معاملہ قومی اسمبلی میں پہنچ گیا۔ مولانا مفتی محمود، مولانا شاہ احمد نورانی،مولانا عبدالحکیم،پروفیسر غفور احمد، محمود اعظم فاروقی، صاحبزادہ صفی اللہ اور دیگر ارکان اسمبلی نے مجاہدانہ کردار سے اٹارنی جنرل یحیی بختیاراور ذوالفقار علی بھٹو کو قائل کرلیا۔ قادیانیت پسپا ہوگئی اور بالآخرعلما اور مولانا سید ابوا اعلی مودودی کی علمی کوششوں سے تیار کردہ 1973 کے آئین میں مسلم اور غیر مسلم کی تعریف کی شکل میں فتنہ قادیانیت کی آئینی اور قانونی محاذ پر بیخ کنی ہوگئی۔”
وزیر اعظم پہلے ہی فیصلے کے لیے 7ستمبر کی تاریخ طے کرچکے تھے،چنانچہ 7ستمبر کو قومی اسمبلی کا اجلاس ہوا، جس میں خصوصی کمیٹی کی سفارشات پیش کی گئیں اور آئین میں ترمیمی بل پیش کیاگیا۔ وزیر قانون نے اس پر مختصر روشنی ڈالی، اس کے بعد وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم نے تقریر کی۔ تقریر کے بعد بل کی خواندگی کا مرحلہ شروع ہوا اور وزیر قانون نے بل منظوری کے لیے ایوان کے سامنے پیش کردیا، تاکہ ہر رکن قومی اسمبلی اس پر تائید یا مخالفت میں رائے دئے۔ رائے شماری کے بعد اسپیکر قومی اسمبلی نے پانچ بج کر باون منٹ پر اعلان کیا کہ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے والی آئینی ترمیم کے حق میں ایک سو تیس ووٹ آئے ہیں، جبکہ مخالفت میں ایک ووٹ بھی نہیں ڈالا گیا، اس طرح قومی اسمبلی میں یہ آئینی ترمیمی اتفاق رائے سے منظور کرلیا گیا۔
زندہ قومیں اس طرح کے تاریخ ساز اور تابناک ایام و لمحات کو نہ صرف یاد رکھتی ہیں، بلکہ زندہ بھی رکھتی ہیں،مگر یہ دن آتا ہے اور گز ر جاتا ہے کسی کو پتہ بھی نہیں چلتا کہ کتنا اہم اور عظیم دن گزرگیا اور ہم سے مطالبہ کرگیا۔ یہ ہماری اجتماعی اور قومی بے حسی کی علامت ہے۔7 ستمبر 1974 کو پاکستان کی آئین ساز اسمبلی میں آئین میں ترمیم کرتے ہوئے قادیانیوں کو متفقہ طور پر آئین میں ترمیم کرتے ہوئے غیر مسلم اقلیت قرار دیاگیا۔
امت مسلمہ کا مطالبہ یہی ہے کہ جب قادیانی ہر اعتبار سے مسلمانوں سے علیحدہ ہیں خود انہیں بھی اس کا اعتراف ہے تو وہ اسلام اور مسلمانوں کا نام استعمال کرنا چھوڑدیں اور اسلام و مسلمان کا نام استعمال کرکے نہ مسلمانوں کی شناخت پر ڈاکہ ڈالیں، نہ ان کے حقوق چھینیں، بلکہ جب تمہارا مذہب جدا، تمہاری ہر چیز مسلمانوں سے جدا تو اپنا نام بھی الگ رکھیں۔ حیرت ہوتی ہے اتنے واضح اور صاف معاملے کے باوجود قادیانیوں کو کوئی نہیں کہتا کہ تم اسلام کا نام استعمال کرکے مسلمانوں کے مذہب و حقوق پر کیوں ڈاکہ ڈالتے ہو؟ الٹا مسلمانوں کو ہی موردالزام ٹہرایا جاتا ہے۔یہ بات بھی سمجھ سے بالا تر ہے کہ مسلمانوں سے تو کہا جاتا ہے کہ تم مرزائیوں کو کافر کیوں کہتے ہو، ان سے یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ اربوں مسلمانوں کوتم کافرکیوں کہتے ہو، صرف کافر ہی نہیں، جہنمی، ولدالحرام اور نہ جانے کیا کیا خرافات بکتے ہو۔قصہ مختصر یہ ہے کہ قادیانی مسلمانوں سے علیحدہ قوم ہیں، ان کے نظریات بھی یہی بتا رہے ہیں۔ان کا اعتراف بھی یہی ہے۔ اسی کے مطابق قومی اسمبلی نے آئین میں ترمیم کرکے انہیں غیر مسلم اقلیتوں میں شمار کیا جو عین انصاف ہے۔ جب سے یہ قانون بنا ہے اس وقت سے کوششیں جاری ہیں کہ کسی طرح یہ قانون یا تو ختم ہوجائے یا اس میں اس طرح ترمیم کردی جائے کہ اس کی افادیت ختم ہوجائے۔ ستمبر کے موقع پر پوری امت مسلمہ خصوصا پاکستانی قوم یہ عہد کرے کہ ہم اس قانون کو تبدیل ہو نا تو دور کی بات ہے،اس میں ادنیٰ سی ترمیم بھی نہیں ہونے دیں گے۔
قادیانیوں کی حیثیت ملک میں بسنے والی دیگر اقلیتوں کی طرح نہیں ہے۔ قادیانیوں نے ختم نبوتؐ کے عقیدے پر شب خون مارا تھا۔ جس کی بنا پر اسلامی جمہوریہ پاکستان کی پارلیمان نے بالاتفاق قادیانی ٹولے کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ مشائخ عظام کا یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ قادیانیوں کی خفیہ اور اعلانیہ سرگرمیوں کا قلع قمع کیا جائے۔
حکومت یاد رکھے کہ قادیانیوں کے حوالے اور ختم نبوتؐ کے حوالے سے آئین پاکستان میں موجود متفقہ طے شدہ قوانین میں تبدیلی یا انہیں ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو ہم اس کا راستہ روکیں گے اور اس سلسلہ میں بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ حرمت رسول کے حوالے سے بھی ملک کے قانون میں موجودہ دفعات کو کسی بھی طرح چھیڑا گیا تو اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے، جن کی تمام تر ذمہ داری حکمرانوں پر ہوگی۔
ملک میں ہونے والی قادیانیوں کی سرگرمیوں کا قلع قمع کیا جائے اورقادیانی منکر نبوتؐ ہیں اور ملکی آئین میں ان کو اقلیت تصور کیا گیا ہے۔ حکومت کا قادیانیوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائے تاکہ قادیانیوں کے نیچے یہودو نصاری کی سازشوں کو ناکام بنایا جاسکے۔
(کالم نگارجماعت اسلامی وسطی پنجاب کے امیر ہیں)
٭……٭……٭
خونِ تمنا اورخونِ خاک نشیناں
کرنل (ر) عادل اختر
افغانستان ہمارا پڑوسی ملک ہے جس سے ہم لاتعلق نہیں رہ سکتے۔ جس طرح افغانستان کے موسم میں بڑی شدت ہے۔ اسی طرح ان کے مزاج اور موڈ میں بھی بڑی شدت ہے۔ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کس وقت وہ غصے میں ہوں گے اور کس وقت مہربان۔
طالبان مذہبی طور پر شدت پسند ہیں۔ ان کی مذہب کی تشریح بھی بہت پرانی ہے۔ پاکستان میں بھی مذہبی لوگوں کی کمی نہیں ہے۔ لیکن آج پاکستانی علماء ٹی وی چینل پر بیٹھے نوجوان خواتین کے ساتھ مختلف مسائل پر بحث مباحثہ کرتے نظر آتے ہیں۔ پاکتان کے مذہبی طبقات کی انتہا پسندی افغان علماء سے کافی کم ہے۔
دنیا کے کسی ملک میں سب لوگ متفق الخیال نہیں ہوتے۔ افغانستان میں بھی نہیں ہیں۔ اچھی بات یہ ہے کہ سب طبقات ایک دوسرے کو برداشت کریں، افغانستان میں ایسا نہیں ہے۔ آج افغانستان میں سینکڑوں چھوٹے بڑے گروپ موجود ہیں جو ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہتے ہیں۔ لیکن سب سے بڑا گروپ طالبان کا ہے۔ گزشتہ چالیس سال سے لاکھوں افغانی اپنے وطن کی آزادی کے لئے لڑ رہے ہیں لیکن ہزاروں افغان ایسے بھی ہیں جو روس یا امریکہ کے لئے جاسوسی کرتے رہے ہیں اور اس کا بھاری معاوضہ وصول کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے عیش اور آرام کی زندگی گزاری ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ان کے عیش و عشرت کا زمانہ ختم ہو۔
امریکہ نے ہزاروں ارب ڈالر خرچ کرکے افغان آرمی کھڑی کی۔ بہترین ٹریننگ اور اسلحہ دیا۔ لیکن یہ تین لاکھ افغان فوج اپنے ہم وطنوں یعنی پچاس ساٹھ ہزار طالبان سے شکست کھا گئی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ طالبان کا سر کچلنے کا فریضہ پاکستان انجام دے۔ لیکن یہ پاکستان کے لئے بہت گھاٹے کا سودا ہوگا۔ اس کا مطلب ہوگا، طالبان کے ساتھ کبھی ختم نہ ہونے والی دشمنی پالی جائے۔ امریکہ کی طالبان سے بہت توقعات ہیں۔ انسانی حقوق بحال کئے جائیں، عورتوں کو معاشرے میں آزادی سے رہنے کی اجازت دی جائے، جمہوریت بحال کی جائے۔ آج امریکہ کو افغانستان میں عورتوں اور اقلیتوں کے انسانی حقوق کی بڑی فکر ہے۔ بھارت اور کشمیر کے مسلمان بھی انسانی حقوق سے محروم ہیں، ان کی امریکہ کو کوئی فکر نہیں ہے۔
اگر طالبان مصلحت سے کام لیں۔ امریکی مطالبات مان لیں تو دیہات میں رہنے والے لاکھوں سپورٹر ان سے ناراض ہو جائیں گے۔ طالبان یہ افورڈ نہیں کر سکتے۔ پاکستان کا بھی یہی مخمصہ ہے۔ طالبان کو تسلیم کرے یا نہ کرے…… گوئم مشکل۔ نہ گوئم مشکل والی صورتحال درپیش ہے۔
پاکستان میں بھی ہر طبقہ خیال کے لوگ موجود ہیں۔ ایک طرف کروڑوں غربا ہیں، جو ان پڑھ ہیں۔ زیادہ سیاسی فہم نہیں رکھتے۔ مذہبی خیالات کے مالک ہیں۔ سادہ لوح ہیں اور مخلص ہیں۔ یہ لوگ طالبان کے حامی ہیں۔
دوسری طرف امرا کا ایک چھوٹا سا طبقہ ہے۔ یہ پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ زیادہ سمجھ دار ہیں۔ لیکن مفادات کے غلام ہیں۔ انہیں نظریات سے دلچسپی نہیں ہے۔ یہ نہ کمیونزم کے سخت گیر نظام کے حامی ہیں نہ مغربی ممالک کی جمہوریت کے حامی ہیں۔ جہاں انہیں اپنی ناجائز دولت کا حساب دینا پڑے۔ ان کی زندگی میں ہر دن عید ہوتی ہے۔ یہ نہیں چاہتے کہ ان کی عیش و عشرت کی زندگی میں خلل پڑے۔ یہ جتنا اسلام سے ڈرتے ہیں اتنا ہی کمیونزم سے ڈرتے ہیں۔ اس لئے طالبان کے مخالف ہیں۔
گزشتہ بیس برس سے افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی ہے۔ استعمال کرنے والے‘ امریکہ اور بھارت ہیں۔ پاکستان میں دہشت گردی کی زیادہ تر کارروائیاں افغان سرزمین سے ہوئیں۔ کہنے کو افغانستان ہمارا برادر ملک ہے مگر برادرانِ یوسف سے زیادہ ظالم۔ حالات کو خراب بناتے ہیں، امریکی ڈالروں نے بہت بڑا کردار ادا کیا ہے، ہزاروں افغانوں نے ڈالر لے کر اپنے ضمیر بیچ دیئے…… پاکستان میں دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔ خدا کا شکر ہے کہ پاکستان میں ایک پروفیشنل آرمی موجود ہے جس نے دہشت گردوں کا سر کچلنے کا فریضہ بڑی کامیابی سے انجام دیا۔ عیش و عشرت کی زندگی گزارنے والوں کو پاک آرمی بہت بری لگتی ہے۔
طالبان کی تعداد ساٹھ ہزار کے قریب رہتی ہے۔ افغانستان کی تین لاکھ فوج طالبان کو کچلنے میں ناکام رہی۔ امریکہ چاہتا ہے کہ یہ فریضہ پاکستان آرمی ادا کرے۔ امریکی اپنی بات ان الفاظ میں ادا کرتے ہیں۔
(1)۔ پاکستان افغانستان میں امن قائم کرنے کی کوششوں میں سنجیدہ نہیں ہے۔
(2)۔ پاکستان کو امن کی بحالی کے لئے ٹھوس اقدامات کرنا چاہئیں، طالبان سے لڑنے میں پاکستان آرمی کو ناقابل تلافی نقصان ہوگا۔ طالبان بھی تباہ ہونگے۔خدانخواستہ پاک آرمی بھی۔بھارت اور امریکہ کے لئے اس سے زیادہ خوشی کا کوئی اور مقام نہیں ہو سکتا۔
امن کی جتنی ضرورت افغانستان کو ہے۔ اس سے زیادہ پاکستان کو ہے۔ بھارت کی خواہش ہے کہ افغانستان میں امن قائم نہ ہو تاکہ پاکستان بھی مشکل صورتحال سے دوچار رہے۔ امریکہ بہت غصے میں ہے اور اپنی ناکامی کا ملبہ پاکستان پر ڈال رہا ہے۔ امریکہ کی ناکامی کی بڑی بڑی وجوہات مندرجہ ذیل ہیں۔
-1 افغانستان میں زبردست کرپشن اور بدانتظامی۔ اس کی بڑی وجہ امریکی ڈالروں کی بارش ہے۔
-2 افغانستان کے حکمرانوں‘ خاص طور پر اشرف غنی کی بزدلی‘ خودغرضی اور نالائقی ہے۔
-3 افغان آرمی کی نالائقی۔ جس کی وجہ خراب ٹریننگ۔ جذبے کی کمی اور ڈسپلن کا نہ ہونا ہے۔
امریکہ جاتے جاتے اسّی ارب ڈالر سے زیادہ کا قیمتی اور جدید اسلحہ افغانستان میں چھوڑ کر جا رہا ہے۔ جب کبھی یہ اسلحہ استعمال ہوا تو اس میں افغان ہی مارے جائیں گے۔ ہو سکتا ہے۔ سازشی عناصر افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ کی صورتحال پیدا کر دیں۔ اس صورت میں نقصان کس کا ہوگا۔
طالبان بظاہر اپنی منزل پر پہنچ چکے ہیں …… یعنی اقتدارکا حصول اصل لیکن ان کی مشکلات اب شروع ہونگی۔
بہت سی توقعات پوری نہیں ہونگی۔ جس سے مایوسی پیدا ہوگی، طالبان لیڈروں میں پھوٹ پڑ جائیگی۔
طالبان‘ امریکہ اور بھارت کی سازشوں کا مقابلہ نہیں کر سکیں گے۔
گزشتہ دنوں کابل ایئرپورٹ پر دھماکے ہوئے۔ دو سو افراد مارے گئے جن میں تیرہ امریکی بھی شامل ہیں۔ امریکہ کے صدر اپنے آدمیوں کے مارے جانے پر رو پڑے۔ کوریا‘ ویت نام‘ عراق اور افغانستان میں پچیس تیس لاکھ عوام۔ بمباری سے مارے گئے۔ بچے یتیم ہوئے۔ عورتیں بیوہ ہوئیں۔ ان مظلوموں کی موت پر کوئی نہ رویا‘ اشرف غنی‘ پرویز مشرف اورنہ ہی جو بائیڈن اسے کولیٹرل نقصان کہا جاتا ہے۔ فیضؔ کی زبان میں یہ خون خاک نشیناں تھا رزقِ خاک ہوا۔
خون تمنا ہو یا خون خاک نشیناں اس کا کوئی معاوضہ یا خون بہا نہیں ہوتا۔
چھوٹے ملکوں کی غلطیوں کا بہت تذکرہ ہوتا ہے۔ بڑے ملک کی ہر خطا معاف ہوتی ہے۔ دنیا کے کئی بڑے ملکوں کی دولت کا راز ان کی اسلحہ فروشی ہے، یہ اسلحہ انسانوں کو مارنے کے کام آتا ہے۔ سعودی عرب اور بھارت کا شمار اسلحہ کے بڑے خریداروں میں ہوتا ہے۔ ہر سال اربوں ارب ڈالر کا اسلحہ خریدتے ہیں۔ پانچ دس سال کے بعد یہ اسلحہ پرانا اور متروک ہو جاتا ہے پھر نیا اسلحہ خریدنے کی ضرورت پڑ جاتی ہے۔ غریب ممالک کو جو ڈالر اپنے ملکوں کے عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے پر خرچ کرنا چاہئیں۔ وہ بڑے ملکوں کے خزانے میں پہنچ جاتے ہیں۔ غریب ملکوں کے عوام۔ نہ جمہوریت نہ انسانی حقوق۔ نہ بہتر معیار زندگی سے لطف اندوز ہو پاتے ہیں۔
لٹیرے حکمران اپنے ملک کو لوٹ کر اپنی دولت بھی بڑے ملکوں کے بنکوں میں جمع کراتے ہیں۔
(سیاسی ودفاعی مبصر اورتجزیہ نگار ہیں)
٭……٭……٭
پی ڈی ایم کی تحریک کا دوسرا راؤنڈ
ملک منظور احمد
پاکستان کی سیاست میں تیز رفتار تبدیلیاں کوئی نئی چیز نہیں ہیں بعض اوقات تو پاکستان کی سیاست اتنی تیزی سے تبدیل ہو تی ہے کہ پاکستان کی سیاست پر گہری نظر رکھنے والے بھی حیران و پریشان رہ جاتے ہیں۔کبھی پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے جانے کی تاریخیں دی جاتی رہی ہیں اور ایک وقت پر تو مسلم لیگ ن کی قائد مریم نواز شریف نے ”آر یا پار“ کا اعلان بھی کر دیا تھا لیکن اپوزیشن کی خواہشوں اور توقعات کے برعکس پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نہ صرف مسند اقتدار پر قائم و دائم ہے بلکہ بظاہر ایسا محسوس ہو تا ہے کہ پہلے سے زیادہ مضبوطی کے ساتھ قائم ہے۔حکومت کے گھر جانے کی پیش گوئیاں اور افواہیں آہستہ آہستہ دم توڑ چکی ہیں اور اب بات آئندہ عام انتخابات کے شفاف انعقاد کی جا رہی ہے۔ ایسے میں پی ڈی ایم کی جانب سے ایک مرتبہ پھر حکومت مخالف مہم شروع کی گئی ہے اور اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ کا عندیہ بھی دیا گیا ہے،لیکن اس لانگ مارچ کے مقاصد کیا ہوں گے یہ ابھی واضح نہیں ہے۔
پیپلز پا رٹی اور اے این پی کی پی ڈی ایم سے علیحدگی کے بعد اس بات پر بھی بڑا سوالیہ نشان مرکوز ہے کہ آیا ان دو بڑی جماعتوں کی عدم موجودگی کی صورت میں پی ڈی ایم کیا حکومت کو ٹف ٹائم دینے کی پوزیشن میں بھی ہے یا نہیں؟ بہر حال ایک لانگ مارچ تو مولانا فضل الرحمان حکومت کے خلاف پہلے بھی کر چکے ہیں لیکن یہ مارچ بھی بے نتیجہ ثابت رہا تھا اور اس کے بعد پی ڈی ایم نے بھی حکومت مخالف جلسے جلوسوں کی ایک بڑی مہم چلائی تھی لیکن اس میں مکمل طور پر ناکام رہی۔پی ڈی ایم کی ناکامیاں تو ایک جانب‘اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے اندر کے اختلا فات بھی اپوزیشن کے گلے کی ہڈی بنے ہوئے ہیں اب اس بات میں کوئی شک نہیں رہا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز کی پالیسی،مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف کی پالیسی سے یکسر مختلف ہے۔ اور پارٹی کے اندر ہی شدید اختلافات موجود ہیں،بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مسلم لیگ ن ان دو بیانیوں کے درمیان پس کر رہ گئی ہے۔حالیہ دنوں میں مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما خواجہ محمد آصف نے ایک انٹرویو میں بر ملا اعتراف کیا کہ مسلم لیگ ن کے اندرونی اختلافات پارٹی کے لیے ایک مسئلہ بن چکے ہیں۔شہباز شریف نے ویسے تو حالیہ عرصے میں پارٹی کی بھاگ ڈور سنبھالنے میں کے لیے واضح طور پر کافی تگ و دو کی ہے اور پی ڈی ایم کے جلسوں میں بھی پیش پیش رہے ہیں لیکن ان کو مسلسل پارٹی کے اندر سے ہی مخالفت کا سامنا رہا ہے۔بہر حال مسلم لیگ ن کے مسائل ایک طرف‘ اپوزیشن جماعتیں ایک دوسرے کے مخالف سمت میں زور لگاتی رہی ہیں،اور اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے مقاصد اور مفادات ایک دوسرے سے یکسر مختلف ہیں۔
پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کو بے شمار مسائل کا سامنا رہا ہے روز بروز بڑھتی ہو ئی مہنگائی نے عوام کی زندگیوں کو اجیرن بنا رکھا ہے اور لیکن اپوزیشن حکومت کی کسی کمزوری سے فائدہ اٹھانے میں یکسر ناکام رہی ہے۔پاکستان پیپلز پا رٹی سے توقع کرنا کہ وہ استعفے دے کر سندھ میں اپنی حکومت ختم کروا لے گی کسی دیوانے کے خواب سے کم نہیں ہے۔ زیادہ مسئلہ انہی جماعتوں کو ہے جو کہ سسٹم سے باہر ہو گئی ہیں اور اب ہر طرح سے واپسی کی کوششیں کررہی ہیں۔پہلے بھی اسمبلیوں سے استعفوں اور لانگ مارچ کے موقع پر ہی پی ڈی ایم جماعتوں کے درمیان سنگین اختلافات پیداہو گئے تھے اور پی ڈی ایم کا شیر ازہ بکھر گیا تھا،اور اب پی ڈی ایم کی باقی ماندہ جماعتیں پیپلز پا رٹی کے بغیر لانگ مارچ کرنے تو جاری ہیں لیکن ابھی تک اس لانگ مارچ کے مقاصد واضح نہیں ہو سکے۔اگر اس مرتبہ بھی لانگ مارچ سے پہلے یا پھر لانگ مارچ کے دوران پی ڈی ایم کے درمیان کوئی اختلاف رائے سامنے آتا ہے تو یہ بات کسی صورت بھی حیران کن نہیں ہو گی۔
مولانا فضل الرحمان پاکستان تحریک انصاف اور وزیر اعظم عمران خان کے پہلے روز سے سخت مخالف رہے ہیں اوراس پر مستزادیہ کہ گزشتہ انتخابات میں ان کی پارلیمانی حیثیت بھی نہ ہونے کے برابر رہ گئی۔ ان کی اس حکومت کے قیام کے روز اول سے ہی یہ کوشش بلکہ یہ خواہش رہی ہے کہ حکومت کو جلد از جلد گھر بھیج دیا جائے،لیکن دوسری طرف سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مسلم لیگ ن اور میاں شہباز شریف بھی یہی چاہتے ہیں۔حکومت کی فوری رخصتی مریم نواز کی خواہش تو یقینا ہے لیکن شہباز شریف آئندہ انتخابات کے شفاف انعقاد پر ہی زور دیتے آرہے ہیں۔
مریم نواز نے حالیہ دنوں میں ایک بیان دیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ حکومت کے ساتھ کسی بھی صورت کوئی مفاہمت نہیں ہو سکتی ہے البتہ حکومت کے علاوہ اور کسی سے بھی مفاہمت کی جاسکتی ہے،ان کے اس بیان کا میڈیا میں کافی چرچا رہا ہے اور بظاہر اس بیان کا مطلب یہی لیا جا رہا ہے کہ شاید مریم نواز شریف اب مقتدر قوتوں کے ساتھ مفاہمت کا اشارہ دے رہی ہیں۔ اگر واقعی ایسا ہے تو پھر یہ مسلم لیگ ن بلکہ پاکستان کی سیاست میں ایک بڑا ٹرننگ پوا ئنٹ ثابت ہو سکتا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت 2023ء کے انتخاب تک تو قائم رہے گی اور اپنی مدت پوری کر لے گی لیکن آئندہ عام انتخابات میں کامیابی مکمل طور پر ایک بالکل الگ گیم ہے اور اگر مریم نواز واقعی طاقت ور حلقوں سے کسی قسم کی مفاہمت پر راضی ہو جاتی ہیں اور اس سلسلے میں آنے والے دنوں میں کوئی پیشرفت ہوتی ہے تو مستقبل کی سیاست کا نقشہ تبدیل ہو سکتا ہے۔جہاں تک پی ڈی ایم کی حکومت کے خلاف تازہ ترین مہم جوئی کا تعلق ہے تو یہ حکومت پر دباؤ بڑھانے کی کوشش کے علاوہ کچھ معلوم نہیں ہو رہی ہے آئندہ چند ماہ سیاسی گہما گہمی کے بعد تمام اپوزیشن جماعتیں 2023ء کے انتخابات کی تیاری کرتے ہوئے ہی دکھائی دیں گی۔
(کالم نگارسینئرصحافی اورتجزیہ کارہیں)
٭……٭……٭
مصباح الحق اور وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار
لاہور: قومی ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ وقار یونس اپنے عہدوں سے دستبردار ہوگئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق سابق ٹیسٹ کرکٹر رمیز راجہ کے چیئرمین پی سی بی کا عہدہ باقاعدہ سنبھالنے سے پہلے ہی بڑی تبدیلیاں سامنے آئی ہیں اور قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مصباح الحق اور بولنگ کوچ سابق فاسٹ بولر وقار یونس کوچنگ کے عہدوں سے دستبردار ہوگئے ہیں، مصباح الحق اور وقار یونس کو ستمبر 2019میں عہدے دیے گئے تھے، مصباح الحق کو پاکستان میں پہلی بار ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر بنایا گیا تھا، تاہم انہوں نے اکتوبر 2020 میں چیف سلیکٹر کا عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
اپنے عہدے سے دستبرداری پر سابق ہیڈ کوچ مصباح الحق کا کہنا تھا کہ جمیکا میں قرنطینہ کے دوران 24 ماہ کا جائزہ لیا، یہ مناسب وقت نہیں لیکن چیلجز کے لئے ایسے فریم آف مائِںنڈ میں نہیں۔ قومی بولنگ کوچ وقار یونس کا کہنا تھا کہ مصباح الحق نے فیصلہ بتایا تو میں نے بھی الگ ہونے کا فیصلہ کر لیا، نوجوان بولرز کے ساتھ کام کرنے پر بہت مطمئن ہوں۔
دوسری جانب مصباح الحق اور وقار یونس کے اچانک عہدے چھوڑنے کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ نے ان عہدوں پر سابق ٹیسٹ کرکٹر دوسرا کے مؤجد اور مایہ ناز اسپن بولر ثقلین مشتاق اور سابق مایہ ناز آل راؤنڈر عبدالرزاق کو عارضی طور پر تعینات کردیا گیا ہے۔ چیف ایگزیکٹو پی سی بی وسیم خان کا کہنا تھا کہ پی سی بی مصباح الحق کے فیصلے کی قدر کرتا ہے، وقار یونس نے بھی جرات مندانہ فیصلہ کیا۔
کل کا قیدی آج کا حکمران
طالبان رہنما انس حقانی بگرام جیل کا وہ سیل دکھا رہے ہیں جہاں وہ خود چار سال قید رہے اور دو دفعہ انہیں سزاے موت سنائی گئی
مریکہ نے انس حقانی کو بحراين سے گرفتار کر کے بگرام جیل میں قید کیا تھا ۔رہائی کے بعد وہ طالبان کی مذاکراتی ٹیم میں شامل تھے ۔۔۔۔۔اللہ نے ان کمینوں کو رسوا و ہلاک اور مغلوب کیا اور ان مخلصین مجاھدین کو کامیاب و غالب فرمایا ۔۔۔۔۔۔ یہ ہے بھائیو صرف اخلاص و توکل کے سے اعلیٰ درجہ کا نتیجہ ۔
گوگل نے افغان حکومت کے ای میل اکاؤنٹس بلاک کر دیے
انٹرنیٹ کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل نے افغانستان کی حکومت کے متعدد ای میل اکاؤنٹس کو عارضی طور پر بلاک کر دیا ہے۔
برطانوی خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کی رپورٹ کے مطابق معاملے سے آگاہی رکھنے والے ایک شخص نے بتایا ہے کہ اکاؤنٹس لاک ڈاؤن کرنے کا یہ فیصلہ افغان حکومت کے سابق اہلکاروں اور ان کے عالمی شراکت داروں کے ڈیجیٹل روابط کی ٹریل کے بارے میں بڑھتے خوف کو کم کرنے کے لیے کیا گیا۔
امریکی حمایت یافتہ افغان حکومت کو گرانے اور طالبان کی جانب سے افغانستان پر قبضہ کرنے کے بعد سے مختلف رپورٹس میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ نئے حکمرانوں کی جانب سے اپنے دشمنوں کو تلاش کرنے کے لیے بائیو میٹرک اور افغان پے رول ڈیٹا بیسز کا غلط استعمال کیا جاسکتا ہے۔
مزید پڑھیں: طالبان سے منسوب اکاؤنٹس کو آپریٹ کرنے کی اجازت نہیں، یوٹیوب
گوگل کی کمپنی الفابیٹ نے ایک بیان میں افغان حکومت کے اکاؤنٹس لاک ڈاؤن کرنے کی تصدیق نہیں کی تاہم یہ کہا کہ کمپنی افغانستان میں صورتحال کی نگرانی کر رہی ہے اور ‘متعلقہ اکاؤنٹس کو محفوظ بنانے کے لیے عارضی اقدامات کیے گئے ہیں’۔
افغانستان کی سابق حکومت کے ایک ملازم نے بتایا کہ ‘طالبان سابق حکومتی عہدیداروں کے ای میل اکاؤنٹس حاصل کرنا چاہ رہے ہیں’۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘گزشتہ ماہ کے اواخر میں طالبان نے ان سے کہا تھا کہ جس وزارت کے لیے وہ کام کر رہے تھے اس کا ڈیٹا سرور میں محفوظ کیا جائے’۔
سابق افغان حکومت کے ملازم کا کہنا تھا کہ ‘اگر میں ایسا کرتا ہوں تو وہ سابق وزارت کے سرکاری رابطوں اور ڈیٹا تک رسائی حاصل کرلیں گے’۔
انہوں نے بتایا کہ ‘انہوں نے طالبان کے حکم پر عمل نہیں کیا اور اب وہ روپوش ہیں’۔
رائٹرز کی جانب سے مذکورہ ملازم کے تحفظ کو مدنظر رکھتے ہوئے ان کا نام اور وزارت ظاہر نہیں کی گئی۔
عوامی سطح پر دستیاب میل ایکسچینجر ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ تقریباً 2 درجن افغان حکومتی اداروں نے سرکاری ای میلز کو سنبھالنے کے لیے گوگل کے سرورز کا استعمال کیا تھا جن میں وزارت خزانہ، صنعت، ہائر ایجوکیشن اور مائنز کی وزارتیں شامل ہیں۔
علاوہ ازیں ریکارڈ کے مطابق افغانستان کے صدارتی پروٹوکول کے دفتر نے مقامی حکومتی اداروں کی طرح گوگل کا استعمال کیا تھا۔
یہ بھی پڑھیں: فیس بک کی طالبان پر پابندی، ٹوئٹر فیصلہ کرنے میں تذبذب کا شکار
سرکاری ڈیٹا بیس اور ای میلز سابق انتظامیہ کے ملازمین، سابق وزرا، سرکاری کنٹریکٹرز، قبائلی اتحادیوں اور غیر ملکی شراکت داروں کے بارے میں معلومات فراہم کر سکتی ہیں۔
انٹرنیٹ انٹیلی جنس فرم ڈومین ٹولز کے سیکیورٹی ریسرچر چاڈ اینڈرسن نے بتایا کہ ‘صرف سرکاری ملازمین کی گوگل شیٹ ہی ایک بہت بڑا مسئلہ ہے، یہ معلومات کا ایک خزانہ فراہم کر دے گی’۔
ای میلز کے تبادلوں کے ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ کئی افغان حکومتی ایجنسیاں بشمول وزارت خارجہ اور صدارتی دفتر نے مائیکروسافٹ کارپوریشن کی ای میل سروسز بھی استعمال کرتی تھیں۔
تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ مائیکروسافٹ نے ان اکاؤنٹس کو طالبان کے ہاتھوں میں جانے سے روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے ہیں۔
رائٹرز کی جانب سے مذکورہ معاملے پر جب مائیکروسافٹ سے رابطہ کیا گیا تو ادارے نے تبصرے سے انکار کردیا۔
چاڈ اینڈرسن نے کہا کہ طالبان کی امریکی ساختہ ڈیجیٹل انفرا اسٹرکچر کو کنٹرول کرنے کی کوشش قابل دید ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس انفرا اسٹرکچر سے حاصل ہونے والی معلومات ایک گرتی ہوئی حکومت کے پرانے ہیلی کاپٹروں سے کہیں زیادہ قیمتی ہوسکتی ہے۔
9/11امریکہ کیلئے صف ماتم، طالبان کیلئے جشن کادن
9/11امریکہ کیلئے صف ماتم، طالبان کیلئے جشن کادن
طالبان نئی حکومت کے قیام کا اعلان 11ستمبر کو کر سکتے ہیں، ذرائع
افغان حکومت کی تشکیل کیلئے ناموں پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، ذرائع
15اگست کو بھی طالبان نے فتح کا اعلان کر کے بھارتی یوم آزادی یوم بربادی میںبدل دیا تھا
بیس برس تک امریکہ نے افغانستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی
اربوں ڈالر خرچ اور ہزاروں معصوم افغانوں کو شہید کر کے بھی امریکہ نامراد لوٹا
طالبان کے عزم اور حوصلے نے امریکہ کو افغانستان سے بھاگنے پر مجبورکر د

















