All posts by Daily Khabrain

لاہور میں پابندی….

لاہور(خصوصی رپورٹ)ڈی سی او لاہور کیپٹن (ر)محمد عثمان نے احتجاجی جلسے،ریلیوں اور دھرنوں کے لیے ناصر باغ کو مختص کر دیا ہے۔ ڈی سی او لاہور نے اس ضمن میں با قاعدہ نو ٹیفکیشن جا ری کر دیا ہے۔ نو ٹیفکیشن کے مطابق جلسے ،جلوسوں اور دھرنے کے لیے ضلعی انتظامیہ سے اجازت لینا ہو گی۔ ناصر باغ میں کسی بھی احتجاجی جلسے،جلوس اور دھرنے کے لیے 10دن پہلے تحریری درخواست دینا ہو گی۔ نا صر با غ کے علا وہ کسی سڑک پر جلسے،جلوس اور دھرنے کی اجازت نہ دی جائے گی اگر کسی کو نا صر باغ میں احتجاجی جلسہ،جلوس یا دھرنے کی اجازت دی جا تی ہے تو وہ قانون کے مطابق اس پر عمل پیرا ہو گا تا کہ عوام الناس کی سیفٹی اورامن امان کو یقینی بنایا جا سکے اور اس دوران پو لیس اور ضلعی انتظامیہ کسی بھی گاڑیشخص کو چیک کر سکے گی جو اس جلسے،جلوس یا دھرنے میں شرکت کے لیے آئے گا۔جلسے،جلوس اوردھرنے کی انتظامیہ ضلعی انتظامیہ اور پو لیس کے ساتھ ایونٹ کے موقع پر فول پروف سکیورٹی کے لیے مکمل تعاون کرے گی۔اس ضمن میں ایونٹ کر نے والی انتظامیہ کی ذمہ داری ہو گی کہ وہ تحریری طور پر ڈی سی او لاہور کوضمانت نا مہ جمع کروائے گی کہ کسی بھی قسم کا کوئی نا خوشگوار واقعہ پیش آیا تو وہ خود ذمہ دار ہو نگے۔جلسے،جلوس اور دھرنے کی انتظامیہ بینرز،فلیکسز بھی ضلعی انتظامیہ کی اجازت کے بغیر نہیں لگا سکے گی۔اگر کسی ایونٹ میں50سے زائد افراد کی شرکت ہونی ہو گی تو اس کے لیے لا ہور پولیس،ٹریفک پولیس اور انٹیلی جنس ایجنسیز سے کلےئرنس لینا ہو گی۔

با اثر لیگی خاندانوں میں رسہ کسی شروع ….

لاہور (خصوصی رپورٹ) بلدیاتی اداروں کے سربراہی کے انتخابات کیلئے مسلم لیگ (ن) سے تعلق رکھنے والے وفاقی و صوبائی وزرائ، اراکین پارلیمنٹ اور بااثر سیاسی خاندانوں کے افراد نے جوڑ توڑ کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ بلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں کے انتخابی نتائج کے بعد ان بڑے سیاسی گھرانوں کے افراد نے زیادہ سے زیادہ منتخب بلدیاتی نمائندوں کو اپنے گروپوں میں شامل کرنے کے ساتھ ساتھ پارٹی کی اعلیٰ قیادت سے میئر، چیئرمین ضلع کونسل کے عہدوں کے لیے پارٹی ٹکٹ کے حصول کے لیے رابطے تیز کر دیئے ہیں۔ بلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں کے انتخابات کے بعد 19 اضلاع میں مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں کے درمیان ہی اصل مقابلہ متوقع ہے جبکہ بلدیاتی عظمیٰ لاہور سمیت صوبے کی 12 میونسپل کارپوریشنوں کے میئرز کا تعلق بھی مسلم لیگ (ن) سے ہوگا لیکن پانچ میونسپل کارپوریشنوں کی میئرشپ کے لیے مسلم لیگ (ن) کی سیاسی شخصیات کے رشتہ دار امیدوارورں کے درمیان سخت مقابلے متوقع ہیں۔ وزیراعظم نواز شریف نے امیدواروں کے ناموں پر مشاورت کے لیے اگلے ہفتے لاہور میں اجلاس طلب کرلیا ہے۔ اجلاس میں میئروں اور ضلع کونسلوں کے چیئرمینوں کے متحارب گروپوں کے امیدواروں کی تجاویز اور آراءسننے کے بعد اتفاق رائے سے بڑے بلدیاتی اداروں کے سربراہوں کے ناموں کو فائنل کیا جائے گا۔ ضلع کونسل قصور کی چیئرمینی کے لیے رانا سکندر حیات مسلم لیگ (ن) کے متفقہ امیدوار ہوں گے۔ ان کے مقابلے میں ملک رشید احمد خان نے اپنا امیدوار سامنے لانے کا فیصلہ کیا تھا مگر رانا محمد حیات خان گروپ کے بلدیاتی اداروں کی مخصوص نشستوں میں واضح اکثریت ہے اور سپیکر رانا محمد اقبال خان نے قصور کے ملک خاندان کو رانا سکندر حیات کے مقابلے میں اپنا امیدوار سامنے نہ لانے پر راضی کرلیا ہے اور اب رانا سکندر حیات کی کامیابی کے امکانات روشن ہیں۔ رانا سکندر حیات کے والد رانا محمد حیات خان اور چچا رانا محمد اسحاق خان قومی اسمبلی کے رکن اور سپیکر رانا اقبال خان قریبی عزیز ہیں۔ رانا خاندان کا 1985ءسے میاں خاندان سے گہرا سیاسی تعلق ہے۔ پنجاب کے چار اضلاع رحیم یار خان، میانوالی، بھکر، پاکپتن میں مسلم لیگ (ن) کے اراکین کی دھڑے بندیوں کے باعث حکمران جماعت کو اپنے امیدواروں کی کامیابی کے لئے بڑے جتن کرنا پڑیں گے۔ ضلع رحیم یارخان کے دیہی علاقوں میں پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب کے صدر سابق گورنر مخدوم احمد محمود کے گروپ کو برتری حاصل ہے جبکہ شہری علاقوں میں مسلم لیگ ن کو واضح کامیابی ملی ہے۔ ضلع کونسل رحیم یارخان کی چیئرمین شپ کے لئے مخدوم احمد محمود کے صاحبزادے کی پوزیشن مستحکم ہے۔ ضلع کونسل کی مخصوص نشستوں کے انتخاب میں مخدوم احمد محمود گروپ نے 14 اور چودھری منیر گروپ کو 11 نشستیں ملی ہیں۔ چودھری منیر معروف بین الاقوامی کاروباری شخصیت ہیں جن کی میاں خاندان سے قریبی رشتہ داری ہے۔ انہوں نے مخدوم خسرو بختیار اور دیگر اراکین سے مل کر پیپلیزپارٹی میانوالی قریشیاں خاندان کی اہم شخصیت کو بھی مل کر پیپلزپارٹی میانوالی قریشیاں خاندان کی اہم شخصیت کو بھی مسلم لیگ ن میں شامل کرنے پر آمادہ کرلیا تھا مگر مخدوم احمد محمود نے میانوالی قریشیاں بھونگ اور رحیم آباد کے سیاسی خاندان کے مقابلے میں مخصوص نشستوں پر واضح برتری حاصل کرکے مسلم لیگ ن کے ضلع کونسل رحیم یارخان کی چیئرمین شپ کا حصول مشکل بنا دیا ہے تاہم میونسپل کمیٹی رحیم یار خان میں سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی چودھری جعفر اقبال اور رکن قومی اسمبلی میاں امتیاز نے باہمی تعاون سے مسلم لیگ ن کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ضلع کونسل پاکستان کی چیئرمین شپ کے لئے بھی مسلم لیگ ن کو اپنے امیدواروں کی کامیابی کے بڑے پاپڑ بیلنا پڑیں گے۔ مسلم لیگ ن میں دھڑے بندیوں اور پی ٹی آئی مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی کے درمیان باہمی تعاون سے ضلع کونسل پاکستان کے نتائج حیران کن ہوں گے۔ مسلم یگ ن کے رانا‘ ڈوگر اور ارائیں خاندانوں کے افراد کے درمیان سکھیرا خاندان کے پنجاب پولیس کے اعلیٰ افسر کے قریبی رشتہ دار کو چیئرمین ضلع کونسل بنانے کیلئے رابطے ہیں۔ اس طرح میانوالی ضلع کونسل کی چیئرمین شپ کیلئے مسلم لیگ ن اور پاکستان تحریک انصاف کے درمیان زبردست جوڑے پڑے گا۔ اس ضلع میں پرانے روکھڑی خاندان کے گل حمید خان روکھڑی اور علی حیدر نوناری امیدوار کی کامیابی اور ناکامی میں کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

کیمرہ کے سامنے مجھے کوئی پریشانی نہ تھی ‘ آخر میرے پہلے شوٹ کا دن آگیا :دلیپ کمار

قسط نمبر26
ایک عجیب وغریب سچائی یہ تھی کہ میں بالکل بھی پریشان نہ تھا، اس حقیقت کے حوالے سے کہ میں پہلی مرتبہ کیمرے کا سامنا کررہا تھا حتیٰ کہ میرے اولین شوٹ کا دن آن پہنچا۔مجھے پہننے کیلئے ایک سادہ سی پتلون اور شرٹ دی گئی اور دیویکارانی بہ نفس نفیس سیٹ پر آئیں اور میری جانب دیکھا اور مجھے ہمیشہ کی طرح پرسکون پایا۔ وہ میک اپ میں خاصی مہارت رکھتی تھیں، انہوں نے میرے میک اپ پر پڑنے والی روشنی کا جائزہ لیا۔ وہ ہر کام کےساتھ عین مطمئن تھیں ماسوائے میرے ابرو(بھویں) انہوں نے مجھے کرسی پر بیٹھنے کیلئے کہا اور انہوںنے میک اپ مین سے موچنا طلب کیا اور میرے بھوو¿ں کے کچھ بال نوچ کے انہیں مناسب شکل عطا کی جب کہ میں اپنا سانس روکے بیٹھا رہا اور بال نوچنے کی وجہ سے جو تکلیف ہورہی تھی اسے برداشت کرتا رہا۔ وہ ہنسیں جب انہوں نے میری آنکھوں میں آنسو دیکھے جو بال نوچنے کی تکلیف سہنے کی وجہ سے میری آنکھوں سے جاری ہوئے تھے اور انہوں نے مجھے مشورہ دیا کہ میںآئینے میں اپنا چہرہ دیکھوں جب کہ میک اپ مین نے جلدی جلدی متاثرہ جگہ پر کریم لگادی تاکہ مجھے کچھ سکون میسر آسکے۔ انہوںنے میرے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا اور مابعد وہ وہاں سے رخصت ہوگئیں۔ امیا چکرابور تھی نے مجھے میرا پہلا شوٹ(سین) سمجھایا۔ انہوں نے زمین پر ایک نشان لگاتے ہوئے مجھے بتایا۔” تم یہاں سے اپنی اپوزیشن لوگے اور تم بھاگو گے جب میں کہونگا ”ایکشن “ ۔ میں پہلے کہونگا ”اسٹارٹ کیمرہ“ لیکن وہ تمہارے لئے نہیں ہوگا۔ ایکشن تمہارے لئے ہوگا اور تم بھاگنا شروع کروگے اور تم بھاگنا اس وقت بند کروگے جب میں کہونگا ”کٹ“۔
میں نے ان سے پوچھا کیا مجھے بتایا جائیگا کہ میں کیوں بھاگ رہا تھا؟۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہیروئن کی زندگی بچانے کیلئے جو خودکشی کا ارتکاب کرنے جا رہی تھی۔ یہ ایک آو¿ٹ ڈور سین تھا اور کیمرہ کہیں نہ کہیں فاصلے پر تھا ۔ یہ برانڈ نیو کیمرہ تھا جو جرمنی سے درآمد کیا گیا تھا اور اسے پہلی مرتبہ استعمال کیا جا رہا تھا ۔ میں وہاں پر کھڑا تھا جہاں کھڑا ہونے کیلئے مجھے کہا گیا تھا ۔ میں کالج میں ایک اتھلیٹ رہا تھا اور 200میٹر کی دوڑ متواتر جیتتا رہا تھا ۔ لٰہذا میں قطعاً پریشان نہ تھا جب مجھے ”کٹ“کی آواز سننے تک دوڑنے کیلئے کہا گیا تھا بلکہ میں خوش تھا کہ یہ ایک ایسا کام تھا جو میرے لئے آسان اور سادہ تھا۔
شاٹ تیار تھا اور جس لمحے میں نے ”ایکشن“ سنا ۔ میں برق رفتاری سے بھاگا اور میں نے ڈائریکٹر کو چلاتے ہوئے سنا ۔ ”کٹ ،کٹ ،کٹ“ ۔ میں نے دیکھا کہ وہ مجھے کچھ بتانے کی کوشش کر رہا ہے لیکن میںاندازہ نہ لگا سکا کہ وہ مجھے کیا بتانا چاہتا تھا۔ میں اسی جگہ پر کھڑا ہوگیا جہاں پر میں پہنچ چکا تھا اور امیاچکربورتھی میرے پاس آئے۔ وہ کسی قدر ناخوش دکھائی دے رہے تھے۔ انہوں نے مجھے بتایا کہ میں اس قدر تیزی کے ساتھ کہ یہ ایک دھندلی یا بگڑی ہوئی شکل جو کیمرے میں مقید ہوئی تھی۔ میں نے وضاحت کی کہ مجھے اس رفتار کا کوئی آئیڈیا نہ تھا جو رفتار میں نے برقراررکھنی تھی ۔ تب انہوں نے کہا۔
فکر نہ کرو ہم اسے دوبارہ کریں گے لیکن رفتار سست رکھنا۔یہ امر میرے لئے پریشان کن تھا جب انہوں نے مجھے رفتار سست کرنے کیلئے کہا تھا ۔ کیونکہ میں نے سوچا تھا کہ میرے لئے اس قدر تیز بھاگنا ضروری تھا جس قدر تیز میں بھاگ سکتا تھا تاکہ میں اس لڑکی کی زندگی بچا سکوں جو اپنی زندگی ختم کرنے جا رہی تھی ۔ تاہم جب امیاچکربورتھی نے ایکشن کی وضاحت بیان کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک ایسی چیز ہے جو کیمرے میں فلم پر رجسٹر ہونی چاہئے ۔ جو ایک مخصوص رفتار سے حرکت کریگا۔ میں سمجھ گیا کہ یہ ایک بہت بڑا چیلنج ہرگز نہ تھا اور اداکاری کا کام ایک سادہ سا کام تھا۔
بہرکیف تین یاچار مرتبہ کٹ پکارے جانے کے بعد شوٹ اوکے ہوگیا تھا۔
مجھ سے یہ اکثر پوچھا جاتا ہے کہ میں نے اپنی اولین پرفارمنس (کارکردگی) اور اپنی اولین فلم کی بابت کیا سوچا تھا۔ جو 1944میں نمائش کیلئے پیش کی گئی تھی۔ ایمانداری کی بات ہے کہ کلی تجربہ مجھ پر زیادہ اثر انداز ہوئے بغیر ہی گزر گیا تھا۔میں نے وہی کچھ کیا جو کچھ کرنے کیلئے مجھے کہا گیا تھا اور اکثر اوقات یہ اس قدر آسان نہ تھا۔
میں نے اپنے آپ سے پوچھا۔
” کیا میں اپنی آنے والی فلموں میں ایسے ہی پرفارم کرنے جا رہا ہوں اگر اسٹوڈیو میری خدمات کو جاری رکھنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے ؟“میرا جواب تھا۔
”نہیں“
میں نے محسوس کیا کہ یہ ایک مشکل کام تھا اور اگر مجھے اس کام کو جاری رکھنا ہے تو مجھے اسے سرانجام دینے کا اپنا منفرد طریقہ تلاش کرنا ہوگا۔ اور اہم سوال یہ تھا کہ
”کیسے“
(جاری ہے)

امریکا میں پاکستانی فلم فیسٹیول،ماہرہ اور ایمان کی فلمیں نمائش ہونگی

نیویارک (شوبز ڈیسک) امریکا میں پاکستانی فلموں کی نمائش پر مبنی پہلے فلم فیسٹیول کا انعقاد 3 تا 4 دسمبر کو امریکا میں پاکستان کے مستقل مشن کے زیر اہتمام ہوگا۔دو روزہ یہ فلم فیسٹیول ایشیاءسوسائٹی میں ہو گا۔ فیسٹیول میں نمائش میں پیش کی جانے والی فلموں میں دو نئی فلمیں ”دوبارہ پھر سے“ اور ”لاہور سے آگے“ بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ ”ایکٹر ان لاء “ آسکر ایوارڈز کے لیے نامزد ہونے والی فلم ”ماہ میر“ آسکر ایوارڈ جیتنے والی شرمین عبید چنائے کی اینی میٹڈ فلم ’3 بہادر‘، دختر، ڈانس کہانی اور ہو من جہاں بھی اس فیسٹیول میں پیش کی جائیں گی۔

کترینہ کیف فلم”ٹائیگر ابھی زندہ ہے “میں ولن کے روپ میں نظر آئیں گی

ممبئی (شوبزڈیسک)بالی وڈ اداکارہ کترینہ کیف فلم”ٹائیگر ابھی زندہ ہے “میں ولن کے روپ میں نظر آئیں گی۔بالی وڈ کی ذرائع کے مطابق اداکارہ کترینہ کیف فلم”ایک تھا ٹائیگر“کے سیکوئیل”ٹائیگر ابھی زندہ ہے “ہے میں پہلی مرتبہ منفی کردار ادا کر تی نظر آئیں گی۔مذکورہ فلم آدیتیہ چوپڑا کی ہے جس کو علی عباس ظفر ڈائریکٹ کر رہے ہیں ¾ علی عباس ظفر کے مطابق اس فلم میں سلمان خان اور کترینہ دونوں کا کردار یکسر مختلف ہے،اس میں دونوں پریمی ہونے کے بجائے ایک دوسرے کے خون خوار دشمن کے روپ میں نظر آئیں گے۔ انھوں نے کہا کہ اس فلم کے کردار پچھلی فلم کے کرداروں کا ہی تسلسل ہیں البتہ کہانی بالکل نئی ہے۔

پی ایس ایل اورآئی پی ایل ٹیموں میں میچزکی تجویز

نئی دہلی  (نیوزا یجنسیاں) پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کی فرنچائز پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے ہندوستانی کرکٹ بورڈ(بی سی سی آئی) کے صدر انوراگ ٹھاکر سے ملاقات کر کے پاکستان اور ہندوستان کے ساتھ ساتھ دونوں ملکوں کی لیگ کی ٹیموں کے درمیان مقابلوں کے انعقاد پر زور دیا۔جاوید آفریدی اور انوراگ ٹھاکر کے درمیان ملاقات نئی دہلی میں ہوئی جہاں کرکٹ کے فروغ، پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کرکٹ تعلقات کی بحالی پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے بعد جاوید آفریدی نے بتایا کہ بی سی سی آئی کے صدر سے ملاقات کامیاب رہی اور انوراگ ٹھاکر نے کہا کہ ہم کسی تیسرے مقام پر پاکستان سے کھیلنے کیلئے تیار ہیں۔جاوید نے کہا کہ انہوں نے پی ایس ایل اور انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیموں کے درمیان کسی تیسرے مقام پر میچوں کے انعقاد کی اجازت دینے کی درخواست کی کیونکہ آئی پی ایل کی چند ٹیموں کے حکام پی ایس ایل کی ٹیموں سے میچز کھیلنے کیلئے کافی پرجوش ہیں۔
پشاور زلمی کے مالک نے بتایا کہ اس سلسلے میں اگلی ملاقات 17 دسمبر کو سری لنکا کے شہر کولمبو میں ہو گی جس میں مزید پیشرفت کا امکان ہے۔یاد رہے کہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان جاری کشیدگی کے سبب دونوں ملکوں کے درمیان 2007 کے بعد سے کوئی مکمل سیریز نہیں کھیلی گئی اور حالیہ کشیدگی کو دیکھتے ہوئے مستقبل قریب میں بھی کسی سیریز کا انعقاد مشکل نظر آتا ہے۔بھارتی جنتا پارٹی سے تعلق رکھنے والے انوراگ ٹھاکر بھی پاکستان سے سیریز کے سخت مخالف رہے ہیں اور اس سلسلے میں جاوید آفریدی کی ان سے ملاقات بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ماضی میں بھی دونوں دونوں ملکوں کے تعلقات میں بہتری کیلئے کرکٹ ڈپلومیسی کا سہارا لیا گیا تھا اور جاوید آفریدی کی اس کاوش سے اگر دونوں ملکوں کے کرکٹ تعلقات میں جاری سرد مہری کا خاتمہ ہوتا ہے تو یہ دونوں ملکوں کے ساتھ ساتھ کرکٹ کیلئے بھی سنگ میل ثابت ہو گا۔

پاکستانی کرکٹرز بھی منیکن چیلنج کے بخار میں مبتلا

کراچی (آئی این پی)پاکستانی کرکٹر بھی منیکن چیلنج کے بخار میں مبتلا ہو گئے ۔محمد عرفان ، سلمان بٹ ، کامران اکمل ، محمد حفیظ اور محمد آصف فریز ہو گئے۔کامران اکمل کا کہنا تھا کہچیلنج اتنا آسان نہیں جتنا دکھائی دیتا ہے ، بچپن کی یادیں تازہ ہوگئیں ، منیکن چیلنج سے نیا جذبہ ملتا ہے۔ ۔ محمد عرفان کا کہنا تھا کہ منیکن چیلنج سے بچپن کی یاد تازہ ہو گئی ہے ۔

مصباح اوریونس کامتبادل موجودنہیں،انضمام

ہملٹن(نیوزایجنسیاں)پاکستان کرکٹ ٹیم کے چیف سلیکٹر انضمام الحق کا کہنا ہے کہ سینیئر بیٹسمین یونس خان اور مصباح الحق کے متبادل فوری طور پر موجود نہیں ہیں لیکن مستقبل کو ذہن میں رکھتے ہوئے نوجوان کرکٹرز کو موقع دیا جا رہا ہے۔انضمام الحق کا کہنا ہے کہ یہ کہہ دینا بہت مشکل ہے کہ ان دونوں تجربہ کار بیٹسمینوں کے متبادل اس وقت موجود ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ بابراعظم کی شکل میں ایک متبادل ملاہے جنھیں یونس خان اور مصباح الحق کے ساتھ کھیل کر بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملے گا۔ اس کے علاوہ دوسرے کھلاڑیوں پر بھی نظر ہے تاکہ وہ مڈل آرڈر میں ان دونوں کےساتھ کھیل سکیں ۔ انضمام الحق نے اسد شفیق کے بارے میں کہا کہ وہ ایک اچھے بیٹسمین ہیں اور ان کے پاس تجربہ بھی ہے، جنھیں اوپر کے نمبروں پر کھلانے کی بھی کوشش کی گئی ہے۔انھوں نے کہا کہ ’یونس خان طویل عرصے سے کھیل رہے ہیں اور ان کا متبادل فوری طور پر نہیں ہوسکتا۔ یہ ایک عمل ہے جس میں باصلاحیت کھلاڑیوں کو موقع دیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ ان دونوں کے متبادل ہمارے پاس موجود ہونے چاہئیں۔سابق کپتان انضمام الحق اس تاثر سے اتفاق نہیں کرتے کہ آسٹریلیا کے دورے کے بعد مصباح الحق اور یونس خان کے بغیر ایک نئے دور کا آغاز ہو سکتا ہے۔انضمام الحق کا کہنا ہے کہ مصباح اور یونس خن کے متبادل اس وقت موجود نہیں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ ایسا نہیں دیکھ رہے ہیں۔ فی الحال ان کی توجہ آسٹریلوی دورے پر مرکوز ہے اور ان کی خواہش ہے کہ پاکستانی ٹیم آسٹریلوی دورے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرے۔آسٹریلیا کے دورے کے بعد کیا ہوگا ؟ اس وقت وہ اس بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔انضمام الحق نے یہ بات واضح کر دی کہ یونس خان اور مصباح الحق کی کارکردگی بہت شاندار رہی ہے اور ان دونوں کی ملک کے لیے زبردست خدمات ہیں، لہذا اپنے کریئر کے بارے میں یہ دونوں ہی فیصلہ کرسکتے ہیں کہ انھیں کب جانا ہے۔انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب کسی کرکٹر کی عمر ہو جائے اور اسے کھیلتے ہوئے 18 سے 20 سال ہو جائیں تو پھر اس کے جانے کا وقت آ جاتا ہے لیکن مصباح الحق اور یونس خان ہمارے سینیئر کھلاڑی ہیں۔ان کا کہنا تھا : یہ ضرور ہے کہ آسٹریلوی دورے کے بعد ہمیں نوجوان کرکٹرز کو سامنے لانا ہوگا۔انضمام الحق کا کہنا ہے کہ کامبی نیشن بننے میں وقت لگتا ہے۔ یہ فوراً نہیں ہو جاتا، اس کے لیے ہمیں تحمل دکھانا ہوگا۔

جو بھی آنا چاہے خوش آمدید ….

اسلام آباد، اشک آباد (آن لائن، مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان نے روس کو چائنہ پاکستان اقتصادی راہدری منصوبہ میں شامل ہونے کی درخواست پر باضابطہ اجازت دےدی‘ جبکہ دو طرفہ معاشی‘ دفاعی و انٹیلی جنس امور میں بھی تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا۔ روسی خفیہ دارے کے کسی بھی سربراہ کا 14 سال بعد پاکستان کا یہ پہلا دورہ ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیڈرل سکیورٹی سروسز کے سربراہ الیگزینڈر بوتنیکو نے پاکستان کا خفیہ دورہ کیا اور اعلیٰ عسکری حکام سے ملاقاتیں کیں۔ 1995 ءمیں روسی خفیہ ادارے KGB کو فیڈرل سکیورٹی سروسز کا نام دیا گیا۔ اطلاعات کے مطابق ملاقاتوں میں دفاعی و انٹیلی جنس کے شعبوںمیں تعاون بڑھانے پر اظہار خیال کیا گیا اور دونوں ملکوں کے درمیان معاشی و اسٹرتیجک تعلقات کو آگے بڑھانے پر اتفاق بھی ہوا۔ نجی ٹی وی نے ذرائع سے بتایا ہے کہ روسی خفیہ ادارے کے سربراہ نے سی پیک میں شال ہونے کی درخواست کی جسے پاکستان نے باضابطہ طور پر منظور کرکے روس کو گوادر پورٹ استعمال کرنے کی اجازت دے دی۔ میڈیا کے مطابق پاکستان نے بالآخر روس کو گوادر کے راستے گرم پانیوں کو پہنچنے کی اجازت دے دی ہے۔ تاہم اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان معاشی و اسٹریٹیجک تعلقات کی مضبوطی کو مزید تقویت ملے گی جو انتہائی خوش آئند ہے۔ واضح رہے کہ روسی خفیہ ادارے کے سربراہ کو اس موقع پر قیمتی پستولوں کا تحفہ بھی دیا گیا۔ وزیر اعظم نواز شریف ترکمانستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر اشک آباد پہنچ گئے ہیں ۔ہوائی اڈے پر ترکمانستان کے نائب وزیراعظم اور پاکستانی سفارتخانے کے اعلیٰ حکام نے ان کا استقبال کیا۔ دفتر خارجہ کے مطابق دورے کے دوران وزیراعظم اقوام متحدہ کے زیر اہتمام ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے بارے میں عالمی کانفرنس میں شرکت کریں گے۔کانفرنس میں پائیدار ترقی کے 2030 کے اہداف کے حصول کے لئے ماحول دوست پائیدار ٹرانسپورٹ کے کردار اور اس کے فروغ کے بارے میں غور کیا جائے گا۔ مقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور ترکمانستان کے صدر مشترکہ طور پرکانفرنس کی میزبانی کریں گے۔ کانفرنس کی سائیڈ لائن پر وزیر اعظم نواز شریف سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ بان کی مون سے ملاقات کریں گے جس میں کشمیر کا مسئلہ اور کنٹرول لائن پر بھارتی جارحیت کا معاملہ اٹھایا جائے گا۔وزیر اعظم دورے میں دو طرفہ ملاقاتوں کے علاوہ کئی اہم عالمی رہنماﺅں سے بھی ملیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ جنوبی ایشیا اور سنٹرل ایشیا کو سڑک اور ریل کے ذریعے آپس میں ملائیں گے۔ روس کی سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا خیرمقدم کرتے ہیں ، اس منصوبے سے دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی فائدہ اٹھائے گی۔ ترکمانستان کے صدر سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ترکمانستان کے صدر سے ملاقات میں تاپی گیس منصوبے سمیت باہمی دلچسپی کے امورپربات چیت ہوئی، یہ منصوبہ پاکستان میں گیس کی ضرورت پوری کرے گا۔ ترکمانستان اور پاکستان کے تعلقات مستحکم اور مزید بہتر ہورہے ہیں تاہم دونوں ملکوں کے درمیان ہرسال اعلی سطح پررابطہ ہونا چاہیے، ترکمانستان کے صدر سے کہا ہے کہ سال میں 2 ملاقاتیں کریں۔ انہوں نے کہا کہ روس کی سی پیک میں شمولیت کی خواہش کا خیرمقدم کرتے ہیں ، کافی ممالک سی پیک منصوبے میں شرکت کے خواہشمند ہیں۔ سی پیک منصوبے سے 10 سال میں خوشحالی آئے گی اور دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی اس سے فائدہ اٹھائے گی۔ جنوبی اور سینٹرل ایشیا کو ریل اور سڑک سے ملائیں گے جبکہ سنٹرل ایشیا کو گوادر اور کراچی بندرگا تک لے جائیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے مزید بتایا کہ ترکمانستان کے صدر سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے درمیان ایئر روٹس میں اضافہ کیا جائے گا۔وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ روس سمیت کوئی بھی ملک پاک چین اقتصادی راہداری میں شمولیت کی خواہش کا اظہار کرے گا تو ہم اسے خوش آمدید کہیں گے، ہمارا یہ منصوبہ نہ صرف پاکستان کے معاشی ترقی کا ضامن ہے بلکہ اقوام عالم بھی اس سے بھرپور فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار وزیراعظم نے ترکمانستان کے دورے کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عالمی طاقتوں کی پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے میںدلچسپی بڑھ گئی ، روس، برطانیہ، جرمنی، اٹلی اور دیگر اہم ممالک نے سی پیک میں شامل ہونے کے خواہش ظاہر کردی ۔نجی ٹی وی نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ برطانیہ،جرمنی ،اٹلی اور دیگر اہم ممالک سی پیک میں شامل ہونا چاہتے ہیں جبکہ روس بھی گوادر پورٹ کے ذریعے بین القوامی تجارت بڑھانے کا خواہاں ہے۔ اس سلسلے میں روس کے انٹیلی جنس حکام بھی پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔دوسری جانب برطانیہ بھی سی پیک کے حوالے سے جاری منصوبوں میں شامل ہونا چاہتا ہے۔ برطانوی وزیرخارجہ کا دورہ بھی سی پیک سے استفادہ کے لئے ہے جبکہ آئندہ سال برطانوی وزیراعظم کے دورہ پاکستان سے قبل منصوبوں کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ ذرائع کے مطابق پاکستان منصوبے میں شامل ہونے والے تمام ممالک کو خوش آمدید کہے گا، جبکہ سی پیک کے روٹ کی سکیورٹی انتہائی موثر بنائی جارہی ہے۔

پاکستان کو صحرا بنا دینگے …. مودی کی دھمکی

بھٹنڈا/نئی دہلی (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک)بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے دھمکی دی ہے کہ پاکستان کی جانب جانے والے پانی کی بوند بوند کو روک دیں گے ستلج ،بیاس اور روای کے پانی پر بھارت کا حق ہے اسے ہم پاکستان جانے کی اجازت نہیں دیں گے، پاکستانی شہری اپنے حکمرانوں سے کہیں کہ وہ بھارت کے خلاف لڑنے کی بجائے ملک میں کرپشن اور بلیک منی کے خاتمے پر اپنی توجہ دیں، پاکستان ابھی تک سرجیکل اسٹرائیک کے دھچکے سے نہیں نکلا اور بھارت کے خلاف لڑ کر خود کو تباہ کررہا ہے ،پاکستان کو لائن آ ف کنٹرول کے اس پار 250کلومیٹر کے علاقے میں سرجیکل سٹرائیکس کے بعد ہمارے بہادر فوجیوں کی طاقت کا اندازہ ہوگیا ہے ،سرجیل سٹرائیکس کے بعد سرحد پار جھٹکے محسوس کیے گئے اور اب تک وہ ان جھٹکوں سے نہیں نکل سکے۔جمعہ کو بھارتی میڈیا کے مطابق وزیراعظم نریندر مودی نے بھارتی پنجاب کے شہر بھٹنڈا میںآل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (اے آئی آئی ایم ایس ) کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ میں پاکستانی شہریوں سے ایک مرتبہ پھر کہنا چاہتاہوں کہ انھیں اپنے حکمرانوں سے بات کرنی چاہیے اور فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ بھارت کے خلاف لڑنا چاہتے ہیں یا نہیں؟ انھیں اپنے حکمرانوں کو بتانا چاہیے کہ وہ کرپشن اور جعلی نوٹوںکے خلاف لڑیں۔مزید بڑھک مارتے ہوئے مودی کا کہنا تھا کہ پاکستان بھارتی افواج کی اہلیت جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ وہ کیا کرسکتی ہیں۔ مودی نے ہرزہ سرائی کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ابھی تک سرجیکل اسٹرائیک کے دھچکے سے سنبھل رہا ہے اور بھارت کے خلاف لڑ کر خود کو تباہ کررہا ہے ۔اس سے قبل ہمارے فوجیوں نے طاقت رکھنے کے باوجود اسے ظاہر نہیں کیا تھا لیکن اب پاکستان نے لائن آ ف کنٹرول کے اس پار 250کلومیٹر کے علاقے میں سرجیکل سٹرائیکس کے بعد ہمارے بہادر فوجیوں کی طاقت کا اندازہ کرلیا ہے ۔سرجیل سٹرائیکس کے بعد سرحد پار جھٹکے محسوس کیے گئے اور اب تک وہ ان جھٹکوں سے نہیں نکل سکے۔ مودی نے کہاکہ پشاور کے آرمی پبلک سکول میں بچوں کے قتل عام کے بعد 125کروڑ بھارتیوں کی آنکھیں آنسوﺅں سے تر تھیں۔ ہر بھارتی نے پاکستانی کا درد محسوس کیا۔بھارت کے خلاف لڑ کرپاکستان خود کو نقصان پہنچا رہا ہے اور معصوم لوگوں کو بھی مار رہاہے۔ پاکستانی عوام بھی غربت سے آزادی چاہتے ہیںسیاسی فاہدے کی خاطر یہ ماحول ان کیلئے پیدا کیا جانا چاہیے۔ نریندر مودی نے واویلا کیا کہ ستلج، بیاس اور روای کے پانی پر بھارت کا حق ہے اور اسے ہم پاکستان جانے کی اجازت نہیں دیں گے۔بھارتی وزیراعظم کا کہناتھا کہ سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان میں بہہ جانے والے پانی پر ہمارے کسانوں کا حق ہے اور میں نے پاکستان بہہ جانے والے پانی کو بھارت میں زیادہ سے زیادہ استعمال کرنے کیلئے مختلف پہلووں پر غور کیلئے ٹاسک فورس بنا دی ہے۔ مودی نے کہا کہ پانی کی ایک ایک بوند کو روک کرمقبوضہ کشمیر، پنجاب اور بھارتی کسانوں کے لیے استعمال کریں گے۔