All posts by Daily Khabrain

سٹیج اداکارہ قسمت بیگ بارے اہم ترین خبر …. نئے انکشافات

لا ہور (نامہ نگار،کلچرل رپورٹر) ہربنس پورہ کے علاقہ میں نامعلوم افرا د کے ہا تھ قتل ہو نے والی 35سالہ دو بچوں کی ماں سٹےج اداکارہ کی لاش پولیس نے پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئی جسے بعدازاں مقامی قبرستان میں سپرد خاک کردےا گےا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حناءبیگ عرف قسمت بیگ کی ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ آ گئی ہے۔ مقتولہ کو12گولیاں ماری گئیں اور موت زیادہ خون بہہ جانے کے باعث ہوئی۔11 گولیاں ٹانگوں اور پیٹ میں لگیں ایک ہاتھ پر ماری گئی۔ دوسری جانب پولیس نے اس واقعہ میں زخمی ہونے والے اداکارہ کے مبینہ سیکرٹری علی بٹ کا ابتدائی بیان ریکارڈ کر لیا ہے جس کی روشنی میں مزید کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ پولیس افسران کا کہنا ہے کہ اس واقعہ کی تفتیش کے لئے انویسٹی گیشن اور سی آئی اے پولیس کے سپرد کر دی گئی ہے جلد ہی ملزمان کو گرفتار کرلیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ہربنس پورہ کے علاقے میں نامعلوم افراد نے جمعرات کی صبح تماثیل تھیٹر سے ڈانس کی ریہرسل کرکے گاڑی پر سیکرٹری کے ہمراہ گھر واپس جاتے ہوئے اداکارہ حناءبیگ عرف قسمت بیگ اور اس کے سیکرٹری علی بٹ پر فائرنگ کی۔ شدید زخمی حالت میں اسے سروسزہسپتا ل منتقل کیا گیا۔ جہاں آٹھ گھنٹے ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد قسمت بےگ جان کی بازی ہا ر گئی۔ قسمت بیگ کی موت پر فنکار روتے ہوئے سڑکوں پر آ گئے۔ مال روڈ پر احتجاج کیا اور قاتلوں کی گرفتاری کا مطالبہ کیا۔ پولیس کے مطابق مقتولہ پر پہلے بھی دو مرتبہ فائرنگ کی گئی واقعہ ذاتی دشمنی لگتی ہے۔ اداکارہ کے مبےنہ سیکریٹری علی بٹ کا بیان ریکارڈ کر لیا جبکہ مزید تحقیقات جاری ہیں۔ پو لیس نے قسمت بےگ کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثاءکے حوالے کردی گئی ہے۔ لاش گھر پہنچنے پر کہرا م برپا ہو گےا‘ معصوم بچے ماں کی لاش سے لپٹ کررو تے رہے۔ بعدازاں مقتولہ کو سوگواروں کی موجودگی میں سپرد خاک کردےا گےا ۔ ذرا ئع کا کہنا ہے کہ قسمت بےگ پر اس سے قبل ہونے والے قاتلانہ حملے کے ملزم جن کا تعلق فےصل آبا د سے ہے کو بھی شامل تفتےش کر نے کا فےصلہ کےا گےا ہے۔ جبکہ مقتولہ کے موبائل فونز کا بھی ریکارڈ حاصل کیا جا رہا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ مقتولہ سے کن افرادنے واقعہ سے قبل رابطہ کیا یا پھر اس کی کسی سے کوئی لڑائی تو نہیں ہوئی تھی جس کی رنجش پر ملزمان نے اس کو قتل کر دیا ہے۔ پولیس نے مختلف پہلوﺅں پر تفتیش شروع کر دی ہے ۔ اداکارہ قسمت بےگ کوگزشتہ روز لاہور کے درس بڑے مےاں قبرستان مےں ان کے والد کے پہلومےں سپردخاک کردےا گےا۔ اس موقع پرشوبز کے علاوہ قرےبی عزےزاور محلے داروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔ واضح رہے کہ قسمت بےگ کوان کے گھر کے قرےب نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے اس وقت شدےد زخمی کردےا تھا جب وہ تماثےل تھےٹرمےں شروع ہونے والے سٹےج ڈرامہ کی رےہرسل کرنے کے بعد اپنے گھر جا رہی تھےں۔ انہےں زخمی حالت مےں سروسزہسپتال لےجاےا گےا، جہاں کئی گھنٹے زندگی اور موت کی کشمکش مےں رہنے کے بعد وہ اپنے خالق حقےقی سے جا ملےں۔ ان کی رسم قل آج بعد نماز ظہر ان کی رہائشگاہ مکان نمبردو، گلی نمبرچار کےنال پوائنٹ، نزد پالکی شادی ہال اوربالمقابل تاج پورہ سکےم ادا کی جائے گی۔

گدی نشین خواجہ اجمیر شریف کا نامور صحافی ضیا شاہد بارے دلچسپ انکشاف

لاہور (فورم رپورٹر) سجادہ نشین اجمیر شریف سید بلال احمد چشتی نے شاندار صحافتی خدمات اور وجد آور تقریبات کے انعقاد پر چیف ایگزیکٹو ضیاشاہد کی دستاربندی کی اور انہیں درگاہ عالیہ اجمیر شریف کا تصویری فریم بھی تحفہ میں پیش کیا۔ سید بلال احمد چشتی نے کہا کہ لاکھوں لوگوں کی طرح ضیاشاہد میرے بھی پسندیدہ صحافی ہیں۔ انہوں نے حقوق العباد کی صحافت کو فروغ دیا۔ ان کے کالم اور تجزیے بھی شوق سے پڑھتا ہوں۔

” وجد کی رات “ جیسی محافل ”خبریں “ کی پہچان

لاہور (فورم رپورٹر) ”وجد کی رات“ سے خطاب کرتے ہوئے چیف ایگزیکٹو ”خبریں“ گروپ ضیاشاہد نے کہا ہے کہ عشق مصطفی کا پیغام عام کرتے رہیں گے۔ خواہش ہے کہ ہمارا میڈیا گروپ ایسی پاکیزہ محافل کا تسلسل ہمیشہ قائم رکھے۔ ایوان اقبال میں منعقدہ تیسری عظیم ا لشان ”وجد کی رات“ سے بطور میزبان خصوصی خطاب کے دوران انہوں نے مہمانان گرامی، شرکاءسے تقریب اور معاون اداروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ”خبریں“ گروپ ”وجد کی رات“ کا انعقاد ہر سال کرتا رہے گا۔ ایسی پرنور محافل میں شرکت کی خواہش ہر دم دل میں مچلتی رہتی ہے کیونکہ اللہ تبارک تعالیٰ اور اس کے پیارے حبیب کے ذکر سے سجی محفلوں میں روحانی تسکین میسر کرتی ہے۔ امسال بھی ”وجد کی رات“ میں حاضری سے ایمان تازہ ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ کی توفیق سے حضور کے ذکر کی محفلیں عمر بھر سجاتے رہیں گے۔ ملتان سمیت جنوبی پنجاب میں ”وجد کی رات“ ایسی نورانی سرگرمیاں ہماری پہچان ہیں۔ ”خبریں“ کی تقریبات کی کامیابی پر فخر محسوس کرتا ہوں۔ تین سال قبل لاہور میں بھی ”وجد کی رات“ کی روایت قائم کی۔ آئندہ بھی یہ سعادت حاصل کرتے رہیں گے۔ انچارج کلچرل اینڈ سپورٹس ونگ محمد اکمل وینس اور ان کی پوری ٹیم کو مبارکباد دیتا ہوں۔

گدی نشین خواجہ اجمیر شریف سید بلال احمد چشتی کی رقت آمیز دعا

لاہور (اہتمام و رپورٹ: محمد اکمل وینس، تصاویر: خالد اسماعیل) خبریں گروپ نے ایوان اقبال میں تیسری عظیم الشان روح پرور ”وجد کی رات“ سجا دی۔ روزنامہ خبریں، روزنامہ نیا اخبار اور چینل ۵ کے زیر اہتمام منعقدہ نورانی محفل حفیظ گھی اینڈ جنرل ملز اور ایس ایم فوڈز کے تعاون سے منعقد کی گئی جبکہ انتظامی امور کو بہتر بنانے میں فاطمہ گروپ، خواجہ محمد یار فریدی فورم پاکستان اور نعت فورم انٹرنیشنل نے بھی بھرپور معاونت کی۔ ”وجد کی رات“ میں عشاق کی جوق در جوق شرکت سے ایوان اقبال لاہور کی نشستیں کم پڑ گئیں۔ شرکائے تقریب رات گئے تک پاکیزہ محفل میں موجود رہ کر رحمتوں اور برکتوں سے جھولیاں بھرتے رہے۔ ”وجد کی رات“ کے اختتام پر قرعہ اندازی کے ذریعے 2عمرہ ٹکٹ بھی دئیے گئے۔ یہ قرعہ خوش بخت سارہ سلیم اور خوش نصیب محمد فیصل کے نام نکلا۔ سالار جنگ، صدر نیشنل مشائخ کونسل پاکستان و سجادہ نشین گڑھی شریف خواجہ غلام قطب الدین فریدی نے روح پرور خطاب کیا جبکہ گدی نشین اجمیر شریف سید بلال احمد چشتی نے رقت آمیز دعا کرائی۔ بین الاقوامی شہرت کے حامل قاری کرامت علی نعیمی نے آیات ربانی کی تلاوت سے شرکاءکے قلوب کو معطر کیا جبکہ صدارتی ایوارڈ یافتہ قاری و نعت خواں قاری وحید ظفر قاسمی نے بارگاہِ رسالت میں عقیدتوں کے پھول نچھاور کر کے خوب سماں باندھا۔ عالمی شہرت کے حامل معروف ثناءخوانوں پروفیسر عبدالرﺅف روفی، شہباز قمر فریدی اور سرور حسین نقشبندی نے بھی خوبصورت اور دلکش انداز میں اپنی اپنی حاضری پیش کر کے عشاق کے دل موہ لئے۔ محافل نعت کے نامور نقیب اور سکالر تسلیم احمد صابری، حافظ محمد یونس قادری اور انچارج کلچرل اینڈ سپورٹس ونگ ”خبریں“ محمد اکمل وینس نے نقابت کی ذمہ داریاں ادا کیں۔ صاحبزادہ تسلیم احمد صابری اور حافظ یونس قادری کے اندازِ نقابت اور پیش کردہ کلام کو بھی خوب پذیرائی ملی۔ ”وجد کی رات“ میں خبریں گروپ کے چیف ایگزیکٹو ضیاشاہد نے بطور میزبان خصوصی جبکہ نامور مشائخ اور معروف شخصیات نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ تقریب میں شرکت کے لئے عشاق کی آمد 8 بجے شب شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایوان اقبال کھچا کھچ بھر گیا۔ 9بجے شروع ہونے والی نورانی محفل 3بجے شب تک جاری رہی۔ نور و نکہت میں ڈوبی وجد آور اور کیف آفریں تقریب میں مسلسل 6 گھنٹے تک تکبیر و تحسین کے فلک شگاف نعرے بلند ہوتے رہے۔ ایوان اقبال کی فضا درود و سلام کی صداﺅں سے معطر رہی۔ شرکاءپسندیدہ ثناءخوانوں سے فرمائشی کلام جھوم جھوم کر سنتے رہے۔ نورانیت اور روحانیت کی بدولت عشاق کی پلکوں کے گوشے نم رہے۔ شرکائے تقریب نے ”وجد کی رات“ کو لاہور کی تاریخ ساز محفل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”خبریں“ گروپ نے ناقابل فراموش تقریب کاانعقاد کر کے عشاق کے دل جیت لئے ہیں۔ ”وجد کی رات“ نے مقبولیت اور پسندیدگی کے نئے ریکارڈ قائم کر دئیے ہیں۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے خواجہ غلام قطب الدین فریدی نے کہا کہ ”خبریں“ کی محافل اپنی مثال آپ ہیں۔ ”جہاں ظلم وہاں خبریں“ اور ”صحافت برائے خدمت“ کے تحت ”خبریں“ نے عوام الناس سے مضبوط رشتہ جوڑا ہے وہاں ”خبریں“ کی پاکیزہ محافل کے تسلسل نے اسے عشاق کا بھی پسندیدہ میڈیا گروپ ثابت کر دیا ہے۔ نورانی اور روحانی سرگرمیوں کا کامیاب انعقاد ”خبریں“ کا طرئہ امتیاز ہے۔ ایسی محافل عشق مصطفی کے اظہار کا بہترین ذریعہ ثابت ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”وجد کی رات“ کا لاہور میں انعقاد بھی بہترین روایت بن چکی ہے۔ ضیاشاہد مبارکباد کے مستحق ہیں۔ تصوف کی ترویج و اشاعت میںبھی ”خبریں“ گروپ کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ سید بلال احمد چشتی نے کہا کہ ”خبریں“ محض ایک اخبار نہیں بلکہ ایک منظم تحریک ہے۔ ضیاشاہد کی صحافتی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ ”وجد کی رات“ میں شریک ہو کر قلبی تسکین نصیب ہوئی ہے۔ انہوں نے ”خبریں“ گروپ کی ترقی، معاون اداروں کی خیر و برکت، ضیاشاہد کی مکمل صحت یابی، امتنان شاہد کی لمبی عمر اور عدنان شاہد کے بلندی¿ درجات کےلئے خصوصی دعا بھی کرائی۔ آخر میں شرکاءمیں تبرک تقسیم کیا گیا۔

شہباز شریف کا برطانیہ سے بڑا مطالبہ

لاہور(اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف سے ےہاں برطانیہ کے وزیر خارجہ بورس جانسن(Mr.Boris Johnson) نے ملاقات کی جس میں باہمی دلچسپی کے امور، پاک برطانیہ تعلقات کے فروغ، مختلف شعبوں میںتعاون بڑھانے اورمسئلہ کشمےر سمےت اہم علاقائی امو رپر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات کے دوران لندن مےں جناح کانفرنس کے انعقاد پراتفاق کےاگےا۔برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن نے پنجاب کی تیز رفتار ترقی کیلئے مثالی اقدامات پر وزیراعلیٰ شہبازشریف کی کارکردگی کی تعریف کی اور کہا کہ آپ نے صوبے کے عوام کی ترقی اور خوشحالی کیلئے شاندار اقدامات کئے ہیںخصوصاً تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر کی بہتری اور دیگر شعبوں میں وزیراعلیٰ شہباز شریف نے نمایاں کام کیا ہے ۔انہوںنے کہا کہ دورہ لاہور کے دوران میرااورمےرے وفد کا شاندار استقبال کیا گیا ہے اور میں اس دورے کے دوران زبردست پذیرائی پروزےراعلیٰ کا شکرگزار ہوںاورمجھے ےہاں جو محبت اورعزت دی گئی ہے اسے مےں کبھی بھلانہےں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ پاکستان خصوصاً پنجاب کےساتھ اپنے تعلقات کو غیرمعمولی اہمیت دیتا ہے کیونکہ پنجاب پاکستان کا معاشی انجن ہے اور ےہاں معاشی ترقی کی رفتار بھی تےزہے۔برطانےہ پنجاب حکومت کےساتھ ہر طرح کے تعاون کو مزید فروغ دے گا اور پنجاب حکومت کے ساتھ مختلف شعبوں مےںشراکت داری کو مزید بڑھائیں گے۔ برطانوی وزیر خارجہ نے کہا کہ پنجاب خصوصاً لاہور میں سیاحت کے بے پناہ مواقع موجود ہیںاورےہاں پر سےاحت کو فروغ دے کرمعاشی و تجارتی سرگرمےوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔انہوںنے کہا کہ برطانےہ اور پاکستان کے درمےان تجارتی و معاشی تعلقات مےں اضافہ ہونا چاہےے۔ پنجاب کے مختلف شعبوں مےں سرماےہ کاری کے غےر معمولی مواقع سے مستقبل میں برطانوی کمپنیاں فائدہ اٹھانے کے امکانات کا جائزہ لےں گی اوراس ضمن مےں پاکستان کےساتھ روابط بڑھائےں گے کےونکہ پاکستان اےک غےر معمولی اہمےت کا حامل ملک ہے اوراس کی معےشت تےزی سے ترقی کررہی ہے۔برطانوی وزیر خارجہ نے وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی جانب سے لندن میں جناح کانفرنس کے انعقاد کی تجویز کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ لندن میں جناح کانفرنس کے انعقاد کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے،بلاشبہ ےہ اےک اہم اےونٹ ہوگا۔برطانوی وزےر خارجہ نے لاہور شہرکی خوبصورتی کی تعرےف کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ شہر مےں مےٹرو بس سروس رواں دواں ہے اوراورنج لائن مےٹرو ٹرےن کے منصوبے پر بھی کام جاری ہے تاہم اتنے بڑے شہر مےں انڈرگراو¿نڈ رےل سسٹم کی بھی ضرورت ہے اور اس ضمن مےں برطانےہ تعاون اورمہارت فراہم کرنے کےلئے تےار ہے۔انہوںنے کہا کہ برطانےہ مسئلہ کشمےرکو سمجھتا ہے اور تنازعات ہمےشہ بات چےت کے ذرےعے ہی حل ہوتے ہےں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان کے وزےراعظم محمد نواز شرےف نے بھارتی وزےراعظم کی تقرےب حلف برداری مےں شرکت کر کے اےک مثبت پےغام دےا، خطے کی ترقی کےلئے پائےدار امن ضروری ہے ۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے برطانوی وزےر خارجہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پاکستان کا ایک اہم تجارتی و معاشی پارٹنر ہے اور دونوں ملکوں کے درمےان تارےخی دوستانہ تعلقات موجود ہےں۔ برطانیہ کے بین الاقوامی ترقیاتی ادارے (ڈیفڈ) کی جانب سے تعلیم، صحت اور سکل ڈویلپمنٹ کیلئے تعاون لائق تحسین ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب میں برطانوی ٹیکس پیئرز کے پیسے کا انتہائی شفاف اور درست استعمال یقینی بنایا گیا ہے۔اےک اےک پائی شفافےت کے ساتھ عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کی جارہی ہے۔پاکستان مےں جمہورےت کے استحکام مےں بھی برطانےہ کا کردارقابل ستائش ہے۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں ساڑھے تین برس کے دوران دہشت گردی کے خاتمے اور توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے نتیجہ خیز اقدامات کئے گئے ہیںجن کے انتہائی مثبت اثرات سامنے آئے ہےں اور آج پاکستان پہلے سے زیادہ محفوظ، پرامن اور معاشی طور پر مستحکم ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لازوال قربانیاں دی ہیںاورہزاروں پاکستانےوں نے اپنی قےمتی جانوں کے نذرانے دےئے ہےں۔سےاسی و عسکری قےادت نے اتفاق رائے کےساتھ دہشت گردی کےخلاف فےصلہ کن جنگ کا آغاز کےا اور اس جنگ مےں پاکستان کو شاندار کامےابےاں ملی ہےں۔پنجاب حکومت نے صوبے مےں انسداد دہشت گردی فورس تشکےل دی ہے جسے انتہائی پےشہ ورانہ انداز مےں تربےت دی گئی ہے اورےہ فورس دہشت گردوں کی سرکوبی کےلئے ہراول دستہ ثابت ہورہی ہے۔ انہوںنے کہا کہ دہشت گردی کے ناسور کے مکمل خاتمے کےلئے مزےد آگے بڑھنا ہے اور دہشت گردی کےخلاف جنگ جےتنے کیلئے بندوق کی گولی کے ساتھ سماجی و معاشی اقدامات بھی ضروری ہیں۔ اوراس ضمن مےں پنجاب حکومت نے بے مثال فلاحی پروگرام شروع کررکھے ہےں۔ معاشرے سے انتہاپسندانہ رجحانات کے خاتمے کیلئے مائنڈسیٹ کو تبدیل کرنا ہے اور اس ضمن میں کثیرالجہت نوعیت کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت نے اےنٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لےبر کا خاتمہ کردےا ہے اوران بھٹوں پر محنت مزدوری کرنے والے بچوں کو سکول داخلہ کراےا گےا ہے اور ان کے تمام اخراجات پنجاب حکومت برداشت کررہی ہے۔ 70ہزار سے زائد بچوں کو چائلڈ لےبر سے نکال کر تعلےم کےلئے سکولوں مےں لاےاگےا ہے ۔پنجاب کے سکولوں مےں اربوں روپے کی لاگت سے بنائی جانے والی آئی ٹی لےبز سے طلباو طالبات جدےد علوم سے آراستہ ہورہے ہےں۔ اسی طرح پنجاب کے کم ترقی ےافتہ اضلاع مےں انتہائی غرےب طلبا و طالبات کےلئے دانش سکولزبنائے گئے ہےں جن کامعےارےورپ کے تعلےمی اداروں کے ہم پلہ ہے اور دانش سکولز مےںسمارٹ بورڈ کے ذرےعے طلبا و طالبات کو تعلےم دی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ لاہور میں انڈر گراﺅنڈ ریل میٹرو پراجیکٹ کیلئے برطانوی برطانوی تعاون کا خیرمقدم کریں گے۔ اس موقع پربرطانوی ہائی کمشنر تھامس ڈرےو (Mr.Thomas Drew)،ڈےفڈ پاکستان کی سربراہ جوانا رےڈ(Ms.Joanna Reid)، خصوصی مشےر لےام پارکر(Mr.Liam Parker)، ڈائرےکٹورےٹ برائے جنوبی اےشےاءاور افغانستان کے ڈائرےکٹراون جنکنز(Mr.Owen Jenkins) کے علاوہ صوبائی وزراءرانا ثناءاللہ ،رانا مشہود احمد،عائشہ غوث پاشا،چےف سےکرٹری،چےئرمےن منصوبہ بندی وترقےات ،سےکرٹری داخلہ اوراعلی حکام بھی موجود تھے۔وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف سے پاکستان میں سویڈن کی سفیر انگریڈ جوہانسن(Ms. Ingrid Johansson) نے ملاقات کی،ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ، سیاحت سمیت مختلف شعبوں میںتعاون بڑھانے پر تبادلہ خیال کےاگےا۔وزےراعلیٰ شہباز شرےف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور سویڈن کے مابین دوستانہ اور معاشی تعلقات موجود ہیںاور پنجاب میں متعدد سویڈش کمپنیاں پہلے ہی کام کر رہی ہیں۔سویڈن کے اشتراک سے پنجاب میں وہیکل انسپکشن اینڈ سرٹیفکیشن سسٹم متعارف کرایا گیا ہے اوراس سسٹم کے تحت کالاشاہ کاکو میں پہلا جدید سنٹر قائم کےاگیا ہے جبکہ ایسے سنٹر پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی بنائے جا رہے ہیں۔ انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت اور سویڈن کے مابین ڈرائیونگ ٹرےننگ سکولوں کے قیام اورڈرائےونگ لائسنسوں کے اجراءکے حوالے سے تعاون بڑھاےا جائے گا اور مرحلہ وار پروگرام کے تحت اس پروگرام کو پورے پنجاب تک پھےلاےا جائے گا۔مختلف شعبوں کی بہتری کیلئے سویڈن کی تکنیکی معاونت کا خیرمقدم کریں گے اور ان کی مہارت سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے حتمی تجاویز مرتب کرکے پیش کی جائیں۔اس موقع پر سویڈن کی سفیر انگریڈ جوہانسن نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت کےساتھ مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے کے خواہاں ہیں۔انہوںنے کہاکہ پنجاب حکومت کو ٹرانسپورٹ، سالڈویسٹ، پبلک ہیلتھ انجینئرنگ اور دیگر شعبوں میں تکنیکی معاونت فراہم کرنے کیلئے تیار ہیں۔ صوبائی وزیر ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن مجتبیٰ شجاع الرحمن، صوبائی وزیر خزانہ ڈاکٹر عائشہ غوث پاشا، چیف سیکرٹری، چیئرمین منصوبہ بندی و ترقیات، سیکرٹریز صنعت، ٹرانسپورٹ اور چیئرمین ٹاسک فورس انفارمیشن اینڈ کلچر محمد مالک بھی اس موقع پر موجود تھے۔

نئے سپہ سالار کی دوڑ …. آزاد کشمیر بھی قرعہ میں شامل

لاہور (سیاسی رپورٹر) آرمی چیف کی دوڑ میں شامل ہونے والے 5 ویں امیدوار جنرل اکرام الحق حکومت آزادکشمیر کے سابق سینئر وزیر اور پیپلزپارٹی کے رہنما چودھری صحبت علی مرحوم کے صاحبزادے ہیں ان کے ایک بھائی چودھری انوارالحق آزادکشمیر اسمبلی کے سپیکر رہ چکے ہیں۔ دوسرے بھائی ڈاکٹر انعام الحق پی پی پی آزادکشمیر کے نائب صدر ہیں ان کا تعلق آزاد کشمیر کے علاقہ بھمبر سے ہے۔ لارنس کالج گھوڑا گلی اور ایبٹ آباد پبلک سکول میں ابتدائی تعلیم کے بعد پاکستان ملٹری اکیڈمی کے 64 ویں لانگ کورس میں شمولیت اختیار کی۔ ستمبر 1981ءمیں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ آزادکشمیر رجمنٹ کی مایہ ناز بٹالین میں شمولیت اختیار کی۔ امریکہ سے ایک سالہ اعلیٰ عسکری کورس پاس کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے مشن میں اردن اور بوسنیا میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ لائن آف کنٹرول کے فرائض انجام دینے کے علاوہ گلگت میں جنرل آفیسر کمانڈنگ تعینات رہے۔ جنرل ہیڈکوارٹرز میں بطور میجر جنرل انتہائی اہم آپریشنل ذمہ داریاں نبھائیں۔ گوجرانوالہ کور کمانڈر سے قبل انسپکٹر جنرل ٹریننگ اینڈ ایلویشن رہ چکے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق کور کمانڈر گوجرانوالہ کے ساتھ آج کل ناردرن لائٹ انفنٹری رجمنٹ کے کرنل کمانڈنگ کا اعزاز بھی رکھتے ہیں۔مجموعی طور پر فہرست میں 10 پوزیشن پر ہیں لیکن ان کا نام کی شمولیت کے بعد پانچ ناموں پر غور نہیں کیا جا رہا مگر دوڑ میں شامل ہونے والوں کی تعداد پانچ ہے۔ اگر انہیں آرمی چیف مقرر کیا جاتا ہے تو آزاد کشمیر سے تعلق رکھنے والے پہلے آرمی چیف ہونگے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل آزادکشمیر کے رہائشی جنرل عزیز خان چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی رہ چکے ہیں۔

وزیراعظم کو 5 نام پیش کر دئیے گئے …. ہلچل شروع

اسلام آباد (آن لائن) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ وزارت دفاع نے لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق سمیت 5سینئر جنرلز کے ناموں کی سمری وزیراعظم کو ارسال کردی ہیں۔ ترکمانستان سے وطن واپسی کے بعد وزیراعظم چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف اور آرمی چیف کے ناموں کا اعلان کرینگے۔ جمعہ کے روز خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 4سینئر جنرلز کے ناموں کے ساتھ کور کمانڈر گوجرانوالہ لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق نام سمیت 5سینئر جنرلز کے ناموں کی سمری وزیراعظم کو ارسال کردی گئی ہے۔ پانچوں لیفٹیننٹ جنرلز کے نام سنیارٹی کی بنیاد پر آگے بھیجے گئے ہیں، ان میں لیفٹیننٹ جنرل زبیر حیات، لیفٹیننٹ جنرل جاوید اقبال رمدے، لیفٹیننٹ جنرل قمر جاوید باجوہ، لیفٹیننٹ جنرل اشفاق ندیم اور لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق کا نام بھی زیر غور ہے۔ لیفٹیننٹ جنرل اکرام الحق کا نام سنیارٹی لسٹ میں پانچویں نمبر پر ہے۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ نئے آرمی چیف اور جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے ناموں کا فیصلہ وزیراعظم نواز شریف بیرون ملک سے واپس آ کر کریں گے۔

” شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہونے کے ناطے راحیل شریف پر بے پناہ دباﺅ تھا جو انہیں اپنا مقام بنانے میں معاون تھا “ معروف لکھاری ، دانشور ضیا شاہد اور دفاعی تجزیہ کار محمد مکرم خان کا مقبول کالم

شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہونے کے ناطے راحیل شریف کے اوپر بے پناہ دباﺅ تھا جو اُنہیں اپنا مقام بنانے میں معاون تھا۔ لیکن بیک وقت ودشوار ترین بھی۔بریگیڈیئر شوکت قادر ریٹائرڈ ماضی کے دریچوں میں جھانکتے ہوئے لکھتے ہیں۔ 1961ءمیں وہ سینٹ میریز پبلک سکول میں (راولپنڈی) میں زیر تعلیم تھے، شبیر شریف سکول کے آخری سال میں اُن کے سینئر تھے، روایتی حریف سکول کے خلاف شبیر شریف اپنے سکول کی ٹیم کے کپتان تھے اور شوکت قادر جونیئر کھلاڑی، روایتی حریفوں کے درمیان ہاکی میچ سینٹ میریز نے دو کے مقابلے میں تین گول سے جیت لیا لیکن حسب سابق میچ میں تُندی و تیزی کے علاوہ لڑائی جھگڑا بھی ہوا، شائقین میں ٹیم کیپٹن شبیر شریف کے والد میجر محمد شریف بھی موجود تھے جنہوں نے فاتح ٹیم کو اپنے گھر چائے کے لئے مدعو کیا۔ بیگم و میجر شریف کا حسن سلوک اور مہمان نوازی دیدنی تھی، اُس شام سینٹ میریز کی ہاکی ٹیم کے کھلاڑیوں کی ایک پانچ سالہ بچے سے ملاقات ہوئی جس کی دلچسپی بڑے بھائی کے ہم جماعتوں سے زیادہ تین پہیوں والی سائیکل میں تھی، اس کم سن بچے کا نام راحیل شریف تھا، شوکت قادر نے شبیر شریف سے چار برسوں بعد 6 ایف ایف رجمنٹ میں ہی کمیشن لیا جس میں آٹھ سال بعد راحیل شریف نے اِس بٹالین میں بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ قدم رکھا۔
جنرل راحیل شریف کے دورانِ تربیت اُن کے روم میٹ کرنل ریٹائرڈ حنیف بٹ راوی ہیں کہ جب اُن کے کورس نے اکتوبر 1974ءمیں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں قدم رکھا تو اُنہیں سیکنڈ پاکستان بٹالین کی بابر کمپنی میں بھیج دیا گیا پی ایم اے کی تربیت کے ابتدائی چند روز اِس قدر حیران کن اور چکرا دینے والے ہوتے ہیں کہ کیڈٹس کو سمجھ ہی نہیں آتی کہ ہو کیا رہا ہے۔ کچھ ایسی ہی کیفیت سے 54 لانگ کورس کی بابر پلٹون دوچار تھی۔ ابھی ایک دوسرے سے تفصیلی تعارف کی نوبت نہیں آئی تھی ، زیادہ تر کیڈٹس کا تعلق سول پس منظر سے ہوتا ہے لیکن عسکری خاندانوں کے چند کیڈٹس بھی کورس میں شامل تھے، ایک شریف النفس نظم و ضبط کا پابند بلکہ نیم تربیت یافتہ عاجز سے لمبے تڑنگے جینٹل مین کیڈٹ کا نام راحیل شریف تھا، کئی ہفتوں تک اُن کے دیگر کورس میٹس کو یہ معلوم ہی نہیں ہو سکا کہ وہ فاتح صبونہ شبیر شریف کے برادر خورد ہیں، پی ایم اے کی انتہائی دشوار گزار تربیت کا آغاز کچھ اتنا خوشگوار نہیں ہوتا، روز و شب کے معمول میں ”رگڑا“ بنیادی عنصر ہے، کرنل حنیف بٹ کے بقول راحیل شریف نے ”رگڑا“ بھی خوب کھایا، حالانکہ انسٹریکٹر افسروں اور نان کمیشنڈ افسروں کو ہی نہیںسینئر کیڈٹس کو بھی معلوم ہو گیا تھا کہ راحیل شریف شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں اور کیپٹن ممتاز شریف کے بعض دوست افسر پی ایم اے ہی میں تعینات تھے پی ایم اے کی تربیت کے دوران شب و روز کو پہیہ کم از کم نہیں لگتا، ہر دن دراز اور ہر شب طویل ہوتی چلی جاتی ہے درس و تدریس، جسمانی فٹنس کی تربیت، ملٹری ڈرل، چھوٹے ہتھیاروں کی سکھلائی اور نجانے کیا کیا شامل ہوتا ہے۔
پی ایم اے کی تربیت کا لازمی ایک جزو بے رحمانہ باکسنگ مقابلہ ہے جس میں جیت ہار کی اہمیت نہیں ہوتی بلکہ دیکھا یہ جاتا ہے کہ کون کیسے لڑا اور اس نے اپنے حریف کا سامنا کس طرح کیا، راحیل شریف کی حتمی زور آزمائی باکسنگ رِنگ میں اُن کا حریف کے تابڑ توڑ مکوں کا سامنا کرنا اور مکے رسید کرنا آج بھی اکتالیس سال گزرنے کے باوجود اُن کے ساتھیوں کے اذہان سے محو نہیں ہوا، معلوم نہیں کس کی جیت ہوئی یا ہار لیکن راحیل شریف اور اُن کے مدِّمقابل کی باکسنگ، باﺅٹ 54لانگ کورس کی یادگار پنجہ آزمائی تھی، عینی شاہدین کہتے ہیں کہ طویل القامت اور کسرتی جسم کے مالک راحیل شریف کے مدمقابل بھی کم نہیں تھے، ایک دوسرے پر دل کھول کر مکے برسانے کے باوجود راحیل شریف کی زیر لب مسکراہٹ ویسی ہی تھی جیسی آج دیکھی جاتی ہے۔ اُن کے چہرے کے تاثرات سے ایسا محسوس نہیں ہوا کہ اُن کے جبڑے ہل چکے ہیں اور کان سائیں سائیں کر رہے ہیں۔
راحیل شریف کی باکسنگ باﺅٹ کا تذکرہ کر ہی چکے ہیں ”یرموک‘’ نام کی ایک مشق صرف ”پانچ دن“ پر محیط ہوتی ہے جس میں باون کلو کے قریب سامان اور ذاتی ہتھیار یعنی رائفل یا لائٹ مشین گن سمیت کیڈٹس کو پانچ روز میں کوئی سوا سو میل کا سفر باپیادہ طے کرنا ہوتا ہے، جس کاآغاز ملٹری اکیڈمی کے مین گیٹ اور اختتام اُس سے ملحق گراﺅنڈ میں ہوتا ہَے، پانچ دن کی اِس جانگسل ایکسرسائز میں نالہ ڈور جِسے چھوٹا موٹا دریا کہنا مناسب ہو گا، بیچوں بیچ چلتے ہوئے ایبٹ آباد کی نواحی پہاڑی سربن ڈھاکہ کی چوٹی سے اتر کراونچی نیچی کھایوں سے گزرتے ہوئے پہلا پڑاﺅ حویلیاں ہوتا ہے، پہاڑوں، ندی، نالوں، کھیتوں، کھلیانوں، اونچی نیچی پہاڑیوںجو کاکول سے قریب 65 میل کے فاصلے پر واقع گھاٹیوں سے ہوتا ہوا حطار کے قریب پہنچ کر اختتام پذیر نہیں ہوتا….بلکہ یہ واپس اتنا ہی سفر کاکول اکیڈمی واپس آنے کے لئے طے کرنا ہوتا ہے جوکیڈٹس کی قوتِ برداشت کا شاید سب سے بڑا امتحان ہے، ایک پلٹون قریباً تیس کیڈٹس پر مشتمل ہوتی ہے جو تین سیکشن منقسم ہوتی ہے۔ ہر سیکشن کے نو کیڈٹ کے پاس ذاتی رائفل اور دسویں کیڈٹ کو مشین گن تھمائی جاتی ہے جس کا وزن قریباً دس کلو گرام سے زائد ہوتا ہے۔ مشین گن کی ساخت سے جو قارئین ناواقف ہوں اُن کے لئے یہ لکھنا ضروری ہے کہ لوہے کی اِس آہنی پُرزے کی ہئیت جسمانی طور پر مضبوط ترین کیڈٹ کو بھی تھکا دینے کے لئے کافی ہے۔
(جاری ہے)

”یرموک“ کی ابتداءسے اختتام تک پانچ روز مسلسل اور 125 میل کا فاصلہ راحیل شریف نے مشین گن کاندھے پر رکھ کرتن تنہا طے کیا، ویسے تو اِس طرح کے کردار ہر کورس میں موجود ہوتے ہیں لیکن ہائی لانگ کورس کے جن کیڈٹس نے یہ کارنامہ انجام دیا اُن میں راحیل شریف بھی شامل تھے، طلوع آفتاب سے شروع ہونے والا سفر بعض اوقات غروب آفتاب تک بھی جاری رہتا، آبلہ پا کیڈٹس کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ ٹیم پر سدا باون کلو گرام وزن تو ہر حال میں اُٹھاتا ہی ہے کسی طور ایل ایم جی سے جان چھوٹ جائے، جو کندھوں کے لئے الگ وبال جان سمجھی جاتی ہے۔ ایل ایم جی توجیسے راحیل شریف کے ساتھ چپک ہی گئی ہو البتہ دوپہر کے آرام میں بے اختیار اُن کے منہ سے نکل جاتا ”ایل ایم جی اُٹھانے کے لئے میں ہی رہ گیا ہوں“ لیکن پانچ روز مسلسل ایل ایم جی اُٹھانے کا ریکارڈ اپنے نام لکھوا لیا، ڈیڑھ سالہ تربیت کے بعد جسمانی طور پر مضبوط پی ایم اے کے کیڈٹس کے لئے ”پیرا ٹروپنگ“ یعنی ہوائی جہاز سے چھلانگیں لگانے والے کورس کے لئے منتخب ہوئے اکا دکا کیڈٹس کو چھوڑ کر قریباً سب کی خواہش ہوتی ہے کیونکہ وردی پر نیلا ونگ کے باعث کشش ہوتا ہے۔ محدود نشستوں کی وجہ سے قریباً تین چوتھائی کورس ہی پیرا ونگ حاصل کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔جس کے لئے اعلیٰ درجے کی فزیکل فٹنس لازم ہے۔ راحیل شریف اس میں کامیاب نہ رہے، ہائی لانگ کورس بحیثیت مجموعی ایم اے کی تاریخ کا ”پنگے باز کورس“ نہیں ہے، راحیل شریف کسی پنگے بازی میں براہ راست حصہ نہ لے کر ہی کورس کی مجمووعی سزا کے حقدار رہے۔ شرارتی کورس میٹس سے شکوہ کیا نہ کبھی ماتھے پر شکن آئی، دوسروں کے لئے کی سزا بھی خندہ پیشانی سے قبول کی۔

عسکری زندگی کے ابتدائی ایام سے ہی اُنہیں مضبوط کردار اور آہنی اعصاب کا مالک سمجھا جاتا ہے، فولادی عزم کے حامل راحیل شریف کو پی ایم اے کاکول سے اُن کے شہید برادر محترم کی 6 ایف ایف رجمنٹ میں سیکنڈ لیفٹیننٹ تعینات کیا گیا تو اُن کی عمر 20 برس سے چند ماہ ہی زیادہ تھی، درخشاں عسکری تاریخ کی حامل 6 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے نوجوان افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ راحیل شریف نے ابتدائی سروس میں پیشہ وارانہ کورسز امتیاز سے پاس کئے لیکن اُنہیں راحیل شریف سمجھنے کی بجائے شبیر شریف کا برادرخورد ہی سمجھا جاتا رہا، شبیر شریف کے علاوہ اُن کے دوسرے بڑے بھائی کیپٹن ممتاز شریف جنہوں نے بطور کیپٹن فوج سے بعض وجوہات کی بنا پرا ستعفیٰ دے دیا تھا، کا شمار بھی بہادر فوجی افسروں میں ہوتا تھا جنہیں ستارہ¿ بسالت کے اعزاز سے نوازا گیا۔ سیکنڈ لیفٹیننٹ راحیل شریف 6 ایف ایف رجمنٹ میں تعینات ہوئے تو یونٹ کا ہراول دستہ اندرون بلوچستان تین سال کی بلوچوں کی باغیانہ کارروائیوں کے خلاف پوری کر کے پشاور پہنچ رہا تھا، تین چوتھائی یونٹ اور کمانڈنگ آفیسر تین ماہ بعد پشاور پہنچے، اُن کے اولین کمپنی کمانڈر میجر شوکت قادر بعد ازاں بریگیڈیئر لکھتے ہیں۔
”میں میجر شبیر شریف کا سکول میں جونیئر تھا لیکن میرے اُن سے خاندانی مراسم تھے، اِس ناطے سے میں راحیل شریف کو دورِ کم سنی سے ہی جانتا تھا۔( تاہم میں راحیل شریف کو بطور سیکنڈ لیفٹیننٹ دیکھ کر ازحد حیران ہوا جو اپنے شہید بھائی سے بالکل متضاد تھے۔“

شبیر شریف جلد باز اور ’بلند‘ لہجے میں بات کرنے والے بھڑکیلے جارحانہ انداز کی حامل شخصیت اور خطرات کو ہمیشہ خود دعوت دیتے تھے۔ اُس کے برعکس راحیل شریف نرم خو، حد درجہ محنتی ہونے کے علاوہ مو¿دب اور بااخلاق، مصیبت کو کبھی گلے نہیں لگایا، لیکن شبیر شریف سے کم مو¿ثر نہیں تھے۔ شبیر شریف کی طرح ہی 6 فرنٹیئر فورس رجمنٹ کے جوانوں، سردار صاحبان اور افسروں میں یکساں مقبول جو اُن کی اس لئے بھی عزت و تکریم کرتے تھے کہ وہ شبیر شریف کے چھوٹے بھائی ہیں۔ راحیل شریف کو متضاد شخصیت کے باعث اپنا مقام پیدا کرنے میں دشواریوں کا سامنا تھا، لیکن اُنہوں نے اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھورا، عسکری پس منظر نہ سمجھنے والے قارئین کے لئے لکھا چاہ رہا ہوں کہ راحیل شریف کی رجمنٹ کے سپاہ کو اُن کی شکل میں شبیر شریف میسر تھے اور اُن سے ویسی ہی توقعات وابستہ تھیں، عام سپاہی عمومی طور پر جارحانہ رویہ پسند کرتے ہیں، راحیل شریف نے اپنے ملٹری دور کا آغاز انتہائی شاندار طریقے سے کیا اور ابتدائی چار سال سروس کے بعد گلگت میں موجود انفنٹری بریگیڈ کے گریڈ 3 آفیسر کے طور پر منتخب کیا جانا ازخود تابندہ اور روشن مستقبل کی ابتدا تھی اُن کی سالانہ کارکردگی کی رپورٹیں نہایت اعلیٰ اور پیشہ وارانہ کورسز میں کارکردگی ارفع تھی، جو اُن کی چالیس سالہ عسکری خدمات کا طرہ امتیاز رہا ہے۔ اُنہیں جرمنی میں کمپنی کمانڈر کورس کے لئے منتخب کیا گیا جو اُن کے لئے باعثِ اعزاز تھا۔

کراچی کا کیا بنے گا ؟

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک + آئی این پی) صدر ممنون حسین نے ایوان صدر میں الوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ہونے والی گفتگو کا احوال بتتا دیا، انہوں نے کہا کہ انہوں نے آرمی چیف سے کہا کہ آپ تو جا رہے ہیں کراچی میں آپریشن ابھی نامکمل ہے اس کا کیا بنے گا؟ جس پر جنرل راحیل شریف نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ کوئی بھی آپریشن منطقی انجام تک پہنچے بغیر ختم نہیں ہو ا۔ صدر نے جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج نے دیگر تمام قومی اداروں سے بھرپور ہم آہنگی کے ساتھ اندرونی اور بیرونی خطرات کا جرآت مندی سے مقابلہ کیا جس سے ان کے احترام اور قومی اعتماد میں اضافہ ہوا،آرمی چیف نے اپنے دور میں ریاست کے تمام اداروں کے ساتھ بھرپور ہم آہنگی سے چلنے کی روایت قائم کی،بہادری ، پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین نظم و ضبط پاک فوج کی شناخت ہے ۔ وہ جمعہ ایوان صدر میں آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے اعزاز میں دیئے گئے الوداعی عشائیے کی تقریب سے خطاب کررہے تھے جس میں ان کے علاوہ چیئرمین سینٹ، سروسز چیفس، ڈی جی آئی ایس آئی، وفاقی وزرا، پارلیمنٹیرینز اوردیگر نے شرکت کی۔ صدرمملکت نے آرمی چیف کو مدت ملازمت کی انتہائی کامیابی اور باوقار طریقے سے تکمیل پر مبارک باد دی۔ انہوں نے ملک میں دہشت گردی، انتہاپسندی اور بدامنی کے خاتمے کے لیے آرمی چیف کی قیادت میں نیشنل ایکشن پلان کے تحت مو¿ثر حکمت عملی کوسراہا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل راحیل شریف نے اپنے عرصہ قیادت میں پروفیشنل سولجر کی حیثیت سے ذمہ داریاں انجام دیں اور اپنے دور میں ریاست کے تمام اداروں کے ساتھ بھرپور ہم آہنگی سے چلنے کی روایت قائم کی۔ بہادری ، پیشہ ورانہ مہارت اور بہترین نظم و ضبط پاک فوج کی شناخت ہے اور جنرل راحیل شریف کے دور میں یہ شناخت مزید توانا ہوئی۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران اندرونی اور بیرونی خطرات سے جن سے جرات مندی سے نمٹا گیا صدر مملکت نے اس کی بھی تعریف کی۔ انہوں نے مزید کہا قومی ترقی اور عام آدمی کی بہبود کے لیے ریاست کے تمام اداروں کا یکسو ہونا احسن اور ناگزیر ہے اور ریاست کے امور میں عام آدمی کی بہبود اہمیت حاصل کر جائے تو اجتماعیت میں خود بخود بہتری پیدا ہو جاتی ہے۔ انہوں نے جنرل راحیل شریف کے بہتر مستقبل، صحت اور خاندان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے دعا کی۔ صدر ممنون حسین اور آرمی چیف کی ملاقات بھی ہوئی۔ آرمی چیف نے رہنمائی اور تعاون پر صدرمملکت کا شکریہ ادا کیا۔ تقریب میں شرکت کے لئے جب آرمی چیف ایوان صدر پہنچے تو صدر ممنون حسین نے خود کا خیر مقدم کیا اور ان سے مصافحہ کیا۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار ،وفاقی وزیر سیفران لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقادر بلوچ، وفاقی وزیر دفاعی پیداوار رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال ،مسلم لیگ (ن) کے سینیٹر عبدالقیوم ، مسلم لیگ (ق) کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین سید وزیر اعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل (ر)ناصر جنجوعہ اور دیگربھی موجود تھے جنہوں نے آرمی چیف سے مصافحہ کیا۔

پانی بند کرنے کی دھمکی کے بعد سرتاج عزیز کس منہ سے بھارت جا رہے ہیں ، نامور اخبار نویس ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی اور تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پارلیمنٹ میں ارکان اسمبلی کی حاضری ہی بتاتی ہے کہ یہ کتنے سنجیدہ لوگ ہیں میری تجویز ہے کہ ان کی تنخواہوں میں ڈبل ٹرپل مزید اضافہ کر دیا جائے شاید پھر ہی یہ پارلیمنٹ میں حاضر ہو جائیں۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے بیان سے قطعی متفق نہیں ہوں پاکستان کے عوام میں سخت تشویش پائی جاتی ہے وہ سمجھتے ہیں کہ پاکستان کو بھارت کے حملوں کا موثر جواب دینا چاہئے۔ بھارت ہماری پٹائی کر رہا ہے پانی تک بند کرنے کی دھمکیاں دے دیا ہے جبکہ ہمارے مشیر خارجہ ان باتوں کو معمول سمجھ کر صرف زبانی احتجاج یہ اکتفا کئے ہوئے ہیں قوم بھارت کے معاملے پر بڑی مضطرب ہے۔ وزارت خارجہ کے تمام افراد کو طاقت کے انجکشن لگانے کی ضرورت ہے تا کہ ان کی کمزور آواز میں ہی تھوڑی سختی اا جائے ورنہ ان کی من من سے کسی پر کیا خاک اثر ہو گا۔ پاکستان کی تاریخ میں ذوالفقار علی بھٹو جیسا دبنگ پرجوش اور پراعتماد وزیرخارجہ نہیں آیا۔ ہمارے وزارت خارجہ افسران کے منہ سے تو آواز تک نہیں نکلتی یہ لوگ بھارت کو ناراض نہیں کرنا چاہتے جبکہ بھارت پاکستان سے مذاکراتکیلئے تیار نہیں ہے سارک کانفرنس کا بائیکاٹ کیا اور ہمارے مشیر خارجہ ایک اجلاس میں شرکت کیلئے بھارت جا رہے ہیں۔ دیرینہ دشمن ہمارے بچوں خواتین کو مار رہا ہے۔ ایمبولینس اور بسوں پر حملے کر رہا ہے تو مشیر خارجہ کس منہ سے بھارت جا رہے ہیں، انہیں کیا حق حاصل ہے کہ ان حالات میں بھی بھارت جائیں وہ پہلے اپنے عوام کو تو جواب دیں۔ میرے نزدیک جب تک بھارت اپنی مذموم کارروائیاں بند نہیں کرتا اس وقت تک مشیر خارجہ کو بھارت جا کر مذاکرات کرنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ سینئر صحافی نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان دس ہزار بار بھی مذاکرات کر لیں بھارت کبھی بھی مسئلہ کشمیر اور پانی کے مسئلہ پر بات نہیں کرے گا۔ مجید نظامی مرحوم کہا کرتے تھے کہ مسئلہ کشمیر پر جنگ ہو یا نہ ہو پانی کے مسئلہ پر دونوں ملکوں میں جنگ ضرور ہو گی۔ میں نے سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر رکھی ہے جس میں عدالت سے استدعا کی گئی ہے کہ صوبوں کو پابند کیا جائے کہ وہ مل بیٹھ کر دریاﺅں پر ڈیم بنانے پر اتفاق کریں۔ خورشید قصوری کی بات سے اتفاق نہیں کرتا کہ مولا جٹ والی زبان استعمال نہیں کی جا سکتی اگر ایسی بات ہے تو جنرل راحیل شریف نے جو بھارت کو دلیرانہ جواب دیا ہے انہیں ایسا بیان دینے کی کیا ضرورت تھی۔ سینئر تجزیہ کار نے خواجہ سراﺅں پر پابندی کے سعودی حکومت کے فیصلے کو غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر کوئی پیدائشی طور پر خواجہ سرا ہے تو اس میں اس کا کیا قصور ہے۔ سعودی حکومت اس بنیاد پر کہ کسی شخص میں جسمانی طور پر کوئی کمی ہے کو سعودیہ جانے اور حج و عمرہ کی سعادت سے نہیں روک سکتی اور وہ ایسا کر بھی نہیں سکے گی۔ سابق وزیرخارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ مودی کے بیان پر کہوں گا کہ ”کیا پدی اور کیا پدی کا شوربہ“ انتہائی فضول اور مضحکہ خیز بیان دیا۔ اتنے بڑے ملک کے سربراہ کا ایسی گھٹیا گفتگو کرنا افسوسناک ہے۔ مودی یو پی اور پنجاب کے الیکشن جیتنے کیلئے اپنے عوام کو ورغلا رہا ہے۔ ایک بات حتمی ہے کہ مسئلہ کشمیر پر جنگ ہو نہ ہو پانی پر جنگ ضرور ہو گی۔ امریکی سینٹ نے بھی یہ بات کہی ہے۔ مودی بھارتی عوام کی اکثریت کی ترجمانی نہیں کرتا۔ پاکستان اور بھارت ایٹمی طاقتیں ہیں جنگ کی صورت میں کوئی ایک نہیں بچے گا۔ خورشید قصوری نے کہا کہ بھارت کبھی بھی جنگ نہیں کرے گا کیونکہ اس صورت میں مسئلہ کشمیر عالمی مسئلہ بن کر ابھرے گا جو بھارت کسی صورت نہیں چاہے گا۔ پانی کے مسئلہ پر تو دو رائے ہو ہی نہیں سکتی کیونکہ یہ زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اور کوئی مرنا نہیں چاہتا۔ پاکستان اور بھارت میں بات چیت صرف برابری کی سطح پر ہو سکتی ہے۔ وزارت خارجہ وہی بات کرتی ہے جو اوپر سے ہدایت آتی ہے۔ خارجہ افسران صرف اس ڈپلومیٹک زبان میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ فارن منسٹری زومعنی بات کرنے کی ماہر ہوتی ہے کیونکہ اسے پتہ ہوتا ہے کہ اس کے سننے والے فارن آفسز ہی ہیں۔ سخت بات ضرور کی جاتی ہے لیکن مولا جٹ والی زبان استعمال نہیں کی جا سکتی۔ ترجمان دفتر خارجہ نفیس زکریا نے کہا کہ بھارت کے خلاف سفارتی محاذپر مکمل طور پر سرگرم ہیں۔ ایل او سی اور ورکنگ باﺅنڈری پر بھرپور جوبی کارروائیاں جاری ہیں۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری اپنے ظلم و ستم پر پردہ ڈالنے کیلئے ایسی حرکتیں کر رہا ہے۔ وہ ہمیں الجھانا چاہتا ہے ہمیں بھارت کے اصل مقاصد کو سمجھنا ہو گا تبھی ہم اس پر دباﺅ ڈال سکیں گے۔ ہمیں دیکھنا ہو گا کہ کشمیر کے مسئلہ پر دنیا بھر میں آوازیں اٹھ رہی ہیں کہیں ایسا تو نہیں کہ بھارت عالمی برادری کو پوچھ گچھ کے ڈر سے اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔ بھارت کو تمام مظالم کا حساب دینا ہو گا۔ سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہو گی۔ بھارت اتنا طاقتور نہیں ہے کہ جو چاہے کرتا پھرے اور کوئی پوچھنے والا نہ ہو۔ پاکستان کی عوام بالکل بھی خوفزدہ نہیں ہے۔ خطے میں بڑی تبدیلیاں آ رہی ہیں پاکستان ٹھیک سمت بڑھ رہا ہے۔ ہم پر کسی قسم کا بیرونی دباﺅ نہیں ہے۔