All posts by Khabrain News

اسٹیٹ بینک کی خودمختاری پاکستان کی بقا پر حملہ

پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے۔ آج تک جمہوریت کے ٹھیکے داروں میں سے کبھی کسی نے پاکستان کو ترقی یافتہ صف میں لانے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ تو بس ایک دوسرے کی خامیاں نکالنے میں ہی وقت پورا کر دیتے ہیں۔ اسمبلی ہو یا ٹی وی ٹاک شو، ہر جگہ ایک دوسرے کو صرف چور چور کہنے کی ہی آوازیں سنائی دے رہی ہوتی ہیں۔

کسی بھی ملک میں اسٹیٹ بینک ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر ایک انسان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جائے تو وہ اپاہج ہوجاتا ہے، اسی طرح اسٹیٹ بینک کو گروی رکھ دیا جائے تو ملک اپاہج ہوجائے گا۔

جب قائداعظم محمد علی جناح نے اسٹیٹ بینک کی بنیاد رکھی تو اُس وقت انہوں نے فرمایا تھا اسٹیٹ بینک ہماری قومی خودمختاری کی علامت ہے اور ہم اس پر کبھی کمپرومائز نہیں کریں گے۔

آئی ایم ایف کی سخت شرائط میں سے ایک سنگین شرط جو پوری کی جارہی ہے وہ اسٹیٹ بینک ترمیمی ایکٹ 2021 ہے، جس میں حکومت پاکستان کی خودمختاری کو گروی رکھ رہی ہے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان ترمیمی ایکٹ دو ہزار اکیس کے اس مسودے میں کیا کیا ہے؟ اگر ایسا ہوا تو اُس کے حکومت پاکستان پر اور عوام پر کیا اثرات ہوں گے؟ کیونکہ اگر حکومت آئی ایم ایف کی شرط مان لے گی تو پھر اسٹیٹ بینک حکومت پاکستان کے تحت کام نہیں کرے گا بلکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان آئی ایم ایف کے انڈر کام کرے گا۔

اسٹیٹ بینک کے موجودہ قانون کے مطابق اب کنڈیشن کیا ہے اور جب وہ آئی ایم ایف کے انڈر چلا جائے گا پھر وہ کیسے پاکستان کے ساتھ ٹریٹ کرے گا؟ پاکستان کو جب بھی کسی جگہ پر پیسے کی ضرورت پڑتی ہے یا کوئی پروجیکٹ یا ترقیاتی کام شروع کرنے ہوتے ہیں یا ہمارے ایم پی ایز یا ایم این ایز کو جو ترقیاتی فنڈز جاری ہوتے ہیں، وہ فنڈز بھی اسٹیٹ بینک سے ملتے ہیں اور اُس کی منظوری وزیراعظم اپنے دستخط کے ساتھ دیتے ہیں اور اسٹیٹ بینک پابند ہوتا ہے فنڈز دینے کا۔ مگر جب یہ آئی ایم ایف کے انڈر جائے گا تو پھر وزیراعظم کی بھی بات نہیں سنے گا۔ پھر وہ ڈائریکٹر آئی ایم ایف سے ڈائریکشن لے گا۔ اگر ڈائریکٹر فنڈ کا کہے گا تو فنڈ جاری ہوگا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کوئی پیسہ ادھار نہیں دے گا۔ وہ اُدھار بھی تب ہی دے گا جب اُس کی ڈائریکشن آئی یم ایف دے گا اور وہ بھی ایک خاص مدت کےلیے۔

اس میں ایک نکتہ نہایت خوفناک ہے جس کو بالکل ہائی لائٹ نہیں کیا جارہا، وہ یہ جب اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذخائر مائنس میں جانے لگے یا جاچکے ہوں گے تو حکومت پاکستان اس مائنس شدہ رقم کو فوری طور پر اسٹیٹ بینک کو جمع کروانے کی پابند ہوگی۔

میں نے یہاں خوفناک کا لفظ اس لیے استعمال کیا کیونکہ اُس کنڈیشن میں حکومت پاکستان کو پرائیویٹ بینکوں سے زیادہ سود پر قرض لے کر اسٹیٹ بینک کو دینا پڑے گا تاکہ اسٹیٹ بینک مائنس سے نکل جائے۔ اُس کنڈیشن میں اسٹیٹ بینک کو روپے دینے کےلیے حکومت پاکستان کو کمرشل بینکوں سے مہنگے قرضے لینے پڑیں گے اور 80 فیصد سے زائد بینکنگ سیکٹر غیر ملکیوں کے ہاتھ میں ہیں۔ ایک طرف حکومت قرض اُتارنے پر لگی ہوگی اور دوسری طرف حکومت مزید قرض لینے پر مجبور ہوگی۔ اُن شرائط میں سے ایک شق گورنر اسٹیٹ بینک کی مدت ملازمت آئی ایم ایف کی شرائط کے مطابق 5 سال ہوگی، اس دوران وزیراعظم پاکستان بھی اسے ہٹا نہیں سکیں گے۔ اس وقت حکومت پاکستان چاہ رہی ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک کو ہٹانے کا اختیار صدر پاکستان کے پاس چلا جائے۔ لیکن وہ بھی ان کو اپنی مرضی سے ہٹا نہیں سکیں گے۔ وی بھی صرف اُس صورت میں کوئی فیصلہ لے سکتے ہیں یا برطرف کرسکیں گے اگر اُس پر الزامات سنگین قسم کے ہوں۔

اسٹیٹ بینک اور اس میں کام کرنے والے کسی بھی قسم کی جوابدہی سے بالاتر ہوں گے۔ ایف بی آر، نیب سمیت دیگر کوئی بھی ادارہ اسٹیٹ بینک کے معاملات یا اسٹیٹ بینک سے کسی بھی طرح کی رپورٹ مانگنا تو دور کی بات، کسی بھی طرح کے سوال جواب نہیں کرسکے گا۔ اسٹیٹ بینک میں داخلی احتساب کا نظام ہوگا، نیب اُس میں دخل نہیں دے گی۔ موجودہ قانون کے مطابق دیہی علاقوں، صنعتی شعبوں، ہاؤسنگ اور دوسرے شعبوں کےلیے اسٹیٹ بینک کا قرض دینا لازمی ہے، مگر ترامیم کے بعد ان تمام کاموں کےلیے اسٹیٹ بینک سے قرض دینے کا سلسلہ منقطع ہوجائے گا۔

حکومت یہ راگ الاپ رہی ہے کہ کورونا کے بعد مہنگائی کے اثرات عالمی سطح پر پڑے ہیں۔ مان لیا ہم نے کہ مہنگائی بوجہ کورونا ہے۔ اب تھوڑا جائزہ لیجئے کہ ترقی یافتہ ممالک نے کورونا کے بعد کیا کیا۔ آپ امریکا کی ہی مثال لے لیجیے۔ کورونا آیا تو امریکا نے بھی 30 فیصد بلاسود قرض 20 سال کےلیے انڈسٹری کےلیے دیا، تاکہ انڈسٹری اپنے پاؤں پر کھڑی رہ سکے۔ مگر ہمارے پاکستان میں لنگر خانے، پناہ گاہیں، احساس پروگرام پر زور دیا گیا۔ ان پر بے دریغ پیسوں کا ضیاع کیا گیا۔

موازنہ کیجیے ترقی یافتہ ممالک کی پالیسی اور ایک ہمارے ملک کے فیصلے، تو کیسے ملک ترقی کرسکتا ہے؟ حکومت پاکستان اسٹیٹ بینک کے بغیر چل ہی نہیں سکتی۔ سرکاری محکموں کی تنخواہوں کا بڑا حصہ اسٹیٹ بینک کی طرف سے آتا ہی۔ اب اگر کسی اسٹیج پر اسٹیٹ بینک تنخواہوں کےلیے رقم نہیں دیتا تو حکومت پاکستان کو سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کےلیے پرائیویٹ بینکوں سے قرض لینا پڑے گا۔

مزید سب سے اہم اور خطرناک بات کہ موجودہ قانون کے تحت حکومت پاکستان اسٹیٹ بینک کو حکم دیتی ہے کہ اتنے ارب چھاپنے ہیں اور وہ نوٹ چھاپ دیتے ہیں۔ مگر پھر یہ کرنسی آئی ایم ایف کے کہنے پر چھپے گی۔ پاکستانی حکمرانوں سمیت پاکستانی قوم اتنی بے بس ہوجائے گی جس کا آپ کو ابھی اندازہ نہیں ہوگا۔

’اومیکرون‘ کا پھیلاؤ: ’گریمی ایوارڈز‘ کی تقریب ملتوی

امریکا میں کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ کے پھیلاؤ کے بعد موسیقی کے لیے دیے جانے والے دنیا کے اعلیٰ ترین ’گریمی ایوارڈز‘ کی تقریب کو نامعلوم مدت تک ملتوی کردیا گیا۔

’گریمی ایوارڈز‘ کی تقریب رواں ماہ 31 جنوری کو امریکی ریاست کیلی فورنیا کے شہر لاس اینجلس میں ہونی تھی مگر کورونا کے پھیلاؤ کے بعد اسے ملتوی کردیا گیا۔

گریمی ایوارڈز‘ کی انتظامیہ اور مذکورہ شو کے نشریاتی حقوق رکھنے والے ٹی وی چینل ’سی بی ایس‘ نے 5 جنوری کو ایوارڈز ملتوی کرنے کی تصدیق کی۔

انتظامیہ نے ’گریمی ایوارڈز‘ کو ملتوی کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی تقریب کی نئی تاریخ کا اعلان کیا جائے گا۔

انتظامیہ نے ’گریمی ایوارڈز‘ کی نامزدگیوں کا اعلان 23 نومبر 2021 کو کرتے ہوئے تقریب کا انعقاد 31 جنوری 2022 کو کرنے کی تصدیق کی تھی۔

موسیقی کے اعلیٰ ترین ایوارڈز کی تقریب کو ملتوی کرنے کا اعلان ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب کہ دو دن قبل ہی امریکا میں پہلی بار 10 لاکھ سے زائد کورونا کے نئے کیسز سامنے آئے تھے۔

امریکا میں جہاں 10 لاکھ سے زائد نئے کورونا کیسز ریکارڈ ہوئے تھے، وہیں پہلی بار نئی قسم ’اومیکرون‘ کے بھی توقعات سے زیادہ کیسز سامنے آئے تھے۔

رواں برس کی طرح گزشتہ برس بھی کورونا کے باعث گریمی ایوارڈز کی تقریب کو دو ماہ کے لیے ملتوی کیا گیا تھا اور جنوری کے بجائے مارچ میں تقریب منعقد کی گئی تھی۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ اس سال بھی ’گریمی ایوارڈز‘ کی تقریب ممکنہ طور پر مارچ میں ہی منعقد کی جائے گی، تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔

اس سال ’گریمی ایوارڈز‘ کے لیے مجموعی طور پر 86 کیٹیگریز میں نامزدگیوں کا اعلان کیا گیا تھا اور پہلی بار پاکستانی گلوکارہ آفتاب عروج کو بھی دو نامزدگیاں ملی تھیں۔

سب سے زیادہ 11 نامزدگیاں امریکی ریپر، گلوکار 35 سالہ جان باٹسٹ کو ملی تھیں جب کہ کینیڈین نژاد گلوکار جسٹن بیبر، گلوکارہ ڈوجا کیٹ اور گلوکارہ ’ہر‘ نے ترتیب وار آٹھ آٹھ نامزدگیاں حاصل کی تھیں۔

امریکی گلوکارہ بلی آئلش اور اولیویا رودریگو نے ترتیب وار سات سات نامزدگیاں ملی تھیں اور حیران کن طور پر جنوبی کورین بینڈ ’بی ٹی ایس‘ نے صرف ایک نامزدگی حاصل کی تھی۔

امریکی ارب پتی گلوکار جے زی تین نامزدگیاں حاصل کرنے کے بعد اب تک ’گریمی‘ نامزدگیاں حاصل کرنے والے دنیا کے پہلے گلوکار، ریپر و موسیقار بھی بنے تھے، ان کی نامزدگیوں کی تعداد 83 ہوچکی ہے۔

عالمی برادری کشمیر میں بھارتی مظالم کے خاتمے میں مدد کرے، پاکستان

پاکستان نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کو فوری طور پر مجبور کرے کہ وہ کشمیری عوام پر اپنے مظالم بند کرے اور 5 اگست 2019 سے نافذ یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے اور مقبوضہ علاقے میں نسل کشی کے مترادف آباد کاری منصوبے کو فوری روکے۔

 اقوام متحدہ میں پاکستانی سفیر منیر اکرم نے یوم حق استصواب رائے کے موقع پر ایک پیغام میں عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں اور اداروں سے کشمیر میں بھارتی جرائم کا ادراک کرنے کی اپیل کی۔

5 جنوری 1949 کو اقوام متحدہ کے کمیشن برائے پاکستان اور بھارت نے ایک تاریخی قرارداد منظور کی تھی جس میں اقوام متحدہ کی زیر نگرانی مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک آزاد اور غیر جانبدار استصواب رائے کا مطالبہ کیا تھا۔

اقوام متحدہ کو اس مسئلے پر اس کی اپنی قراردادوں پر عمل در آمد کی ضرورت کا احساس دلانے کے لیے پاکستانی اور کشمیری عوام لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کی دونوں جانب اور دنیا بھر میں 5 جنوری کو یوم استصواب رائے کے طور پر مناتے ہیں۔

نیویارک سے جاری اپنے ایک بیان میں منیر اکرم نے کہا کہ اقوام متحدہ، خاص طور پر سلامتی کونسل پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام سے اپنا 73 سال قبل کیا گیا وعدہ پورا کرے۔

انہوں نے کہا کہ اس کے ساتھ عالمی برادری کو یقینی بنانا چاہیے کہ بھارت کے خلاف بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور جرائم پر کارروائی کی جائے اور ان جرائم کے ذمہ داروں کو لازمی جواب دہ ٹھہرایا جائے۔

پاکستانی سفیر نے نشاندہی کی کہ بھارت کی انتہا پسند ہندوتوا حکومت نے مقبوضہ کشمیر میں تقریباً 9 لاکھ فوجی تعینات کیے ہیں جو وادی میں کرفیو اور مواصلاتی بندش، کشمیری سیاسی رہنماؤں کی گرفتاری اور ہزاروں کشمیری نوجوانوں کی غیر قانونی حراست کے ظالمانہ راج کے ذمہ دار ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قابض فوج ماورائے عدالت قتل، پرامن کشمیری مظاہرین پر بدترین تشدد جس میں پیلٹ گن جو کئی چھوٹے بچوں کو اندھا بھی کرچکی ہیں، ان کا استعمال بھی شامل ہے اور مجموعی سزا کے طور پر پوری آبادیوں اور دیہاتوں کو منہدم کرنے جیسے جرائم میں ملوث ہے۔

منیر اکرم نے اقوام متحدہ کی رکن ریاستوں کو بھارت کے ہندوتوا رہنماؤں کو کشمیر میں اپنے نام نہاد ’آخری حل‘ کو روکنے کے لیے اپنے فرض سے آگاہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارت اپنی اس پالیسی کے تحت عالمی سطح پر تسلیم شدہ متنازع ریاست کی مستقل آبادی کے تناسب کو بدلنے کی کوشش کر رہا ہے۔

واضح رہے کہ مسلم اکثریتی علاقے کو ہندو اکثریتی علاقے میں بدلنے کے لیے بھارت 5 اگست 2019 سے اب تک لاکھوں جعلی ڈومیسائل جاری کر چکا ہے۔

یہ تمام اقدامات جنیوا کنونشن سمیت عالمی انسانی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہیں۔

‘ماں سے جو محبت اور خدمت شعیب اختر نے کی ہے وہ بے مثال ہے’

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق فاسٹ بولر شعیب اختر کے حوالے سے معروف اداکار سہیل احمد نے دلچسپ قصہ سنایا۔

شعیب اختر کی والدہ کا انتقال 26 دسمبر 2021 کو ہوا جس کی اطلاع کرکٹر نے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کے ذریعے دی۔

شعیب اختر کی والدہ کے انتقال کے بعد سہیل احمد نے نجی ٹی وی کے ایک شو میں کرکٹر کی ان کی ماں کے لیے لازوال محبت کے بارے میں بتایا۔

سہیل احمد نے کہا کہ میں شعیب کو ذاتی طور پر جانتا ہوں، میرا ان کے گھر دو سے تین مرتبہ آنا جانا ہوا ہے، میں یہ بات جوان نسل کو بتانا چاہتا ہوں کہ عملی طور پر جس طرح ماں سے محبت اور خدمت شعیب اختر نے کی ہے وہ بے مثال ہے۔

 ‘ماں کی خدمت کی ایک مثال دیتا چلوں جو ایک مرتبہ ثقلین مشتاق نے سنائی تھی’

انہوں نے کہا کہ ماں کی خدمت کی ایک مثال دیتا چلوں جو ایک مرتبہ ثقلین مشتاق نے سنائی تھی، انہوں نے بتایا تھا کہ انگلینڈ میں میچز ہورہے تھے تو شعیب ہمیں وہاں چھوڑ کر ماں کو آٹا دینے آگیا تھا۔

سہیل احمد نے کہا کہ یہ لوگ کوئی دو آٹے مِلا کر کھاتے تھے جو شعیب ہی لاکر دیتا تھا، فون پر باتوں کے دوران ان کی والدہ نے کہہ دیا کہ آٹا ختم ہوگیا ہے، تو وہ میچ چھوڑ کر آٹا دینے آگیا۔

اداکار نے کہا کہ شعیب نے ماں سے محبت کے صرف دعوے نہیں کیے بلکہ حقیقی عشق کیا وہ ماں کا تابعدار بچہ تھا۔

آسٹریلیا نے نمبر ون ٹینس اسٹار جوکوچ کا ویزا منسوخ کردیا، ڈی پورٹ کرنے کافیصلہ

 آسٹریلیا نےکورونا کے سخت قوانین کو پورا نہ کرنے پر عالمی نمبر ایک ٹینس کھلاڑی نوواک جوکووچ کا ویز ا منسوخ کرکے انہیں ڈی پورٹ کرنےکا فیصلہ کرلیا ۔ 

برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کے مطابق نوواک جوکووچ  آسٹریلین اوپن میں شرکت کیلئے بدھ کو میلبرن پہنچے تو ائیر پورٹ حکام نے سربین ٹینس اسٹار کو ویکسین سے استثنیٰ اور غلط ویزا کی بنیاد پر داخلے سے روک دیا۔

جوکووچ کو ویکسینیشن قوانین سے مستثنیٰ ہونے کے بعد آسٹریلین اوپن میں کھیلنا تھا لیکن ان کی ٹیم نے ویزے کی درخواست نہیں کی تھی جو ویکسین نہ لگوانے پر طبی چھوٹ کی اجازت دیتا ہے۔

ٹینس اسٹار سے میلبرن ٹولامیرین ائیر پورٹ کے ایک کمرے میں ویزےکی حیثیت اور استثنیٰ کے ثبوت کے بارے میں 8 گھنٹے پوچھ گچھ کی گئی تاہم کافی دیر انتظار کےبعد آسٹریلوی حکام نے ان کا ویزا منسوخ کردیا ہے۔

واضح رہے کہ آسٹریلین اوپن میں شرکت کرنے والے تمام کھلاڑیوں اور عملے کیلئے ویکسینیٹڈ ہوناضروری ہے یا پھر ان کے پاس کسی آزاد پینل کے ذریعے استثنیٰ ہو۔

آسٹریلوی بارڈر فورس کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ  جوکووچ  آسٹریلیا میں داخلے کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے مناسب ثبوت فراہم کرنے میں ناکام رہے  اس لیے  ان کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ جن غیر ملکیوں کے پاس داخلے کیلئے جائز ویزا نہیں ہے یا جن کا ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے انہیں حراست میں لے کر آسٹریلیا سے نکال دیا جائے گا۔

 واضح نہیں ہے نوواک جوکووچ آسٹریلیا میں رہیں گے  یا نہیں البتہ ان کے وکلاء نے فیصلے کے خلاف اپیل کردی ہے۔

آسٹریلوی وزیر اعظم اسکاٹ موریسن کا کہنا ہے کہ قانون ، قانون ہے  خاص طور پر جب ہماری سرحدوں کی بات آتی ہے، کوئی بھی ان قواعد سے بالاتر نہیں ہے۔

دوسری جانب  سربیا کے صدر آسٹریلیا پر برس پڑے اور ٹینس اسٹار کے ساتھ ناروا سلو ک کی مذمت کرتے ہوئے جوکووچ سے فون پر کہا کہ پورا سربیا آپ کے ساتھ ہے ۔ دنیا کے بہترین کھلاڑی کے ساتھ نا روا سلوک کا معاملہ اٹھانے کے اقدامات کررہے ہیں  ،عالمی قوانین کے تحت جوکووچ کو انصاف دلانے کے لیے لڑیں گے۔

بھارتی وزیر اعظم ’ناقص سیکیورٹی‘ کے باعث پھنس گئے

بھارتی وزیر اعظم نریندرا مودی مشرقی پنجاب میں احتجاج کے باعث 20 منٹ تک فلائی اوور پر پھنسے رہے، جیسے ناقص سیکیورٹی قرار دیا جارہا ہے۔

 برطانوی نشریاتی ادارے ’بی بی سی‘ کا کہنا ہے کہ نریندر مودی شمالی ریاست میں یاد گار جارہے تھے تب کسان مظاہرین نے سڑک کو بلاک کردیا۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ وہ وزیر جس کے بیٹے پر کسانوں کے قتل کا الزام ہے، عہدے سے مستعفی ہوجائے۔

وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا کہ’ یہ وزیر اعظم کی ناقص سیکیورٹی کا اہم واقعہ ہے‘۔

اس موقع پر فیروز پور میں الیکشن ریلی سے نریندر مودی کا خطاب بھی شیڈول تھا۔

تاہم وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ ناقص سیکیورٹی کے باعث وزیر اعظم نے واپس ائیرپورٹ جانے کا فیصلہ کیا۔

مظاہرین نے مطالبہ کیا ہے کہ جونئیر وزیر داخلہ اجے میشرا اپنے عہدے سے مستعفی ہوں کیونکہ ان کے بیٹے پر اکتوبر میں ہونے والے ایک واقعہ میں ملوث ہونے کا الزام ہے، جس میں 8 افرادہلاک ہوئےتھے۔

اتر پردیش میں ہونے والے کسانوں کے احتجاج میں ایک کار نے 4 افراد کو کچل دیا تھا، یہ کار اجے مشیرا کی ہے، کسانوں کا الزام ہے کہ حملے میں پیچھے اجے میشرا کا بیٹا آشیش میشرا ہے، لیکن میشرا خاندان نے الزامات کی تردید کی ہے۔

نیب ترمیمی آرڈیننس کے باعث 100 سے زائد ہائی پروفائل کیسز لٹک گئے

اسلام آباد (نئیر وحید راوت /کرائم رپورٹر) زمہ دار ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ احتساب کے نئے قانون کے نافذ ہونے کے باعث کونسا مقدمہ اپنی حیثیت کے مطابق ایف آئی اے کے پاس جائینگے اور کونسے مقدمات کو نیب دیکھے گا کا تاحال فیصلہ نا ہونے کے باعث سو سے زائد انتہائی ہائی پروفائل کیسز لٹک کہ رہ گئے ہیں جس کا تمام “بڑوں ” کو فائدہ مل جائے گا ذرائع نے بتایا ہے کہ ان کیسز، انوسٹی گیشنز اور انکوائریوں کو نئے قانون کے مطابق کس کو سونپا جانا ہے تاحال فیصلہ نہیں ہو سکا ابتدائی معلومات کے مطابق 332 ہائی پروفائل یا میگا کیسز نیب کے ریجنل دفاتر میں زیر تفتیش ہیں یہ کیسز سابق صدر، 6 سابق وزرائے اعظم، 8 سابقہ اور موجودہ وزرائے اعلیٰ، 126 سابق اور موجودہ وزراء، سینیٹرز، ارکان پارلیمنٹ، ارکان صوبائی اسمبلی، 159 سابقہ اور موجودہ بیوروکریٹس کیخلاف اور جعلی اکاﺅنٹس کے کیسز ہیں۔ نیب کے مطابق 1273 جاری ریفرنسز میں تقریباً 1300 ارب روپے کی خورد برد کرنے کا الزام ہے۔ نیب انتظامیہ نے اپنے ریجنل دفاتر سے کہا ہے کہ فی الحال کارروائی کو روک دیا جائے تاوقتیکہ وزارت قانون و انصاف (ایم ایل جے) نئے آرڈیننس کے حوالے سے اپنی تشریح پیش کرے۔کہ یہ مقدمات قابل دست اندازی نیب ہیں یا یہ ایف آئی اے کے حوالے ہونگے یہ نیا پنڈورہ بکس نیبآرڈیننس 1999ء میں ترمیم کے بعد کھلا ہے جو تاحال پینڈڈنگ پڑا ہوا ہے جس میں خصوصی طور پر نیب قانون کے ان حصوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے جن میں لکھا ہے کہ اس آرڈیننس کی شقیں مندرجہ ذیل افراد یا ٹرانزیکشن (لین دین)، تمام وفاقی تحقیقاتی ادارے کے زمہ میں لایا جا رہا ہے نیب کی جانب سے اپنے ریجنل دفاتر کو لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ تمام معاملات پر فیصلے کو فی الحال معطل رکھا جائے گا تاوقتیکہ وزارت قانون کی طرف سے کوئی احکامات نہ مل جائے۔ نئے ترمیمی قانون کے سیکشن چار اور چند دیگر سیکشنز کی وجہ سے خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی کے کیسز پر اثرات مرتب ہوں گے اسی طرح خواجہ آصف اور ان کے اہل خانہ کیخلاف کیس کا اہم حصہ بھی نئے ترمیمی قانون کے دائرے میں آئے گا۔ نیب نے خواجہ آصف پر غیر قانونی نجی ہاﺅسنگ اسکیم ”کینٹ ویو ہاﺅسنگ سوسائٹی“ بنانے کا الزام عائد کیا تھا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے لیڈر علیم خان کو پارک ویو ہاﺅسنگ اسکیم اور ریور ایج ہاﺅسنگ سوسائٹی کے معاملات پر کارروائی کا سامنا تھا۔ نئے قانون کے تحت سابق وزیراعلیٰ شہباز شریف کا کیس بھی توجہ کا مرکز بن سکتا ہے سابق صدر آصف علی زرداری کیخلاف نیو یارک کے فلیٹ کے حوالے سے نیب کا ریفرنس بھی انکم ٹیکس کا معاملہ ہے اور اسے الیکشن کمیشن اور ایف بی آر کے پاس بھیجا جا سکتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ مرادعلی شاہ کیخلاف پاور پلانٹ کی تعمیر کے معاملے میں قواعد و ضوابط کی خلاف ورزی کا الزام ہے۔ یہ معاملہ بھی نئے قانون کے دائرے میں آتا ہے۔ اسی طرح بلاول زرداری کا معاملہ ہے جن پر ایک کمپنی پارک لین اسٹیٹس کے ذریعے ایک شخص سے زمین خریدنے کا الزام ہے۔ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کیخلاف اختیارات کے ناجائز استعمال کا کیس ہے کہ انہوں نے لاہور گیٹ وے پروجیکٹ اپنے من پسند ٹھیکے دار کو دیدیا۔ اسی طرح سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کیخلاف نیب انوسٹی گیشن ہے کہ انہوں نے غیر قانونی انداز سے تشہیری مہم چلائی۔ نیب حفیظ شیخ کیخلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ انہوں نے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو 11.125 ملین ڈالرز کا نقصان پہنچایا۔ نیب پرویز خٹک کیخلاف بھی تحقیقات کر رہا ہے کہ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ہری پور کے قیام کیلئے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا۔ سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی پر ایل این جی کیس میں اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے شفاف تنازع نہیں احسن اقبال کا کیس بھی اسی قانون کے دائرے میں آنے کا امکان ہے۔ اسی طرح شوکت ترین کا بھی ایک کیس ہے کہ انہوں نے رینٹل پاور پروجیکٹس میں رقوم جاری کرکے اختیارات کا غلط استعمال کیا۔ کیسز کے ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ کئی لوگوں کو ذرائع سے زیادہ آمدنی کے کیسز کا سامنا ہے جو نئے قانون کے دائرے میں نہیں آتے۔ نئے قانون کی روشنی میں 5462 شکایات جو مختلف ریجنل دفاتر میں پراسیس ہو رہی ہیں، انہیں ایف بی آر، اے سی ای، ایف آئی اے، ایس بی پی اور صوبائی محکموں کو بھیجا جا سکتا ہے۔ فی الوقت 2036 شکایات سکھر، 152 ملتان، 1345 راولپنڈی، 42 بلوچستان، 217 کے پی، 1482 کراچی اور 188 نیب کے لاہور ریجنل آفس میں زیر تفتیش ہیں۔ تاہم، نیب کا پراسیکوشن ونگ وزارت قانون سے ایڈوائس موصول ہونے کے بعد تمام کیسز کی ایک حتمی فہرست مرتب کرے گا۔

اسرائیلی حملوں میں 71بچوں سمیت 313فلسطینی شہید

اسرائیل کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں سال 2021ء کے دوران 313 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ صہیونی ریاست نے درجنوں مکانات مسمار کرکے 900 سے زائد فلسطینیوں کو بے گھر کردیا۔

انسانی حقوق کی ایک اسرائیلی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیل ن گزشتہ سال 300 سے زیادہ فلسطینیوں کو شہید کیا، جو 2014ء کے بعد سے ایک سال میں فلسطینیوں کی سب سے زیادہ شہادتیں ہیں، اس دوران مارا جانیوالا ہر پانچواں شخص بچہ تھا۔

منگل کو جاری رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے دوران اسرائیلی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے ’مہلک، غیراخلاقی اور کھلے عام فائرنگ کی پالیسی‘ کے استعمال کے نتیجے میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں 71 بچوں سمیت 313 فلسطینی شہید ہوئے۔

رپورٹ کے مطابق ان شہادتوں میں سے 70 فیصد افراد حماس سے مئی میں ہونے والی جنگ کے دوران مارے گئے، کئی روز تک جاری رہنے والی اس کشیدگی کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں بھی 77 فلسطینی شہید ہوئے تھے۔

انڈیپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق بی تسیلم نامی فلاحی ادارے نے بتایا ہے کہ 2021ء میں تقریباً 900 فلسطینیوں کو بے گھر کردیا گیا، اسرائیل کی جانب سے اس سال فلسطینیوں کے گھروں کی مسماری 5 سال کی بلند ترین سطح پر رہی۔

تنظیم نے یہ بھی کہا کہ اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے اور مشرقی بیت المقدس میں سینکڑوں رہائشی مکانات کو مسمار کئے جانے کے بعد گذشتہ سال 895 فلسطینی، جن میں 463 بچے بھی شامل ہیں، بے گھر ہو گئے۔ یہ 2016 کے بعد فلسطینیوں کے مسمار کیے گئے مکانات کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔

واضح رہے کہ عام طور پر اسرائیل عمارتوں کے اجازت ناموں کی عدم موجودگی کا حوالہ دیتے ہوئے باقاعدگی سے فلسطینیوں کے مکانات مسمار کرتا ہے تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کے لیے یہ اجازت نامے حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہے چاہے یہ تعمیر ان کی ذاتی ملکیتی زمین پر ہی کیوں نہ کی گئی ہو کیوں کہ اجازت ناموں کے بغیر تعمیر کرنے کے علاوہ  ان کے پاس کوئی چارہ نہیں بچتا۔

بی تسیلم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 14مئی 2021ء مقبوضہ مغربی کنارے میں 2002ء کے بعد سب سے ہلاکت خیز دن تھا جس میں 13 فلسطینی جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس جرم میں اسرائیلی آباد کار بھی شامل تھے۔

گروپ کے مطابق پچھلے سال یہودی آبادکاروں کی جانب سے فلسطینیوں پر تشدد میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، 2021ء میں ایسے 336 واقعات کی تحقیق کی گئی جبکہ 2020ء میں ان واقعات کی تعداد 251 تھی۔

پاک فوج کی نواز شریف سے کسی بھی ڈیل کی تردید، ڈیل کی خبروں کو بے بنیاد قرار دیدیا

راولپنڈی: پاک فوج نے نواز شریف سے کسی بھی ڈیل کی تردید کردی، ڈیل کی خبروں کو بے بنیاد اور قیاس آرائیاں قرار دے دیا۔

ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز ( ڈی جی آئی ایس پی آر) میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ اگر کوئی ڈیل کی بات کررہا ہے تو اسی سے پوچھیں کہ کون ڈیل کررہا ہے،  ڈیل کے شواہد کیا ہیں، کیا محرکات ہیں؟ ایسی کوئی چیز نہیں  یہ بے بنیاد باتیں ہیں، اس معاملے  پر جتنی کم بحث کی جائے اتنا ہی ملک کے مفاد میں بہتر ہے۔

ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں، مسلح افواج حکومت کے احکامات کے تحت کام کرتی ہیں، ٹی وی پروگرامز میں کہا جاتا ہے اسٹیبلشمنٹ نے یہ کردیا  وہ کردیا ، اسٹیبلشمنٹ کو اس بحث سے باہر رکھیں۔

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم نوازشریف سے ڈیل سے متعلق سوال پر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ ’یہ سب قیاس آرائیاں ہیں، اگر کوئی اس طرح کی ڈیل کی بات کرتا ہے تو اسی سے بات کریں کہ کون ڈیل کررہا ہے ؟ اس کے محرکات کیا ہیں؟ ایسی کوئی چیز نہیں، کوئی ایسی بات کرتا ہے تو اس کی تفصیلات اس سے ہی پوچھیں، ڈیل کی باتیں بے بنیاد ہیں، اس پر جتنی کم بحث کی جائے اتنا ملک کے مفاد میں اچھا ہے‘۔

ڈی جی آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ’کچھ عرصے سے پاکستان کے مختلف اداروں کے خلاف منظم مہم چلائی جارہی ہے جس کا مقصد حکومت، عوام اور اداروں کےدرمیان خلیج پیدا کرنا اور اداروں پر عوام کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا ہے، ایسی تمام سرگرمیوں سے نہ صرف آگاہ ہیں بلکہ ان کے لنکس سے بھی آگاہ ہیں، یہ لوگ پہلے بھی ناکام ہوئے اب بھی ناکام ہوں گے‘۔

ترجمان نے مزید کہا کہ شام کوپروگرامزمیں کہا جاتا ہےکہ اسٹیبلشمنٹ نے یہ کردیا وہ کردیا، سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، اسٹیبلشمنٹ کو اس مسئلے سے باہر رکھیں۔

شیخ رشید کا فواد چوہدری کو مشورہ، اپنی چوتھی کتاب سے متعلق وصیت بھی کردی

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے وزیر اطلاعات فواد چوہدری کو میڈیا سے لڑائی نہ کرنے کا مشورہ  دیا ہے۔

اپنے بیان میں شیخ رشید نے کہا کہ فواد چوہدری پڑوسی بھی ہیں، ان کو ہمیشہ کہتا ہوں میڈیا سے بنا کر رکھیں، لڑائی جھگڑا نہ کریں کیونکہ آج کی سیاست میڈیا کے بغیر ممکن نہیں۔

اسلام آباد میں شیخ رشید کی کتاب “لال حویلی سے اقوام متحدہ تک “ کی تقریب رونمائی ہوئی— فوٹو: شیخ رشید

اسلام آباد میں شیخ رشید کی کتاب “لال حویلی سے اقوام متحدہ تک “ کی تقریب رونمائی ہوئی۔

تقریب میں وفاقی وزیر اعجاز شاہ، فواد چوہدری، غیر ملکی سفیر اور دیگرشخصیات شریک ہوئیں۔ چینی سفیر بھی وزیر داخلہ شیخ رشید کی کتاب کی تقریب رونمائی میں موجود تھے۔

شیخ رشید نے تقریب سے خطاب میں کہا کہ لال حویلی کے باہر  بچپن میں کتابیں بیچتا تھا ، ہماری حکومت کے دو تین کام تاریخی ہیں لیکن مناسب طریقے سے پیش نہیں کرسکے ، معیشت کورونا کے باعث شدید بحران کا شکار تھی جسے سنبھالا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ملک الیکشن کی طرف جارہا ہے، عنقریب پنجاب میں بلدیاتی انتخابات ہورہے ہیں۔

شیخ رشید نے اعتراف کیا کہ حقیقت ہے کہ ہم انہیں عدالتوں سے سزا نہیں دلواسکے جو دیدہ دانستہ بدعنوان تھے۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا کہ اگر اپوزیشن نے غلطی کی تو ملکی سیاست مشکل کا شکار ہو سکتی ہے۔

تقریب سے خطاب میں شیخ رشید نے وصیت کی کہ  میری چوتھی کتاب میرے مرنے کے 5 سال بعد شائع کی جائے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر اسد عمر نے اپنے خطاب میں کہا کہ  شیخ رشید ہماری سیاست میں ایک منفرد شخصیت ہیں، شیخ صاحب کے تجربے سے ہمیں کابینہ میں بہت فائدہ ہوتا ہے۔

تقریب سے خطاب میں فواد چوہدری نے کہا کہ شیخ رشید کو پہلی بار جیل میرے تایا نے پہنچایا تھا ، شیخ صاحب میرے تایا چوہدری شہباز کے دوست بن گئے۔

اس پر شیخ رشید نے کہا کہ نہیں میں پہلے بھی جیل جا چکا تھا مجھے سنگین سزا انہوں نے دی تھی۔

شیخ رشید نے کہا کہ فواد زبردست آدمی ہیں ان سے یہ کہتا ہوں کہ میڈیا سے لڑنا نہیں چاہیے، یقین دلاتاہوں عمران خان کیساتھ آئے ہیں اور عمران خان کے ساتھ جائیں گے۔