یونس خان نے ریٹارمنٹ واپس لینے کا عندیہ دیدیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے بلے باز یونس خان کا کہنا ہے کہ وہ ٹیم کو ضرورت پڑنے اور درخواست کرنے کی صورت میں ریٹائرمنٹ واپس لینے کو تیار ہیں۔کرکٹ آسٹریلیا ڈاٹ کام کو ایک انٹرویو میں یونس خان کا کہنا تھا کہ ‘میں مزید کرکٹ کھیل سکتا ہوں لیکن میرے خیال میں ریٹائر ہونے کا بہتر وقت وہی ہے جب لوگ آپ کو مزید کھیلتا دیکھنا چاہتے ہوں نہ کہ وہ سمجھ رہے ہوں کہ آپ کو جانا چاہیے’۔سابق کپتان نے کہا کہ ‘میرے خیال میں کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا یہ ایک اچھا وقت ہے’۔خیال رہے کہ یونس خان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹیسٹ سیریز کے لیے روانگی سے قبل کراچی میں باقاعدہ طور پر رواں سیریز کے بعد بین الاقوامی کرکٹ سے کنارہ کشی کا اعلان کیا تھا۔

‘آصف زرداری کا ٹرائل بھی ملٹری کورٹ میں ہونا چاہیئے’

فیصل آباد(ویب ڈیسک) وزیر مملکت برائے پانی و بجلی عابد شیر علی نے پاکستان میں ساری برائیوں کی جڑ پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو قرار دیتے ہوئے ان کا نام ایگرٹ کنٹرول لسٹ (ای سی ایل) میں شامل کرنے اور لیاری گینگ وار کے سرغنہ عزیر بلوچ کے انکشافات پر ان کا ٹرائل ملٹری کورٹ میں کرنے کا مطالبہ کردیا۔فیصل آباد میں میڈیا سے گفتگو کے دوران سیاسی مخالفین کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عابد شیر علی کا کہنا تھا کہ ‘عزیربلوچ نے آصف زرداری کے کہنے پر لوگوں کو قتل کیا، 1ہزار 13 قتل کا الزام ان کے سر جانا چاہیئے’۔سابق صدر زرداری کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کا منشور اداروں کو تباہ کرنا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ سندھ کے سابق وزیر داخلہ ذوالفقار مرزا کے انکشافات پر بھی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) بننی چاہیے۔گذشتہ روز جھنگ میں جلسے سے آصف زرداری کے خطاب پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ‘حاجیوں کے پیسے کھانے والے ہمیں اخلاقیات کا درس دیتے ہیں جبکہ خود ان کا مائنڈ سیٹ ہمیشہ سے قتل وغارت کا رہا ہے’۔وزیر مملکت نے کہا کہ ‘ہمیں لانڈھی جیل کا سبق نہ دیں، لانڈھی جیل میں آصف زرداری جیسے ظالم، ملک دشمن عناصر اور لوٹ مار کرنے والے لوگ جائیں گے، ہم پر مفت کی روٹیاں کھانے کی باتیں کی جاتی ہیں جبکہ سب سے بڑے لٹیرے آصف زرداری خود ہیں، وہ مسٹر 10 پرسنٹ نہیں مسٹر 1000 پرسنٹ ہیں‘۔

سکول فیس کے پیسے نہیں تو بھیڑ بکری دے دو ، نیا قانون نافذ

ہرارے (خصوصی رپورٹ) زمبابوے کی حکومت کا کہنا ہے کہ جن والدین کے پاس اپنے بچوں کے سکول کی فیس دینے کے پیسے نہ ہوں وہ بدلے میں بھیڑ،بکری جیسے مویشی بھی متعلقہ سکولوں کو پیش کر سکتے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق زمبابوے کے وزیر تعلیم لیزاروس دکورا نے حکومتی حامی اخبار سنڈے میل کو بتایا کہ ٹیوشن فیس وصول کرنے میں سکولوں کو والدین کے ساتھ نرمی برتنا چاہیے اور انھیں نہ صرف مویشی قبول کرنے چاہیں بلکہ اس کے بدلے میں ان سے خدمات بھی حاصل کی جا سکتی ہیں۔اخبار نے ان کا ایک بیان نقل کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ اگر کمیونٹی میں کوئی معمار ہے، تو ٹیوشن فیس ادا کرنے کے عوض میں اسے وہ کام کرنے کا موقع بھی دیا جانا چاہیے۔سنڈے میل کے مطابق بعض سکول پہلے ہی سے فیس کے بدلے مویشی لینے پر عمل کر رہے ہیں۔حکومت نے گذشتہ ہفتے پارلیمان میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت بینکوں کے قرضوں کی واپسی بھیڑ، بکری اور دیگر مویشیوں کے ذریعے کرنے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد سکول کی فیس ادا کرنے کے لیے بھی اس کی اجازت دی گئی۔ایک مقامی اخبار کے مطابق زمبابوے میں نقدی کا بحران پیدا ہونے کی وجہ سے عام طور پر لوگوں کو کیش کے لیے بینکوں کے باہر گھنٹوں قطاروں میں کھڑے رہنا پڑتا ہے۔

قومی سلیکشن کمیٹی نے قومی سکواڈکے انتخاب کےلئے سرجوڑلیے

لاہور(آئی این پی)پی سی بی سلیکشن کمیٹی نے چیمپئنز ٹرافی کی 15رکنی ٹیم سے کامران اکمل اورمحمد اصغر کو ڈراپ کرنے کا فیصلہ کرلیا جبکہ عمر اکمل اور حارث سہیل میں سے ایک کا انتخاب ہوگا،حتمی سکواڈ کا اعلان آج متوقع ہے۔منی ورلڈ کپ کے نام سے مشہور چیمپئنز ٹرافی کی ٹیم منتخب کرنے کے لئے قومی سلیکشن کمیٹی نے سر جوڑ لئے،سلیکٹرز نے پاکستان کپ پر نظریں جما لیں، کامران اکمل اور محمد اصغر کو ڈراپ کر دیا گیا ہے،عمر اکمل اور حارث سہیل میں سے ایک کا انتخاب ہوگا۔آل راو¿نڈر عامر یامین بھی امیدواروں میں شامل ہیں، وہاب ریاض،محمد عامر ،حسن علی اور جنید خان پر مشتمل باو¿لنگ اٹیک کی شمولیت یقینی ہے،سرفراز احمد ،بابر اعظم،احمد شہزاد، شاداب خان اورشعیب ملک بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے،حتمی سکواڈ کا اعلان (آج)ہفتہ کو متوقع ہے۔

ویمنز ورلڈ کپ کیلئے پاکستانی سکواڈ کا اعلان

لاہور(آئی این پی )پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی ویمنز سلیکشن کمیٹی نے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کے لئے قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا ، ثناءمیر کو قومی ویمنز ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے، آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ24جون سے انگلینڈ میں شروع ہوگا ، قومی ویمنز کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ سے قبل 20جون کو ویسٹ انڈیز اور 22جون کو آسٹریلیا کے خلاف وارم اپ میچز بھی کھیلے گی ۔ جمعہ کو ترجمان پی سی بی کے مطابق پاکستان کرکٹ بورڈ کی ویمنز سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین محمد الیاس نے آئی سی سی ویمنز ورلڈ کپ کے لئے قومی ویمنز کرکٹ ٹیم کا اعلان کردیا ، ثناءمیر کو قومی ویمنز ٹیم کا کپتان مقرر کیا گیا ہے۔ ٹیم میں دیگر کھلاڑیوں میں عائشہ ظفر، بی بی ناہیدہ ، مارینہ اقبال ، بسمہ معروف، جویریا خان ، سیدہ نین فاطمہ عابدی ،سدرہ نواز(وکٹ کیپر)، کائنات امتیاز، اسماویہ اقبال کھوکھر، دیانا بیگ، وحیدہ اختر، نشرہ سندھو، غلام فاطمہ اور سعدیہ یوسف شامل ہیں جبکہ ٹورنامنٹ کے دوران عاشہ اشعر کو ٹیم منیجر مقرر کیا گیا ہے ، صبیع اظہر ہیڈ کوچ ، ابرار احمد ٹرینر، محمد زبیر احمد ویڈیو اینالسٹ اور شاہد انور بیٹنگ کوچ کی ذمہ داریاں سرانجام دیں گے ۔

لاہورمیں کھیلوں کے آباد میدان اجڑنے لگے

لاہور (سپورٹس رپورٹر)لاہور میں بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظر کھیل کے میدان میں بھی کمی نظر آتی ہے۔ 2 دھائی قبل لاہور کو کھیلوں کا گڑھ سمجھا جاتا تھا لیکن جیسے جیسے وقت گزرتا گیا کھیل کے میدان خستہ حال ہوتے گئے۔ کھیل کے وہ قدیم میدان جو کسی وقت میں نوجوانوں کی نگاہ کا مرکز ہوتے تھے اور آج یہ عالم ہے کہ ان میدانوں میں چند لوگ ہی کھیلتے دکھائی دیتے ہیں۔ روزنامہ خبریں کے خصوصی سروے کے مطابق صوبہ پنجاب کے دل لاہور میں کھیل کے میدانوں کی تعداد میں کمی دکھائی دی ہے۔ لاہور میں شائقین کرکٹ کا رجحان کھیلوں کی بجائے دوسری سرگرمیوں کی طرف بڑھتا جارہا ہے۔ خستہ حال کرکٹ کے میدانوں میں ریلوے گریفن گراونڈ ، بابا گراونڈ، ریلوے سٹیڈیم سرفہرست ہیں جبکہ منٹو پارک اور اولڈ ہیلے سپورٹس کمپلکس جیسے بڑے کھیل کے میدان مسمار کردیے گئے ۔۔یہ وہ کھیل کے میدان ہیں جہاں عمران خان، وسیم اکرم ، وقار یونس ، انضمام الحق ، محمد یوسف جیسے کئی لیجنڈ کرکٹر کھیل کر قومی ٹیم کا حصہ بنے اور ملک کا نام روشن کیا ۔حکومت پنجاب کی جانب سے ان میدانوں کی خستہ حالی کا نوٹس لیا جا چکا ہے اور جو میدان مسمار کیے گئے ان کی جگہ نئے کھیل کے میدان اور سپورٹس کمپلیکس بنانے کا اعلان کیا گیا ہے جن میں سے لاہور سمیت سات شہروں میں کرکٹ کے سٹیڈیم بنا دیے گئے ہیں اور تیس سے زائد سٹیڈیم زیر تعمیر ہیں جن کی تعمیر مکمل کر کے جلد ہی نوجونوں کے استعمال میں لایا جائے گا ۔ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت نئے سٹیڈیم اور سپورٹس کمپلکس تعمیرکرنے کیلئے اقدامات تو کررہی ہے لیکن جو سٹیڈیم خستہ حال ہیں وہ بھی جلد ٹھیک کیے جائیں تاکہ نوجوان نسل دوسری سرگرمیوں کی بجائے کھیلوں پر توجہ دے سکے۔کرکٹ کے علاوہ دیگر کھیلوں کو بھی زیر غور لانا چاہئیے ۔ ہمارے ملک میں وسائل کی کمی ہے لیکن ٹیلنٹ کی نہیں ۔ سوال کے جواب میں ایک نوجوان کا کہنا تھا کہ آخری یوتھ فیسٹیول بہت شاندار تھا جس سے پاکستان میں نوجوان نسل کو ٹیلنٹ دکھانے کا موقع ملا تھا ، اسی طرح کے فیسٹیول کا انعقاد دوبارہ ہونا چاہیئے تاکہ پاکستان مزید ریکارڈ اپنے نام کر سکے ۔ 2016 میں کھیلوں کی ترقی اور فروغ کےلئے حکومت نے بہت کام کیے اور اس سال بھی حکومت کی جانب سے کھیلوں کوفروغ دیا جارہا ہے ۔ امید ہے کہ کھی کے میدان دوبارہ سے آباد ہوں گے اور نوجوان اس میں کھیل کر پاکستان کو سوخرو کریں گے ۔ خستہ حال گراونڈکی نتظامیہ نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ حکومت پاکستان اور صوبائی حکومت کی جانب سے کھیلوں کی ترقی کیلئے فنڈز جاری کیے گئے ہیں جس سے گراونڈ میں معیاری سہولیات فراہم کی جائیں گی۔ کئی سالوں پہلے یہاں کھیلنے کے لیے جگہ نہیں ملتی تھی ۔ شام کے وقت یہ میدان کھچا کھچ بھرے ہوتے تھے اور آج صبح سے شام تک یہ ویران اور بنجر میدان کی مانند نظر آتے ہیں ۔کھیل کے یہ میدان اب دوسرے کاموں جیسا کہ پارکنگ ، اتوار بازار کیلئے استعمال ہورہے ہیں ۔

بیروزگار نوجوانوں کیلئے وزیر اعلیٰ کا بڑا اعلان

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو چکا ہے اور 4 برس کے دوران اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا گیا ہے جبکہ فلاح عامہ کے اربوں روپے کے منصوبوں پر دن رات کام ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں میں شفافیت ، معیار اور رفتار کو یقینی بنایا گیا ہے اور ماضی کی حکومتوں کے مقابلے میں مسلم لیگ (ن) کا ہرمنصوبہ شفافیت اور رفتار کا شاہکار ہے اور مخالفین بھی ہمارے منصوبوں پر انگلی نہیں اٹھا سکتے۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد نوازشریف کی قیادت میں پاکستان کی ترقی اور عوام کی خوشحالی کا پروگرام مکمل کریں گے۔وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے ان خیالات کا اظہار آج یہاں مسلم لیگ (ن) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف سے یورپین پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ ڈیوڈمیک الیسٹر(Mr.David McAllister )کی قیادت میں وفدنے ملاقات کی-پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر جین فرانکوس کوٹین (Mr.Jean Francois Cautain )کے علاوہ یورپی پارلیمنٹ کے اراکین بھی اس موقع پر موجود تھے- ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور ،پاکستان اور یورپی یونین کے مابین تعلقات کے فروغ کے لئے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا-وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان او ریورپی یونین کے ممالک کے مابین انتہائی دوستانہ اور معاشی تعلقات موجود ہیں-یورپی یونین پاکستان کاایک بڑا تجارتی پارٹنر ہے -پاکستان کو جی ایس پی پلس کا درجہ دلانے کےلئے یورپی ممالک کی سپورٹ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اوریورپی یونین کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتے ہیں اوران تعلقات میں بہتری سے عوام کو فائدہ پہنچے گا- انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت نے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنا کر850ملین ڈالر کی بچت کی ہے اور شفافیت ہماری حکومت کی طرہ امتیاز ہے جس کی بنا پر آج پنجاب میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہواہے -انہو ںنے کہاکہ پاکستان دہشت گردی کے چیلنج کا بہادری کےساتھ سامنا کر رہاہے -دہشت گردی کے باعث پاکستانی معیشت کو نا قابل تلافی نقصان پہنچا ہے -انہوں نے کہا کہ سیاسی وعسکری قیادت کے اتفاق رائے سے کئے گئے فیصلوں کے باعث دہشت گردی کے خلاف جنگ میں شاندار کامیابیاں ملی ہیں اور آج پاکستان امن کی جانب گامزن ہے-دہشت گردوں او ر ا ن کے سہولت کاروں کو شکست دےنے کے لئے پوری قوم متحد ہے-انہوں نے کہا کہ معاشی ترقی کا براہ راست تعلق امن کے ساتھ جڑا ہوا ہے – دہشت گردی و انتہا پسندی کے خاتمے کے لئے بندوق کی گولی کے ساتھ سماجی و معاشی اقدامات کی گولیاں بھی ضروری ہے اوراسی لئے حکومت سماجی و معاشی اقدامات کے ذرےعے دہشت گردی و انتہا پسندی کے مائنڈ سیٹ کے خاتمہ کے لئے کاوشیں کررہی ہے اور دہشت گردی او رانتہاءپسندی کے مائنڈ سیٹ کو بھی شکست دیں گے-انہوں نے کہاکہ پنجاب حکومت نے اس ناسور کے خاتمے کےلئے خصوصی طو رپر انسداد دہشت گردی فورس بنائی ہے جس سے انتہائی پیشہ وارانہ انداز میں تربیت دی گئی ہے او ریہ فورس دہشت گردی کے خاتمے کے لئے ہر اول دستے کے طو رپر کام کررہی ہے – انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت نے اینٹوں کے بھٹوں سے چائلڈ لیبر کا خاتمہ کردیاہے اوراینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے 85ہزار بچوں کو سکولوں میں داخل کرایا گیاہے -ان بچوں کو مفت تعلیم کےساتھ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جارہاہے -انہوں نے کہا کہ جن بچوں کے ہاتھ گرد آلود تھے اب ان معصوم ہاتھو ںمیں قلم اور کتاب ہے-انہوں نے کہا کہ ورکشاپوں، ریسٹورنٹس او رپٹرول پمپوں سے بھی چائلڈ لیبر کا خاتمہ کریں گے-پنجاب حکومت کے اقدامات کے باعث سکولوں میں بچوں کی شرح داخلہ میں اضافہ ہواہے -2018ءتک ہر بچے کو سکول داخل کرانے کا ہدف مقرر کیا گیاہے- انہو ںنے کہا کہ توانائی بحران کے خاتمے کے لئے کئے جانے والے اقدامات بارآور ثابت ہوئے ہیں-آج ہزاروں میگا واٹ کے توانائی منصوبوں پر دن رات کام جاری ہے اورکئی منصوبے تکمیل کے آخری مراحل میں ہیں-2017ءکے آخر میں توانائی منصوبوں کی تکمیل سے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ہوگا اور2018ءکے اوائل میں پاکستان کے پاس سرپلس بجلی ہوگی-انہوں نے کہا کہ پاکستان اس سفر کی جانب گامزن ہے جس کا خواب قائدؒ او راقبالؒ نے دیکھا تھا-اس ملک میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کی کوئی گنجائش نہیں۔ تحمل ،برداشت ، بھائی چارے اور رواداری پر مبنی پاکستان ہماری منزل ہے۔ پاکستان جلد اپنا کھویا ہوا مقام پائے گا۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا، 3 گھنٹے طویل جاری رہنے والے اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال، سیف سٹی پراجیکٹ لاہور کے منصوبے پر پیش رفت اور 6 بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ پنجاب حکومت نے عوام کے جان و مال کے تحفظ کیلئے موثر اقدامات کئے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ امن عامہ کی فضا کو بہتر سے بہتر بنانے کیلئے ہر ضروری اقدام اٹھایا جائے اور پولیس جرائم پیشہ افراد کی سرکوبی کیلئے جانفشانی سے فرائض سرانجام دے اور جرائم پیشہ افراد کے خلاف تسلسل کے ساتھ بلاامتیاز کارروائی جاری رکھی جائے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے امن عامہ کو بہتر بنانے کیلئے پہلے بھی پیٹ کاٹ کر وسائل دیئے ہیں اور آئندہ بھی دیں گے۔ انہو ںنے کہا کہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کی مدد سے شہروں کو محفوظ بنانے کے مربوط پروگرام پر عملدرآمد کیا جا رہا ہے اور اس ضمن میں پنجاب سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا گیا ہے، اس منصوبے کا براہ راست تعلق امن عامہ کی صورتحال کو بہتر بنانے سے ہے لہٰذا لاہور میں سیف سٹی پراجیکٹ پر کام کی رفتار کو مزید تیز کیا جائے اور یہ منصوبہ مقرر کردہ مدت میں مکمل ہونا چاہیئے جبکہ دیگر 6 شہروں میں بھی منصوبوں پر کام کے امور جلد طے کئے جائیں اور کابینہ کمیٹی برائے امن و امان اس ضمن میں از خود فیصلے کرکے اقدامات کرے۔ وزیراعلیٰ نے 6 شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس کے امور کو آگے بڑھانے کیلئے کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی۔ انہو ںنے کہا کہ جرائم اور دہشت گردی کے سدباب کیلئے پنجاب سیف سٹی پراجیکٹس کلیدی اہمیت کے حامل ہیں۔ ان منصوبوں پر انفرادیت اور جدت کو مدنظر رکھ کر پیشہ ورانہ انداز میں کام کرنا ہے۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں اورنج کیب سکیم کے اجراءاور ادائیگیوں کا ڈیجیٹل نظام شروع کرنے کیلئے تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہاکہ کمیٹی دونوں پروگراموں کے بارے میں آئندہ چند روز میں حتمی تجاویز پیش کرے گی۔ وزیراعلی محمد شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اورنج کیب سکیم کا اجراءرواں برس کیا جائے گااوراس سکیم کے تحت ایک لاکھ گاڑیاں بیروزگار نوجوانوں کو آسان شرائط پر دی جائیں گی جس سے ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اورہزاروں خاندانوں کے 6لاکھ افراد مستفید ہوںگے اور اورنج کیب سکیم سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے اپنا روزگار سکیم کے تحت نوجوانوں کو 50 ہزار گاڑیاں فراہم کی ہیں۔اپنا روزگار سکیم سے بیروزگار نوجوانوں کو باعزت روزگار ملا ہے اورروزگار ملنے سے ہزاروں خاندانوں کی سماجی حالت بہتر ہوئی ہے،اسی طرح ییلو کیب سکیم بھی سود مند ثابت ہوئی -حکومت نے دونوں سکیموں پر اربوں روپے کی سرمایہ کاری کی ہے ۔وزیراعلی نے ہدایت کی کہ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز کو فروغ دینے کیلئے تجاویز پیش کی جائیں۔انہوں نے کہاکہ روزگار کے مواقع بڑھانے کیلئے اٹھائے گئے اقدامات بارآور ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ چھوٹے کاشتکاروں کو رعایتی نرخوں پر ٹریکٹرز کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا جائے۔ انہوں نے کہاکہ سٹیٹ آف دی آرٹ ڈرائیونگ سکول وقت کی ضرورت ہے اور اس جانب تیزی سے اقدامات کئے جائیں۔وزیراعلی نے کہاکہ اپنا روزگار سکیم کامیاب رہی ہے، اس سکیم کو عوام میں بہت پذیرائی ملی ہے اور اس سکیم کے تحت ریکوری کا عمل سوفیصد ہے۔انہوں نے کہاکہ ییلوکیب اور اپنا روزگار سکیم کے تحت اربوں روپے کی سرمایہ کاری کے ثمرات عوام کو مل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے صوبے میں ای ۔گورننس اور شفافیت کے کلچر کو فروغ دیا ہے۔ ترقیاتی منصوبوں میں معیار، شفافیت کو یقینی بنایا گیا ہے- ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام سے کرپشن کا خاتمہ ہوگا اور عوام کو سہولت ملے گی۔ڈیجیٹل ادائیگیوں کے نظام کے تحت ای کارڈز کے ذریعے صارفین کو مختلف سروسز ملیں گی۔اس جدید نظام سے فراڈ اور جعلسازی کا خاتمہ ہوگا۔ڈیجیٹل نظام کے ذریعے کسانوں کو ریلیف کی فراہمی اور قدرتی آفات سے پہنچنے والے نقصان کے ازالے کیلئے ادائیگیوں کے نظام میں بہتری آئے گی۔ وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے ورلڈ ارتھ ڈے کے موقع پر اپنے پیغام مےں کہا ہے کہ زمےن ہم سے محبت کا تقاضا کرتی ہے اورپانی، پہاڑ، جنگلات، ہریالی اور صحرا کو اصل روح کے ساتھ قائم رکھنا ہی زمین سے محبت کا نام ہے۔ انہوںنے کہا کہ ورلڈ ارتھ ڈے منانے کا مقصد ماحولیاتی آلودگی سے زمین کو پہنچنے والے نقصان کے بارے آگہی پھیلانا ہے۔ ورلڈ ارتھ ڈے کی علامتی تحریک کا اصل مقصد عوام میں اپنے ماحول سے دوستی کا شعور اجاگر کرنا ہے۔انہوںنے کہا کہ ورلڈ ارتھ ڈے ہمیں ماحولیات کو تباہ ہونے سے بچانے کیلئے مشترکہ کوششوں کی ذمہ داری کا احساس دلاتا ہے۔ماحولیاتی آلودگی اور موسمی تبدیلیاں ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آئی ہیں۔عالمی درجہ حرارت میں اضافہ نہ صرف تشویشناک ہے بلکہ یہ ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔انہوںنے کہا کہ زمین ہمارے پاس آنے والی نسلوں کی امانت ہے لیکن ماحولیاتی آلودگی کے باعث یہ اپنی بقا کے حوالے سے خدشات کا شکار ہے۔ بہتر معیار زندگی کیلئے قدرتی ماحول پر اثر انداز ہونے والے عوامل پر قابو پانا ہوگا۔انہوںنے کہا کہ کرہ ارض کی حفاظت کےلئے اقدامات، ماحولیاتی آلودگی سے بچاﺅ کےلئے تدابیر اور موسمی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کےلئے حکمت عملی حکومتی ترجیحات میں شامل ہے۔انہوںنے کہا کہ آج ہم سب کو زمین کو درپیش خطرات سے محفوظ رکھنے کیلئے آواز بلند کرنا ہے۔ہمیں انفرادی اور اجتماعی سطح پرزمےن کو ماحولیا تی آلودگی سے بچانے میں کردار ادا کرناہے۔ اس دن کاتقاضا یہ ہے کہ بین الاقوامی سطح پر کرہ ارض کو محفوظ بنانے کےلئے کوششیں کی جائیںاور درست سمت مےں اقدامات کےے جائےں۔ وزیراعلیٰ شہبازشریف کی زیرصدارت اجلاس میں اورنج کیب سکیم کے اجراءاور ادائیگیوں کا ڈیجیٹل نظام شروع کرنے کیلئے تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کابینہ کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ کمیٹی دونوں پروگراموں کے بارے میں آئندہ چند روز میں حتمی تجاویز پیش کرے۔ شہبازشریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اورنج کیب سکیم کا اجراءرواں برس کیا جائے گا اور اس سکیم کے تحت ایک لاکھ گاڑیاں بیروزگار نوجوانوں کو آسان شرائط پر دی جائیں گی جس سے ایک لاکھ نوجوانوں کو روزگار ملے گا اور ہزاروں خاندانوں کے 6لاکھ افراد مستفید ہوں گے اور اورنج کیب سکیم سے روزگار کے مواقع بڑھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹے کاشتکاروں کو رعایتی نرخوں پر ٹریکٹرز کی فراہمی کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا‘ 3گھنٹے جاری رہنے والے اجلاس میں صوبے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال‘ سیف سٹی پراجیکٹ لاہور کے منصوبے پر پیشرفت اور 6بڑے شہروں میں سیف سٹی پراجیکٹس کے امور کا جائزہ لیا گیا۔ مسلم لیگ (ن) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے شہبازشریف نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں پاکستان ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہو چکا ہے اور 4برس کے دوران اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں کو مکمل کیا گیا ہے۔
شہبازشریف

”لالہ“کا کوہلی کے تحفہ بھیجنے پرمنفرداندازمیں شکریہ

کراچی (نیوزایجنسیاں) قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے تحفہ پیش کرکے جذبہ خیر سگالی کا مظاہرہ کرنے پر ہندوستان کے کپتان ویرات کوہلی اور ان کی ٹیم کا شکریہ ادا کیا ہے۔سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں آل راو¿نڈر نے کہا کہ بہترین الوداعی تحفے پر میں آپ کا اور پوری ہندوستانی ٹیم کا شکرگزار ہوں۔ قابل عزت سپرسٹار،امید ہے کہ آپ سے جلد ملاقات ہو گی۔یاد رہے کہ ویرات کوہلی نے ریٹائر ہونےوالے پاکستان کے سابق کپتان کیلئے نیک تمناو¿ں کا اظہار کرتے ہوئے اپنی شرٹ تحفتاً پیش کی تھی جس پر ہندوستانی ٹیم کے کھلاڑیوں کے دستخط موجود تھے اور اس میں لکھا تھاکہ آپ کیخلاف کھیل کرہمیشہ بڑی خوشی ہوئی۔

فکسنگ سکینڈل …. شاہزیب پر فرد جرم عائد

لاہور(سپورٹس رپورٹر) اینٹی کرپشن ٹربیونل نے اسپاٹ فکسنگ کیس کی سماعت کے دوران شاہزیب حسن پر پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) اینٹی کرپشن کوڈ کی خلاف ورزی پر فرد جرم عائدکردی گئی۔پاکستان کرکٹ بورڈ کی جانب سے قائم اینٹی کرپشن ٹربیونل نے پریس ریلیز میں بتایا کہ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں اینٹی کرپشن ٹربیونل نے اسپاٹ فکسنگ کیس کی ابتدائی سماعت کی جس میں شاہ زیب حسن پر پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل ) کے دوران بکیز کے رابطہ کرنے کے بارے میں پی سی بی کو آگاہ نہ کرنے پر اینٹی کرپشن کوڈ کے کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا اور اسی جرم میں ان پر فرد جرم عائد کی گئی۔سماعت کے دوران کمیٹی کے چئیرمین جسٹس اصغر حیدر، کمیٹی کے ممبران لیفٹننٹ جنرل رٹائرڈ توقیر ضیا اور وسیم باری بھی موجود تھے جبکہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں ملوث شاہ زیب حسن اور ان کے وکیل بیرسٹر ملک کاشف رجوانہ پیش ہوئے۔اس کے علاوہ پی سی بی کے ویجیلینس اور سیکیورٹی ڈپارٹمینٹ کے سربراہ کرنل ریٹائرڈ محمد اعظم خان بھی اس موقع پر موجود تھے ٹربیونل دونوں فریقین سے مشاورت کے بعد اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت کیس کے وقت اور طریقہ کار پر رضا مند ہوا ہے۔تاہم پی سی بی ابتدائی تفصیلات اور شواہد کے ساتھ موجود دعوو¿ں کو 4 مئی 2017 کو ٹریبونل میں جمع کرائے گا۔ پریس ریلیز کےمطابق شاہ زیب حسن کو 18 مئی 2017 تک اپنے جوابات داخل کرانے کا موقع دیا جائےگا جس کے بعد پی سی بی کو 25 مئی تک اپنی صوابدید پر جواب جمع کرانے کی اجازت ہو گی۔پریس ریلیز میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ پی سی بی کے اینٹی کرپشن کوڈ کے تحت کیس کی سماعت کو خفیہ رکھنے کی ضرورت ہے اور دونوں فریقین کی جانب سے اس کیس یا اس کی کارروائی پر کسی بھی قسم کا تبصرہ نہیں کیا جائے گایاد رہے کہ پی سی ایل کے پہلے ہی میچ کے بعد اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل منظر عام پر آنے کے بعد شاہ زیب حسن، خالد لطیف، محمد عرفان اور شرجیل خان کومعطل کر دیا گیا تھا۔ جس کے بعد ان کھلاڑیوں کو نوٹس آف چارج شیٹ جاری کر دی گئی تھی۔شاہ زیب حسن کو دی جانے والی چارج شیٹ کے ان پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ اوپنر بیٹسمین نے بکیز کے رابطہ کرنے پر پی سی بی انتظامیہ کو دیر سے آگاہ کیا، امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ اب شاہ زیب حسن بھی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے سامنے پیش ہوں گے۔شاہ زیب حسن نے 2009 کا ورلڈ ٹی20 جیتنے والی پاکستان ٹیم کی نمائندگی کی اور بہترین کارکردگی دکھائی تھی۔پی ایس ایل 2017 کے دوران شاہ زیب حسن کراچی کنگز کی نمائندگی کر رہے تھے تاہم بنا کوئی میچ کھیلے ہی انہیں پی ایس ایل سے باہرکر دیا گیا تھے۔

پنجاب حکومت نے مزدوروں کوبڑی خوشخبری سنا دی

لاہور(خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے مزدوروں کی تنخواہ میں ایک ہزارروپے کا اضافہ کرتے ہوئے کم از کم تنخواہ 15 ہزار روپے مقرر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس اک اعلان وزیراعلیٰ پنجاب یکم مئی (لیبرڈے) کو کریں گے۔ مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعلیٰ پنجاب کی جانب سے مزدوروں کے لیے چند اور بھی اعلانات متوقع ہیں جس سے مزدوروں کی زندگی میں بہتری آئے گی۔ ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب نے محکمہ لیبر سے یکم مئی کے حوالے سے تجاویز طلب کی تھیں اور مزدوروں کے مسائل پر بھی محکمہ کی رائے مانگی تھی جس پر محکمہ نے انہیں آگاہ کیا کہ مزدوروں کے ہزاروں ڈیتھ گرانٹس، میرج گرانٹس اور سکالرشپ کے کیس التوا کا شکار ہیں۔ ان کیسز کو نمٹانے کیلئے کروڑوں روپے درکار ہیں لیکن فنڈز کی کمی کے باعث ان مزدوروں کو نہ تو ڈیتھ گرانٹس کی رقم مل پا رہی ہے اور نہ ہی میرج گرانٹس کا اجرا ہو پا رہا ہے اس کے علاوہ پنجاب بھر کے مزدوروں کے بچے سکالرشپ سے محروم ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بات کا قوی امکان ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب یکم مئی کو یہ اعلان کردیں کہ مزدوروں کے جتنے بھی ڈیتھ اور میرج گرانٹس کے کیسز زیرالتوا ہیں انکو 30 مئی تک کلیئر کیا جائے اور مستحق مزدوروں کو رقم جاری کردی جائیں جبکہ جن بچوں کے سکالرشپ التوا کا شکار ہیں انہیں بھی سکالرشپ دیئے جائیں۔