راحیل شریف کو ریٹائرمنٹ کے بعد اسلامی افواج کی کمان ملنے کی خبر سب سے پہلے شائع کی

لاہور (خصوصی رپورٹ) روزنامہ خبریں گزشتہ 5ماہ سے جنرل راحیل شریف کو اسلامی افواج کے اتحاد کی کمان ملنے بارے تسلسل سے خبریں شائع کرتا رہا ہے جس کی گزشتہ روز وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی تصدیق کر دی ہے۔ اس طرح سے روزنامہ خبریں کی خبر حرف بہ حرف درست ثابت ہوئی اور خبریں نے سب سے پہلے خبر شائع کرنے کا اعزاز برقرار رکھا۔

حکومت کا جوابی وار۔۔ بڑا فیصلہ کر لیا

اسلام آباد، لاہور (خصوصی رپورٹ) وزیراعظم نوازشریف سے استعفے کے لیے تحریک انصاف اور پیپلزپارٹی کے درمیان رابطے شروع ہوگئے ہیں، دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے رابطوں میں عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید اہم کردار ادا کررہے ہیں،
رابطوں میں یہ کوشش کی جائے گی کہ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کی ملاقات کرائی جاسکے تاکہ دونوں سیاسی جماعتیں اسلام آباد میں ”گو نواز گو“ تحریک کا آغاز اور نوازشریف کے استعفیٰ کے لیے مشترکہ احتجاج و دھرنے کی پالیسی بھی مرتب کرسکیں۔ عمران خان نے گو نواز گو تحریک کے لیے پارٹی رہنماو¿ں سے مشاورت مکمل کرلی ہے اور پارٹی کے سینئر رہنما شاہ محمود قریشی کو ٹاسک دیا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے سینئر رہنما خورشید شاہ سمیت دیگر جماعتوں کے رہنماو¿ں سے رابطے کریں۔ ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی جلد پیپلزپارٹی کے رہنما خورشید شاہ سے رابطہ کریں گے۔ پی ٹی آئی، پیپلزپارٹی کے علاوہ دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر وزیراعظم نوازشریف کو استعفیٰ دینے پر مجبور کرے گی۔عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے نواز شریف کے استعفیٰ کے لئے اپوزیشن کو ایک پیج پر لانے کا مشن سنبھال لیا ہے۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں سے رابطے کروں گا۔ تمام اپوزیشن جماعتوں کے سربراہوں سے متحد ہونے کی درخواست کی جائے گی ، بڑے ہدف کے حصول کے لئے اپوزیشن کو اب ملکر دباﺅ بڑھانا ہوگا۔ ادھر پیپلزپارٹی سندھ نے وزیراعظم نوازشریف کے خلاف گو نواز گو تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا ہے۔ کل 23 اپریل کو سندھ کے ضلعی ہیڈکوارٹرز میں اور 26 اپریل کو کراچی میں دھرنا دینے کا اعلان کردیا ہے۔ یہ اعلان پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے جمعہ کو سندھ اسمبلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ملزمان کے خلاف مزید تحقیقات کے لیے تشکیل دی جاتی ہے اور پاناما کیس میں عدالت کی جانب سے جے آئی ٹی کی تشکیل کا حکم وزیراعظم نوازشریف کو ملزم قرار دے کر چارج شیٹ عائد کرنے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم امین اور صادق نہیں رہے ہیں جبکہ تحریک انصاف نے پنجاب میں وزیراعظم کے استعفیٰ پر گرینڈ الائنس بنانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس سلسلے میں اپوزیشن لیڈر میاں محمود الر شید آئندہ پنجاب اسمبلی کے اجلاس سے قبل پیپلز پارٹی، ق لیگ اور جماعت اسلامی کے پارلیمانی لیڈر ز سے ملاقات کرینگے جس کے بعد مشترکہ حکمت عملی طے کی جائیگی۔ دریں اثناءپانامہ کے حوالے سے سپریم کورت کے فیصلے پر غور اور مشاورت کیلئے وزیراعظم میاں نوازشریف نے آج ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے جس میں شریف خاندان کے وہ افراد جو سیاست میں سرگرم اور اسمبلیوں کا حصہ ہیں اور پارٹی کی اعلیٰ ترین قیادت شرکت کریگی، اجلاس میں مستقبل کی سیاست کے حوالے سے اہم فیصلے متوقع ہیں۔ ادھرتحریک انصاف نے آرٹیکل 209 کے تحت چیئرمین نیب قمر زمان کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا اعلان کردیا۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق نیب سربراہ تفتیش کرنے میں ناکام رہے لہذا آرٹیکل 209 کے تحت چیرمین نیب قمر زمان چوہدری کی برطرفی کے لیے ریفرنس دائرکرنے جارہے ہیں جب کہ چیئرمین نیب کو ہٹانے کے لیے ریفرنس جوڈیشل کونسل میں دائر ہوگا۔
رابطے شروع

بانجھ خواتین کیلئے انمول تحفہ …. ضرور پڑھیں

لاہور (خصوصی رپورٹ) اللہ تعالیٰ نے اپنی کلام یعنی قرآن مجید میں اخروی کے ساتھ ساتھ دنیاوی مسائل کا حل بھی پیش کر دیا ہے اور اگر کوئی عورت بانجھ پن کے مرض میں مبتلا ہو تو اسے چاہئے کہ سورة الرحمن کی تلاوت کرے۔ اللہ تعالیٰ نے چاہا تو یہ عارضہ دور ہو جائے گا۔ اگر کسی عورت کو بانجھ پن کا عارضہ لاحق ہو تو وہ ہر نماز کے بعد 11مرتبہ درود پاک پڑھے‘ پھر21مرتبہ یا باری المصور پڑھے‘ اس کے بعد ایک بار سورة رحمن اور 11مرتبہ درود پاک کا ورد کرے۔ یہ وظیفہ معمول بنانے سے ان شاءاللہ جلد ہی اس کی امید بر آئے گی‘ اولاد ہوجائے گی اور حمل قرار پائے گا۔ بانجھ پن کے عارضہ کو دور کرنے کیلئے یہ عمل اکسیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اگر کسی کے کان میں درد ہو تو اسے چاہئے کہ وہ سات دن تک فجر کی نماز کے بعد اول 21مرتبہ درود پاک پڑھے‘ پھر 700مرتبہ ”یا رحمن“ کا ورد کرے۔ اس کے بعد پھر 21مرتبہ درود پاک پڑھے اور اپنے اوپر پھونک مار کر ہاتھوں پر دم کرے اور دم کئے ہوئے ہاتھ اپنے کانوں پر پھیرے‘ حق تعالیٰ نے چاہا تو کان کا درد جاتا رہے گا۔ تمام دن کام کاج کی وجہ سے اگر تھکاوٹ ہو جائے تو رات کو سونے سے پہلے اول سات مرتبہ درود پاک پڑھیں پھر 33مرتبہ ”یا رحمن“ کا ورد کریں۔ اس کے بعد پھر سات مرتبہ درود پاک پڑھے اور اپنے جسم پر پھونک مارے۔ حق تعالیٰ نے چاہا تو تھکاوٹ دور ہو جائے گی اور صبح اٹھتے وقت تھکاوٹ محسوس نہ ہو گی۔
سورة الرحمن

نبوت کا جھوٹا دعویدار گرفتار …. قتل کرنے کیلئے شہریوں کا تھانے پر دھاوا

چترال(مانیٹرنگ ڈیسک) ضلع چترال کی شاہی جامع مسجد میں منبر پر کھڑے ہوکر ایک شخص کی جانب سے نبوت کا جھوٹا دعویٰ کرنے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا اور لوگوں نے اسے قابو کرکے مارنے کی کوشش کی تاہم خطیب مسجد نے صورت حال کی سنگینی سمجھتے ہوئے اسے پولیس کے حوالے کر دیا جس پر ہزاروں افراد نے تھانے پر دھاوا بولتے ہوئے گیٹ توڑ کر اندر جانے کی کوشش کی اور زبردست توڑ پھوڑ اور پتھراﺅ کیا۔ پولیس ملازمین نے کنٹرول کرنے کے لئے لاٹھی چارج اور شیلنگ کی جس کے نتیجے میں تین افراد زخمی ہوگئے۔ مظاہرین نے ملزم کی حوالگی کے لئے مزاحمت کی۔ حالات خراب ہونے اور ہاتھ سے نکلنے پر پولیس کی مدد کےلئے فوج اور سکاﺅٹس کے اہلکار بھی پہنچ گئے اور علاقے کا محاصرہ کرتے ہوئے کنٹرول سنبھال لیا۔ آخری اطلاعات آنے تک حالات کشیدہ تھے جبکہ چترال کے جنوبی علاقوں سے مذکورہ واقعہ کے خلاف سینکڑوں لوگوںکا ہجوم گاڑیوں سے آنے کی کوشش کر رہا ہے جن کو راستے ہی میں روک لیا گیا ہے جس کی وجہ سے گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئی ہیں۔ جمعہ کو شاہی مسجد میں محمد رشید ولد محمد دین سکنہ بچ تور کہو نامی شخص نے نعوذ باللہ نبوت کا جھوٹا دعویٰ کر دیا جس پر مسجد میں موجود لوگ کھڑے ہوگئے اور اس پر حملہ آور ہوئے تاہم خطیب جامع مسجد مولانا خلیق الزمان نے محمد رشید کو پاگل قرار دے کر پولیس کے حوالے کر دیا جس پر مشتعل ہجوم چترال تھانے کے باہر جمع ہوگیا اور تھانے پر پتھراﺅ شروع کر دیا اور توڑ پھوڑ کی جس سے تھانے کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ ادھر چترال کے جنوبی علاقوں سے مذکورہ واقعہ کے خلاف لوگ جلوس کی شکل میں آئے تاہم شہر آنے والی گاڑیوں کو روک دیا گیا جن کی تعداد سینکڑوں میں ہے جس کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ادھر ڈپٹی کمشنر چترال شہاب حامد یوسف زئی نے بتایا کہ گستاخ رسول کے خلاف ایف آئی آر درج کرلی گئی ہے۔ ملزم سے ضروری تفتیش کی جا رہی ہے، ملزم کی باتوں سے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید اس کا دماغی توازن درست نہیں تاہم تفتیش اور میڈیکل رپورٹ آنے کے بعد معلوم ہوگا کہ ملزم واقعی ذہنی بیمار ہے یا کہ کوئی سازش ہے جس کے پس پردہ دیگر محرکات ہیں۔ ملزم یہ بھی کہتا ہے کہ وہ پچاسواں امام ہے اور کبھی کیا۔ دریںاثناءچترال میں عوام بدستور مشتعل ہیں اور ملزم کی حوالگی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ پولیس کے ساتھ ان کی آنکھ مچولی رات گئے تک جاری رہی۔ ڈی سی ذرائع کے مطابق ملزم کو نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور فوج کو بھی طلب کر لیا گیا ہے جبکہ سکاﺅٹس اہلکار بھی موجود ہیں۔ تھانہ چترال کے باہر ابھی بھی لوگوں کا ہجوم موجود ہے جن میں علماءبھی شامل ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ مذکورہ شخص واجب القتل ہے اسے ہمارے حوالے کیا جائے۔ ادھر انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سید کوثر عباس زیدی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے الزام میں گرفتار ملزموں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔ جمعہ کو ایف آئی اے نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کرنے والے 4 ملزمان کو 7 روزہ جسمانی ریمانڈ کے بعد عدالت پیش کیا گیا۔ ملزمان نے عدالت میں کہا کہ ہم پر کون کون سی دفعات لگائی گئی ہیں بتایا جائے، جس پر عدالت نے کہا کہ جو دفعات ملزمان پر لگائی گئی ہیں ملزمان کو آگاہ کیا جائے ان کا قانونی حق ہے۔ ایف آئی اے کی جانب سے عدالت کو بتایا گیا کہ ملزمان پر یکساں دفعات عائد کی گئی ہیں۔ تفتیش مکمل ہوچکی ہے ملزمان کے مزید جسمانی ریمانڈ کی ضرورت نہیں۔ عدالت نے 4 مئی تک ملزمان کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔
ملعون گرفتار

مک گیا تیرا شو …. ” گو نواز گو “ استعفیٰ دو !!!!

جھنگ(بیورورپورٹ)سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ اس دفعہ ہم نے پنجاب کا قلع فتح کرناہے،میاں صاحب ہم آپ کو گھر بھیجیں گے ،آپ گھر نہیں کسی اور گھر جائیں گے ،آپ کو لانڈھی جیل میں کھانا بھیجنے کیلئے میں تیار ہوں۔ جھنگ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف علی زرداری نے کہاہے کہ شاہ جیونہ کے لوگوں کا پیار دیکھ کر بہت خوشی محسوس کر رہاہوں ،فیصل صالح حیات کو دوبارہ پارٹی میں شامل ہونے پر مبارک باد دیتاہوں ۔انہوں نے کہا کہ اس دفعہ ہم نے پنجاب کا قلع فتح کرناہے ،اس بار ہم نے شریفوں کو مٹانا ہے ،گزشتہ الیکشن ہم نہیں ہار بلکہ ہمیں آر اوز نے ہرایاہے ۔ان کا کہناتھا کہ ن لیگ نے لوگوں کے ساتھ کیا کیا ،نہ بجلی ہے نہ پانی ،قرض دوگنا کر دیا ہے ،عوام کے ساتھ یہ کیا کیا ۔ آصف زرداری کا کہناتھا کہ ہم نے شاہنواز ،بینظیر ،مرتضی کے جنازے اٹھانے کے بعد بھی پاکستان کھپے کا نعرہ لگایا ،میاں صاحب ہم آپ کو گھر بھیجیں گے ،آپ گھر نہیں کسی اور گھر جائیں گے ،آپ سمجھ لیں جیسے مشرف کو گھر بھیجا تھا اب نوازشریف کوبھیجیں گے، آپ کو لانڈھی جیل میں کھانا بھیجنے کیلئے میں تیار ہوں۔ان کا کہناتھا کہ آج سندھ اسمبلی نے گو نواز گو نواز کی قرار داد پاس کر دی ہے ۔ان کا کہناتھا کہ بھی تو پہلا جلسہ ہے میاں صاحب آپ کیخلاف ،آگے آگے دیکھیں ہوتا ہے کیا ۔ آصف زرداری کا کہناتھا کہ چاروں صوبوں کو آپ سے نجات چاہیے، آپ صرف سرکاری روٹیاں توڑنے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے، آپ سے کچھ نہیں ہوتا ، آپ پائے کھانے کے سوا کچھ نہیں کرسکتے،ہم ہرطرف سے آپ کے پیچھے لگ رہے ہیں،جب تک نکال نہ دیں آپ کے پیچھے لگے رہیں گے،انہوں نے قوم کا حق لوٹا ہے، ہم ان سے حق واپس لیں گے۔ان کا کہناتھا کہ میں یہاں تو مخدوم صاحب کی دعا لینے آیاہوں ،سب دوستوں کے ساتھ مل کر ان کی دوا کرنے آیا ہوں ۔ چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ پاناما کیس کے فیصلے سے ثابت ہوگیا کہ ایک فیصلہ شریفوں کیلئے ہے اور دوسرا ملک کے عوام کیلئے ہے، میاں صاحب پاناما کیس سے مکمل طور پر بری نہیں ہوئے بلکہ ان کے خلاف عوامی عدالت نے فیصلہ دے دیا ہے۔ بلاول بھٹو نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے گو نواز گو کے نعرے بھی لگائے۔ بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں کہ ان شریفوں پر کوئی قانون لاگو نہیں ہوتا، ان کے مقررہ کردہ افسروں کی جے آئی ٹی سے قوم کیا امید رکھ سکتی ہے۔جھنگ میں پیپلز پارٹی کے جلسہ عام سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ کب تک اس ملک میں دو قانون چلیں گے، ایک وزیراعظم کو چار تین کے فیصلے پر پھانسی،جبکہ دوسرے وزیراعظم کو تین دو کے فیصلے پر بری کردیتے ہو۔بلاول بھٹو کا کہنا ہے کہ ایک خط نہ لکھنے پر گیلانی کو گھر بھیج دیا جاتاہے، نہ ہی ہمیں دو پاکستان چاہئیں، نہ ہی دو قانون، ہمیں ایک پاکستان اور ایک قانون چاہیے، امیر غریب کے لیے ایک ہی قانون ہو۔انہوں نے کہا کہ میاں صاحب، ا?پ مکمل طورپر بری نہیں ہوئے، دو سینئر ججز نے ا?پ کو نااہل قرار دے دیا، تھوڑی سی بھی شرم حیا ہے تو فوری استعفیٰ دیں، ا?پ کے خلاف توعوام کی عدالت نے بھی فیصلہ دے دیا ہے۔

قیامت کی نشانی …. چوہدری نثار کا اہم انکشاف

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) پاناما لیکس کے فیصلے کے بعد وزیراعظم کی زیر صدارت پہلا مشاورتی اجلاس طلب کیا گیا جس میں قانونی ماہرین نے نواز شریف کو فیصلے سے متعلق تفصیلی بریفنگ دی۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت پاناما لیکس کا فیصلہ آنے کے بعد پہلامشاورتی اجلاس طلب کیا گیاجس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا فیصلہ جو بھی ہو مانیں گے اور عدالتوں کے فیصلوں کا احترام کرتے ہیں۔ اجلاس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو قبول کرنے پر اتفاق اور وفاقی وزرانے وزیر اعظم پر مکمل اعتماد اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ وزیراعظم ذرائع کے مطابق فیصلے کے قانونی اور سیاسی پہلووں پر تفصیلی مشاورت اورجے آئی ٹی کے حوالے سے آئندہ کی حکمت عملی بھی طے کی گئی اور وزیراعظم کی زیرصدارت اجلاس میں مشاورتی عمل جاری رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔ نواز شریف کی زیرصدارت اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ سپریم کورٹ کے13 سوالات کا جواب ،جے آ ئی ٹی سے بھرپور تعاون ، سپریم کورٹ کے فیصلے پرمن و عن عمل ، کچھ تحفظات ہونے کے باوجود بہانہ نہیں بنایا جائےگا اور حکومت آئین اور قانون کی پاسداری کرے گی جبکہ اجلاس میں اتفاق کیا گیا کہ اپوزیشن صرف انتشار چاہتی ہے جس میں کبھی کامیاب نہیں ہو گی۔ٹیکسلا (نمائندہ خبریں) وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کہا ہے کہ عدالتی فیصلے لوگوں کی خواہشات نہیں قانون کے مطابق ہوتے ہیں ، بعض عناصر اپنے سیاسی مقاصد کی خاطر عجیب منطق پیش کررہے ہیں ،عدالتی فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے ۔آصف زرداری کا ایمانداری پر لیکچر دینا قیامت کی نشانی ہے، ٹیکسلا میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیرداخلہ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ عدالتی ہی ہوتا ہے اسے نہ سیاست کی بھینٹ چڑھنا چاہیے اور نہ ہی اس پر تبصرے کرنے کیلئے مزید عدالتیں لگانی چاہیں ۔ عدالتی فیصلے کو طرح طرح کے معنی پہنچائے جارہے ہیں ۔ عدالتوں کے اوپر عدالتیں لگ رہی ہیں ۔ لوگ اپنی خواہشات اور سیاسی مقاصد کی خاطر عجیب عجیب مطق بیان کررہے ہیں ۔ یہ ایک متفقہ فیصلہ ہے کہا جارہا ہے کہ دو ججز ایک طرف اور تین ایک طرف ہیں ۔ یہ درست نہیں ہے دو ججز نے اختلاف رائے کا اظہار ضرور کیا ہے مگر جے آئی ٹی بنانے میں 5ججز کے دستخط موجود ہیں ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ کوئی بھی عدالتی فیصلہ کی خواہش کے مطابق نہیں ہوسکتا بلکہ قانون و آئین کے مطابق ہوتا ہے ۔ ابھی تک کیس عدالت میں ہے مزید تفتیش کیلئے جے آئی ٹی بنائی گئی ہے ۔ اپوزیشن کے بعض زعماءبار بار کمیشن یا جے آئی ٹی کا نام لیتے تھے اور کہتے تھے کہ اس میں ایم آئی اور آئی ایس آئی کے ممبران بھی شامل ہوں اب سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ جے آئی ٹی بنے اور ایم آئی اور آئی ایس آئی کی نمائندگی ہو سپریم کورٹ کا فیصلہ سب کو قابل قبول ہونا چاہیے ۔ آج وزیراعظم کی میٹنگ میں ہمارے ساتھیوں نے اپنی اپنی رائے دی اور اس فیصلے کے حوالے سے مختلف بیانات سامنے آئے مگر وزیراعظم نے سختی سے ہدایت دی ہے کہ ہم کسی صورت اس فیصلے کو تقسیم نہ کریں خواہ دو ججز ایک طرف ہیں اور تین ججز ایک طرف ہیں ہم اسے عدالتی فیصلہ سمجھتے ہیں یہ اس وقت تک عدالت کا فیصلہ ہے جب تک جے آئی ٹی اپنی رپورٹ عدالت میں واپس نہیں آتی ۔ افسوس بعض سیاستدان عدالتی فیصلوں کے خلاف احتجاج بلند کرر ہے ہیں اور بعض ججوں کی حمایت اور بعض کے خلاف بات کر رہے ہیں ۔ خدا کیلئے آئین وقانون پر رحم کھائیے جب کوئی ایشوبنے تو اس کے حل کیلئے بھی کوئی طریقہ کار ہونا چاہیے ۔ مسئلے کے حل کیلئے پھر سپریم کورٹ سے بڑا ادارہ کونسا ہے ۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ پر چھوڑدیں ہمیں یہ فیصلہ قبول ہے آصف علی زرداری قوم کو ایمانداری اور دیانتداری پر لیکچر دیں یا آرٹیکل 62اور 63کا سرٹیفکیٹ دیں یہ قیامت کی نشانیاں ہیں اس ملک کے بعض سیاسی لیڈران پاکستانی عدالتوں سے تو مجرم قرار پائے ہی ہیں مگر سوئس عدالتوں سے بھی ہوئے ہیں آج وہی قوم کو شفافیت کو لیکچر دے رہے ہیں ۔ اگر ہم سب نے سپریم کورٹ پر اتفاق کیا ہے تو اسے فیصلہ کرنے دیں اگر یہ کہا جارہا ہے کہ وزیراعظم کی لیگل ٹیم کے پاس شواہد نہیں تھے تو یہ اس زور سے کیوں نہیں کہا جارہا کہ الزام لگانے والوں کے پاس بھی ناکافی شواہد تھے ۔یہاں وزیراعظم کے اوپر الٹی گنگا بہائی گئی کہ آپ نے اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہے ۔ یہ کیس کرپشن کا نہیں بلکہ لندن میں وزیرعظم اور ان کے خاندان کی جانب سے خریدے گئے فلیٹس کیلئے پیسہ کہاں سے آیاجبکہ وزیراعظم کے خاندان کا سپریم کورٹ میں یہ موقف رہا کہ ہمارے والدکے 1970-80میں اس وقت بااثر اثاثے تھے جب ان کا حکومت کے ساتھ دور دور کا واسطہ نہیں تھا میں واضح کردوں کہ بہت سے لوگوں کے باہر اثاثے ہیں اگر غیر قانونی ہیں تو چھپا کر رکھتے ہیں ۔ جبکہ وزیراعظم اور ان کے خاندان نے ان فلیٹس کو چھپا کر نہیں رکھا اب سب کو سپریم کورٹ کا احترام کرتے ہوئے فیصلہ ہونے کا انتظار کرنا چاہیے یہ سرے محل یا کرپشن کا کیس نہیں اس کی نوعیت مختلف ہے ۔وزیراعظم نے خود کو احتساب کیلئے پیش کرکے اچھی ر وایت قائم کی ۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ غیب کا علم میرے پاس نہیں مگر میرے سامنے اگر اس حکومت کے حوالے سے کرپشن یا کوئی بھی غلط کاری ہوتی تو میں بہت پہلے اس حکومت کوچھوڑ چکا ہوتا ۔ لہذا میرا ضمیر مطمئن ہے میں اللہ تعلی کے سامنے جوابدہ ہوں مگر الزامات کا جواب میرے پاس نہیں ہے ۔ الزامات لگانا ہی کافی نہیں ثبوت بھی دینے پڑتے ہیں اس کیس کا ایشو صرف یہ ہے کہ ان فلیٹس کیلئے سرمایہ کہاں سے آیا جب شریف خاندان کا مو¿قف ہے کہ 1970کے بعد ہمارا بیرون ملک سرمایہ تھا پیسہ پاکستان سے نہیں گیا فیصلہ شواہد کے مطابق ہوگا۔ الزامات یا شکوک شبہات کی بنیاد پر نہیں ہوگا۔ لفاظی اور گفتارکی جنگ میں ہر چیز کو کنفیوزکیا جارہا ہے ۔ کنفیوژن پیدا کرنے والے چند لوگ اس کیس کافیصلہ نہیں چاہتے بلکہ انتشار چاہتے ہیں حکومت نے تو کئی بار کہا ہے کہ جس چیز پر آپ راضی ہیں حکومت اسی کے تحت تفتیش اور تحقیقات کرانے کیلئے تیار ہے اس لیے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم مکمل طور پر سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق اس کو مکمل سپورٹ کریں گے اور فیصلے کا احترام بھی کریں گے ۔انہوںنے کہا کہ حکومت جس دن سے آئی اسی دن سے اس کے خلاف یلغار شروع ہو ئی۔ اپوزیشن نے ٹھان لی ہے کہ حکومت کو کام نہیں کرنے دینا ایک سوال پر انہوںنے کہا کہ الیکشن سے پہلے عبوری حکومت پیپلزپارٹی کی مرضی سے بنائی گئی کے پی کے فیڈرل ، سندھ ، بلوچستان پنجاب ہر جگہ نگران حکومت پیپلزپارٹی کی مرضی سے بنی نجم سیٹھی کو نگران وزیراعلی بننے کی میں اور شہبازشریف نے مخالفت تو پھر وہ کس طرح ہماری سپورٹ کرسکتے ہیں ۔ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن اور حکومت کی مرضی سے بنا دراصل اپوزیشن حکومت کی کارکردگی سے خوفزدہ ہے کارکردگی کا مقابلہ کرنے کی بجائے بیان بارزی کی گئی ۔ ہماری حکومت کی کارکردگی کا موازنہ پچھلی حکومت سے کریں تو فرق صاف نظر آئے گا۔ ہم کسی کی مخالفت کی پرواہ کئے بغیر آگے بڑھتے رہیں گے کراچی آپریشن وفاقی حکومت نے اتفاق رائے سے شروع کیا ۔ پاکستان کے دشمن بھی کراچی کی سیکیورٹی صورتحال کی بہتری کا اعتراف کرتے ہیں ۔ رینجرز کی کارکردگی کا حکومت سندھ کو سب سے بڑا فائدہ ہے اب بھی رینجرز کی مدت میں توسیع کا مسئلہ بلا جواز پیدا ہوا یہ ایک انتہائی تشویشناک صورتحال ہے ہر تین ماہ بعد سندھ حکومت رینجرز کا کردار متنازعہ بنا رہی ہے حالانکہ اسے رینجرز سے کوئی شکایت بھی نہیں ہے ۔ ابھی پاناماکا مکمل فیصلہ آیا ہی نہیں مٹھائیاں بانٹنے کی کوئی ضرورت نہیں اس سے رہنمائی اور عبرت حاصل کرنی چاہیے ۔ لوڈ شیڈنگ کے بارے میں سوال پر انہوںنے کہا کہ دسمبر تک 6ہزار میگاواٹ بجلی نظام میں شامل ہوگی میں وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ عوام کی مشکلات کم ہونے والی ہے ۔ڈان لیکس کے معاملے پر بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ نیوز لیکس کی رپورٹ پاناما کیس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی جو پیر یا منگل کو وزیراعظم کو پیش کردی جائے گی جب کہ میں صرف اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں، نوازشریف یا عدالت کے سامنے نہیں۔

پانامہ فیصلے سے مسلم لیگ (ن ) ختم نہیں ہوئی ، ایک دھچکا کا ضرور لگا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پانامہ کیس میں نئے بنچ کی تشکیل پر تو سپریم کورٹ ہی روشنی ڈال سکتی ہے البتہ یہ واضح ہو گیا کہ نئے بنچ کے سامنے جو رپورٹ جے آئی ٹی پیش کرے گی اسی کی بنیاد پر فیصلہ ہو گا۔ پیپلزپارٹی اس موقع کو گنوانا نہیں چاہتی اور حکومت پر مکمل دباﺅ ڈالنے کی کوشش کر رہی ہے کیونکہ اس نے آئندہ الیکشن لڑنا ہے اور اس الزام کو دھونا ہے کہ پیپلزپارٹی نون لیگ کی بی ہے۔ عوام بہت سادہ ہیں کسی لیڈر کی کسی بھی بات پر یقین کر لیتے ہیں۔ فیصل صالح حیات بہت بڑا لوٹا ہے۔ کئی بار پارٹی تبدیل کر چکا ہے اب پھر پیپلزپارٹی میں آ گیا ہے۔ خبر شائع ہوئی ہے کہ نون لیگ نے فیصلہ کیا ہے کہ پی پی کے ساتھ دوبارہ رابطے بڑھائے جائیں گے۔ نون لیگ اگر پی پی کی جانب ہاتھ بڑھاتی ہے تو ایک مرتبہ پھر دونوں میں مفاہمت ہو سکتی ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کی مصنوعی نورا کشتی جاری رہتی ہے یا کوئی سمجھوتہ کر لیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نون لیگ کا خاتمہ ہو جانے کی سوچ رکھنے والوں سے متفق نہیں ہوں۔ پانامہ فیصلے سے ن لیگ کو ایک دھچکا ضرور لگا ہے لیکن وہ ابھی ختم نہیں ہوئی۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے فیصلے میں بوگس، دھوکہ، فراڈ لکھا لیکن آخر میں جے آئی ٹی کے سپرد کر دیا، اگر وہ بھی اختلافی نوٹ لکھنے والے 2 ججز کے ساتھ مل جاتے تو نوازشریف کی نااہلی کا عمل مکمل ہو چکا ہوتا، ابھی فیصلہ آنا ہے۔ پہلے بھی جے آئی ٹیز بنتی رہی ہیں، ان کا حشر سب کے سامنے ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان اور پنجاب کی صوبائی اسمبلیاں نوازشریف کے حق میں جبکہ سندھ اورکے پی کے ان کے خلاف قرارداد منظور کریں گی۔ دوسری جانب 2 ججزنے وزیراعظم کے خلاف جبکہ 3 ججوں نے نہ تو ان کے حق میں فیصلہ دیا نہ خلاف بلکہ مزید تحقیقات کرنے کا کہا، معاملہ ففٹی ففٹی ہے۔ پروگرام کے دوران تحریک انصاف کے ترجمان نعیم الحق کی اس بات پر کہ ”وزیراعظم کو اخلاقی طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے“ کے جواب میں تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ وزیراعظم سے اخلاقی طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کسی حیثیت کا حامل نہیں، اخلاقی طور پر تو خواجہ سعد رفیق کو اب تک 11 دفعہ استعفیٰ دے دینا چاہئے تھا۔ انہوں نے جب سے ریلوے کی وزارت سنبھالی بہت سارے اچھے کام بھی کئے، جس پر 3,2 بار ان کو مبارکباد دی اور ایک بار وزیراعظم نوازشریف سے بھی کہا کہ ان کو انعام دیں، انہوں نے بند ہوتی ریلوے کو بچا لیا لیکن یہ وہی خواجہ سعد رفیق ہیں جن کے دور میں 11 بڑے ٹرین حادثات ہو چکے ہیں، اگر کسی دوسرے ملک میں ہوتے تو متعلقہ وزیر استعفیٰ دے دیتا لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہے۔ انسداد منشیات کی عدالت کا ایفی ڈرین مقدمے میں فردِ جرم عائد کرنے کے حوالے سے تجزیہ کار نے کہا کہ میرے خیال میں اگر کیس اسی رفتار سے چلتا رہا توفیصلہ آنے میں دو سے اڑھائی ہزار سال لگ جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کو احتجاج کرنے کا پورا حق حاصل ہے۔ یہ سب کا جمہوری حق ہے۔ تحریک انصاف کے رہنما نعیم الحق نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد نوازشریف کا عہدے پر براجمان رہنے کا کوئی قانونی، آئینی و اخلاقی جواز نہیں رہا۔ ان کے ذہن میں جمہوری عناصر کا فقدان ہے، ہمیشہ غلط طریقے سے اقتدار کو بچانے کی کوشش کی۔ نون لیگ کو ڈر تھا کہ فیصلے کے بعد ان کی حکومت ختم ہو جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا جو ان کے لئے بڑی خوش خبری تھی، اسی خوشی میں مٹھائیاں تقسیم کرتے رہے۔ اب ان کو آہستہ آہستہ معلوم پڑ رہا ہے کہ سپریم کورٹ نے وفاق کے حوالے سے ان کی کوئی دلیل منظور نہیں کی اور جے آئی ٹی بنا دی تا کہ وہ معاملے کی تہہ تک جائیں اور حقیقت عوام کے سامنے لائیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں ان تمام جماعتوں سے تعاون کر رہے ہیں جو نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ نعیم الحق نے کہا کہ پی ٹی آئی کے جلسے گزشتہ 3,2 ماہ سے جاری ہیں اورآئندہ بھی جاری رہیں گے۔ پانامہ کیس نہ بھی ہوتا تو بھی جلسے کئے جاتے کیونکہ یہ عام انتخابات کا سال ہے۔ ایسے وقت میں یہ کوئی غیر معمولی امر نہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ ملک میں بدلتی ہوئی سیاسی فضاءسے عوام کوباخبر رکھا جائے۔ انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی میں عمران خان تقریر کرنا چاہتے تھے لیکن انہیں موقع نہیں دیا گیا۔ ہم چاہتے ہیں کہ پارلیمان اپنا کام کرے کیونکہ حکومت 3 ماہ سے بجٹ کی تیاری کر رہی ہے، ملک اس وقت سنگین سیاسی و اقتصادی صورتحال سے گزر رہا ہے، معیشت خطرناک زون میں داخل ہو چکی ہے جس کی ساری ذمہ داری نوازشریف پر عائد ہوتی ہے۔ جنہوں نے وزیراعظم بننے کے بعد پہلے دن سے لے کر آج تک روزانہ 6 سے 7 ارب روپے کے قرضے لئے ہیں۔

ویسٹ انڈیز کے 109 رنز پر 5 کھلاڑی آﺅٹ

کنگسٹن (ویب ڈیسک)پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کا آغاز آج سے ہو گا،مصباح الحق اور یونس خان اپنی آخری ٹیسٹ سیریز میں توجہ کا مرکز ہوں گے۔تفصیلات کے مطابق نئی سیریز،نیا میدان، آمنے سامنے ویسٹ انڈیز اور پاکستان۔ کنگسٹن کا تاریخی سبینا پارک اسٹیڈیم پچاسویں ٹیسٹ میچ کی میزبانی کرے گا۔مصباح الحق اور یونس خان اپنی آخری ٹیسٹ سیریز میں توجہ کا مرکز ہوں گےمصباح کے پاس تاریخ رقم کرنے کا سنہری موقع ہے کپتان سیریز جیت کر ایک اور اعزاز اپنے نام کرسکتے ہیں۔دونوں ٹیمیں اب تک سولہ ٹیسٹ سیریز میں آمنے سامنے ہوئیں اورپانچ پانچ سیریز اپنے نام کر کے ہم پلہ ہیں لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ قومی ٹیم ابھی تک ویسٹ انڈین سرزمین پر کوئی سیریز نہیں جیت سکی۔ اہم سیریز سے پہلے قومی ٹیم نے خوب پریکٹس کرکے عزائم ظاہر کر دیئے۔گرین کیپس کو موجودہ پوزیشن برقرار رکھنے کے لیے کم ازکم ایک صفر سے فتح درکار ہےشکست کی صورت میں پاکستان کو کیویز کی جگہ پر چھٹی پوزیشن پر جانا ہوگا وائٹ واش ناکامی ساتویں نمبر پر بھی دھکیل سکتی ہے۔

یہاں دوپاکستان اوردوقانون ہیں

جھنگ ( ویب ڈیسک ) بلاول بھٹو زرداری کہتے ہیں پانامہ کے فیصلے سے ایک مرتبہ پھرثابت ہوگیاہے کہ یہاں دوپاکستان اوردوقانون ہیں میاں صاحب کو دو سینئر ججز نے نااہل قرار دیا ہےاس لئے ان کے پاس کرسی پر بیٹھنے کا کوئی جواز نہیں انہیں خود ہی استعفی دے دینا چاہئے۔تفصیلات کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے بھی وزیراعظم نواز شریف سے استعفی کا مطالبہ کر دیا اور کہا کہ اب وہ وزارت عظمی کا عہدہ رکھنے کے اہل نہیں رہے۔ جھنگ میں خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے نوجوان چئیرمین نےاپنے روایتی جوشیلے انداز میں کہا شریفوں پرکوئی قانون لاگو ہوتا ہے نہ ہی کوئی جے آئی ٹی انہیں پکڑپاتی ہے۔
پاناما فیصلے سے متعلق بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ میاں صاحب عدالت سے کلیئرنہیں ہوئے ہیں بلکہ دوسینئرججزنے انہیں نااہل قرار دیا ہے اب ان کے وزیر اعظم رہنے کا کوئی جواز نہیں۔بلاول بھٹو نے اپنے نانا ذوالفقار علی بھٹو سے متعلق عدالتی فیصلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسا نظام ہے جس میں ایک وزیراعظم کو چارتین کے فیصلے سے پھانسی پرچڑھادیتا ہے اور ایک وزیراعظم کوتین دوکے فیصلے سے وزارت پربرقراررکھا جاتا ہے ۔

پنجاب کا قلعہ فتح اور شریفوں کی سیاست ختم کرنے کا اعلان

جھنگ ( ویب ڈیسک ) آصف زرداری نے مشرف کی طرح نواز شریف کو بھی گھر بھیجنے کا دعویٰ کر دیا، پنجاب کا قلعہ فتح اور شریفوں کی سیاست ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سابق صدر اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے جھنگ کے علاقے منڈی شاہ جیونہ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس بار ہم نے پنجاب فتح کرنا ہے اور شریفوں کو ہرانا ہے۔ سابق صدر نے اعلان کیا کہ ہم نے عوام کیلئے جینا اور عوام کیلئے ہی مرنا ہے، جس طرح مشرف کو گھر بھیجا، نواز شریف کو بھی بھیجیں گے لیکن میاں صاحب گھر نہیں، “کہیں اور” جائیں گے۔ آصف زرداری کا وزیر اعظم کو مخاطب کرکے کہنا تھا کہ آپ روٹیاں توڑنے کے سوائ کچھ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے وزیر اعظم کو مشورہ دیا کہ آپ مدینے جائیں یا لانڈھی جیل آئیں، کھانا میں بھجواو¿ں گا۔ سابق صدر نے یہ اعلان بھی کیا کہ ابھی تو پہلا جلسہ ہے، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔