ضرورت پر بھی نواز شریف کا ساتھ نہ دینے کا اعلان, کپتان بارے بھی بڑا بیان جاری

اسلام آباد(نامہ نگار خصوصی) پیپلزپارٹی کے شریک چیرمین آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ نوازشریف نے ہمارے ساتھ بہت زیادہ بددیانتی کی اور اب انہیں ہماری ضرورت بھی پڑی توفون نہیں اٹھاو¿ں گا۔نجی چینل کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے آصف زرداری نے کہا کہ ہمیں پاناما کیس کے فیصلے کا بڑی شدت سے انتظار ہے، نوازشریف کو کسی فیصلے کو ماننے کی عادت نہیں اس لیے معلوم نہیں کہ وزیراعظم پاناما کیس فیصلے کے بعد کیا کریں گے تاہم پاناما فیصلے پر احتجاج جمہوریت کے لیے اچھا نہیں ہوگا جب کہ فیصلہ نوازشریف کے خلاف آیا تو مان لینا بہتر ہوگا کیونک ان کے پاس بہت لوگ ہیں جن میں سے کسی کو بھی وزیراعظم بناسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکمران جمہوریت کو نقصان پہنچا رہے ہیں اور وہ شہنشاہ بن کر پارلیمنٹ چلا رہے ہیں جب کہ حکومت کے خاتمے تک پورے پاکستان میں تحریک چلائیں گے۔سابق صدر کا کہنا تھا کہ 2014 میں حکومت کوسیاسی شہید نہیں ہونے دیا لیکن اب نااہل حکمرانوں سے نجات حاصل کرنا ہی ہوگی جب کہ حکومت بھی قبل ازوقت الیکشن پرجاسکتی ہے اور ہم بھی جاسکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف نے ہمارے ساتھ بہت زیادہ بددیانتی کی اور اب نوازشریف کو ضرورت بھی پڑی توفون نہیں اٹھاو¿ں گا جب کہ وفاق اورصوبے کی لڑائی ہے جو بات چیت کے ذریعے ہی حل ہوسکتی ہے لیکن وفاق تنازعات کو سیاسی معاملہ بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نواز حکومت سستا تیل ملنے کے باوجود بجلی سستی نہیں کررہی، اب توکسان کے پاس پانی ہے نہ بجلی، حکمران روڈ بنواسکتے ہیں اور کمیشن لے سکتے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرسکتے جب کہ میں نوازشریف سے بہتر مینجمنٹ کرسکتا ہوں۔

پانامہ کیس فیصلہ،وزیر اعظم نواز شریف ہیں اور رہیں گے

قصور(ویب ڈیسک) وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ سوئس بینکوں میں پڑا 6 ارب روپیہ پکار رہا ہے کہ زرداری مجھے آکر لے جاو¿۔قصور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ پاناما کیس کا فیصلہ عدالت نے دینا ہے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کروں گا لیکن نواز شریف پاناما فیصلے کے بعد بھی ملک کے وزیراعظم ہی رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ قرضے معاف کرانے والے بھی اپنے گریبان میں جھانکیں جب کہ سرے محل پر کسی نے عدالت نہیں لگائی اور سوئس بینکوں میں پڑا 6 ارب روپیہ پکار رہا ہے کہ زرداری مجھے آ کر لے جاو¿۔ غریبوں کا پیسہ کھانے والے کس طرح کرپشن کے خلاف بات کر سکتے ہیں اور زرداری کس منہ سے اقتصادی راہداری کی بات کرتے ہیں۔شہباز شریف نے کہا کہ ڈیموں میں پانی کی کمی ہے جسے پورا کرنا انسان کے بس میں نہیں ہے البتہ بجلی فراہم کرنے والی تمام کمپنیوں کے حکام کو کہ دیا ہے کہ جو افراد لوڈ شیڈنگ کے مرتبک ہیں انہیں کٹہرے میں لانا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اگلے سال کے اوائل میں ملک سے اندھیرے چھٹ جائیں گے، ملک میں اجالے ہوں گے اور پاکستان ترقی کرے گا۔

”فیصلہ خلاف آیا تو بھی نوازشریف کی جگہ مسلم لیگ ن کی حکومت رہے گی“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ پانامہ فیصلہ کچھ بھی آ سکتا ہے لیکن آصف زرداری اور عمران خان سمیت دیگر سیاسی جماعتوں کا یہ توقع رکھنا کہ اگر فیصلہ وزیراعظم کے خلاف آیا تو شاید ان کے کچھ لوگ ٹوٹ جائیں گے، بظاہر ایسا نہیں لگتا۔ اگر فیصلہ نوازشریف کے خلاف آتا ہے اور پارٹی کسی دوسرے کو وزیراعظم نامزد کر دیتی ہے تو عملاً حکومت کو چلنا چاہئے۔ اس میں بھی کوئی شبہ نہیں کہ اگر باقی تمام سیاسی جماعتیں ون پوائنٹ ایجنڈے پر متفق ہو جائیں کہ حکومت کو چلنے نہیں دینا تو قانون و آئین سازی کے ضمن میں سینٹ میں بھاری اکثریت کے باعث وزیراعظم کے مخالف پارٹیاں قومی اسمبلی کے ہر فیصلے کے سامنے رکاوٹ بن سکتی ہیں۔ عام طور پر حکومت اپوزیشن میں اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مشکل وقت میں اتحادی بنا لیتی ہے لیکن نون لیگ کیلئے ٹف ٹائم آنے والا ہے۔ مولانا فضل الرحمان ہمیشہ کی طرح ادھر کھڑے ہوں گے جہاں سے ان کو فائدہ ہو، حکومت ہو یا اپوزیشن جدھر سے زیادہ فائدہ ہو گا وہ ادھر چلے جائیں گے۔ فضل الرحمان صرف سودے بازی کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ زرداری تندوتیز حملے کر رہے ہیں لیکن ان کا سابقہ ریکارڈ کوئی اچھا نہیں۔ آصف زرداری حکومت کی مخالفت کے ساتھ ساتھ گفت و شنید کا دروازہ کھلا رکھیں گے اور بارگیننگ کرتے رہیں گے۔ زرداری کسی بھی وقت بدل سکتے ہیں۔ مفاہمت کا دروازہ کھول کر گٹھ جوڑ کر سکتے ہیں۔ پی پی قیادت ہمیشہ سے دباﺅ بھی ڈالتی ہے اور دوسری طرف مفاہمت بھی کرتی ہے۔ محترمہ بینظیر بھٹو سابق آرمی چیف پرویز مشرف کو صدر بنانے کا وعدہ کر کے این آر او کے ذریعے وطن واپس آئیں جبکہ ان کی کتاب بھی مفاہمت کے نام پر ہے۔ سیاسی دہشتگردی کا آغاز پی پی کے انتہا پسند گروپ مرتضیٰ بھٹو اور شاہ نواز بھٹو کی قیادت میں کیا۔ پی پی کے لوگوں نے ہی ملک میں توڑ پھوڑ شروع کی تھی۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ ن نے اپنے سیاسی کارڈ بڑی مہارت کے ساتھ کھیلے ہیں۔ نوازلیگ نے میڈیا کا جتنا موثر استعمال کیا، کسی سیاسی جماعت نے میڈیا کے ذریعے اتنی کامیابیاں حاصل نہیں کیں۔ نوازشریف نے آن ریکارڈ پنجاب حکومت کو بہتر انتظامی صلاحیت دے کر عوام کے سامنے پیش کیا۔ جبکہ پیپلزپارٹی سندھ کو بطور نمونہ پیش نہیں کر سکی۔ کے پی کے میں عمران خان کی حکومت بھی کوئی خاطر خواہ کامیابی حاصل نہیں کر سکی۔ کے پی کے حکومت کی میڈیا پر گرفت نہ ہونا اس کی بڑی کمزوری ہے۔ نواز حکومت نے نہ صرف کام کیا بلکہ اپنی فتوحات و کامیابیوں کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ عوام تک منتقل بھی کیا۔ نوازشریف نے مریم نواز کی بڑی محنت کے ساتھ تربیت کی، اسی وجہ سے مریم نواز نے نون لیگ کے میڈیا سیل کے وسائل کوبہتر انداز میں استعمال کر کے دکھایا۔ پیپلزپارٹی سمیت بہت سارے لوگوں کے پاس وسائل ہیں لیکن وہ صحیح استعمال نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ پانامہ فیصلہ جو بھی آئے لیکن عمران خان کی جدوجہد نے ملک میں بہت بڑا اثر چھوڑا ہے، انہوں نے اپنے آپ کو منوایا ہے کہ جب وہ ڈٹ جاتے ہیں تو ان کو کسی بھی طرح ڈرایا دھمکایا نہیں جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ پولیس ایک کمزور ادارہ ہے، مشال قتل کیس میں پولیس تحقیقات کوئی معنی نہیں رکھتی۔ تجزیہ کار نے بابری مسجد کیس کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بھارت ایک ہندو سٹیٹ ہے، بھارتی مسلمانوں کے سامنے بھی واضح ہو گیا ہے کہ ان کا سیکولرازم کا ڈھونگ بکواس تھا جبکہ اصل چہرہ کچھ اور ہی ہے۔

پانامہ فیصلے پر کروڑوں کا سٹہ, فیورٹ کون؟, دیکھئے خبر

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک ) پاناما کیس کا فیصلہ توآج آئے گا مگر اس فیصلے کے حوالے سے لاہور شہر میں کروڑوں روپے کا سٹہ لگ گیا۔نجی ٹی وی کے مطابق پاناما کیس فیصلے پر لاہور شہر میں سٹہ مافیا سرگرم ہو گیا ، لوگوں نے کروڑوں روپے کا سٹہ لگا رکھا ہے اور سٹے بازوں نے وزیر اعظم کو کلین چٹ ملنے کو فیورٹ قرار دیدیا ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کے حق میں فیصلے کا بھاﺅ 50پیسے مقرر ہے جبکہ ان کے خلاف فیصلے کا ریٹ 2روپے مقرر ہے تاہم پاناما فیصلے پر آخری سٹہ جمعرات دوپہر 12بجے تک لگ سکتا ہے۔

پانامہ کیس کا تاریخی فیصلہ, قوم کی نظریں سپریم کورٹ پر, حکومتی حلقوں میں بے چینی

اسلام آباد (خبر نگار خصوصی) وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ کسی فیصلے کا انتظار نہیں ،ہمیں عوام نے فیصلوں کے انتظار کے لیے نہیں بلکہ کام کرنے کے لیے منتخب کیا ہے ۔نجی ٹی وی کے مطابق پاناماکیس کے فیصلے کی تاریخ کے اعلان کے بعد آج وزیراعظم کی زیر صدار اہم اجلاس ہوا جس میں مسلم لیگ نے کے سینئر رہنماں نے شرکت کی ۔اس موقع پر ایک رہنما نے پاناما کے فیصلے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انشااللہ فیصلے کے بعد سب بہتر ہو جائے گا جس پر وزیر اعظم نے برجستہ جواب دیا ہمیں کسی فیصلے کا انتظار نہیں ہے، عوام نے ہمیں اس لیے منتخب نہیں کیا کہ فیصلوں کا انتظار کریں بلکہ کام کرنے کے لیے عوام نے منتخب کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلہ جو بھی آئے، عام انتخابات اپنے وقت پر ہی ہونگے،کارکنان فعال ہو جائیں اور پارٹی رہنما ترقیاتی کاموں کو تیز کر دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی کام کے بغیر منتخب نہیں ہوسکتا، ترقیاتی کاموں کو وقت پر ختم کرنا ہے۔ اس موقع پر چوہدری نثار نے کہا کہ زرداری ٹولے نے سندھ میں کوئی کام نہیں کیا، ان کے کام بھی وفاقی حکومت کو ہی کر نے پڑ رہے ہیں۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ پانامہ کیس کے حوالے سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا انشاءاللہ بہتر ہوگا۔ ہمارے ہاتھ صاف ہیں اللہ سے سرخرو ہونے کا یقین ہے۔ پانامہ کے حوالے سے جو بھی فیصلہ ہوگا اسے قبول کرینگے اللہ پر یقین ہے کہ ہم سرخرو ہونگے۔ جبکہ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ لوڈ شیڈنگ کے ذمہ دار لوگ آج احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں، وہ خود پاکستان کو اندھیروں میں ڈبو کر گئے، ان کو احتجاج کرنے کی دھمکی دینے پرشرم آنی چاہیے، ان کا بویا آج قوم کاٹ رہی ہے، ہمارے ملک میں ایک سال کاکام دس سال میں مکمل کرنے اور دس ارب کے منصوبے پر 100ارب روپے لگانے کی روایت ہے لیکن ہم نے یہ روایتیں توڑدی ہیں، آج سے 18ماہ پہلے بھکی پاور پلانٹ منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا اور اب اس کا افتتاح کردیا، اس پاکستان کی تاریخ میں نئے بات کا اضافہ ہورہا ہے،مئی میں چشمہ نیوکلیئرپاور پلانٹ فور، حویلی بہادر شاہ کا افتتاح کریں گے، جون میں ساہیوال کول پاورپلانٹ ، اگست میں بلوکی، دسمبرمیں پورٹ قاسم بجلی گھرکا افتتاح کریں گے اس کے علاوہ فروری 2018ءمیں تربیلا اور نیلم جہلم بھی مکمل ہوجائیں گے، اگلے سال جون تک کل 8ہزار 946 میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی، 2018ءکے بعد بھاشا اور داسو پلانٹس کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے پاس وافر مقدار میں بجلی ہوگی،لوڈشیڈنگ کی موجودہ لہر پر ذمہ داران کو سامنے لائیں گے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لیں گے، ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں سے سوال ہونا چاہیے، پورے ملک سے اندھیروں کے خاتمے کےلئے پر عزم ہیں،آج مخالفین دھرنے دیتے ہیں‘جھوٹ بولتے ہیں مگر الیکشن ہار جاتے ہیں، بڑے بول بولنا چھوڑ دو تہمتیں لگانا بند کرو‘ خدا سے ڈرو اور کچھ سیکھو۔ وہ بدھ کو شیخوپورہ میں ایل این جی سے چلنے والے 1180میگاواٹ پیداواری صلاحیت کے بھکی پاور پلانٹ کے افتتاح کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔انہوں نے کہا کہ میں نے ٹھیک 18ماہ پہلے یہاں آکربھکی منصوبے کی بنیاد رکھی تھی اور اب خدا کے کرم سے منصوبے کے افتتاح کیلئے حاضر ہوں، پاکستان کی تاریخ میں نئے بات کا اضافہ ہورہا ہے، پاکستان میں روایت ہے کہ ایک سال کے کام کو دس سال میں مکمل کیا جاتا ہے اور دس ارب کے منصوبے پر 100ارب روپے لگائے جاتے تھے مگر ہم نے یہ منصوبہ کم سے کم وقت میں مکمل کیا ہےیہ ہماری روایت اور توقع کے خلاف ہے کہ 18ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل کریں یقین نہیں آتا کہ یہ ان لوگوں نے مکمل کیا ہے جو 18ماہ کے منصوبے کو 18سال میں مکمل کرنے کی روایت رکھتے ہیں،18ماہ میں تو ایک گھر نہیں بنتا ایک کوٹھی بنانے میں لوگ 3,3سال لگا دیتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ میں ایک نئے باب کا اضافہ ہورہا ہے،یہاں تو ایک سال کے کام کو دس سال میں کیا جاتا تھا اور دس ارب روپے کے منصوبے پر سو ارب روپے خرچ کیے جاتے تھے، لواری ٹنل پچھلے 30,40 سال میں مکمل ہوسکتی تھی،یہاں بہت ساری مثالیں موجود ہیں جہاں ہم نے برسوں ضائع کیے ہیں،ورنہ تین چار سال پہلے کا پاکستان ڈیفالٹ کرنے کے قریب نہ ہوتا۔انہوں نے کہا کہ بھکی منصوبے کی شہبازشریف صاحب ذاتی طور پر نگرانی نہ کرتے تو شاید یہ منصوبہ بھی 15سال میں 1000بلین روپے کی لاگت سے بنتا، مگر اب اس منصوبے کو صرف 77بلین روپے میں بنایا گیا ہے اور 53بلین روپے کی بچت کی گئی ہے،بلوکی پاور پلانٹ 84بلین روپے میں مکمل ہوگا اور اس میں 52ارب کی بچت کی گئی ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ اگر پاکستان پچھلے 70سالوں سے اسی طرح چلتا رہتا تو آج دنیا کی بہت بڑی معیشت کا حامل ملک ہوتا۔ محمد نوازشریف نے کہا کہ ہم نے خود اپنے آپ کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، آج وہ لوگ لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج کی دھمکی دے رہے ہیں جو خود لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار ہیں، جو پاکستان کو اندھیروں میں ڈبو کر گئے ہیں وہ احتجاج کرنے کی دھمکی دے رہے ہیں،شرم آنی چاہیے ایسے لوگوں کو آپ کا بویا ہوا قوم کاٹ رہی ہے، اگر وہ لوگ صحیح کام کرتے اور پاکستان کو اپنا ملک سمجھتے تو اس ملک کو یہ دن نہ دیکھنے پڑتے۔ انہوں نے کہاکہ ہم 2013ءمیں آتے ہی اس کام میں لگ گئے اور ملک کو اندھیروں سے نکالنے کی کوششیں شروع کردی تھیں، اکتوبر 2015ءمیں ہم نے اس منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا تھا، ٹربائنز لیٹ ہونے کی وجہ سے ہمارا شیڈول متاثر ہوا ہے مگر اس کے باوجود ہم ہر مہینے ایک ایک منصوبے کا افتتاح کرنے جارہے ہیں، مئی میں ہم چشمہ نیوکلیئر فیز فور کا افتتاح کریں گے اور مئی میں ہی حویلی بہادر شاہ کا بھی افتتاح کریں گے اس کے بعد جون میں ساہیوال کول پاورپلانٹ کا بھی افتتاح کیا جائے گا اور پھر اگست میں بلوکی،دسمبرمیں پورٹ قاسم کا افتتاح کریں گے اس کے علاوہ فروری 2018میں تربیلا اور نیلم جہلم بھی مکمل ہوجائیں گے،اگلے سال جون تک کل 8ہزار 946میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوجائے گی۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ بھکی پاورپلانٹ، بلوکی اور حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹس پنجاب حکومت نے اپنے وسائل سے لگائے ہیں، لوڈشیڈنگ کی موجودہ لہر پر ذمہ داران کو سامنے لائیں گے اور ان کے خلاف سخت ایکشن لیں گے،ہمیں بتایا گیا تھا کہ بجلی کی ڈیمانڈ ہر سال چار سے پانچ فیصد تک بڑھتی ہے مگر گذشتہ میٹنگ میں بتایا گیا کہ بجلی کی ضرورت میں سات فیصد اضافہ ہورہا ہے،ضرورت کو پورا کرنے کیلئے نئے کارخانے بھی لگائے جارہے ہیں اور پاکستان کی اکانومی بھی بڑھ رہی ہے، 2018ءکے بعد بھاشا اور داسو پلانٹس کے مکمل ہونے کے بعد پاکستان کے پاس وافر مقدار میں بجلی ہوگی۔انہوں نے کہاکہ جتنے بجلی کے منصوبے گذشتہ 70سالوں میں لگائے گئے تقریباً اتنے ہی منصوبے ہم نے پچھلے تین سالوں میں لگادیئے ہیں،ہم پاکستان میں موٹرویز بنانے پر توجہ بھی دے رہے ہیں، 1999ءمیںموٹروے کو جہاں چھوڑ گئے تھے کسی کو اس سے آگے موٹروے بنانے کی توفیق نہیں ہوئی،ہمارے اس دور میںلاہور سے کراچی موٹروے زیرتعمیر ہے،سکھر سے ملتان موٹروے سیکشن کی تعمیر بھی چند ماہ میں شروع ہوجائے گی،باقی کے سیکشن پہلے ہی زیرتعمیر ہیں،مجھے امید ہے 2019-20ءتک تمام موٹروے مکمل ہوجائے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ بلوچستان میں بھی سڑکوں کا جال بچھ رہا ہے،پہلی دفعہ بلوچستان میں 1000بلین روپے صرف سڑکوں کی تعمیر پر لگائے جارہے ہیں،سی پیک کے تحت بلوچستان میں بہت سے منصوبے لگ رہے ہیں،گوادر میں بجلی گھر بن رہا ہے اور وہاں پر موٹروے اور ائیرپورٹ بھی بنائے جارہے ہیں،ریلوے اپ گریڈ کی جارہی ہے،کچھ صوبائی حکومتیں ہیں جو اگر کچھ کرتی تو وہاں پر بھی ترقی نظر آتی۔وزیر اعظم نواز شریف نے کہا کہ وفاقی حکومت کراچی میں لاءاینڈ آرڈر کی صورتحال کو ٹھیک کرے ‘ جہاں پر میٹرو بھی بنائے۔ وہاں پینے کے پانی کے پلانٹس لگائے۔ لیاری ایکسپریس بنائے اور اس کے علاوہ سندھ کے اور منصوبوں کو بھی وفاق ہی اپنی خدمات پیش کرے۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم وہاں پر بھی کام کر رہے ہیں مگر یہ کام صوبائی حکومت کے ہیں ان کو اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنا چاہیے۔ پنجاب حکومت خود سے اپنے منصوبے مکمل کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں نیا ہوائی اڈا بنا رہے ہیں جس کے ساتھ میٹرو بس روٹ کو ملادیا جائے گا۔ ملک کو اندھیروں میں دھکیلنے والوں سے سوال ہونا چاہیے ۔ 2013ءکے مقابلے میں آج کا بلوچستان بہت پر امن ہے بلوچستان میں ترقی کا عمل زور و شور سے جاری ہے اور سیاسی استحکام بھی آیا ہے۔ ہم پورے ملک سے اندھیروں کے خاتمے کےلئے پر عزم ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ مشکل وقت میں ساتھ دینے پر چین کی قیادت کے شکر گزار ہیں۔ خنجراب سے گوادر تک بہترین شاہراہ بنائی جا رہی ہے۔ اقتصادی راہداری سے پورے خطے کی 3 ارب سے زائد آبادی مستفید ہو گی۔ ہماری نظر 2018ءپر نہیں بلکہ آئندہ 25 سال کی ترقی پر مرکوز ہے۔ پاکستان مشکلات سے نکل رہا ہے۔ دہشت گردی کی کمر ٹوٹ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو مشکلات میں دھکیلنے والے آج بڑھ چڑھ کر باتیں کر رہے ہیں۔ ملک کو دپیش چیلنجز پر پہلے توجہ کیوں نہیں دی گئی۔ آج مخالفین دھرنے دیتے ہیں‘ جھوٹ بولتے ہیں مگر الیکشن ہار جاتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی چکوال کے ضمنی انتخاب میں مسلم لیگ (ن) کامیاب ہوئی۔وزیر اعظم نے کہاکہ بڑے بول بولنا چھوڑ دو تہمتیں لگانا بند کرو‘ خدا سے ڈرو اور کچھ سیکھو۔ علاوہ ازیں وزیراعظم محمد نواز شریف نے کہا ہے کہ سندھ جانا ہمارا حق ہے ،اگر کسی نے سندھ میں کام نہیں کیا تو ا±سے نتائج کےلئے بھی تیار رہنا چاہئے، سیاسی مخالفین کو پورا پورا حق ہے کہ وہ پنجاب سمیت جہاں جانا چاہیں بڑے شوق سے جائیں، عوام ہماری کارکردگی دیکھ رہے ہیں اور دوسروں کے کام بھی عوام کے سامنے ہیں، مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے، آئندہ بھی شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ عوام سے مسلسل رابطہ رکھا جائے، ترقی، خوشحالی اور روشن پاکستان کا پیغام سندھ کے ہر شہر ، گاو¿ں اور گوٹھ کے عوام تک پہنچایا جائے۔بدھ کو اسلام آباد میں مسلم لیگ (ن) سندھ کے تنظیمی اجلاس کی صدارت کرئے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سندھ جانا ہمارا حق ہے اور اگر کسی نے سندھ میں کام نہیں کیا تو ا±سے نتائج کےلئے بھی تیار رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی مخالفین کو بھی پورا پورا حق ہے کہ وہ پنجاب سمیت جہاں جانا چاہیں بڑے شوق سے جائیں، عوام ہماری کارکردگی دیکھ رہے ہیں اور دوسروں کے کام بھی عوام کے سامنے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے ہمیشہ کارکردگی کی بنیاد پر ووٹ حاصل کیے ہیں اور آئندہ بھی شاندار کاکردگی کا مظاہرہ کریں گے۔ وزیراعظم نے پارٹی اراکین کو تاکید کی کہ وہ عوام سے مسلسل رابطہ رکھیں اور ترقی ، خوشحالی اور روشن پاکستان کا پیغام سندھ کے ہر شہر ، گاو¿ں اور گوٹھ کے عوام تک پہنچائیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ سندھ میں عوام کی تائید حاصل ہورہی ہے اور پذیرائی میں اضافہ ہو رہاہے۔ مسلم لیگ (ن) کے پارٹی اراکین کو وزیراعظم نے کہا کہ اگر آپ محنت کرتے رہیں گے تو انشااللہ بہت اچھے نتائج حاصل کریں گے۔ وزیراعظم نے مسلم لیگ (ن) سندھ کے صدر بابو سرفراز خان جتوئی کو کہا کہ ایک عوامی رابطے کا پروگرام جلد ترتیب دیا جائے تاکہ صوبہ سندھ میں بھی عوامی رابطے اور سیاسی سرگرمیوں کا جلد آغاز کیا جاسکے۔ وزیراعظم نے سندھ کے شہروں کی حالت زار پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ا±ن کا عزم ہے کہ سندھ کے عوام کو جدید شہری ، طبی اور تعلیمی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ سندھ کے عوام کا معیارِ زندگی بہتر سے بہتر ہوسکے۔ قائد ایوان سینٹ راجہ ظفر الحق ، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان ، وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ،گورنر سندھ محمد زبیر، وزیراعظم کے مشیر جام معشوق علی، چیئرمین سرمایہ کاری بورڈ مفتاح اسماعیل ، وزیر کے مشیر برائے سیاسی امور، ڈاکٹر آصف کرمانی ، مریم نواز ، چیئرمین بےنظیر انکم سپورٹ پروگرام ماروی میمن ،صدر مسلم لیگ (ن) سندھ بابو سرفراز خان جتوئی ، نائب صدر مسلم لیگ (ن) سندھ شاہ محمد شاہ، سنیٹر نہال ہاشمی، سینیٹر پرویز رشید، سنیٹر مشاہد اللہ خان، سنیٹر نزہت صادق، سنیٹر بیگم نجمہ حمید ، سنیٹر سلیم ضیائ، کیپٹن (ر) محمد صفدر ، صدر اقلیتی ونگ مسلم لیگ (ن) ڈاکٹر درشن لال ، سید ایاز علی شاہ شیرازی ، جعفر اقبال، بیگم عشرت اشرف، چیئرمین متروکہ املاک صدیق الفاروق، آرگنائزر خواتین ونگ زاہدہ بھند، صدر اقلیتی ونگ مسلم لیگ (ن) سندھ ڈاکٹر شام سندھر اڈوانی، جنرل سیکرٹری اقلیتی ونگ کھیل داس کوہستانی، زین انصاری ، صدر یوتھ ونگ سندھ راجہ خلیق الزمان انصاری، سیکرٹری اطلاعات مسلم لیگ (ن) سندھ اسلم ابڑو ، بیگم صورت تھیبو اور چوہدری طارق اجلاس میں شریک ہوئے۔ وزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے گذشتہ تین سال میں اقتصادی استحکام حاصل کرلیا ہے،پاکستان خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے،ملک میں سلامتی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے،بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بے مثال ترقی ہوئی ہے،آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں انقلاب آیا ہے،حکومت ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے۔بدھ کو علی بابا گروپ کے صدر مائیکل ایونز سے ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئےوزیراعظم محمد نوازشریف نے کہا کہ پاکستان نے گذشتہ تین سال میں اقتصادی استحکام حاصل کرلیا ہے،پاکستان خطے میں تیزی سے ترقی کرنے والی معیشتوں میں شامل ہے،ملک میں سلامتی کی صورتحال میں نمایاں بہتری آئی ہے،ملک میں صنعتوں کو بلاتعطل بجلی کی فراہمی ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک میں بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں بے مثال ترقی ہوئی ہے،آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے میں انقلاب آیا ہے،حکومت ادارہ جاتی اصلاحات پر توجہ دے رہی ہے،بہتر طرز حکمرانی اور ٹیکس کے ڈھانچے میں اصلاحات کی جارہی ہیں۔اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے مائیکل ایونز نے کہا کہ پاکستان میں آئی ٹی اور ٹیلی کمیونیکیشن کے شعبے کی ترقی دیکھ کر بے حد متاثر ہوا ہوں،دونوں شعبوں کی ترقی نے ملک میں ای کامرس کو فروغ دیا ہے،علی بابا ای پلیٹ فارم چھوٹے اور درمیانے کاروبار کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کرے گا۔
اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) پی ٹی آئی نے اپنا فیصلہ سنا دیا کہ فیصلہ کچھ بھی آئے، عوام میں جائیں گے، تحریک انصاف کی جانب سے اسلام آباد کے پریڈ گراﺅنڈ میں بڑے عوامی جلسے کا اعلان کیا گیا ہے۔ عمران خان کی زیر صدارت تحریک انصاف کے کور گروپ کے اجلاس میں پی ٹی آئی کی مرکزی اور صوبائی اعلیٰ قیادت شریک ہوئی، اجلاس میں کیس کے فیصلے کے بعد کی صورتحال اور حکمت عملی پر غور کیا گیا، یہ طے کیا گیا کہ فیصلے کے بعد فوراً اجلاس بلا کر حکمت عملی طے کی جائے گی۔ عمران خان نے فیصلے کے موقع پر کارکنوں کو سپریم کورٹ آنے سے روکنے کا حکم دے دیا، اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ صرف مرکزی قائدین فیصلہ سننے سپریم کورٹ جائیں گے۔ اجلاس میں پی ٹی آئی اسلام آباد کو جلسے کیلئے متحرک ہونے کا حکم دیا گیااور کہا گیا ہے کہ جلسے کی تاریخ کا تعین اسلام آباد انتظامیہ کی اجازت سے مشروط ہوگا۔ تحریک انصاف نے پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد یوم تشکر منانے کا فیصلہ کیا ہے، میڈیا رپورٹ کے مطابق سپریم کورت کی جانب سے پانامہ کیس کا محفوظ فیصلہ جمعرات کو سنانے کا کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کی جانب سے جمعہ کو یوم تشکر منانے کا اعلان کیاگیا، یوم تشکر کیلئے ملک بھر سے کارکنوں کو دعوت دی جائیگی۔ یوم تشکر پر اسلام آباد کے پریڈگراو¿نڈ میں جلسے کی تجویز پر بھی غور کیاجائیگا، باقاعدہ منظوری عمران خان دینگے۔ پانامہ کیس کے آج آنے والے فیصلے کے باعث تحریک انصاف نے تمام سرگرمیاں معطل کردیں، آج (جمعرات ) لوڈشیڈنگ کے خلاف ہونے والے احتجاج کی کال موخر، اہم قیادت کو بھی اسلام آباد طلب کرلیاگیا، ذرائع کے مطابق تحریک انصاف نے لوڈشیڈنگ کے خلاف آج پریس کلب کے باہر احتجاج کی کال دی تھی جسے پانامہ کیس کے فیصلے کے باعث موخر کردیاگیاہے، اب پانامہ کیس کے فیصلے کے بعد لوڈشیڈنگ کیخلاف احتجاج کیا جائیگا، ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کی اہم قیادت کو بھی اسلام آباد طلب کرلیاگیا ہے ، چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پانامہ کا اثر پورے پاکستان پر مرتب ہوگا، فیصلہ پاکستان کی سیاست بدل کررکھ دیگا، پورا ملک پانامہ فیصلے کا شدت سے منتظر ہے، یہ بات انہوں نے گذشتہ روز تحریک انصاف کی کورکمیٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی، اجلاس عمران خان کی زیرصدارت بنی گالہ میں منعقد ہوا، انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ پانامہ میں تحریک انصاف نے تاریخی جدوجہد کی ہے اور آج اس مقام پر پہنچ کر میں اپنے ہرکارکن کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، پاکستان کا مستقبل آج تحریک انصاف کی راہ تک رہاہے، عمران خان نے کورکمیٹی سے خطاب کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ کرپشن آج حقیقت میں پاکستان کا سب سے بڑا ایشو بن چکا ہے، قوم جان چکی ہے کہ پاکستان میں مسائل کی سب سے بنیادی وجہ کرپشن ہے، قوم پانامہ کیس پر بحث و تمحیص سے اس کی نوعیت کو سمجھ چکی ہے، ان کا کہنا تھا کہ آج ہماری جدوجہد کے باعث کرپٹ سٹیٹس کو لرز رہا ہے، کل کے فیصلے کے بعد کے پاکستان اور آج کے پاکستان میں بہت فرق ہوگا، عمران خان نے کہا کہ حکومت 2013ءکے الیکشن میں کئے گئے وعدے پورے کرنے میں یکسر ناکام رہی ہے، اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات لانے میں مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا ہے، سرکاری اداروں اور چوری شدہ بجلی کا سارابوجھ بلوں کی ادائیگی کرنیوالے صارفین پر ڈالاجارہاہے، یہ بات تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے آج اپنے ایک بیان میں کہی، انہوں نے ملک بھر میں بجلی کی طویل بندش پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نیلم، جہلم منصوبے میں تاخیر، نندی پور اور گڈانی پاور جیسے ناکام منصوبے حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہیں، نوازشریف کے حکومت میں آنے سے قبل بجلی کا شارٹ فال 3000میگاواٹ تھا، چار سال بعد بجلی کی قلت 3ہزار سے بڑھ کر 9،10ہزار میگاواٹ کی بلند ترین سطح کو چھو رہی ہے، چار سال تک شریف خاندان کی تصویروں سے بھرے ہوئے اشتہارات چلا چلا کر بجلی بحران کے خاتمے کے اعلان کئے جاتے رہے، انہوں نے مزید کہا کہ چار سال بعد حالت یہ ہے کہ بجلی کی قلت تین ہزار سے نوہزار میگاواٹ تک جاپہنچی، ستم ظریفی کا عالم یہ ہے کہ بجلی کے وزیر بحران کی ذمہ داری موسم کی شدت پر ڈال رہے ہیں، گذشتہ روز چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کی زیر صدارت پارٹی قیادت کا اہم اجلاس منعقد ہوا، اجلاس میں ن لیگ کے غیر جمہوری رویوں اور اقدامات کا خصوصی جائزہ لیاگیا، تحریک انصاف کی جانب سے ن لیگ کے شدت پسندانہ اقدامات کی شدید مذمت بھی کی گئی، اجلاس کی تفصیلات بتاتے ہوئے تحریک انصاف مرکزی سیکرٹری اطلاعات و مرکزی ترجمان نعیم الحق نے کہا کہ تحریک انصاف کو پنجاب کے مختلف شہروں میں دھمکی آمیز اشتہاری مہم پر گہری تشویش ہے، ن لیگ پانامہ فیصلے سے فرار کی خاطر تناو¿ اور تصادم کا ماحول بنا رہی ہے، نعیم الحق کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ پر نوازلیگ کے سابق حملے کی بیشتر منصوبہ بندی پنجاب ہاو¿س سے کی گئی تھی، ججز پر دباو¿ ڈالنے اور پاکستان کو انتشار کی نذر کرنے کی کوئی حکومتی کوشش اب کامیاب نہیں ہونے دینگے، نعیم الحق نے مزید کہا کہ نوازلیگ سپریم کورٹ پر حملہ کرنے اور ججوں کو ہراساں کرنے کی تاریخ رکھتی ہے۔
اسلام آباد (کرائم رپورٹر‘ نیوز ایجنسیاں) سپریم کورٹ کی جانب سے پانامہ کیس کا فیصلہ آج سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے مقدمات سے متعلق ضمنی کازلسٹ جاری کردی ہے جس کے مطابق پانامہ کیس کا محفوظ فیصلہ کل 20 اپریل کو دوپہر 2 بجے سنایا جائے گا۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 5 رکنی لارجر بنچ نے کیس کی سماعت کی ‘ بنچ میں جسٹس اعجاز افضل خان‘ جسٹس گلزار احمد‘ جسٹس عظمت سعید اور جسٹس اعجاز الحسن شامل ہیں۔ لارجر بنچ نے 26 سماعتیں مکمل ہونے کے بعد 23 فروری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب تقریباً 2 ماہ بعد سنایا جائے گا۔ سپریم کورٹ کی طرف سے پانامہ لیکس کیس کے فیصلے کے موقع پر جمعرات کو وفاقی دارالحکومت میں سیکیورٹی ریڈ الرٹ ہوگی، ریڈزون میں عام افراد کا داخلہ بند ہوگا، بغیر پاس سپریم کورٹ کی عمارت میں کسی کو جانے کی اجازت نہیں ہوگی، ایس پی سکیورٹی سپریم کورٹ احمد اقبال نے پی ٹی آئی، ن لیگ، جماعت اسلامی اور عوامی مسلم لیگ کے رہنماﺅں سے رابطہ کرکے عدالت آنے والوںکی فہرست حاصل کرلی ہے، بڑی سیاسی جماعتوں کو 15,15پاسز دیئے جائیں گے، سیاسی جماعتوں کو کارکنان کو عدالت کی طرف نہ لانے، امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھنے اور قانون کو کسی صورت ہاتھ میں نہ لینے کا کہا گیا ہے، ریڈ زون اور سپریم کورٹ کی عمارت کی سیکیورٹی پر پولیس اور رینجرز کے 1500سے زائد اہلکار تعینات ہوں گے، ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کیلئے اسلام آباد میں پہلے سے موجود پاک فوج کے دستے اہم عمارتوں کی سکیورٹی کیلئے طلب کیے جا سکتے ہیں، سکیورٹی صورتحال کی مانیٹرنگ سیف سٹی کمانڈ اینڈکنٹرول سنٹر میں ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں پانامہ لیکس کیس کا فیصلہ سننے کیلئے آنے والے سیاسی رہنماﺅں کی فہرستیں ایس پی سیکیورٹی احمد اقبال نے حاصل کرلی ہیں،سیاسی جماعتوں کی طرف سے دیئے گئے ناموں کے مطابق کمرہ عدالت کیلئے پاسز جاری ہوں گے، احاطہ عدالت میں بھی سیاسی کارکنوںکے داخلے پر پابندی ہوگی،صرف وہی شخص عدالت جاسکے گا، جس کوپاس دیاجائے گا، عدالت کے اندر اور باہر سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات ہوں گے، احاطہ عدالت میں بھی پولیس اور رینجرز اہلکار ہوں گے جبکہ عدالت کی عمارت کے اندر پولیس کی اسپیشل برانچ کے اہلکار تعینات کیے جائیں گے تاکہ کسی بھی صورتحال سے فوری طور پر نمٹا جا سکے، سپریم کورٹ کی عمارت اور ریڈ زون کی سکیورٹی کیلئے پولیس اور رینجرز تعینات ہوں گی جو (آج) جمعرات کو اللصبح اپنی ڈیوٹیوں پر پہنچ جائیں گی، مجموعی طور پر 1500سے زائد اہلکار سکیورٹی ڈیوٹیاں دیں گے، ہنگامی صورتحال پیدا ہونے پر ریڈزون کی عمارتوں کی سیکیورٹی کیلئے پاک فوج کے دستے تیار رہیں گے، تمام سینئر پولیس افسران سکیورٹی ڈیوٹیاں خود چیک کریں گے۔ ایس پی سکیورٹی احمد اقبال نے سیاسی جماعتوں سے کہا ہے کہ وہ اپنے کارکنان کو عدالت کی طرف نہ آنے دیں، دوسری طرف آئی جی اسلام آباد خالد خٹک کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا جس میں پولیس، انتظامیہ اور رینجرز کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ اور ریڈزون کی سکیورٹی سے متعلق پلان کو حتمی شکل دی گئی، تمام افسران کو ہدایت کی گئی کہ وہ موقع پر موجود رہیں اور سیکیورٹی انتظامات کا خود جائزہ لیں اور سیاسی جماعتوں کو پابند کریں کہ وہ امن و امان کو ہرحال میں برقرار رکھیں اور کوئی بھی قانون کو ہاتھ میں نہیں لے گا۔ اس موقع پر پولیس کا سیاسی رہنماﺅںکوسرکل سکیورٹی دینے کا فیصلہ کرلیا گیا‘ جس کے تحت چھ سے آٹھ پولیس اہلکار ہر سیاسی رہنما کی سکیورٹی پر مامور ہوںگے۔ عمران خان‘ شیخ رشید اور سراج الحق کو خصوصی سکیورٹی دی جائے گی۔ فیصلے کے دن سیاسی جماعتوںکے کارکنوں کے سپریم کورٹ میں داخلے پر پابندی ہوگی۔ کارکنوں کوروکنے کے لئے ریڈزون کے ناموں پر اضافی نفری تعینات ہوگی۔ پانامہ کیس کا فیصلہ وفاقی پولیس نے سپریم کورٹ کے سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل دیدی۔ سکیورٹی انتظامات کو حتمی شکل آئی جی خالد خٹک کی سربراہی میں دی گئی ہے جس کے مطابق ریڈزون میں عام افراد کا داخلہ بند ہوگا۔ صرف خصوصی پاسز کے حامل افراد ہی سپریم کورٹ میں داخل ہونگے۔ سپریم کورٹ کے گرد پولیس اور رینجرز کے 3 حفاظتی حصار قائم ہونگے۔ سپیشل برانچ کے اہلکارپورے ریڈ زون میں داخل ہونگے۔ سیوفٹی کے کیمروں کی مدد سے بھی سکیورٹی پر نظر رکھی جائے گی۔ جبکہ ریڈزون میں داخل ہونے والی ہر گاڑی کی خصوصی تلاشی لی جائے گی۔

پانامہ کیس کے فیصلے سے ملکی سیاست میں زلزلہ آ جائیگا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پانامہ لیکس کے فیصلے سے حکومت پریشان ہے۔ حکومت کو اندازہ ہو گیا کہ فیصلہ ان کے خلاف آ رہا ہے فیصلہ جو بھی آئے عوام کی فتح ہونے جا رہی ہے۔ لگتا ہے کہ عدالت نوازشریف کو مستعفی ہونے کا کہے گی، کمیشن بھی بنا تو بھی نوازشریف سے مستعفی ہونے کا کہا جائے گا۔ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شیخ رشید نے کہا کہ فیصلہ نوازشریف کے خلاف آتے دیکھ رہا ہوں۔ پانامہ فیصلہ کے بعد ڈان لیکس کا معاملہ بھی گھنٹوں کا ہی رہ جائے گا۔ پانامہ فیصلہ سے سیاست میں زلزلہ آ جائے گا، وقت سے پہلے الیکشن ہو سکتے ہیں۔ ن لیگ کا شرارت کا بھی موڈ لگ رہا ہے اس لئے بینرز لگانا شروع کر دیئے ہیں۔ ڈان لیکس کا فیصلہ طے ہو چکا ہے اس لئے روکا گیا کہ پانامہ پر اثر انداز نہ ہو طارق فاطمی، پرویز رشید، اطلاعات کا ایک افسر فارغ ہے۔ نوازشریف کو بندوں کو استعمال کرنے کی عادت ہے۔ ٹرکوں میں لوگ اور بینر بھر کر راولپنڈی لائے گئے ہیں ۔ شیخ رشید نے کہا کہ پی پی کے ووٹ مزید کم ہو جائیں گے آصف زرداری کا تو چہرہ دیکھ کر لوگ چینل بدل دیتے ہیں۔ پانامہ فیصلہ کے بعد پی ٹی آئی کا گراف اوپر جائے گا۔ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کے درمیان اب میچ فکس نہیں ہے۔ آصف زرداری نے اعتزاز احسن کو پانامہ کیس نہیں لرنے دیا۔ سعودی عرب سے اانے کے بعد نوازشریف نے کرپشن مزید تیز کر دی اسے پہلی بات پتہ چلا تھا کہ اصل پیسہ تو پاور پلانٹس میں ہے۔ آصف زرداری اگر بلاول بھٹو کو آگے کر دے تو پی ٹی آئی سے اس کا انتخابی اتحاد کی بات کر سکتا ہوں۔ عمران خان کو چھوٹی پارٹیوں کو 50 سے 100 سیٹیں دینی چاہئیں تا کہ پنجاب میں ن لیگ کو شکست دی جا سکے۔ بارہا کہہ چکا ہوں کہ الیکشن 2017ءمیں ہوں گے۔ نوازشریف اردگان بننے کی کوشش میں ہیں جو اس کی خام خیالی ہے، میں نوازشریف کے ساتھ رہتے ہوئے بھی گلف سٹیل ملز سے بے خبر رہا۔ آج کے دن جمہوریت کا بڑا دن ہو گا، آئین کی تشریح ہو جائے گی 62,63 کا فیصلہ ہو گا، کرپٹ حکمرانوں کا راستہ رک جائے گا۔ پنجاب میں الیکشن میں اصل مقابلہ تحریک انصاف اور ن لیگ کے درمیان ہو گا۔ پانامہ فیصلہ آنے کے بعد اگلا لائحہ عمل طے کریں گے۔ آرمی چیف جنرل باجوہ سابق آرمی چیف سے بھی زیادہ تیزی سے کام کر رہے ہیں۔ شیخ رشید نے کہا کہ نوازشریف اگر جہانگیر کرامت جیسے جنرل کے ساتھ نہیں چل سکتے تو کسی آرمی چیف کے ساتھ چلنا ممکن نہیں ہے، کلبھوشن کو پکڑنا آرمی کا بہت اہم کارنامہ تھا نوازشریف اس پر ایک لفظ نہ بولا۔ ترکی میں کہا کہ آپریشن ردالفساد میرے پی ایم ہاﺅس سے شروع ہوا ہے۔ گورنر سندھ زبیر تو کونسلر بننے کے بھی لائق نہیں ہے۔شیخ رشید احمد نے کہا ہے کہ پانامہ کیس میں پاکستان پیپلزپارٹی نے حصہ نہ لے کر تاریخ کی بڑی غلطی کی،پانامہ فیصلے سے ملکی سیاست بدلتی ہوئی دیکھ رہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ بے وقوف ہوگا جو فیصلے کے موقع پر لڑے گا،جسٹس سجاد علی شاہ کا دور نہیں راولپنڈی میں رکشے بینر اور چار ماہ کی تنخواہیں دی جارہی ہیں۔انہوں نے کہا کہ پانامہ کا فیصلہ لکھا جاچکا ہے میں عدالت سے کہا ہے کہ جو 21لوگ گھر کو نہ بھیجے اس یا ان کو واپس لایا جائے یا 62اور 63کے تحت نوازشریف کے خلاف فیصلہ کیا جائے،کرپٹ لوگوں کو فیصلے سے سزائے لگے گی۔شیخ رشید نے کہا کہ سرکاری وکیلوں کے نام بھی پانامہ پیپرز میں ہیں۔پانامہ فیصلے کو صدیوں یاد رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ پانامہ فیصلے کے بعد عام انتخابات 2017میں دیکھ رہا ہوں۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ پاناما کیس کا فیصلہ ملک کی صحیح راہ کا تعین اور کرپشن کے گرد گھیرا تنگ کرے گا۔ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ن لیگ کا سیاسی جنازہ نکلے گا اور قانون سرخرو ہوگا۔ نوازشریف شرارتی لوگوں کے مشورے مت سنیں۔ حوصلے کے ساتھ فیصلہ سنیں۔ آج پاکستان میں ایک نیا سورج طلوع ہوگا۔ نوازشریف کے بعد آصف زرداری کی باری آئے گی۔ شیخ رشید نے کہا کہ نوازشریف کا ذوالفقار علی بھٹو سے کسی صورت موازنہ نہیں کیا جاسکتا شریف خاندان نے 3 دہائیوں میں عوام کی فلاح کیلئے کچھ نہیں کیا یہاں اپنے لئے اربوں مالیت کے محل ضرور کھڑے کرلئے یہ ترقیاتی منصوبہ دراصل کمیشن منصوبہ ہوتا ہے۔ گو نواز گو عوامی نعرہ بن چکا ہے۔

پانامہ کے فیصلے کا اعلان, سٹاک ایکسچینج پر بجلی بن کر گر پڑا!!!

کراچی (آن لائن)پاناماکیس کے فیصلے کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں شدید مندی کا رجحان دیکھا جا رہا ہے ،کاروبار کے آغاز میں ہی کے ایس ای 100انڈیکس 582پوائنٹس کی کمی کے بعد 46ہزار 292پوائنٹس کی سطح پر آگیا۔تفصیل کے مطابق پاناما کیس کے فیصلے کی تاریخ کا اعلان ہونے کے بعد پاکستان سٹاک ایکسچینج میں ہیجانی کیفیت پائی جا رہی ہے ،سرمایہ کاروں نے کے ایس ای 100انڈیکس میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر دکھائی جس کی وجہ سے انڈیکس میں شدید کمی ہوئی۔سرمایہ کاروں کی عدم دلچسپی کے باعث کاروبار کے آغاز میں ہی کے ایس ای 100انڈیکس 582پوائنٹس کی کمی کے بعد 46ہزار 292پوائنٹس کی سطح پر جا پہنچا ہے۔

پانامہ فیصلہ 20, نوازشریف کے کام 40سال یاد رہیں گے

لاہور، شیخوپورہ (اپنے سٹاف رپورٹر سے، بیورو رپورٹ) وزےراعظم محمد نوازشرےف اور وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے آج شےخوپورہ مےں پنجاب حکومت کے اپنے وسائل سے گےس کی بنےاد پر لگنے والے بھکی پاور پلانٹ کا فتتاح کر دیا ہے-اس منصوبے سے ابتدائی طو رپر 717میگا واٹ بجلی نیشنل گرڈ میں شامل ہوئی ہے اور اس منصوبے میں 53ارب روپے کی بچت کی گئی ہے-18ماہ کے قلیل عرصے میں مکمل ہونے والے اس منصوبے سے آئندہ 30سالو ں میں 320ارب روپے کی بچت ہوگی-وزیراعلی پنجاب محمد شہبازشریف نے بھکی گیس پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہاہے کہ وزیراعظم محمدنوازشریف کی قیادت میں توانائی بحران کے خاتمے کے لئے کی گئی دن رات کی محنت رنگ لا رہی ہے -انشاءاللہ توانائی منصوبوں کی تکمیل سے ملک سے اندھیرے دور ہوں گے-توانائی منصوبوں پر ہونے والے تیز رفتار کام سے عوام کو یقین آچکاہے کہ ان منصوبوں کے مکمل ہونے سے 2017ءکے آخر تک یا 2018ءکے اوائل میں اجتماعی کاوشوںکی بدولت ملک سے بجلی کا بحران ختم ہوگا- انہوں نے کہا کہ ایک طرف دھرنا گروپ ہے جس کے دھرنوں سے ملک کی معیشت کو بے پناہ نقصان ہوا-پی ٹی آئی کی بد ترین سازش کے باعث توانائی منصوبوں میں تاخیر ہوئی-2014ءمیں دوست ملک چین کے صدر نے پاکستان کا دورہ کرنا تھا لیکن دھرنوں کے باعث یہ دورہ ملتوی ہوا اور اندھیروں میں ہچکولے کھاتی قوم کے 10ماہ ضائع ہوئے- کچھ زعماءنے چین کے صدر کے دورے کے حوالے سے پی ٹی آئی کی قیادت سے رابطہ بھی کیا لیکن یہ دھرنے والے اپنا دھرنا ختم کرنے پر تیار نہ ہوئے اور توانائی منصوبوں میں تاخیر کا باعث بن کر قوم کے زخموں پر نمک پاشی کی- اگر دھرنے کے باعث قوم کا قیمتی وقت ضائع نہ ہوتا تو یہ معاہدے ایک سال پہلے طے پا جاتے اور اب تک کئی منصوبے مکمل ہوچکے ہوتے او رپاکستان کہیں آگے جا چکا ہوتا- دوسری جانب غریب قوم کے 6ارب روپے لوٹ کر سوئٹزرلینڈ کی بنکوں تک لے جانے والے ہیں جنہو ںنے قومی وسائل کو بے دردی سے لوٹا او رآج وہ گلے پھاڑ پھاڑ کر اس قیادت پر الزام لگا رہے ہیں جس نے ترقیاتی منصوبوں میں غریب قوم کے اربوں روپے بچائے ہیں-ماضی کی غلطیوں پررونے دھونے کے بجائے ہمیں ان سے سبق حاصل کر کے آگے بڑھنا ہے-وزیراعلی نے بھکی گیس پاور پلانٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت پر وزیراعظم محمد نوازشریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہاکہ یہ ایک عظیم منصوبے کا افتتاحی پروگرام ہی نہیں بلکہ آپ منصوبے کے افتتاح کے ذرےعے ملک کے بجلی کے لئے ترسے ہوئے عوام، بجلی نہ ہونے کے باعث اندھیروں میں بھٹکتی قوم کے خوابوں کو پورا کرنے کے تشریف لائے ہیں- آپ بجلی نہ ہونے کی بنا پر ہزاروں لوگوں کے روزگار کے بند دروازے کھولنے کے لئے یہاںآئے ہیں-انہوںنے کہاکہ 2014ءکے دھرنوں نے پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی بلکہ ان دھرنوں نے ملک کا دھڑن تختہ کیا -15مارچ کے دن وزیراعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کے اجلاس میں وزیراعظم نے کمیٹی کی تمام تر مخالفت کے باوجود گیس کی بنیاد پر 3600میگا واٹ کے بجلی کے منصوبے لگانے کا جرات مندانہ فیصلہ کیا او ریہ منصوبے سی پیک کا حصہ نہیں تھے- 3600میگا واٹ کے گیس پاور پلانٹس آپ کی سیاسی بصیرت ، دوررس سیاسی سوچ اور آپ کے شاندار ویژن کا منہ بولتا ثبوت ہے-اگر آپ یہ منصوبے لگانے کا فیصلہ نہ کرتے تو نہ جانے قوم آج کہاں کھڑی ہوتی- میں صدق دل سے بلاخوف وتردید کہتا ہوں۔ کہ ان منصوبوں کے لگانے کا تمام تر کریڈ ٹ آپ کی ذات کو جاتاہے-بھکی پاور پلانٹ سے1180میگا وا ٹ، حویلی بہادر شاہ پاو رپلانٹ سے 1200میگا واٹ او ربلوکی پاور پلانٹ سے 1200میگا واٹ بجلی حاصل ہوگی جو آپ کی متحرک قیادت کا ثمر ہے-انہوںنے کہاکہ بلاشبہ یہ تینوں منصوبے لینڈ مارک ہیںکیونکہ 2008ءمیں لگنے والا گدو پاور پلانٹ جو اس منصوبے کا چربہ ہے اس لئے کہ یہ گدو پاور پلانٹ بھی انہی کمپنیوں نے لگایا تھا جنہوں نے بھکی پاور پلانٹ کا منصوبہ لگایاہے-2008ءمیں لگنے والے گدوپاور پلانٹ 8لاکھ 36ہزار ڈالر فی میگاواٹ کی قیمت پر لگایاگیاجبکہ 3600میگا واٹ کے موجودہ گیس کی بنیاد پر لگنے والے بجلی کے منصوبے 4لاکھ 66ہزار ڈالر فی میگا واٹ کی قیمت پر لگ رہے ہیںجو گدو پاور پلانٹ کے مقابلے میں آدھی قیمت ہے-انہوںنے کہاکہ ان منصوبوں میں 112ارب روپے کی بچت کی گئی ہے جو ہر گز مبالغہ آرائی نہیں ہے او راس بچت کو کسی بھی فورم پر چیک کیا جا سکتا ہے-انہوںنے کہاکہ ملک کی تاریخ میں منصوبوںمیں ایسی بچت او رشفافیت کی کوئی او رمثال موجود نہیں -انہوںنے کہا کہ منصوبوں کی شفافیت کی پوری قوم گواہی دے رہی ہے او ریہ بچت کاغذوں میں نہیں بلکہ حقیقت بن کر سامنے آچکی ہے-جہاں ان منصوبوں میں قوم کے اربوں روپے بچائے گئے ہیں وہاں ان منصوبوں نے برق رفتاری سے تکمیل کا بھی عالمی ریکارڈ بنایاہے -انہوںنے کہاکہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں لگنے والے ان منصوبوںمیں کسی کوجرات نہیں ہوئی کہ وہ ایک پیسے کی رشوت وصول کرسکے یا دے سکے -یہ منصوبے شفافیت ،اعلی معیاراور برق رفتاری سے تکمیل کے شاندار نمونے ہیں-گدو پاور پلانٹ میں لگائی گئی مشینوں کی کارکردگی 54.4فیصد جبکہ بھکی پاور پلانٹ میں لگنے والی مشینوں کی کارکردگی 61.6فیصد ہے-حویلی بہادر شاہ او ربلوکی میں لگنے والے منصوبوں میں مشینوں کی کارکردگی اس سے بھی زیادہ ہے- انہوںنے کہاکہ ان منصوبوں کی تیز رفتاری ، اعلی معیار اور شفافیت سے تکمیل ماضی کے مقابلے میں خواب نظر آتاہے -انہوں نے کہاکہ یہ منصوبے کئی سالوں تک عوام کوسستی بجلی دیں گے او ربہترین نتائج ملیں گے جس سے پاکستان کی معیشت او رزراعت کو بے پناہ فائدہ ہو گا- انہوںنے کہاکہ 9ستمبر 2015ءکو بھکی پاو رپلانٹ کا سنگ بنیاد رکھا گیا او رآج 19اپریل 2017ءکو 18ماہ کی قلیل مدت میں یہ منصوبہ مکمل ہواہے جو پاکستان کا ہی نہیں بلکہ دنیا کا ریکارڈ ہے -انہوںنے کہاکہ غازی بھروتا ڈیم پن بجلی کا منصوبہ 2000میں مکمل ہونا تھا لیکن یہ منصوبہ 2003میں 3سال کی تاخیر سے مکمل ہوا- اسی طرح نیلم جہلم پاو رپلانٹ 18سال گزرنے کے باوجود ابھی تک نہ مکمل ہے-اس منصوبے پر 5ارب ڈالر لگ چکے ہیں او راس قیمت سے گیس کی بنیاد پر 10ہزار میگا واٹ کے منصوبے لگائے جاسکتے تھے-نندی پور کا منصوبہ 2011ءمیں لگنا تھا لیکن جب پاکستان مسلم لیگ(ن) کی حکومت آئی تو آپ کی قیادت نے نندی پور کی مشینری کو کراچی کے قبرستان سے نکال کر منصوبے کی سائیٹ پر لگایا او راس منصوبے پر 20ارب روپے اضافی لگے- نندی پو رپاور پلانٹ کے منصوبے کا تخمینہ پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں 33ارب لگایا گیا تھا اور یہ منصوبہ بغیر ٹینڈرنگ کے لگایا گیا،اس سے بڑا کوئی او رجرم پاکستان کی تاریخ میں ہو نہیں سکتا- وزیراعلی نے کہاکہ عدالت عظمی کے ایک جج نے پانامہ کیس کے دوران ریمارکس دئےے کہ ایسا فیصلہ دیں گے جسے لوگ 20سال یاد رکھیں گے ہمیں عدالت عظمی کا بے حد احترام ہے جو منصوبے وزیراعظم نواز شریف کی قیادت میں لگ رہے ہیں آپ نے شفافیت ، محنت، او ربرق رفتاری سے منصوبوں کی تکمیل کا ایسا بینچ مارک بنایادیاہے جسے قوم 40سال تک نہیں بھولے گی- انہوںنے کہا کہ انشاءاللہ وزیراعظم نوازشریف کی قیادت میں توانائی کے بحران کے خاتمے کی کاوشیں با رآور ثابت ہوںگی -انشاءاللہ آپ کی قیادت میں ملک سے ہمیشہ کے لئے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوگا-انہوں نے کہاکہ توانائی کے منصوبے لگ رہے ہیں -ان کے باعث بجلی کی لوڈ شیڈنگ میں کمی آنی چاہےے تھی بد قسمتی سے لوڈشیڈنگ میں اضافہ ہواہے تو اس کی وجہ دریاﺅں میں پانی کی کمی بھی ہے جو ایک قدرتی امر ہے تاہم دوسری جانب ٹرانسمیشن، لائن لاسز او رلوڈ مینجمنٹ کے حوالے سے بھی ذمہ دار وں کو کٹہرے میں لایا جائے جن کی غفلت کے باعث لوڈشیڈنگ میں اضافہ دیکھنے میں آیاہے-انہوںنے کہاکہ وزیراعظم کی قیادت میں لوڈشیڈنگ ختم ہوگی تاہم جولوگ اس میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں سخت ترین سزا ملے گی توتب ہی بات بنے گی- وزیراعلی نے کہاکہ میں توانائی منصوبوں میں تعاون پر وفاقی وزراءاسحاق ڈار، خواجہ محمد آصف، شاہد خاقان عباسی ، پرنسپل سیکرٹری برائے وزیراعظم فواد حسن فواد، بینکرز، چیئرمین تھرمل پاور کمپنی عار ف سعید، سی ای او کمپنی احد چیمہ او رپوری ٹیم کا شکریہ ادا کرتا ہوں-میں پاکستان میں امریکی سفیر اور امریکی قونصل جنرل کے تعاون پر بھی مشکور ہوں – قبل ازیں قائداعظم تھرمل پاو رکمپنی کے چیف ایگزیکٹو آفیسر احدچیمہ نے منصوبے کے بارے میںاہم خدوخال پر روشنی ڈالی – صدر جنرل الیکٹرک پاور کمپنی محمد علی او رکمپنی کے دیگر حکام نے بھی تقریب سے خطاب کیا-گورنر پنجاب رفیق رجوانہ ، وفاقی وزراءخواجہ محمد آصف ، شاہد خاقان عباسی ، صوبائی وزراء، اراکین قومی و صوبائی اسمبلی ، پاکستان میں چین کے سفیر ، منصوبے پر کام کرنے والی کمپنیوں کے اعلی حکام ، ٹی وی اینکرز ، صحافیوں او رمختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی- وزیر اعلی محمدشہباز شریف بھکی گیس پاور منصوبے کی افتتاحی تقریب میں انتہائی خوش دکھائی دیئے – وزیر اعلی نے اپنی تقریر میں ماضی کی حکومتوں کو توانائی کے منصوبوں میں تاخیر کا ذمہ دار قرار دیا – وزیر اعلی نے 2014ءمیں دھرنا دینے والے عناصر پر بھی کڑی تنقید کی – وزیر اعلی نے اپنے خطاب میں بھکی گیس پاور منصوبے کا ماضی میں اسی طرح کے لگنے والے منصوبوں سے موازنہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ منصوبہ سابق منصوبوں کے مقابلے میں آدھی قیمت پر لگا ہے اور اسے اٹھارہ ماہ کی مدت میں مکمل کیا گیا ہے جو کہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے – امریکہ کی کمپنی جنرل الیکٹرک کے صدر وچیف ایگزیکٹو آفیسر محمد علی نے کہا کہ اس منصوبے کو انتہائی تیزی کے ساتھ مکمل کیا گیا ہے اور یہ پوری دنیا میں ایک شفافیت اور برق رفتاری سے مکمل ہونے والے منصوبوں میں سے ایک ہے – منصوبے میں جس انداز سے شفافیت کو یقینی بناکر قومی وسائل بچائے گئے ہیں وہ بھی اپنی مثال آپ ہیں – اس منصوبے نے پاکستان میں نیا ورلڈ ریکار ڈ قائم کیا ہے – چیف ایگزیکٹو آفیسر ہاربن الیکٹرک انٹرنیشنل چائنہ کے چیف ایگزیکٹو آفیسرمالیگزن Mr. Ma Lixinنے اپنے خطاب میں کہا کہ بھکی گیس پاور پراجیکٹ کو” شہباز سپیڈ “سے مکمل کیا گیا ہے – وزیر اعلی محمد شہباز شریف نے اس منصوبے کی جلد تکمیل کیلئے ہر ممکن رہنمائی اور تعاون فراہم کیا – شہباز شریف کی وجہ سے یہ منصوبہ کم مدت میں آپریشنل ہوا ہے – وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیر صدارت اعلی سطح کا اجلاس منعقد ہوا،اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ نے ڈیزاسٹرانشورنس پلان کو حتمی شکل دینے میں تاخیر پر ناراضگی کا اظہار کےا اور ڈیزاسٹر انشورنس پلان کو حتمی شکل دینے میں تاخیر کی انکوائری کا حکم دےا -وزےراعلیٰ پنجاب محمدشہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مشکل میں گھرے لوگوں کی مددکے پروگرام میں تاخیر کسی صورت برداشت نہیں اورقدرتی آفات بالخصوص سیلابوں سے ہونےوالے نقصانات کی تلافی کےلئے انشورنس کا جامع نظام ضروری ہے- انہوںنے کہا کہ پنجاب حکومت قدرتی آفات میں ہونےوالے نقصانات کی تلافی شفاف نظام کے ذریعے کرتی ہے – وزےراعلیٰ نے ہداےت کی کہ انشورنس پلان میں انسانی اموات کےساتھ فصلوں ، گھروں اور لائیوسٹاک کے نقصانات بھی شامل ہونے چاہئیںاورڈیزاسٹر انشورنس پلان کو جلد سے جلد حتمی شکل دی جائے – اجلاس میں قدرتی آفات خصوصاً سیلاب سے ہونےوالے نقصانات کے ازالے کےلئے ڈیزاسٹر انشورنس پلان کے اجراءکے حوالے سے تجاویز کا جائزہ لیا گیا-صوبائی وزراءملک ندیم کامران،عائشہ غوث پاشا،اعجاز احمداچلانہ،چیف سیکرٹری،متعلقہ محکموں کے سیکرٹریزاور اعلی حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔ وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے کہا ہے کہ چکوال کے ضمنی الےکشن مےں پاکستان مسلم لےگ(ن) کے امےدوار شہرےار اعوان کی کامےابی خدمت،دےانت اورشفافےت کی کامےابی ہے ۔ضمنی الےکشن کے نتائج نے اےک بار پھر ثابت کردےا ہے کہ عوام وزےراعظم محمد نوازشرےف کی قےادت اورپالےسےوں پر بھر پور اعتماد کرتے ہےںاورچکوال کے ضمنی الےکشن کے نتائج منفی سےاست کرنےوالے عناصر کےلئے نوشتہ دےوار ہے۔ انہوںنے کہا کہ مسلم لےگ(ن) نے ہمےشہ عوام کی بے لوث خدمت کی ہے،جس کے باعث چار سال بعد بھی پاکستان مسلم لےگ(ن) ملک کی مقبول ترےن جماعت ہے اور عوا م وزےراعظم محمد نوازشرےف کی قےادت مےں موجودہ حکومت کی پالےسےوں کا تسلسل چاہتے ہےں ۔ وزیر اعلیٰ نے پی پی 123چکوال مےں ضمنی الےکشن جےتنے والے پاکستان مسلم لےگ(ن) کے امےدوار شہرےار اعوان کو مبارکباد دےتے ہوئے کہا کہ عوام نے الزام تراشی کی سےاست کرنے والوں کو آئےنہ دکھا دےا ہے ۔باشعور عوام نے ثابت کردےا ہے کہ امانت،دےانت اورشفافےت کی سےاست کے سامنے منفی سےاست کی کوئی گنجائش نہےں ۔انہوںنے کہا کہ مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے چار برس میں عوامی خدمت کی نئی مثال قائم کی ہے ۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ وہ مسلم لیگ (ن ) کی قیادت سے والہانہ محبت کرتے ہیں۔

پاناما فیصلہ سے چند گھنٹے قبل شہباز شریف نے ایسی بات کہہ دی ہر طرف شور مچ گیا

شیخوپورہ(ویب ڈیسک)وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف کا کہنا ہے کہ 2014 کے دھرنے نے پاکستانی معیشت تباہ کرنے میں کسرنہیں چھوڑی تھی جب کہ قوم کو لوٹنے اور برباد کرنے والے گلے پھاڑ پھاڑ کر ہم پر الزامات لگا رہے ہیں۔شیخوپورہ میں بھکھی پاورپلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف نے کہا کہ 18 ماہ کی رکارڈ مدت میں بھکی پاور پلانٹ منصوبہ مکمل ہوا ہے، اس منصوبے کا فیصلہ وزیراعظم نہ کرتے توتوانائی بحران زیادہ ہوتا، بھکی پاور پلانٹ گڈوپاورپلانٹ منصوبے کی نقل ہے جس کی قیمت گڈو پاور پلانٹ سے نصف ہے جب کہ 70سالہ تاریخ میں منصوبوں میں ایسی بچت نہ دیکھی نہ سنی گئی۔ انہوں نے کہا کہ منصوبوں میں کسی کو ایک پائی کی کرپشن کرنے کی جرات نہیں ہوئی اورکوئی مبالغہ نہیں کہ وزیراعظم نے 112 ارب روپے بچت کی جسے کسی بھی فورم پرچیک کرایا جاسکتا ہے۔شہبازشریف نے کہا کہ 2014 کےدھرنے نے پاکستانی معیشت تباہ کرنے میں کسرنہیں چھوڑی تھی، اگر دھرنوں میں ترقی کے فیصلے دب جاتے تو ملک کا کیا ہوتا، قوم کو لوٹنے اور برباد کرنے والے گلے پھاڑ پھاڑ کر ہم پر الزامات لگا رہے ہیں جب کہ ملک کاپیسا لوٹ کرسوئس بینکوں میں لے جانے والے منصوبوں میں تاخیر کرتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کا فیصلہ اگر 20 سال تو ہمارے منصوبے کی شفافیت 40 سال یاد رکھی جائے گی۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ سال کے شروع میں لوڈشیڈنگ مکمل ختم ہوجائے گی اور عوام کو بھی یقین آ گیا ہے کہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ جلد ختم ہو جائے گی تاہم کاوشوں کے باوجود لوڈ شیڈنگ بڑھی تو ذمے داروں کو وزیراعظم کٹہرے میں لائیں گے۔

قرآن پاک کی تعلیمات کے حوالے سے حکومت کا شاندار اعلان

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)پاکستان کے ایوان زیریں نے تعلیمی اداروں میں مسلمان طلبا کے لیے قرآن کی ناظرہ تعلیم کو لازمی قرار دینے کا مسودہ قانون متفقہ طور پر منظور کر لیا ہے۔بدھ کو وزیرمملکت برائے تعلیم و پیشہ وارانہ تربیت بلیغ الرحمن نے قومی اسمبلی میں یہ بل پیش کیا جس کی قائمہ کمیٹی رواں سال فروری میں منظوری دی چکی تھی۔اس مجوزہ قانون کے تحت وفاق کے زیر انتظام اور وفاقی دارالحکومت کی حدود میں واقع تمام سرکاری و نجی تعلیمی اداروں میں طلبا کے لیے قرآن کی تعلیم لازمی ہوگی۔پہلی سے پانچویں جماعت تک کے بچوں کو صرف ناظرہ قرآن پڑھایا جائے گا جب کہ چھٹی سے بارہویں جماعت تک قرآن کی ترجمے کے ساتھ تعلیم دی جائے گی۔وزیرمملکت بلیغ الرحمن نے ایوان کو بتایا کہ قرآن کی لازمی تعلیم دینا مذہبی اور آئینی ذمہ داری ہے جسے اس قانون کو منظور کر کے پورا کیا جا رہا ہے۔یہ خبر آپ روزنامہ خبریں کی ویب سائٹ پر پڑ ھ رہے ہیں۔حکومت کی طرف سے قانون سازی کے لیے کی جانے والی کوششوں کے وقت سے مبصرین یہ کہتے آ رہے ہیں کہ اسکولوں میں قرآن کی تعلیم دینے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن حکومت تعلیم کے سلسلے میں ہی دیگر ضروری اور آئینی ذمہ داریاں پوری کرنے کی طرف سنجیدگی سے توجہ نہیں دے رہی۔آئین کی شق 25 (اے) کے تحت پانچ سے سولہ سال تک کی عمر کے ہر بچے کو مفت تعلیم دینا ریاست کی ذمہ داری ہے اور اس ضمن میں قانون بھی گزشتہ برسوں میں بنایا جا چکا ہے لیکن اس کے باوجود پاکستان میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً دو کروڑ 20 لاکھ بچے تعلیم حاصل نہیں کر رہے۔