سرکاری ملازمین اور پنشنرز کیلئے خوش خبری، آئندہ وفاقی بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں اضافہ

اسلام آباد( نیوزڈیسک) سرکاری ملازمین اور پنشنرز کے لئے خوش خبری،آئندہ بجٹ میں تنخواہوں اور پنشن دس سے پندرہ فی صد بڑھانے کا امکان ہے۔آئندہ وفاقی بجٹ میں تنخواہ اور پنشن میں 10 سے 15 فی صد اضافہ کیا جا سکتا ہے،تنخواہوں کیلئے 40 سے 45 ارب اضافے کے بعد 390 سے 395 ارب روپے،پنشن کیلئے فنڈز 25 سے 30 ارب روپے بڑھا کر 270 سے 275 ارب روپے مختص کئے جا سکتے ہیں۔ذرائع کے مطابق سرکاری ملازمین کے مختلف الاو¿نسز میں بھی اضافے پر غور کیا جا رہا ہے،کم سے کم تنخواہ بھی بڑھا کر 14 سے 15 ہزار روپے مقرر کی جا سکتی ہے۔

پاک فوج نے ڈان لیکس پر حکومتی سفارشات کو مسترد کر دیا

راولپنڈی: تر جمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ مسترد کرتے ہیں۔
ترجمان پاک فوج میجر جنرل آصف غفور نے سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹوئٹر پر کہا ہے کہ رپورٹ انکوائری بورڈ کی سفارشات کے مطابق نہیں۔ ڈان لیکس سےمتعلق نوٹی فکیشن نامکمل ہے، نوٹی فکیشن کو مسترد کرتے ہیں۔

asif kk


breaking news by channel5-pakistan

رینجرز کو دہشتگردوں کے علاوہ کس کس کا سامنا ۔۔؟چوہدری نثا ر نے سب بتا دیا

کراچی(ویب ڈیسک) وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان نے رینجرز کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ کھلے دشمنوں کے علاوہ ہمیں چند دوست نما دشمنوں کا بھی سامنا ہے۔رینجرز ہیڈ کوارٹرز پر منعقدہ پاسنگ آو¿ٹ پریڈ کے مہمان خصوصی چوہدری نثار نے کہا کہ کراچی آپریشن میں انٹیلی جنس ایجنسیز نے تاریخی کردار ادا کیا ہے، ہر تین ماہ بعد رینجرز اختیارات کو متنازع نہ بنایا جائے، اس معاملے پر سیاست نہیں ہونی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اختیارات کو متنازع بناکر رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں، یہ سلسلہ اب بند ہونا چاہئے، رینجرز سیاسی بنیادوں پر کارروائی نہیں کرتی۔انہوں نے کہا کہ سندھ رینجرز نے کراچی میں ساڑھے9 ہزارآپریشن کئے جبکہ مختلف کارروائیوں میں منوں بارود اور اسلحہ بھی برآمد کیا۔ان کا کہنا تھا کہ رینجرز کا بجٹ 7 ارب سے 12ارب روپے تک پہنچ گیا ہے، رینجرز کراچی میں امن کے لیے کارروائیاں کرتی ہے،سیکیورٹی اداروں کی مشترکہ کاوشوں سے کراچی کا امن بحال ہوا ہے۔چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ ’کراچی میں امن سے دشمنوں کے عزائم خاک میں مل جائیں گے، کھلے دشمنوں کے علاوہ ہمیں چند دوست نما دشمنوں کا بھی سامنا ہے، رینجرز نے ذمہ داریوں سے بڑھ کر کراچی میں امن کے لیے کردار ادا کیا‘۔انہوں نے سابق ڈی جی رینجرز رضوان اختر اور بلال اکبر کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ انہوں نے فورس کو مضبوط قیادت فراہم کی اور رینجرز نے جر?ت، ہمت اور بہادری کی نئی مثالیں قائم کیں۔

چیف جسٹس نے اہم اعلان کر دیا

لاہور(ویب ڈیسک) چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا ہے کہ ہم اپنی آئینی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کریں گے اور اگر اپنافرض پورا نہ کیا تو خود کو معاف نہیں کرپاو¿ں گا۔لاہور میں ماڈل کورٹس کی تقریب سے خطاب کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ قانون میں تبدیلی لائے بغیر بھی اچھا کام کیا جاسکتا ہے، زیر سماعت مقدمات کو جلد از جلد نمٹانا بہت ضروری ہے کیونکہ جس آدمی کا حق مارا جائے اسے صبر نہیں آتا، تنازعے کے مقدمات میں ہر فریق کی کوشش ہوتی ہے وہ ہی جیتے، سول کورٹ کے کیسز زیادہ پیچیدہ ہوتے ہیں، کرمنل کیسز کی تفتیش میں بہت خامیاں ہوتی ہیں، ملزم جلد چھوٹ جاتا ہے تو الزام عدالت پر آتا ہے، ہر شخص کو صفائی کا موقع ملنا چاہیے۔ جب تک وکلا کی مدد نہیں لی جائے گی کچھ بھی نہیں اچھا ہوسکے گا۔چیف جسٹس آف پاکستان نے کہا کہ ماڈل کورٹس کے سیر حاصل نتائج آئے ہیں، ہم نے قانون میں تبدیلی لائے بغیر نتائج حاصل کیے ہیں، یہ ججز اور وکلا کے ٹیم ورک کا نتیجہ ہے۔ ہم اپنی آئینی قانونی اور اخلاقی ذمہ داری پوری کریں گے اور اگر اپنا فرض پورا نہ کیا تو خود کو معاف نہیں کرپاو¿ں گا۔

ڈان لیکس رپورٹ اہم شخصیت عہدے سے بر طرف

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیر اعظم نواز شریف نے ڈان لیکس کی تحقیقاتی رپورٹ کی سفارشات کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا ہے۔تفصیلات کے مطابق حکومت نےڈان لیکس کی انکوائری رپورٹ کے نکات جاری کردیے ہیں، وزیراعظم کی جانب سفارشات کی منظوری کا نوٹی فکیشن سیکرٹری ٹو وزیراعظم فواد حسن فواد نے جاری کیا ہے۔سفارشات کے مطابق وزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی کو ان کے عہدے سے ہٹادیا گیا، اس حوالے سے نوٹی فکیشن جاری کردیاجائے گا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے وزارت اطلاعات کے اعلیٰ افسر راو¿ تحسین کے خلاف ای ڈی رولز 1973 تحت کارروائی کی منظوری بھی دے دی ہے۔نوٹی فکیشن میں کہا گیا ہے کہ روزنامہ ڈان کے ایڈیٹر ظفرعباس اور رپورٹر سرل المیڈا کے خلاف کارروائی کے لئے اے پی این ایس کو کیس بھجوایا جائے گا، اے پی این ایس کوقومی سلامتی سے متعلق رپورٹس کے لئے ضابطہ اخلاق تیار کرنے کا کہا جائے گا۔

اداکارہ شلپاشیٹھی بڑی پریشانی میں پھنس گئیں

ممبئی( آن لائن ) پولیس نے بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹھی اور ان کے شوہر راج کندرا کے خلاف 24 لاکھ کے فراڈ کا مقدمہ درج کرلیا۔بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق مقامی ٹیکسٹائل کمپنی کے مالک نے ممبئی پولیس کمشنر کو بالی ووڈ اداکارہ شلپا شیٹھی اور ان کے شوہر راج کندرا پر دھوکا دہی کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست جمع کرائی تھی جس میں مو¿قف اختیار کیا گیا تھا کہ” بگ ڈیل“ کمپنی نے ٹی وی اشتہارات کے ذریعے آن لائن بیڈ شیٹس فروخت کی ہیں جن کی مالیت 24 لاکھ سے زائد بنتی ہے لیکن ان سب فروخت کی گئی بیڈ شیٹس کی رقم ٹیکسٹائل کمپنی کو نہیں ملی اور متعدد بار رقم کا تقاضہ بھی کیا گیا جس کے باوجود واجب الادا رقم نہیں دی گئی لہذا ”بگ ڈیل“ کمپنی کے ڈائریکٹرز شلپا شیٹھی اور راج کندرا کے خلاف مقدمہ درج کیا جائے۔پولیس نے ٹیکسٹائل کمپنی کی جانب سے درخواست کے بعد شلپا شیٹھی اور ان کے شوہر راج کندرا کے خلاف ممبئی کے بھاونڈی پولیس اسٹیشن میں دھوکا دہی کا مقدمہ درج کرلیا ہے لیکن تاحال کسی قسم کی کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی ہے۔

گدھے کی کھالوں گوشت اور سری پائے پر دلچسپ بحث

کراچی ( این این آئی ) سندھ اسمبلی کے اجلاس میں کراچی میں پکڑے جانے والی گدھے کی کھالوں ، ان کے گوشت ، سری پائے اور دیگر اعضاءزیر بحث آئے ۔ یہ دلچسپ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی ، جب متحدہ قومی موومنٹ کے محمد دلاور قریشی نے گلستان جوہر کی ایک دکان سے گدھوں کی 4736 کھالوں کے پکڑے جانے کے حوالے سے سوال کیا اور کہا کہ حکومت اس حوالے سے اپنی پالیسی واضح کرے ۔ انہوں نے کہا کہ گدھوں کی کھالیں ملنا انتہائی تشویش ناک بات ہے ۔ اس لےے بھی کہ ایک کھال کی قیمت 25 ہزار روپے ہے اور گدھے کی قیمت ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک کی ہے ۔ ایسے میں یہ کیسے ممکن ہو سکتا ہے کہ اس کا مالک ایک سے تین لاکھ روپے تک کے گدھے کی کھال صرف 25ہزار میں فروخت کرے ۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ گدھے کا گوشت ، اس کے سری پائے اور اس کے دیگر حصے بھی استعمال ہو رہے ہوں گے ۔ یہ گوشت کہاں استعمال ہو رہا ہے ۔ یہ ایک بہت بڑا سوال ہے ۔ اس دوران ایوان میں طنز و مزاح کے ساتھ ساتھ تشویش کے انداز میں ارکان ایک دوسرے سے مخاطب ہوئے ۔ محمد دلاور قریشی نے کہا کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ یہی گوشت ریسٹورنٹس ، گھروں میں پرتکلف کھانوں میں استعمال کر رہے ہوں ۔ حکومت سندھ اپنی پالیسی واضح کرے ۔ صوبائی وزیر نثار احمد کھوڑو نے دلچسپ انداز میں کہا کہ مجھے معلوم نہیں کہ گوشت کس نے کھایا اور کس نے نہیں کھایا ہے اور اس کے سری پائے لاہور یا اور کسی علاقے میں کون پسند کرتا ہے ۔ ڈپٹی اسپیکر اور مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت بانو سحر عباسی کے درمیان ایک مرتبہ پھر تلخ کلامی ہوئی ۔ یہ سلسلہ اس وقت شروع ہوا ، جب پانچ میں سے چار توجہ دلاو¿ نوٹسز پیش ہونے کے بعد پانچویں سے پہلے ڈپٹی اسپیکر سیدہ شہلا رضا ، جنہوں نے اسی وقت کرسی صدارت سنبھالی تھی کہا کہ توجہ دلاو¿ نوٹس کے لےے 30 منٹ مختص ہیں لیکن یہاں پر پورا پورا گھنٹہ یا پونا گھنٹہ لگ جاتا ہے ۔ صوبائی وزیر نثار کھوڑو اور ایم کیو ایم کے سید سردار احمد سمیت دیگر سینئر ارکان مجھے سمجھا دیں کہ توجہ دلاو¿ نوٹس کو 30 منٹ تک کیسے محدود رکھا جائے یا پھر اس قانون میں ترمیم کریں ۔ اس پر نثار کھوڑو نے کہا کہ پہلے پانچویں توجہ دلاو¿ نوٹس کو پیش کرنے کی اجازت دیں اور توجہ دلاو¿ نوٹس کی تکمیل کے بعد بات کریں ۔ تاہم ڈپٹی اسپیکر اس پر اصرار کرتی رہیں ۔ خواجہ اظہار نے کہا کہ اسمبلی ہمارے پاس ایک واحد فورم ہے ، جہاں پر ہم عوامی مسائل پر بات کر سکتے ہیں ۔ تحریک التواءمختصر سوالات اور تحریک استحقاق اور مختصر سوالات ایجنڈے میں شامل نہ کرنے کی پالیسی سے ہی بنائی گئی ہے ۔ اس کے باوجود ڈپٹی اسپیکر کا اصرار رہا کہ وقت متعین کیا جائے ۔ بعد ازاں انہوں نے نصرت بانو سحر عباسی کو توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کرنے کی اجازت دی ، جو نارا کینال کے قریب زیر آب آنے والے ایک گاو¿ں سے متعلق تھا ۔ اپنے توجہ دلاو¿ نوٹس کے شروع میں نصرت بانو سحر عباسی نے کہا کہ آپ کی مہربانی ہے کہ آپ نے مجھے موقع دیا لیکن میرا توجہ دلاو¿ نوٹس پیش ہونے سے پہلے آپ نے بچنے کی کوشش کی ہے اور میرے ساتھ آپ کا رویہ ہمیشہ ایسا ہی رہتا ہے ، جس پر ڈپٹی اسپیکر نے انتہائی تلخ لہجے میں کہا کہ میں آپ کو اہمیت نہیں دیتی ۔ اگر آپ نے اپنا توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کرنا ہے تو ٹھیک ، ورنہ بیٹھ جائیں ۔ نصرت بانو سحر عباسی نے کہا کہ آپ کا احسان ہے کہ آپ نے مجھے موقع دیا اور آپ مجھے یہ موقع کیوں نہیں دیں گے ۔ یہ میرا حق ہے ۔ دونوں خواتین کے درمیان تلخ کلامی ہوئی ۔ تاہم بعد ازاں نصرت بانو سحر عباسی نے اپنا توجہ دلاو¿ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ نارا کینال میں لگے ہوئے دروازے مہینے میں دو مرتبہ کھولے جاتے ہیں ، جس سے دو دو فقیر نامی گاو¿ں زیر آب آجاتا ہے ۔ نثار کھوڑو نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہر جگہ سسٹم کو بچانے کے لےے دروازے نصب کےے جاتے ہیں ۔ جب پانی میں اضافہ ہوتا ہے تو دروازے کھول دیئے جاتے ہیں اور یہ آج نہیں ہر سال ہوتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جس گاو¿ں کا حوالہ دیا گیا ہے ، یہ گاو¿ں نارا کینال سے 20 کلو میٹر دور اور 30 فٹ اونچا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ نارا کینال سے چھوڑے جانے والے پانی سے نقصان نہیں پہنچا ہے ۔ ممکن ہے کہ بارشوں سے کوئی نقصان ہوا ہو ۔

پاکستانیوں کے سر فخر سے بلند….دشمن کی نیندیں حرام

چینگڈو (این این آئی) یہ پاک فضائیہ کے لیے ایک تاریخی لمحہ ہے کہڈبل سیٹ JF-17Bتھنڈر نے آج چینگڈو (چین) میں اپنی پہلی کامیاب آزمائشی پرواز کی۔ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان اس تاریخی تقریب کے مہمان ِ خصوصی تھے۔ ایوی ایشن انڈسٹری کارپوریشن آف چائنہ (اے وی آئی سی) کے ایگزیکٹو وائس پریذیڈنٹ ، Mr. Li Yuhai اس پروقار تقریب کے میزبان تھے۔ پاک چین مشترکہ کاوش ڈبل سیٹ JF-17Bتھنڈ ر اپنی آزمائشی پروازکے ابتدائی مراحل سے گزر رہا ہے۔ B JF-17تھنڈر کی شمولیت خود انحصاری کی طرف ایک سنگِ میل کی حیثیت کی حامل ہے جس سے پاک فضائیہ کی ٹریننگ اور آپریشنل صلاحیت میں مزید بہتر ی آئے گی۔ اس طےارے کی شمولےت سے پاک فضائیہ کے پائلٹس کی بہترین کمبیٹ ٹریننگ ممکن ہو سکے گی۔JF-17تھنڈر طےارے کی پاک فضائیہ میں شمولیت کا آغا ز2007 سے ہو ا جوکہ مسلسل جاری ہے۔ اب تک پاک فضائیہ میںJF-17 کے پانچ سکواڈرنز خدمات انجام دے رہے ہیں جو کہ ہر طرح کے آپریشن سر انجام دےتے ہیں۔JF-17تھنڈر ایک بہترین جنگی جہاز ہے جس کا موازنہ باآسانی دنیا کے جدید طیاروں سے کیا جا سکتا ہے۔

پولیس کو چکما دینے والا موت کو دھوکہ نہ دے سکا

لاہور (کرائم رپورٹر) صوبائی دارالحکومت کے علاقہ لوہاری میں پولیس حراست سے بھاگنے کی کوشش میں چھت سے چھلانگ لگانے والا ملزم ہسپتال میں دم توڑ گیا ، پولیس نے لاش کو مردہ خانے منتقل کر دیا ۔ بتایا گیا ہے کہ ملزم افضل چند روز قبل لوہاری میں ایک خاتون سے بالیاں چھین کر فرار ہونے کی کوشش کے دوران شہریوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا جسے بعد ازاں لوہاری پولیس اسٹیشن کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ ملزم نے پولیس کی حراست سے فرار ہونے کے دوران چھت سے چھلانگ لگا دی تھی جس سے وہ شدید زخمی ہو گیا تھا۔ پولیس نے ملزم کو طبی امداد کےلئے میو ہسپتال میں داخل کرا رکھا تھا جہاں وہ گزشتہ روز زندگی کی بازی ہار گیا ۔ پولیس نے لاش کو پوسٹمارٹم کے لئے مردہ خانے منتقل کر دیا ہے۔ دریں اثناءشہر کے مختلف مقامات سے 3 افراد کی لاشیں برآمد ہوئیں ہیں پولیس نے شناخت نہ ہونے پر پوسٹمارٹم کے لیے مردہ خانہ جمع کروا دی ،بتایاگیا ہے کہ لاری اڈہ بس اڈے کے قریب سے ایک 80سالہ نامعلوم شخص کو بے ہوشی کی حالت میں دیکھ کر راہگیروں نے پولیس کو اطلاع دی پولیس نے موقع پر جا کر مزکورہ شخص کو طبی امداد کے لیے ہستال پہنچایاجہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کردی جبکہ شاہدرہ ٹاون کے علاقہ میں ایک نامعلوم 45سالہ شخص کی لاش ملی ہے پولیس نے شناخت نہ ہونے پر لاش پوسٹمارٹم کے لیے مردہ خانہ جمع کروا دی ، پولیس کے مطابق دونوں نشئی معلوم ہوتے ہیں نشے کی زیادتی کے باعث ان کی موت واقع ہوئی ہے تاہم اصل حقائق پوسٹمارٹم رپورٹ آنے کے بعد واضح ہونگے ، ورثاءکی تلاش جاری ہے ان کے ملنے کے بعد قانونی کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ جبکہ قلعہ گجر سنگھ کے علاقہ میں شہریوں نے 50سالہ شخص کی نعش دیکھ کر پولیس کو اطلاع دی جنہوں نے موقع پرپہنچ کر نعش کو قبضہ میں لے کر شناخت کی کوشش کی لیکن اس کی شناخت نہ ہو سکی جس پر نعش کو پوسٹمارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔

”جندال کو مری جانے کی اجازت کس نے دی؟ وزارت داخلہ وضاحت کرے“ نامورتجزیہ کار ضیاشاہد کی چینل ۵ کے مقبول پروگرام میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ دوسرے ممالک میں اپنے عزیزوں و دوستوں سے ملاقات کرے۔ وزیراعظم شنگھائی کانفرنس میں جا رہے ہیں جہاں ان کی مودی سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ ان کی ذاتی ملاقات ہو گی کیونکہ ان کے آپس میں اچھے تعلقات ہیں۔ اس سے پہلے بھی حسین نواز اور نوازشریف بھارت میں مودی کو وزیراعظم بننے کی مبارکباد دینے گئے تھے۔ ان کے معاملات و مراسم پہلے سے موجود ہیں۔ سجن جندال کے حوالے سے یہ ٹیکنیکل مسئلہ ہے کہ انہیں پنڈی، اسلام آباد تک رہنے کی اجازت تھی اور وہ مری کیسے چلے گئے، قومی اسمبلی میں بھی یہ بات ہو رہی ہے، اس پر حکومتی خاموشی مناسب نہیں۔ وزیرداخلہ کو چاہئے کہ پریس ریلیز جاری کرے کہ جندال کو مری جانے کی باضابطہ اجازت دی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے چیئرمین نیب بارے سخت ریمارکس تھے۔ جب فیصلہ آیا تھا تو اس وقت میں نے کہا تھا کہ حکومت کو وضاحت کرنی چاہئے کہ عدالتی ریمارکس کے بعد بھی وہ قمرزمان چودھری کو عہدے پر کیوں برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ عدالت نے بہت صاف کہا تھا کہ چیئرمین نیب سے کوئی توقع نہیں، ان کی کارکردگی غیر تسلی بخش ہے۔ قمرزمان چودھری کو بھی چاہئے کہ وہ عدالت میں جا کر اپنے خلاف یہ ریمارکس حذف کروائیں اور حکومت کو بھی چاہئے کہ وہ ان کو برقرار رکھنے کی وضاحت کرے۔ آصف زرداری آج کل بڑے سیاسی حملے کر رہے ہیں ان کو بھی نیب کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار کرنا چاہئے۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ جن کی مشاورت سے چیئرمین نیب کی تقرری ہوئی وہ بھی وزیراعظم کے استعفے کی بات کرتے ہیں لیکن نیب کے معاملے پر خاموش ہیں۔ یہ خاموشی آئینی و قانونی طور پر ٹھیک نہیں۔ عدالت میں پی ٹی آئی کی رٹ کے بعد واضح ہو جائے گا یا تو یہ ریمارکس ختم کرنا پڑیں گے اگر ٹھیک تھے تو پھر عدالت کو صرف ریمارکس تک نہیں رہنا چاہئے بلکہ حکومت کو نیب سربراہ کی تبدیلی کیلئے ہدایت کرنا ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں و تنظیمیں عدالتی فیصلے کے صرف اس حصے کو اجاگر کرتی ہیں جو ان کے حق میں ہو۔ آصف زرداری بھی 2 ججز کے اختلافی نوٹ کی بنیاد پر نوازشریف سے استعفیٰ کا مطالبہ تو کرتے ہیں لیکن چیئرمین نیب کے معاملے پر خاموش ہیں۔ بہر حال اب سپریم کورٹ میں معاملہ چلا گیا ہے، فیصلے کا انتظار کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا ریاض پیر زادہ کا استعفیٰ دینا، پہلا موقع نہیں۔ وہ مختلف سیاسی جماعتوں میں رہے ہیں۔ پہلے بھی ناراض ہو کر استعفیٰ دے دیتے تھے لیکن اب عام طور پر یہ سمجھا جا رہا تھا کہ وہ خوش نہیں جس کی وجہ وزیراعظم سے ملاقات کا وقت نہ ملنا ہو سکتا ہے کیونکہ نوازشریف کا حکومت کرنے کا اپنا سٹائل ہے۔ کچھ خاص وزراءکو تو وہ وقت دے دیتے ہیں جبکہ باقی وزراءکو ملاقات میں مشکل ہوتی ہے۔ ماضی کا ایک قصہ سناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب نوازشریف دوسری بار وزیراعظم بنے تو جاوید ہاشمی وزیر صحت تھے۔ مجھے کچھ معلومات کی تصدیق کیلئے وزیراعظم سے ملنا تھا۔ اس وقت ان کے پرنسپل سیکرٹری انور زاہد تھے، میں نے ان کو فون کر کے ملاقات کا وقت مانگا، انہوں نے مجھے بلا لیا۔ جب میں گیا تو مجھے وہاں بٹھا دیا گیا کہ اجلاس جاری ہے ختم ہوتے ہی آپ کی ملاقات کروا دیں گے۔ میں نے وہاں جاوید ہاشمی کو دیکھا، ان سے حال احوال پوچھا تو انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم سے ملنے آئے ہیں۔ میں نے حیرت سے پوچھا کہ آپ تو کابینہ میں ہیں۔ کابینہ اجلاس میں بھی ملاقات ہوتی ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ اجلاس میں بہت لوگ ہوتے ہیں جبکہ میں نے ان سے اہم بات کرنی ہے۔ یہ 3,2 فائلیں میرے پاس ہیں لیکن وہ بہت مصروف ہیں، ملنے کا وقت نہیں مل رہا۔ جاوید ہاشمی نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ کی ملاقات ہو تو آپ میری سفارش کر دیں، جس پر میں نے کہا کہ میں کون ہوتا ہوں سفارش کرنے والا، آپ خود ان کے ساتھی ہیں۔ میاں صاحب باہر نکلے تو انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں وزارت خارجہ تک جا رہا ہوں آپ میری گاڑی میں بیٹھیں راستے میں بات کر لیں گے۔ میں ان کی گاڑی میں بیٹھ گیا راستے میں نوازشریف سے جاوید ہاشمی کی بات کی تو وہ ہنس پڑے اور کہا کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے بس تھوڑی مصروفیت زیادہ ہے۔ میرے خیال میں ریاض پیرزادہ کا بھی اصل میں یہی دکھ ہو گا کہ انہیں بھی ملاقات کا وقت نہیں ملتا ہو گا۔ آصف کرمانی ان کو منانے گئے ہوئے ہیں۔ میاں صاحب سے ملاقات ہو جائے گی تو معاملہ ختم ہو جائے گا۔ ریاض پیرزادہ سے پوچھنے والی بات یہ ہے کہ انہیں وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری کی کرپشن کا کب پتہ چلا، پہلے کبھی بات نہیں کی اچانک انکشافات کر دیئے۔ سیکرٹری بڑے منہ زور ہوتے ہیں، اس قسم کے وزیروں کی کم ہی سنتے ہیں جبکہ اسحاق ڈار جیسے وزراءکی مان لیتے ہیں کیونکہ جانتے ہیں کہ ان کی نہ مانی تو چھٹی ہو جائے گی۔ میرے خیال میں ریاض پیرزادہ کی سیکرٹری کے ساتھ کچھ تلخی ہوئی ہو گی تو اچانک کرپشن یاد آگئی۔ انہیں الزام کا ثبوت بھی دینا چاہیے۔ اس پر ضیاشاہد نے ایک مصرعہ کہا ”کب کھلا تجھ پر یہ راز“ انہوں نے کہا کہ بظاہر لگتا ہے کہ مک مکا ہو جائے گا شاید سیکرٹری تبدیل کر دیا جائے اگر نہیں ہوا تو پھر تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی موجود ہیں۔ ریاض پیرزادہ نعرہ مستانہ لگا کر ادھر چلے جائیں۔ پہلے بھی پارٹیاں بدلتے رہے ہیں اب بھی بدل لیں۔ وزارت بہت کر لی اب ذرا دوسری جانب بھی مزے لیں۔ کرپشن کا راگ تو تمام اپوزیشن جماعتیں الاپ رہی ہیں۔ زرداری صاحب کا کرپشن کی بات کرنا واقعی قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہے، وہ خود اس میدان کے شیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان 10ارب روپے کی پیشکش کا ثبوت بھی لائیں لیکن ان کےلئے یہ ثابت کرنا بہت مشکل ہوگا۔ عدالت میں کئی چیزوں کو ثابت کرنا بہت مشکل ہوتا ہے۔ وہ آڈیو ویڈیو ثبوت نہیں مانتی۔ عمران خان اگر آڈیو، ویڈیو ثبوت دینگے تو پھر اس کی تصدیق کے شواہد بھی دینا ہونگے۔ وزیرقانون پنجاب رانا ثناءاللہ نے کہا ہے کہ وزیراعظم سے سجن جندال کی ملاقات کے حوالے سے پارٹی کا کوئی مو¿قف نہیں اور حکومت کو مو¿قف رکھنے کی ضرورت بھی نہیں۔ حکمرانوں کی ذاتی زندگی بھی ہوتی ہے۔ قریبی عزیز، رشتے دار اور دوست بھی ہوتے ہیں، ان سے ملنے پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ وزیراعظم نواز شریف اور حسین نواز جب بھارت میں ان کے گھر گئے تھے تو انہوں نے واضح مو¿قف دیا تھا کہ سجن جندال کے ساتھ ان کا ذاتی تعلق ہے۔ مودی کا پیغام لیکر آنے کے الزامات غلط ہیں۔ جب دونوں فریقین میں سے کسی نے ا یسی بات نہیں کی تو پھر الزامات لگانے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ سجن جندال کا ویزہ جڑواں شہروں تک رہنے اور پھر مری چلے جانے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ اگر کوئی کہیں جانا چاہے تو حکومت اجازت دے سکتی ہے، قانون میں اس کی گنجائش ہے۔ یہ کوئی ایسی بات نہیں کہ اس پر عدالتی کارروائی ہو۔ انہوں نے کہا کہ میڈیا پر کوئی نہ کوئی خبر تو چلنی ہے اگر یہی چلتی رہے تو اچھا ہے 2دن اور نکل جائیں گے۔