سرتاج عزیز سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر کی ملاقات پاک امریکہ تعلقات پر تبادلہ خیال

اسلام آباد(ویب ڈیسک) مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل مک ماسٹر نے ملاقات کی ہے۔اسلام آباد میں امریکی قومی سلامتی کے مشیر جنرل ایچ آر میکماسٹر نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کی۔ ملاقات میں پاک امریکا تعلقات اور خطے کی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا جب کہ افغانستان میں قیام امن، سیکیورٹی اور موجودہ صورتحال کے امور بھی زیر غور آئے۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کے کسی بھی اعلی ترین عہدیدار کا یہ پاکستان کا پہلا دورہ ہے۔

امریکا نے پورے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا

نیویارک(ویب ڈیسک) اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ مسئلہ کشمیر کا واحد حل مذاکرات ہی ہیں جب کہ امریکا نے پورے خطے میں طاقت کا توازن بگاڑ دیا ہے۔نیو یارک میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستانی مندوب کا کہنا تھا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مسئلہ کشمیرایک مرتبہ پھر زندہ ہو گیا ہے اور مسئلے کے حل کے لئے دونوں ممالک کو مذاکرات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ تنازع کشمیر اس وقت علاقائی امن و سلامتی کے لئے ایک اہم خطرہ ہے جب کہ پاکستان اور بھارت میں کشمیر کے مسئلے پر امریکا کی نمایاں حیثیت ہے لیکن حالیہ برسوں میں ہم نے محسوس کیا ہے امریکا کا جنوبی ایشیا میں توازن کا فقدان ہے، خطے کے لئے ایک امتیازی جوہری پالیسی تھی لیکن بش انتظامیہ کی جانب سے بھارت کے ساتھ سول جوہری معاہدے سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ گیا ہے۔

حکومتی مدت پوری ہونے تک ۔۔وزیر اعظم کا دبنگ اعلان

اسلام آباد(ویب ڈیسک)وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ ہماری حکومتی مدت مکمل ہونے تک ترقیاتی اہداف بھی پورے ہوجائیں گے۔وزیراعظم نواز شریف کی زیر صدارت خیبرپختونخوا کے حوالے سے مشاورتی اجلاس ہوا جس میں ملک کی مجموعی صورتحال پر غور کیا گیا جب کہ وزیراعظم نے خیبرپختونخوا میں مسلم لیگ (ن) کو فعال بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے امیرمقام کو مسلم لیگ (ن) خیبرپختونخوا کا صدر جب کہ مرتضیٰ جاوید عباسی کو (ن) لیگ کے پی کے کا جنرل سیکریٹری مقرر کیا۔مشاورتی اجلاس میں آئندہ الیکشن میں پارٹی ٹکٹوں پر غور اور پی ٹی آئی کی ناکامیاں اجاگر کرنے سمیت پارٹی کا پیغام لوگوں تک پہنچانے کے لیے جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ انجینئر امیر مقام کی صلاحیتوں پر اعتماد ہے، اُمید ہے نئے عہد یداران مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کو ساتھ لے کر چلیں گے جب کہ عہدیدار ان مسلم لیگ (ن) کو مضبوط کرنے کی غرض سے تمام تر صلاحتیں بروئے کار لائیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا ہمیشہ سے مسلم لیگ(ن) کا گڑھ رہا ہے جب کہ صوبے میں موجودہ اور پچھلی حکومت نے کچھ نہیں کیا لہذا کے پی حکومت کی کارکردگی کے باعث (ن) لیگ کے لیے مواقع موجود ہیں، ہمارے ترقیاتی اہداف انشائ اللہ پورے ہو جائیں گے، ہم موٹروے اور ڈیم بنا رہے ہیں، پانی ہوگا اور بجلی کے ایشوز بھی حل ہوں گے۔

لائن آف کنٹرول پر بھارت کا ایک اور حملہ

بھمبر(ویب ڈیسک)آزاد کشمیر کے سمانی چاہی اور بروہ سیکٹرز میں بھارتی فوج کی جانب سے بلا اشتعال فائرنگ کی گئی جس کا پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا گیا۔تفصیلات کے مطابق آزاد کشمیر کے سمانی چاہی اور بروہ سیکٹرز پر بھارتی فوج کی جانب سے صبح 8 بجے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے جب کہ پاک فوج کی جانب سے بھرپور جواب دیا جا رہا ہے۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں دشمن کی کئی چیک پوسٹیں بھی تباہ ہو گئیں جس میں بھارتی فوج کا بھاری جانی و مالی نقصان بھی ہوا ہے۔

پنجاب کی جیلوں بارے بڑا فیصلہ, اہم منصوبہ کی تنصیب کا فیصلہ

لاہور (خصوصی رپورٹ)محکمہ داخلہ پنجاب نے جیلوں کو لوڈشیڈنگ اور بجلی کے بھاری اخراجات سے محفوظ رکھنے کے لئے سولر پاور سسٹم کی تنصیب کا فیصلہ کیا ہے، ابتدا میں چند جیلوں میں سسٹم لگایا جائے گا جسے چند سالوں میں تمام جیلوں میں مکمل کیا جائے گا فیصلہ سپیشل سیکرٹری ہوم ڈیپارٹمنٹ کی سربراہی میں ہونیوالے اجلاس میں کیا گیا ہے۔ پنجاب کی جیلیں ایسے علاقوں میں بھی ہیں جہاں گرمی بہت زیادہ ہے اور درجہ حرارت بھی ہر سال بہت زیادہ ہوتا ہے۔ محکمہ جیل خانہ جات بھی بجلی کے بل کی مد میں سالانہ 62کروڑ روپے سے زائد پیسے خرچ کر رہا ہے جو کہ بہت بڑی رقم ہے اس کے ساتھ ساتھ جیلوں کی سکیورٹی کے لئے بھی بجلی کی موجودگی انتہائی ضروری ہے سولر پاور سسٹم سے جہاں ایک جانب بجلی کی فراہمی یقینی ہو گی وہیں دوسری جانب بجلی کے مد میں ہونے والے کروڑوں روپے کے اخراجات کا خاتمہ اور جیلوں کے سکیورٹی بھی یقینی ہو گی۔ ابتدائی طور پر جنوبی پنجاب اور وسطی پنجاب کی چند جیلوں کو سولر پاور سسٹم پر منتقل کیا جائے گا جبکہ آئندہ چند سالوں میں تمام جیلوں کو سولر پاور سسٹم پر منتقل کرنے کی پلاننگ کی گئی ہے ۔

انتظامیہ کو حتمی وارننگ جاری, شادی ہالوں پر چھاپہ مار ٹیمیں متحرک

لاہور (خصوصی رپورٹ) حکومت شادی میں ون ڈش کی خلاف ورزی پر آج سے کارروائی کرے گی۔ تمام ضلعی حکومتوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ون ڈش کے علاوہ لائٹنگ اور آتش بازی کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی کریں۔ ہوٹلز، شادی ہالز کی انتظامیہ کو بھی جرمانے کیے جائیں۔ حکومتی ہدایات پر ضلعی حکومتیں حرکت میں آگئیں اور انہوں نے میرج کلب مالکان کو حتمی وارننگ دے دی ہے۔ خلاف ورزی پر سخت کارروائی کی جائے گی۔ ادھر رات کے وقت پارکنگ مسائل بڑھنے پر انتظامیہ نے میرج کلب مالکان کو اپنے علیحدہ سٹینڈز بنانے کی ہدایت کردی ہے کیونکہ سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی ہونے سے صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ نے شادی ہال انتظامیہ کو بروقت تقریبات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔

حیدر آباد سے لاپتہ یونیورسٹی طالبہ کا ہلاک دہشتگردسے تعلق سامنے آگیا

لاہور (کرائم رپورٹر)فیکٹری ایریا کے علاقہ میں حساس اداروں کے کومبنگ آپریشن کی ابتدائی رپورٹ منظر عام پر آگئی ۔باوثوق ذرائع کے مطابق دہشتگردوں کے کمپاو¿نڈ کے قریب شام 7 بجکر 45 منٹ پرفورس تعینات کر دی گئی تھی جبکہ آپریشن 9 بجکر 10 منٹ پر شروع ہوا جو آدھا گھنٹے سے زائد جاری رہا۔فورسز کی جانب سے گھر کے اندر داخل ہونے کی کوشش کی گئی توہلاک ہونے والے دہشتگرد علی طارق اور نورین لغاری نے سیڑھیوں کی آڑھ لیکر فائرنگ شروع کر دی جس سے حساس اداروں کے 4جوان زخمی ہو گئے جبکہ جوابی فائرنگ کے نتیجہ میںعلی طارق ہلاک ہو گیا ۔ دہشتگرد علی طارق کو میگزین ختم ہونے کے بعد بھاگتے ہوئے مارا گیا جبکہ ملزمہ نورین سمیت 2 افراد کو کمپاو¿نڈ کے کمرے سے پکڑا گیا جن سے تفتیش جاری ہے۔تفتیشی ذرائع کے مطابق فیکٹری ایریا پولیس کو پونے دس بجے واقعے کی اطلاع دی گئی۔ کمپاو¿نڈ کی تلاشی کے دوران 2 کلاشنکوف، 2 ایس ایم جیز،11 ہینڈگرنیڈ، 2 پستول اور7 خودکش جیکٹس برآمد ہوئیںجن میں سے 2 خودکش جیکٹیں بالکل تیار تھیں ۔ دونوں دہشتگردوں نے حساس اداروں کے اہلکاروں پر 23 راو¿نڈ فائر کئے ۔ بم ڈسپوزل سکواڈ نے دونوں جیکٹس کو ناکارہ بنایا۔فیکٹری ایریا کومبنگ آپریشن میں حساس ادارں کی جانب سے اہم پیش رفت ، گرفتار ہونیوالی نورین لغاری نے تقریباً اڑھائی ماہ قبل اسی گھر میں نکاح کیا تھا، 10 لاکھ روپے سر کی قیمت والا انتہائی مطلوب دہشتگرد اور کالعدم تنظیم کا امیر عظیم عرف ابو فوجی گاڑی پر چکر لگاتا رہتا تھا، مکان ابو فوجی کے نام پر کرایہ پر لیا گیا تھا،ہلاک ہونے والے دہشتگردطارق کی قریبی بیکری سمیت علاقے میں لگے دیگر سی سی ٹی وی کیمروں میں فوٹیج موجود ہیں،علاقہ مکینوں نے مشکوک سرگرمیوں پر پولیس کو بھی اطلاع دی تھی ، مالک مکان اور پراپرٹی ڈیلر سے نامعلوم مقام پر تفتیش جاری ۔باوثوق ذرائع کے مطابق فیکٹری ایریا کے علاقہ میں حساس اداروں کی جانب سے کیے جانے والے کومبنگ آپریشن میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جس کے مطابق جہاں حساس اداروں کی جانب سے آپریشن کیا گیا ہے اسی گھرمیں نورین لغاری کا تقریباًاڑھائی ماہ قبل ہلاک ہونے والے دہشتگرد طارق سے نکاح ہوا تھا جبکہ مکان ایک انتہائی مطلوب دہشتگرد عظیم عرف ابو فوجی کے نام سے کرایہ پر لیا گیا تھا جو کہ “داعش”کا امیر ہے اور اسکے سر کی قیمت10لاکھ روپے مقرر ہے ۔ تفتیش میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ملزمان مسیحی تہوار” ایسٹر ”پر تخریب کاری کی منصوبہ بندی کرچکے تھے ۔ تھانہ فیکٹری ایریا کے علاقہ میں حساس اداروں کے کومبنگ آپریشن کے دوران گرفتار ہونے والی نورین لغاری کے بھائی افضل لغاری نے اپنی بہن کی گرفتار ی کی تصدیق کر تے ہوئے بتایا کہ نورین تو گھر سے یونیورسٹی کیلئے نکلی لیکن واپس نہیں آئی جس کے بعد ہمیں اس کا پیغام موصول ہوا کہ اس نے “داعش”میں شمولیت اختیار کر لی ہے اور وہ شام میں ہے جس کے بعد اب حساس ادارں کی جانب سے میرے والد کو بتایا گیا ہے کہ نورین لاہور کے علاقہ فیکٹری ایریا میں دہشتگردوں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں گرفتار ہوئی ہے جس کے بعد میں نے یہاں پہنچ کر اپنی بہن نورین کی شناخت کی ہے ۔

حج درخواستوں کی وصولی شروع, قرعہ اندازی کی تاریخ دیکھیں

لاہور (خصوصی رپورٹ) حج 2017ء کیلئے درخواستیں آج سے وصول کی جائیں گی۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے اعلان کردہ حج پالیسی 2017ءکی روشنی میں رواں برس حج کی سعادت حاصل کرنے کے خواہشمند افراد اپنی درخواستیں آج سے جمع کروانے کے مجاز ہیں۔ وزارت مذہبی امور و حج کی جانب سے مجاز مالیاتی ادارے شہریوں سے درخواستیں وصول کریں گے۔ خوش نصیب حجاج کے ناموں کے انتخاب کیلئے قرعہ اندازی 29اپریل کو کی جائے گی۔

زرداری کے لاپتہ دوستوں کا کلبھوشن سے تعلق, سابق آرمی چیف کے انکشافات نے ہلچل مچادی

کراچی (خصوصی رپورٹ)سابق آرمی چیف جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ کا کہنا ہے کہ کلبھوشن کے نیٹ ورک کا انکشاف عزیربلوچ نے کیاتھا۔ ان کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ پیپلزپارٹی کے لاپتہ افراد کا تعلق بھی اسی نیٹ ورک سے ہے اور کڑیاں بہت دور تک جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو میں ہونے والی کانفرنس خطے کی سیاسی صورتحال تبدیل کردے گی۔ افغانستان میں امن کی راہوں کا تعین افغان طالبان ہی کرسکتے ہیں۔ جبکہ انہوں نے کہا کہ عزیربلوچ نے اپنے اعترافات میں ہی کلبھوشن کے نیٹ ورک کا اعتراف کیا تھا اس کے انکشاف پر ہی کلبھوشن تک پہنچا گیا۔ یہی وجہ تھی کہ سابق آرمی چیف نے یہ کہا تھا کہ کرپشن اور دہشت گردی کا آپس میں رشتہ ہے۔ کیونکہ عزیربلوچ کو جولوگ اپنی سیاسی قوت کو مضبوط کرنے کے لئے استعمال کررہے تھے، وہ سب کے سامنے ہیں۔ اس وقت بھی پیپلزپارٹی کی ایک اہم سیاسی شخصیت کے ساتھ تعلق رکھنے والی شخصیات جو بظاہر لاپتہ ہیں، ان کا تعلق بھی عزیر بلوچ اور کلبھوشن نیٹ ورک سے ہے۔ انہیں اسی وجہ سے اٹھایاگیا ہے ابھی اور بھی بہت سے ہوش ربا انکشافات ہونے ہیں۔ کیونکہ اس نیٹ ورک کی کڑیاں بہت دور تک جار ی ہیں ہمارے انٹیلی جنس ادارے اب فعال ہوگئے ہیں۔ ماضی کی طرح نہیں کہ قومی سلامتی کو بالائے طاق رکھ کر میموگیٹ جیسی کارروائی ہوتی رہے۔ پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور میں حسین حقانی کی جانب سے امریکہ اور برطانیہ سے ان کے ایجنٹوں کو پاکستان میں داخلے کی آزادانہ اجازت دی گئی۔ پاکستان کا انٹیلی جنس نیٹ ورک دو مواقع پر ٹوٹا ہے پہلی بار 1994ءمیں جب بے نظیر بھٹو برسراقتدار آئی تھیں۔ بے نظیر بھٹو حکومت نے امریکہ کے کہنے پر تین دن کے اندر آئی ایس آئی کے سات ڈائریکٹراور 17آپریٹرز کو نکال دیا تھا۔ وہ تمام لوگ جن کا تعلق افغانستان اور مجاہدین سے تھا، انہیں نکال دیاگیا۔ یہ آئی ایس آئی کو توڑنے کی پہلی کوشش تھی، یہی پہلا جھٹکا تھا، پاکستان کے انٹیلی جنس نظام پر دوسرا حملہ اس وقت ہوا جب پرویزمشرف صاحب تشریف لائے۔ انہوں نے 2004ءمیں ہی پاکستان کے قبائلی علاقوں سے پاکستان کے تمام انٹیلی جنس نیٹ ورک کو آئی ایس آئی لے کر سی آئی اے کے حوالے کردیا اورجب زرداری کی حکومت آئی اور انہیں حسین حقانی جیسے لوگوں کی مدد حاصل رہی تو پھر پاکستان کی سرحدیں امریکی بلیک واٹر اور سی آئی اے کے دوسرے ایجنٹوں کے لئے کھول دی گئیں۔ اس دوران ہزاروں جاسوس آئے اور انہوں نے پاکستان کی سکیورٹی کی جڑیں کاٹ ڈالیں۔ لیکن اللہ کا کرم ہے کہ اب ایسی عسکری قیادت آئی ہے کہ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنا کام کررہی ہیں، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے خلاف بڑی سازشیں پکڑی جارہی ہیں۔سابق آرمی چیف نے کہا کہ عزیر بلوچ نے بہت سے انکشافات کئے ہیںجس کی وجہ سے اس نے خود اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ اسے جیل میں قتل کیا جا سکتا ہے۔ اس نے پاکستانی سیاست میں موجود بڑی شخصیات کا نام لیا ہے۔ اس نے کہا ہے کہ مجھے سکیورٹی فراہم کی جائے کیونکہ میری جان کو خطرہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو افغان عوام سے تعلقات رکھنے چاہئیں۔ ماضی میں بھی سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پاکستان کے تعلقات افغان عوام سے تھے‘ افغان حکومت سے نہیں۔ ہم یہ بھول گئے ہیں کہ اس وقت بھی افغان مجاہدین کی طرح افغان طالبان اپنی آزادی کی جنگ لڑ رہے ہیں اور ہم نے انہیں نہ صرف نظرانداز کیا ہے بلکہ ہم نے غاصب افواج کی مدد کی ہے۔ اب صورتحال تبدیل ہو رہی ہے۔ جمعہ کو ماسکو میں 12ملکوں کی کانفرنس ہو ئی جس میں امریکہ شامل نہیں تھا بلکہ وہ اس کانفرنس کی مخالفت کر رہا تھا۔ یہ بڑی اہم کانفرنس تھی جس میں روس‘ چین‘ پاکستان اور ایران شریک تھے۔ اس کانفرنس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ ان ملکوں نے اس حقیقت کو سمجھ لیا ہے کہ افغانستان میں طالبان ہی وہ قوت ہیں جو مستقبل میں امن کی راہوں کا تعین کر سکتے ہیں۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ان سے معاملات طے کئے جائیں۔ ایسے حالات میں ہم نے اپنے افغان دوستوں کو امریکہ کی خوشنودی کی خاطر ناراض کر دیا ہے۔ پاکستان کو اب سوچنا ہے کہ اس نازک موقع پر اسے کیا فیصلہ کرنا ہے۔ کیا ہم امریکہ کے ہی بتائے ہوئے راستے اور پالیسی پر چلتے رہیں گے یا ہمیں کوئی اور نیا راستہ اختیار کرنا ہے‘ تاکہ طالبان کی مدد سے ہمارے ناراض قبائلی جن کی تعداد ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ ہے اور ہمارا دشمن انہیں استعمال کر رہا ہے‘ انہیں پاکستان واپس لایا جائے‘ اور وہ صرف طالبان ہی کی مدد سے واپس آ سکتے ہیں اور کسی کی مدد سے نہیں۔ اس کے بعد ہی پاک افغان سرحدوں پر امن قائم ہوگا۔ یعنی پاکستان کے خلاف بھارت اور دیگر دشمن ممالک کی سازشوں کا خاتمہ بھی اسی صورت میں ممکن ہے کہ ہم افغان طالبان کے ساتھ اچھے تعلقات رکھیں۔ کلبھوشن جیسے واقعات جنم ہی نہیں لینے پائیں گے اور ایسے واقعات کا سدباب ہو گا۔ بھارت کی افغانستان کے راستے مداخلت کی وجہ سے ہماری 2لاکھ سے زیادہ فوج مغربی سرحدوں پر لگی ہوئی ہے۔ وہ اپنے ازلی دشمن کے خلاف پوری طرح سے تیار ہوگی۔ روس‘ چین اور ایران نے حالات کو سمجھا ہے اور نہایت دانشمندانہ فیصلہ کیا ہے‘ جس میں ہمیں بھی شامل ہونا چاہئے اور ہمیں امریکہ کی سازش اور اس کے ردعمل سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔ اس سازش میں بھارت بھرپور طریقے سے شامل ہے۔ ہمیں یہ سمجھ لینا چاہئے کہ افغان طالبان ہی پاکستان میں قیام امن کے تحفظ کی ضمانت ہیں۔

پاکستان کی درخواست پر فیس بک انتظامیہ کا ایکشن, گستاخانہ مواد بارے بڑی خبر دیدی

اسلام آباد(خصوصی رپورٹ) فیس بک کے مختلف صفحات پر مسلمانوں کی مقدس ہستیوں کیخلاف مواد اپ لوڈ کرنے پر وزارت داخلہ کے بھر پور احتجاج اور مذکورہ موادنی الفور ہٹانے کے مطالبہ پر امریکہ میں موجود فیس بک انتظامیہ نے فوری طور پر وفد پاکستان بھجوانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے مذکورہ مواد ہٹانے میں پاکستان کیساتھ بھر پور تعاون جاری رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ مارچ میں وزارت داخلہ کی ہدایت پرایف آئی اے نے فیس بک کی امریکہ میں موجود انتظامیہ سے رابطہ کرکے تمام تر صورتحال بتائی تھی جس پر فیس بک انتطامیہ نے جائزہ لینے کیلئے اپنا وفد پاکستان بھجوانے کی حامی بھری تھی تا ہم وفد کے پاکستان آکر جائزہ لینے کا انتظار کئے بغیر فیس بک انتظامیہ نے مجموعی طور پر پینٹھ صفات سے مذکورہ گستاخانہ مواد فوری طور پر ختم کر دیا جبکہ فیس بک انتظامیہ کی جانب سے وفد پاکستان بھجوانے کیلئے بات چیت جاری تھی۔ فیس بک انتطامیہ کی طرف سے آپشن دیا گیا کہ ایف آئی اے یا دیگر متعلقہ ادارے فیس بک انتظامیہ کو نشاندہی کریں کہ کہاں کہاں کن کن صفحات پر ایسا مواد پڑا ہوا ہے اسے فوری ہٹایا جائے گا۔ اس نئی صورتحال پر ایف آئی اے رواں ہفتہ میں وزارت داخلہ کو اپنی رپورٹ پیش کرے گا۔ اس ضمن میں ایف آئی اے کے سینئر آفیسر نے رابطہ پر کہا کہ فیس بک انتظامیہ نے بھرپور تعاون کیا ہے اور آگے بھی یقین دہانی کرائی ہے یہ تعاون جاری رہے گا جبکہ مواد ہٹانے کے ساتھ ہمارا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایسے شر پسند عناصر کی نشاندہی کر کے انہیں قرارواقعی سزا دی جائے ورنہ بین الاقوامی قوانین کے تحت پاکستان عالمی عدالت انصاف سے رجوع کریگا۔ دوسری جانب ایک اور ذریعہ نے بتایا کہ اب تک ایف آئی اے نے مسلمانوں کی مقدس ہستیوں اور توہین مذہب کے کیس میں گیارہ ملزمان کو حراست میں لیا۔ وزارت داخلہ نے ان ملزمان کے نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈال دیئے ہیں۔