اب تعلیم کی بولی لگ گی 7 ہزار سکولوں بارے تشویشناک خبر

لاہور(ویب ڈیسک) اب تعلیمی نظام بھی ٹھیکے پر چلے گا۔ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے مزید سات ہزار سے زائد سکولوں کو آوٹ سورس کے نام پر این جی اوز کو ٹھیکے پر دئیے جانے کا امکان ، جلد عمل درآمد ہو گا۔واضح رہے کہ سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ نے 4233سکولوں کو پہلے ہی آوٹ سورس کے نام پر پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کے حوالے کیا ہو ا ہے جن کی کارکردگی مایوس کن ہے۔ جبکہ لاہور کے13تعلیمی اداروں کو دانش اتھارٹی سے واپس لینے کا ابھی تک کوئی باضابطہ نوٹی فکیشن بھی جاری نہیں کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں سرکاری سکولوں کو 2016-17 کا نان سیلری بجٹ اور SMCگرانٹ بھی پوری نہیں دی گئی۔ اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں پنجاب ٹیچرز یونین اور یونائیٹڈ ٹیچرز الائنس نے سکولوں کو آوٹ سورس کے نام پر این جی اوز کے حوالے کرنے کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کر لیا۔تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت کے دوسرے اداروں کی طرح اب تعلیمی نظام کو بھی ٹھیکے پر دئیے جانے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق سات ہزار سے زائد سکولوں کو آوٹ سورس کے نام پر ٹھیکے پر دئیے جانے کا پلان زیر غور ہے جبکہ پنجاب حکومت کی ہدایات پر 4233سکولوں کو پہلے ہی آوٹ سورس کے نام پر پنجاب ایجوکیشن فاونڈیشن کو ٹھیکے پر دے رکھا ہے۔ماہرین تعلیم کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں سکولوں کی نجکاری کر کے ٹھیکے پر دینے سے ان کی کار کر دگی شدید متاثر ہو گی۔واضح رہے کہ پنجاب بھر کے سکولوں میں اساتذہ کی شدید کمی ہے لیکن دوسری طرف بیورو کریسی کی نا اہلی کی وجہ سے دس ماہ سے جاری چالیس ہزار اساتذہ کی بھرتی کا عمل تاحال مکمل نہیں ہوسکا۔ جس کی وجہ سے غریب طلبہ کا تعلیمی حرج ہو رہا ہے۔اساتذہ کی نمائندہ تنظیموں پنجاب ٹیچرز یونین،اور یونائیٹڈ ٹیچرز الائنس نے سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے سرکاری سکولوں کو نجی طور پر آوٹ سورس کر کے این جی اوز کو ٹھیکے پر دئیے جانے کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔پنجاب ٹیچرز یونین کے مرکزی صدر چوہدری محمد سرفراز نے کہا ہے کہ حکومت کی ناقص تعلیمی پالیسیوں نے نظام تعلیم کا بیڑہ غرق کر دیا ہوا ہے۔ یونائیٹڈ ٹیچر الائنس کے مرکزی صدر حافظ غلام محی الدین نے کہا ہے کہ لاہور کے13تعلیمی اداروں کوخراب کارکردگی کے باوجود دانش اتھارٹی سے واپس لینے کا ابھی تک کوئی باضابطہ نوٹی فکیشن جاری نہیں کیا گیا اس پر مزید سکولوں کو نجی طور پر این جی اوز کے حوالے کرنے کا فیصلہ قابل مذمت ہے انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے سکولوں میں سولر اور انٹریکٹوبورڈ لگانے کا منصوبہ بھی اربوں روپے کا ضیاع ہوگا کیونکہ 60فی صد سکولوں میں چوکیدار اور سویپر ہی نہیں ہیں جبکہ گزشتہ9 سالوں میں اساتذہ کی مشاورت سے کوئی تعلیمی اصطلاحات مرتب نہیں کی گئیں۔ ٹیچرز کی نمائندہ تنظیموں پنجاب ٹیچرز یونین نے نے اساتذہ کی اپ گریڈیشن ،اور سکولوں کو آوٹ سورس کے نام پر این جی اوز کے حوالے کرنے کے خلاف 24اگست جبکہ یونائیٹڈ ٹیچرز الائنس نے 27اگست کو کو پنجاب بھر میں ضلعی پریس کلبوں کے سامنے احتجاج کا فیصلہ کر لیا ہے۔دوسری طرف سیکرٹری سکول ایجوکیشن پنجاب اللہ بخش ملک نے روزنامہ پاکستان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکولوں کی بہتر کارکردگی اور بچوں کو اعلی معیار تعلیم کے لئے سکولوں کو آوٹ سورس کرنے کا پلان زیر غور ہے مگر آئندہ پنجاب ایگزامینیشن کمیشن کے نتائج کے بعد سکولوں کی کارکردگی کو مدنظر رکھ کر مزید سکولوں کو آوٹ سورس کرنے کا فیصلہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ہمارے اساتذہ دن رات سکولوں کی بہتری اور بچوں کو اعلی معیار تعلیم کے لئے خدمات انجام دے رہے ہیں اور اگر اساتذہ اسی جذبے کے ساتھ بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرتے رہے تو ہمیں سکولوں کو پرائیویٹ سطح پرآوٹ سورس نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ نکمے اور کام چور اساتذہ کے لئے ہمارے پاس کوئی جگہ نہیں اور ان کے خلاف پیڈا ایکٹ کے تحت کارروائی جاری رہے گی۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے اساتذہ کی اپ گریڈیشن کی ہے تو حکومت ان سے یہ توقع رکھتی ہے کہ وہ بچوں کو بہترین تعلیم دینے کے لئے ہمہ وقت کوشاں رہیں گے۔

جوڈیشل کمپلیکس کی تعمیر 13 سال بعد بھی نامکمل ، تہلکہ خیز رپورٹ

لاہور (خصوصی رپورٹ) لاہور میں بننے والے جوڈیشل کمپلیکس کا منصوبہ تیرہ سال بعد بھی مکمل نہ ہوگا، انتظامیہ کی غفلت، فنڈز کی کمی کے ساتھ ساتھ وکلاءعہدیداران کی نااہلی اور لاپروائی اس تاخیر کا باعث ہے، انصاف اور لوگوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کرنے والے اپنے اجتماعی حق کے لیے جدوجہد کرنےسے گریزاں دکھائی دیتے ہیں۔ جوڈیشل کمپلیکس کے فیز ٹو میں بننے والے وکلاءچیمبرز ابھی تک زیرتعمیر ہیں تعمیراتی کام کے باعث سکیورٹی رسک میں بھی اضافہ ہوگیا ہے، ملک کے سالانہ بجٹ میں ہر سال اربوں روپے رکھے جاتے ہیں جن میں سے کروڑوں روپے تعمیراتی کاموں کے لیے مختص کیے جاتے ہیں، اس سال کے بجٹ میں بھی صرف سیشن کورٹس کے لیے 5.5 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا، اس کے علاوہ ہر حکومت کے پاس وکلاءکیلئے بھی خصوصی فنڈز ہوتے ہیں، کچھ حکومتیں ان فنڈز کو وکلاءکی بہبود پر استعمال کردیتی ہے مگر کچھ حکومتیں ان فنڈز کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرتی ہیں جس کے باعث وکلاءکی اجتماعی فلاح کے منصوبے دھرے رہ جاتے ہیں۔2015ءمیں فیز ٹو کا افتتاح کیا گیا اور عدالتوں نے کام شروع کیا مگر اسی منصوبے کا دوسرا حصہ جس میں وکلاءکیلئے چیمبرز کی تعمیر کیے جانا تھے وہ آج بھی مکمل نہ ہوسکاہے۔

استعفیٰ منظور مقتدر حلقوں میں کھلبلی

اسلام آباد (ویب ڈیسک)چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹر بابر اعوان کا استعفیٰمنظور کرلیا، بابر اعوان کے استعفے کے باعث خالی ہونے والی نشست پر الیکشن کا شیڈول الیکشن کمیشن آف پاکستان جلد دے گا۔ جمعرات کو چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹر بابر اعوان کی طرف سے دیا گیااستعفیٰ منظور کرلیا ہے، اس حوالے سے سینیٹ سیکرٹریٹ نے نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا ہے، بابر اعوان پنجاب سے پیپلز پارٹی کی نشست پر سینیٹر منتخب ہوئے تھے، ان کے استعفے کے باعث خالی ہونے والی نشست پر الیکشن کمیشن الیکشن کےلئے شیڈول جاری کرے گا۔

پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف میں ٹھن گئی ، اہم وجہ بھی سامنے آگئی

اسلام آباد(ویب ڈیسک)پانامہ کیس پر جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد وزیراعظم نوازشریف کے مستعفی ہونے اور فوری نئے انتخابات کے معاملے پر اپوزیشن کی دو اہم جماعتوں تحریک انصاف اور پیپلز پارٹی میں اختلافات کھل کر سامنے آ گئے۔ تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ نے مطالبہ کیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد وزیراعظم نوازشریف فوری طور پر استعفیٰ دے دیں اور ان کی جگہ مسلم لیگ (ن) سے نیا وزیراعظم منتخب کرایا جائے اور قومی اسمبلی کو اپنی آئینی مدت پوری کرنی چاہیے تاہم تحریک انصاف کے رہنما سابق وزیر قانون ڈاکٹر بابر اعوان نے اس سے برعکس مو¿قف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تحریک انصاف نوازشریف کا استعفیٰ مانگنے کے ساتھ ساتھ نئے وزیراعظم کی بجائے فوری طورپر عام انتخابات چاہتی ہے اور ہم اس مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وزیراعظم کے استعفے اور نئے انتخابات کے معاملے پر اپوزیشن کی دو اہم جماعتوں کے رہنماﺅں کے بیانات میں واضح تضاد نظر آ رہا ہے۔

سیاسی بحران نواز حکومت نے دوست ممالک سے اہم مطالبہ کر دیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد حکومت کے مختلف ممالک سے رابطے‘ بحران سے نکالنے کیلئے سعودی عرب‘ امریکہ اور برطانیہ سے مدد طلب‘ یو اے ای حکام سے رابطہ ہی نہ ہو سکا۔ باوثوق ذرائع کے مطابق 12جولائی کو دفترخارجہ کی جانب سے متحدہ عرب امارات کے اسلام آباد میں موجود سفارتخانے کو ایک خط لکھا گیا جس میں وزیراعظم نوازشریف کی طرف سے یو اے ای کے اعلیٰ نائب صدرو وزیراعظم متحدہ عرب امارات شیخ محمد بن راشد المکتوم سے بذریعہ ٹیلیفون رابطے کے خواہشمند ہیں۔ خط میں لکھا گیا ہے کہ ابوظہبی میں موجود پاکستانی سفارتخانے نے پہلے بھی اماراتی نائب صدر و وزیراعظم سے رابطہ کرانے کی کوشش کی تاہم وہ کامیاب نہ ہو سکے۔