Monthly Archives: July 2017
کیا آپ عوام اور عدالت سے محاذ آرائی کریں گئے ؟ خورشید شاہ
اور اب پتھروں ،جانوروں کے بعد درخت کی بھی پو جا شرو ع
بھوپال(ویب ڈیسک )”بھارت رے بھارت تیری کون سی کل سیدھی“ہندوستانی ریاست مدھیہ پردیش کا دارلحکومت بھوپال گذشتہ کچھ عرصہ سے میڈیا کی شہہ سرخیوں میں آیا ہوا ہے ،حال ہی میں بھوپال میں چند روپوں کا قرض نہ ملنے پر 51کسانوں نے اسی شہر میں خود کشی کر کے مودی سرکار کے مونہہ پر کالک ملی تھی،اب خبر آئی ہے کہ بھوک اور غربت سے تنگ آ کر موت کو گلے لگانے والے کسانوں کے شہر بھوپال اور دیشا کے درمیان سلامتپور کی بلند و بالا پہاڑی پر ملک کا ایک ایسا سب سے وی وی آئی پی درخت موجود ہے جس کی حفاظت پر 4سے 5گارڈ نہ صرف 24گھنٹے حفاظتی ڈیوٹی پر موجود ہوتے ہیں بلکہ اس ”مقدس درخت “ کی حفاظت کے لئے گذشتہ 5سال سے بھارتی حکومت سالانہ 12سے 15لاکھ روپے بھی خرچ کرتی ہے۔
بھارتی نجی ٹی وی چینل”این ڈی ٹی وی “ کے مطابق مدھیہ پردیش کے دارلحکومت بھوپال اور دیشا شہر کے درمیان سلامتپور پہاڑی پر بھارت کا سب سے وی وی آئی پی درخت موجود ہے جس کے ارد گرد15فٹ بلند جنگلہ لگا کر4سے 5سیکیورٹی اہلکار تعینات کر رکھے ہیں ،جبکہ اس درخت کو مسلسل پانی لگانے کے لئے ایک خصوصی ٹینکر کا بھی انتظام کیا گیا ہے جو صرف اسی درخت کو پانی دینے کے لئے مختص کیا گیا ہے ،جس پہاڑی پر یہ درخت موجود ہے اس پوری پہاڑی کو ”بدھ مت یونیورسٹی کے لئے مختص کیا گیا ہے جبکہ اس درخت کو سری لنکن صدر نے ستمبر 2012ئ میں ہندوستان میں مقیم بدھ مت پیروکاروں کے لئے بطور خاص تحفہ دیا تھا ،اس وی وی آئی پی درخت کے بارے میں کہا جا تا ہے کہ بدھ مت کے بانی سدھارتھ گوتم( گوتم بدھ) اس درخت کے نیچے بیٹھ کر تعلیم حاصل کرتے رہے تھے جبکہ شہنشاہ اشوک اس درخت کی ایک شاخ کو بھارت سے سری لنکا لے کر گئے تھے ،اس لئے بدھ مت کے پیروکاروں کے نزدیک اس درخت کی خاص اہمیت بتائی جاتی ہے۔
درخت کی حفاظت پر معمور سیکیورٹی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اس درخت کو بیماریوں اور زہریلے کیڑوں مکوڑوں سے محفوظ رکھنے کے لئے ضلعی کلکٹر کی نگرانی میں محکمہ زراعت کے افسران ہر ہفتے یہاں چکر لگاتے ہیں ،اگر اس درخت کا کوئی ایک پتہ بھی سوکھ جائے تو ہم سب کی دوڑیں جاتی ہیں،پہاڑی کی چوٹی پر واقع درخت تک پہنچےکے لئے ریاستی حکومت نے باقاعدہ ایک سڑک بھی تعمیر کر رکھی ہے تاکہ یہاں ا?نے والے کو کسی قسم کی کوئی دشواری پیش نہ ہو ۔سیکیورٹی اہلکار کا کہنا تھا کہ پہلے پہل اس درخت کو دیکھنے کے لئے یہاں پر لوگوں کا رش لگا رہتا تھا جبکہ آہستہ آہستہ یہاں آنے والے افراد کی تعداد میں کافی زیادہ کمی ہوئی ہے۔بھارتی ٹی وی کا کہنا تھا کہ اسی شہر میں ریاستی حکومت کی جانب سے جہاں چند ہزار کا قرض نہ ملنے پر51جیتے جاگتے کسانوں نے خود کشی کر لی تھی وہیں پر بھارتی حکومت اس درخت کی حفاظت کے لئے سالانہ 12سے 15لاکھ روپے سالانہ خرچ کرتی ہے
سرفرا زکا اگلا ٹارگٹ کیا،قو م کے دل کی بات کہہ دی
کراچی (ویب ڈیسک )قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ چیمپینز ٹرافی جیتنے کے بعد اب اگلا ٹارگٹ ،ٹیم کے فتوحات کے سلسلے میں مستقل مزاجی پیدا کرنا ہے ،اس وقت ٹیم میں جونیئرز اور سینئرز کھلاڑیوں کا عمدہ کا مبی نیشن موجود ہے۔ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہوم کرکٹ نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا۔
کراچی پرس کلب میں میڈ یا سے گفتگو کرتے ہوئے سرفراز احمد نے کہا کہ انگلینڈ میں سیکیورٹی ایشوز کے باوجود ٹیمیں کھیلی ہیں ،اب پاکستان میں بھی کرکٹ بحال ہونی چاہیے کیونکہ پاکستان کرکٹ ٹیم کو ہوم کرکٹ نہ ہونے سے بہت نقصان ہوا ہے۔انہو ں نے کہا کہ میدان کے اندر اور باہر سینئرز کھلاڑیوں سے مشورے لیتا رہتا ہوں،ٹیم میں سینئرز اور جونیئرز کھلاڑیوں کا عمدہ کامبی نیشن موجود ہے ،سینئرکھلاڑیوں کا تجربہ ٹیم کے لیے بہ اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یونس اور مصباح الحق عظیم کھلاڑی تھے جن کی کمی پوری کرنے میں وقت لگے گا ،یونس خان نے مشکل ترین دور میں مرد بحران کا کردار ادا کیا ،ابھی ٹیم میں اسد شفیق،بابر اعظم اور اظہر علی ایسے کھلاڑی ہیں جو ان دو کھلاڑیوں کی کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔سرفرازاحمد نے کہا کہ جس طرح ٹیم نے چیمپینز ٹرافی میں کم بیک کیا ہے ،اب ہمارا اگلا ٹارگٹ ٹیم کی فتوحات کے سلسلے کو مستقل کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ ایونٹ کے دوران احمد شہزاد کو بیٹھا کر فخر زمان کو ٹیم میں شامل کرنا دلیری کا فیصلہ تھا۔قومی ٹیم کے کپتان نے کہا کہ پی ایس ایل میں کھلاڑیوں کو انٹر نیشنل کھلاڑیوں کے ساتھ کھیلنے کا موقع ملتا ہے جس سے ان کے اعتماد میں اضافہ ہوا۔
دپیکا کے پرانے بوائے فرینڈ نے سارے را ز کھو ل دئیے
ممبئی (ویب ڈیسک )بالی ووڈ کی اداکارہ دپیکا پڈوکون آج کل فلم انڈسٹری کی ٹاپ کی ہیروئن ہیں اور انہوں نے اپنے کیئریئر کا آغاز شارخ خان کی فلم ’اوم شانتی اوم‘ سے کیا ،اس فلم نے دپیکا کو شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا اور آج ان کے پوری دنیا میں مداح ہیں۔
تفصیلات کے مطابق بالی ووڈ میں آج کل دپیکا کی رنویر سنگھ کے ساتھ معاشقے کی خبریں عام ہیں تاہم آج ہم آپ کو بتائیں گے کہ فلم انڈسٹری میں قدم رکھنے سے پہلے دپیکا کا بوائے فرینڈ کون تھا۔دپیکا پڈون نے اپنے کیریئر کا آغاز ماڈلنگ سے کیا،رپورٹس کے مطابق ماڈلنگ کے دور میں دپیکا کے بوائے فرینڈ نہار پانڈیا تھے ، 2005 میں دونوں کی ایک دوسرے سے ملاقات ایک ایکٹنگ اسکول میں ہوئی تھی، دونوں کی دوستی بہت تیزی محبت میں بدل گئی، 3 سال کے ریلیشن کے بعد دیپکا نے آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا اور نہار سے بریک اپ کر لیا۔
سوناکشی کا انکار،وجہ کیا بنی؟
ممبئی (خصوصی رپورٹ)اکشے کے بعد سوناکشی کا بھی نمستے انگلینڈ” میں کام کرنے سے انکار۔گذشتہ دنوں ہدایت کار اور فلم ساز وپل امرت لال شاہ نے فلم کے سیکوئل میں صرف ہیروئن کو تبدیل کرتے ہوئے سوناکشی سنہا کو منتخب کیا تھا، جب کہ ہیرو کے لیے اکشے کمار ہی منتخب کیے گئے تھے مگر اکشے کمار مصروفیت کے باعث انہیں وقت نہیں دے پا رہے تھے، جس کے بعد ہدایت کار نے اکشے کمار کو خارج کرتے ہوئے اس کی جگہ ارجن کپور کو کاسٹ کیا۔پروڈیوسر کی جانب سے اکشے کمار کو خارج کیے جانے کی خبر سننے کے بعد اداکارہ سوناکشی سنہا نے بھی فلم میں کام کرنے سے انکار کردیا۔سوناکشی سنہا کے بعد پروڈیوسر نے پرینیتی چوپڑا کو فلم کی کاسٹ میں شامل کیا، تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ فلم کی شوٹنگ کب شروع ہوگی۔
جے آئی ٹی ہے یا ’جن ‘آئی ٹی ،رانا ثنا ءاﷲ
لاہور(ویب ڈیسک) وزیر قانون پنجاب رانا ثنا اللہ کا کہنا ہے کہ نواز شریف نے شفافیت کےساتھ ملک میں سیاست کی ہے لیکن سپریم کورٹ آئندہ جوبھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔پنجاب اسمبلی میں پریس کانفرنس کے دوران رانا ثنائ اللہ نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ من گھڑت ہے اسے مسترد کرتے ہیں کیونکہ یہ جے آئی ٹی کم اور جن آئی ٹی زیادہ تھی، یہ رپورٹ 60 دنوں میں نہیں 4 برسوں میں تیارکی گئی ہے، دھرنوں کے دوران جو کچھ کہا گیا وہ سب کچھ جے آئی ٹی رپورٹ میں ہے، جے آئی ٹی برٹش ورجن آئی لینڈ سے حکومتی دستاویزات حاصل کرنے میں ناکام رہی، انہیں لگتا نہیں کہ رپورٹ میں سپریم کورٹ کے 13 سوالوں کا جواب دیا گیا ہے، عدالت سے استدعا کریں گے اس رپورٹ کو ردی کی ٹوکری میں پھینکا جائے۔ سپریم کورٹ آئندہ جوبھی فیصلہ کرے گی اس پر عمل کریں گے۔وزیر قانون پنجاب نے کہا کہ نواز شریف نے شفافیت کےساتھ ملک میں سیاست کی ہے، وہ 36 سال کے دوران مختلف اعلیٰ عہدوں پر رہے ہیں، اس دوران انہوں نے ہزاروں منصوبے مکمل کرائے لیکن ان پر کسی ایک منصوبے میں بھی کرپشن کا ریکارڈ نہیں ہے، جناتی تحقیقات کے باوجود نوازشریف کے دامن پرکوئی داغ نہیں لگ سکا، ہم نوازشریف پر فخر کرتے ہیں اور پوری (ن) لیگ ان کے پیچھے کھڑی ہے۔رانا ثنا اللہ نے کہا کہ پنڈی کا شیطان کہتا ہے کہ شریف خاندان کے بچے ارب پتی کیسے ہوگئے، عمران خان کے دائیں اور بائیں اے ٹی ایمز ہیں جن کی جیب سے عمران پیسہ نکالتے ہیں، 1990 میں علیم خان ایک بینک میں ملازم اور جہانگیرترین لیکچرارتھے، عمران خان یہ نہیں پوچھتے کہ چند سالوں میں یہ ارب پتی کیسے بن گئے۔
استعفیٰ نہیں دوں گا،وزیر اعظم کا صاف جواب
اسلام آباد: وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ انہیں عوام نے منتخب کیا ہے اوروہ سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔وفاقی کابینہ کے اجلاس کے دوران وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ 1937 سے ہمارا آبائی کاروبار ہے، ہمارے خاندان نے سیاست سے کچھ نہیں کمایا البتہ کھویا بہت کچھ ہے، ان کے اورشہباز شریف کے کسی بھی دور کی کرپشن کا کوئی ثبوت ہے تو اسے سامنے لایا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ ہمارا ضمیر اور دامن صاف ہے، ملک میں اربوں کے منصوبے لگ رہے ہیں لیکن کوئی بد عنوانی ثابت نہ ہوئی، جے آئی ٹی رپورٹ ذاتی کاروبارکے بارے میں مفروضوں، الزامات اور بہتانوں کا مجموعہ ہے، رپورٹ میں استعمال کی گئی زبان سے بدنیتی عیاں ہوتی ہے، ہم نے استعفے کا مطالبہ کرنے والوں کے مجموعی ووٹوں سے زیادہ ووٹ لیے، انہیں عوام نے منتخب کیا ہے اور وہ سازشی ٹولے کے کہنے پر استعفیٰ نہیں دیں گے۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ماضی میں تماشوں کی بھاری قیمت ادا کرچکا، اب یہ سلسلہ بند ہوجانا چاہیے، ہماری انگلیاں عوام کی نبض پرہیں، سائنٹیفک جائزے بتارہے ہیں کہ عوام کی بھاری اکثریت ہمارے ساتھ ہے، کبھی دھاندلی ، کبھی کرپشن ، کبھی پاناما اورکبھی کسی اور نام سے ہنگامے کھڑے کرنے والے ناکام و نامراد رہیں گے، وقت آنے پر سب راز کھل جائیں گے اور وہ وقت زیادہ دور نہیں۔
مریم نواز نے بڑا اعلان کردیا، مقتدر حلقوں میں کھلبلی
اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف پر سرکاری پیسے کی خرد برد کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے اس لئے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف کا ٹوئٹ ری ٹوئٹ کیا ہے جس میں صارف انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو ہم نے پانچ سالوں کے لئے منتخب کیا ہے اس لئے انہیں کسی بھی صورت میں استعفیٰ نہیں دینا چاہیے ، جس کو جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے ٹوئٹ کیا کہ نواز شریف کے پانچوں ادوار میں ان پر سرکاری پیسوں کی خردبرد کا ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا اس لئے انشااللہ وہ استعفی نہیں دیں گے۔
نواز شریف کے نااہل یا مستعفی ہونے پر 2 اہم نام سامنے آ گئے ، دیکھئے پہلا نمبر کس کا ہے
لاہور (سیاسی رپورٹر) جے آئی ٹی کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد سپریم کورٹ کے ججز کے ریمارکس کی روشنی میں محسوس ہونے لگا ہے کہ شاید ججوں کا فیصلہ بھی نواز شریف کے حق میں نہ ہو یہی وجہ ہے کہ ان کے اپنے ساتھیوں میں سے بھی کم و بیش 50 فیصد یہ مشورہ دینے لگے ہیں کہ وزیراعظم مستعفی ہو جائیں۔ فیصلہ ان کے خلاف آنے کی شکل میں وزیراعظم نواز شریف نہ صرف وزارت عظمیٰ سے محروم ہو جائیں گے بلکہ بعض ماہرین قانون کی رائے میں ان پر دو سال تک سیاست میں حصہ نہ لینے کے لئے پابندی بھی لگ سکتی ہے۔ لہٰذا لاہور اور اسلام آباد میں نواز شریف کے خاندان اور بااعتماد سیاسی دوستوں میں مشکل حالات میں مسلم لیگ کی قیادت کون سنبھالے گا یہ بحث زوروں پر ہے۔ مزاجاً نواز شریف چونکہ اپنے خاندان سے ہر کسی پر زیادہ اعتماد نہیں کرتے اس لئے گمان غالب ہے کہ قرعہ فال بالآخر شہباز شریف کے نام نکلے گا جو اگرچہ جے آئی ٹی میں پیش ہوئے تھے اور خاندانی حوالے سے ان پر جرح بھی کی گئی لیکن پانامہ لیکس ہو یا لندن فلیٹس ان کا نام براہ راست کسی بڑے الزام سے منسلک نہیں ہے۔ شریف خاندان کے دوسرے نمبر پر فائز شہباز شریف کی شہرت ایک منتظم کے طور پر بہت اچھی ہے اور پنجاب میں ابھی تک مسلم لیگ ن کے صوبائی ارکان ان کی کوئی مخالف لابی بھی بنتی ہوئی نظر نہیں آتی۔ اس لئے آگے چل کر وہ ایم این اے کا ضمنی الیکشن لڑنے کے بعد وزیراعظم بھی بن سکتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ اس ضمن میں ایک اور نام کلثوم نواز شریف کا لیا جا رہا ہے جن پر پانامہ لیکس کے حوالے سے کوئی الزام نہیں ہے اور نہ پوچھ گچھ کے لئے انہیں جے آئی ٹی میں بلایا گیا بطور خاتون وہ مسلم لیگی حلقوں میں عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں اور نواز شریف اور شہباز شریف کی سعودی عرب موجودگی میں وہ بطور اپوزیشن لیڈر پرویز مشرف دور میں اپنی سیاسی جماعت کی قیادت کر چکی ہیں۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نواز شریف اور مریم نواز مشکل وقت میں انہیں شہباز شریف سے بھی زیادہ پارٹی قیادت یا وزارت عظمیٰ کےلئے بہتر تصور کرتے ہیں کیونکہ خاندان کے بقیہ افراد کو جے آئی ٹی میں بلایا جا چکا ہے۔ حسن، حسین نواز، مریم نواز، کیپٹن صفدر، اسحاق ڈار بھی پانامہ لیکس کے حوالے سے الزامات میں ملوث ہیں جبکہ کلثوم نواز کے خلاف کوئی الزام موجود نہیں تاہم فیصلہ شہباز شریف کے حق میں ہوا تو ایم این اے کی کوئی نشست خالی کروا کے ضمنی الیکشن میں شہباز شریف کو ایم این اے بنوایا جا سکتا ہے۔ اگر یہ راستہ اختیار کیا گیا تو تین ماہ چودھری شجاعت کی وزارت عظمیٰ کی طرح عارضی وزیراعظم کے لئے اگرچہ احسن اقبال کا نام لیا جا رہا ہے لیکن نواز شریف کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ وہ وزیرتجارت خرم دستگیر پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں جو گوجرانوالہ کے بزرگ مسلم لیگی غلام دستگیر خان کے بیٹے ہیں اور شریف خاندان سے ان کی خاندانی رشتہ داری بھی ہے تاہم عابد شیر علی کا نام بھی عارضی وزیراعظم کے طور پر لیا جا رہا ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ کلثوم نواز اگرچہ ایم این اے نہیں لیکن مخصوص نشستوں پر ایم این اے بننے والی کسی بھی خاتون سے استعفیٰ لیکر پارٹی انہیں اس کی جگہ نامزد کر سکتی ہے اور یہ عمل تین ماہ کی نسبت بھی بہت جلد مکمل ہو سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ موجودہ وفاقی وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو بھی کوئی عارضی ذمہ داری دی جا سکتی ہے جو سینئر خاتون مسلم لیگی لیڈر اور سابق وزیر نجمہ حمید کی بھانجی ہیں اور ان کے خاندان کو شریف فیملی سے بہت قریب سمجھا جاتا ہے۔ بہرحال نواز شریف مستعفی ہوں یا عدالت سے نااہل نئے وزیراعظم کا فوراً انتخاب لازمی ہو گا چنانچہ 3 ماہ بعد وزیراعلیٰ پنجاب ہی کو ضمنی الیکشن میں کامیاب کروائے اور ایم این اے بنوا کر وزیراعظم بنایا جاسکتا ہے تاہم بعض قانونی حلقوں کے مطابق شہباز شریف پر بھی شریف فیملی کے ہی مالی بدعنوانی کے الزامات لگائے جا سکتے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں جے آئی ٹی میں بلوایا گیا تھا اس شکل میں محفوظ ترین امیدوار کلثوم نواز ہو سکتی ہیں آنے والے ہفتہ دس دن میں مزید صورتحال واضح ہو جائے گی اور 17 تاریخ کو عمران، سراج الحق اور شیخ رشید کی دائر کردہ رٹوں کے جواب میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر جب سپریم کورٹ کے ججوں نے کارروائی شروع کی تو اگرچہ فیصلہ فوری نہیں ہو سکتا تاہم تیل دیکھو تیل کی دھار دیکھو کے مصداق پر اندازہ لگانا مشکل نہ ہوگا کہ آنے والے خطرات کیسے ہونگے اور حالات کس کروٹ بیٹھیں گے۔

















