قومی اسمبلی اجلاس بارے اپوزیشن جماعتوں میں اختلافات ، بڑی خبر

اسلام آباد(آئی این پی) اپوزیشن کی بعض جماعتوں میں اختلافات پر قومی اسمبلی اجلاس کیلئے ریکوزیشن جمع نہ کرائی جاسکی ریکوزیشن پرمطلوبہ تعداد میں اراکین کے دستخط ہی نہیں ہوسکے۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ نے بدھ تک ریکوزیشن جمع نہ ہونے کی تصدیق کردی ۔تفصیلات کے مطابق دونوں بڑی جماعتوں پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان قومی اسمبلی کے اجلاس کیلئے ریکوزیشن جمع کرانے پر اتفاق رائے کے باوجود تاحال ایسی کوئی درخواست سیکرٹری قومی اسمبلی کو موصول نہیں ہوئی ہے۔ریکوزیشن میں مطلوبہ تعدداد میں اپوزیش کے دستخط ہی نہیںہوسکے ہیں۔ریکوزیشن کے معاملے پر بدھ کو قومی اسمبلی سیکرٹریٹ سے رابطہ کیا گیا تو تاحال ریکوزیشن جمع نہ ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔

استعفیٰ ، شہباز شریف نے بھی وزیراعظم سے اہم مطالبہ کر دیا

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک، آن لائن) وزیر اعظم کے زیرصدارت اہم اجلاس کی اندرونی کہانی سامنے آ گئی۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے بڑے بھائی وزیر اعظم نواز شریف کو استعفیٰ دینے کا مشورہ دے دیا۔ زاہد حامد، راجہ ظفر الحق، شاہد خاقان عباسی نے بھی وزیراعظم کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا۔ نجی ٹی وی کے مطابق ہر گزرتے لمحے وزیر اعظم پر استعفے دینے کیلئے دباﺅ بڑھتا جا رہا ہے۔ وزیراعظم ہاﺅس میں نواز شریف کی قیادت میں اجلاس میں شہباز شریف، راجہ ظفر الحق، شاہدخاقان عباسی اور وزیر قانون زاہد حامد نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے کا مشورہ دیا اور کہا کہ فی الوقت عہدہ سے مستعفی ہو جائیں۔ معاملے کو قانونی اور عدالتی طور پر لڑنے کیلئے مکمل فری ہینڈ دیا جائے۔ نجی ٹی وی کے مطابق وزیر اعظم سے کہا گیا کہ فیصلہ آنے تک وزارت عظمیٰ کا منصب چھوڑ دیں اس سے قبل پارلیمانی پارٹی میں موجود ایک بڑے دھڑے نے وزیراعظم کو مستعفی ہونے اور ٹکراﺅ کی پالیسی اختیار نہ کرنے کا کہا تھا۔ علاوہ ازیں آن لائن کے مطابق مسلم لیگ ’ن‘ وزیرا عظم کی استعفیٰ پر دو دھڑوں میں تقسیم ہو گئی۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان گروپ نواز شریف کے استعفیٰ کا حامی ہے جبکہ خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف گروپ نواز شریف کے وزارت عظمیٰ کے حق میں ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش ہونے کے بعد مسلم لیگ (ن) دو دھڑوں میں تقیسم ہوگئی ہے جس میں شہباز شریف اور وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان گروپ نواز شریف کے وزارت عظمیٰ سے استعفیٰ کا حامی ہے نواز شریف کو اب پارٹی ساکھ بچانے کیلئے مستعفی ہوجانا چاہیے اسلئے وزیر داخلہ چوہدری ن نثار علی خان نے سپریم کورٹ میں جے آئی ٹی رپورٹ پیش ہونے کے بعد نواز شریف کی زیر صدارت ہونے والے 4مشاورتی اجلاسوں میں شرکت نہیں کی اور نہ ہی نواز شریف اور چوہدری نثار کا کوئی رابطہ ہوا لیکن دونوں کے درمیاں وزیرا علیٰ پبجاب شہباز شریف رابطے کا کردار ادا کر رہے ہیں اور دبدھ کے روز اسی سلسلے میں شہباز شریف اور وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے درمیان پنجاب ہا¶س میں ملاقات ہوئی اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا اور دوسرے جانب خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف گروپ ہے جوکہ نواز شریف کے وزارت عظمی کے حق میں ہے اور نواز شریف اس وقت اہم فیصلے میں مشاورت خواجہ آصف سے لے رہے ہیں اور خواجہ آصف نے نواز شریف کو رائے دی ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر سپریم کورٹ میں بھرپور طریقے سے قانونی جنگ لڑی جائے اور مخالفین کو ٹف ٹائم دیا جائے واضح رہے کے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد نے بھی دعویٰ کیا ہے کہ مسلم لیگ ن میں 44ایم این ایز کا ایک دھڑا بن چکا ہے اور مسلم لیگ ن کے اندر مری کے ایک ایم این اے کو وزارت عظمی دینے کیلئے مشاورت جاری ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے اندر گروپ بندی کی خبریں اس وقت زور پکڑنا شروع ہوئیں جب وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے جے آئی ٹی پر پراسرار خاموشی اختیار کرلی تھی۔ کہا جارہا ہے کہ چوہدری نثار علی خان باغی دھڑے کی تیاری کر رہے ہیں۔ ترجمان وزیراعظم ہاﺅس نے کہا ہے کہ چودھری نثار کی شہباز شریف سے کوئی ملاقات نہیں ہوئی۔ نجی ٹی وی کے مطابق انہوں نے کہا کہ ایسی خبریں تصدیق کے بغیر نہ چلائی جائیں۔

اصل فیصلہ کونسی عدالت کریگی ، نواز شریف نے اعلان کر دیا

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں، مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما لیکس کی جے آئی ٹی رپورٹ کے تناظر میں وزیراعظم کی زیر صدارت حکومت کا اہم اجلاس ہوا جس میں بحران سے نکلنے کی حکمت عملی پر غور کیا گیا۔ جس میں وفاقی وزرا اور قانونی ماہرین نے شرکت کی۔ اجلاس میں سپریم کورٹ میں قانونی جنگ کی حکمت عملی ترتیب دینے کے لیے صلاح مشورے کیے گئے۔عدالت عظمیٰ میں جے آئی ٹی رپورٹ کی سماعت ہوگی جس میں حکومت کی نمائندگی کے لیے تین وکلا پر مشتمل ٹیم بھی تیار کی جارہی ہے جو عدالت میں جواب جمع کرائے گی۔ حکومتی اجلاس میں روزانہ کی بنیاد پر اپوزیشن کی پریس کانفرنسز کا جواب دینے کی بھی حکمت عملی طے کی گئی کہ میڈیا سے گفتگو میں وزرا کن امور پر بات کریں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف نے پارٹی رہنماو¿ں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے ملک کو ترقی کے راستے پر ڈال دیا ہے، آئندہ انتخابات سے پہلے توانائی بحران پر بھی قابو پا لیا جائے گا، جے آئی ٹی رپورٹ میں موجود تضادات کو عدالت عظمیٰ کے سامنے لایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی سے تعاون نہ کرنے کا الزام بے بنیاد ہے۔ اجلاس کے شرکاءنے کہا کہ وزیر اعظم ملک کے مقبول ترین لیڈر ہیں، عوام نے انہیں پانچ برس کے لئے منتخب کیا، کسی کو عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ وزیراعظم نوازشریف نے ن لیگ کی پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس جمعہ کو طلب کرلیاجے آئی ٹی رپورٹ پر اعتماد میں لیا جائے گا۔ وزیراعظم نے کہا ہے کہ احتساب سے نہیں گھبرائیں گے۔ حکومت نے ملک کو تعمیر و ترقی کے جس راستے پر ڈالا، اس سفر کو جاری رکھا جائے گا، وزیراعظم کا دعویٰ تھا کہ کوئی جرم نہیں کیا، پھر بھی خود کو احتساب کے لئے پیش کیا ہے، اصل فیصلہ عوام کی عدالت کرے گی۔

شریف خاندان نے 4 بڑوں کی خدمات حاصل کر لیں ، کیا آپ کو نام پتہ ہیں ؟

اسلام آباد (صباح نیوز) پاناما کیس کے لیے شریف خاندان نے ملک کے 4 بڑے قانون دانوں کی خدمات حاصل کرلیں۔پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ کو حکومت نے یکسرمسترد کرکے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔جب کہ اب شریف خاندان نے بھی پاناما کیس سے نمٹنے کے لیے ملک کے 4 بڑے قانون دانوں کی خدمات حاصل کرلی ہیں جن میں اب تک خواجہ حارث اور امجد پرویز کے نام سامنے آئے ہیں۔نجی ٹی وی نے ذرائع کاحوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خواجہ حارث شریف خاندان کی قانونی ٹیم کی سربراہی کریں گے۔ ان کے علاوہ امجد پرویز اور دیگر 2 قانون دان ٹیم میں شامل ہوں گے۔ذرائع کا کہنا ہےکہ قانون دان امجد پریز نیب کیسز کے ماہر تصور کیے جاتے ہیں اور وہ این آئی سی ایل کیس میں سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور مسلم لیگ (ق)کے مرکزی رہنما پرویز الہی کے صاحبزادے مونس الہی کے وکیل بھی رہے ہیں۔ذرائع نے بتایا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے مطابق شریف خاندان کے 2 کیسز سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن پاکستان (ایس ای سی پی) اور 2 وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے)کے پاس ہیں۔ذرائع کے مطابق شریف خاندان کے وکلا جے آئی ٹی رپورٹ کا جائزہ لے رہے ہیں اور ٹیم ہفتے کے اختتام تک سپریم کورٹکے لیے اپنا جواب تیار کرلے گی۔

وفاقی وزراءنے کس جگہ ڈیرے جما لیے ، کس کی موجیں لگ گئیں ، دیکھئے خبر

اسلام آباد(آن لائن) وفاقی وزراءاور وزیر مملکت سمیت پارلیمانی سیکرٹری کی دفاتر سے غیر حاضریاں ، وفاقی وزراءنے وزیراعظم ہاو¿س میں ڈیرے ڈال لئے، وزیراعظم ہاو¿س میں طویل ترین مشاورتی عمل جاری ہے جبکہ بیوروکریسی کی موجیں لگ گئیں ، دور دراز سے آنیوالے سائلین کو پریشانی کا سامنا، تفصیلات کے مطابق گذشتہ دو روز سے سیکرٹریٹ میں وفاقی وزراء،وزیرمملکت اور پارلیمانی سیکرٹریز دفاتر سے غیر حاضر ہیں اور انہوں نے وزیراعظم ہاو¿س میں ڈیرے ڈال دیئے ہیں جبکہ دفاتر کی کمان بیوروکریسی نے سنبھال لی ہے جبکہ عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

اور اب تک کی سب سے بڑی خبر ،ن لیگ میں پھوٹ 82 ناراض ارکان نے کس سے رابطہ کر لیا ، تہلکہ مچ گیا

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) ناراض لیگی رہنما ذوالفقار کھوسہ بھی میدان میں آ گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ناراض ایم این ایز کی بڑی تعداد ان سے رابطے میں ہیں۔ ذوالفقار کھوسہ سے سوال کیا گیا کہ کیا 70,60 ارکان اسمبلی آپ کے ساتھ ہوں گے، تو ان کا جواب تھا کہ اس سے زیادہ،اتنے کہ ان کو جھٹکا لگے گا۔ ذوالفقار کھوسہ کے مطابق 82 ناراض ایم این ایز نے بجٹ اجلاس میں آنے سے انکار کر دیا تھا۔ ذوالفقار کھوسہ کا کہنا ہے کہ 1993ءمیں پنجاب میں 228 میں سے 31 ارکان رہ گئے تھے، وہی صورتحال اب ہے۔ ذوالفقار کھوسہ نے کہا کہ ان کے ساتھ کسی نے نہیں ڈوبنا، میں بڑھکیں نہیں مار رہا۔ انہوں نے کہا کہ قیادت ختم ہو گی اور پیپلزپارٹی کی طرح ن لیگی ارکان بھی جا رہے ہیں۔
کھوسہ

”دھوکہ کو ن دے رہا ہے “….بیگم کلثوم نواز نے صحافیوں کو کیا جوا ب دیا

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)چوہدری نثار ہمیں دھوکہ دے رہا ہے، نواز شریف کے باہر جانے کے بعد کلثوم نواز نے موومنٹ کے دوران ماڈل ٹاﺅن کی رہائش گاہ پر مجھے اور تین صحافیوں کو یہ بات کہی، معروف صحافی عارف حمید بھٹی کا نجی ٹی وی پروگرام میں انکشاف۔ تفصیلات کے مطابق نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئےعارف حمید بھٹی نے نواز شریف اور ان کے اہلخانہ اور چوہدری نثار کے تعلقات پر بات کرتے ہوئے انکشاف کیا ہے کہ نواز شریف کے باہر جانے کے بعد جب کلثوم نواز یہاں موومنٹ چلا رہی تھیں تو ماڈل ٹاﺅن میںان کی رہائش گاہ میں مجھ سمیت چار صحافی موجود تھے جہاں بیگم کلثوم نواز کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار ہمیں دھوکہ دے رہا ہے۔

خبردار ہوشیار ،موٹر سائیکل چلان نیا جرمانہ کتنا؟

لاہور (خصوصی رپورٹ) موٹرسائیکل پر ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوںکو کم از کم 300 روپے جرمانہ ہوگا۔ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کی روک تھام کے لیے سٹی ٹریفک پولیس کی جانب سے آئی جی پنجاب کو موٹرسائیکل کے جرمانے میں اضافے کی سمری بھجوائی گئی تھی۔ سمری کے مطابق چالان پر جرمانے میں پچاس فیصد یعنی100 روپے اضافے کیا جا رہا ہے اور اب کم سے کم چالان 200 سے بڑھاکر 300 روپے اور 300 روپے سے بڑھاکر 400 روپے کر دیا گیا۔ سیف سٹی کے کیمروں کے مطابق اب تک زیادہ تر خلاف ورزیاں موٹرسائیکل سواروں کی جانب سے سامنے آئی ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ قائم مقام آئی جی کیپٹن (ر) عثمان احمد خٹک نے سمری حتمی منظوری کے لیے حکومت کو بھجوا دی ہے اور منظوری کے بعد ان جرمانوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا جائے گا۔

شہبازشریف کیخلاف عمران خان کیا کرنے والے ہیں؟؟

اسلام آباد (نیٹ نیوز) پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے وزیراعلیٰ شہبازشریف کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ نجی ٹی وی کے مطابق چیئرمین تحریک انصاف سے بابر اعوان نے ملاقات کی جس دوران شہباز شریف کیخلاف لاہور ہائیکورٹ میں ریفرنس دائر کرنے کے حوالے سے مشاورت کی گئی جس کے بعد عمران خان نے بابر اعوان کو منظوری دیدی۔بابر اعوان کا کہنا تھا کہ شہباز شریف کی ناہلی کیلئے ریفرنس میں ٹھوس موادا موجود ہے۔