لاہور کتنے اضلاع میں تقسیم ہونے والا ہے ؟

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے لاہور شہر کو انتظامی سطح پر چار اضلاع میں تقسیم کرنے کا حتمی فیصلہ کیا ہے، حکومت کے حکم پر کمشنر لاہور نے تمام متعلقہ محکموں سے سفارشات طلب کرلی ہیں تاکہ سمری منظوری کے لیے وزیراعلیٰ پنجاب کو بھجوائی جا سکے۔ ہر ضلع کا علیحدہ ڈپٹی کمشنرہوگا جبکہ پولیس کا سربراہ ڈسٹرکٹ پولیس افسر ہوگا۔ اس تقسیم سے ترقیاتی فنڈز کا استعمال بھی آزادانہ اور منصفانہ ہوگا اور پسماندہ علاقوں کی ترقی بھی ممکن ہوگی۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب حکومت نے کمشنر لاہور کی سربراہی میں ایک کمیٹی بنائی تھی کہ وہ لاہور کو چار اضلاع میں تقسیم کرنے کا جائزہ لیکر اپنی سفارشات دیں۔ کمیٹی نے اپنے اجلاس میں آٹھ صوبائی محکموں سے سفارشات طلب کیں جس میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن سے کہا گیا ہے کہ وہ شہر میں ہر یونین کونسل کی سطح پر لگائے گئے پراپرٹی ٹیکس کی تفصیلات فراہم کرے، محکمہ ہاﺅسنگ اینڈ اربن ڈویلپمنٹ سے کہا گیاکہ وہ اربن ڈویلپمنٹ کے جیوگرافیکل رجحان اور پاپولیشن گروتھ کے بارے میں تفصیلات فراہم کریں، لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ سے کہا گیا کہ وہ یونین کونسل کی سطح پر رجسٹرڈ ووٹوں کی تفصیلات سے آگاہ کرے اور شہر کی تحصیلوں اور یونین کونسل کی حد بندی کا ڈیجیٹل نقشہ فراہم کریں، کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ سے کہا گیا کہ لاہور میں کل رجسٹرڈ سوسائٹیوں اور ان کے نقشہ جات فراہم کریں، لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکم دیا گیا کہ اس کی منظور شدہ ہاﺅسنگ سوسائٹیوں اور ان کے نقشہ جات کی تفصیلات فراہم کریں جبکہ محکمہ قانون پنجاب کو کہا گیا کہ لاہور کو چار اضلاع میں تقسیم کرنے کے حوالے سے قانونی مسائل کا جائزہ لیکر اپنی رپورٹ فراہم کریں۔ بیورو آف سٹیٹکس سے شہری آبادی کا ڈیٹا فراہم کرنے کا کہا گیا۔ ایک سینئر سرکاری اہلکار کے مطابق تمام محکموں کی رپورٹس کا جائزہ لینے کے لیے لاہور کمشنر کی سربراہی میں ایک اہم اجلاس گزشتہ دنوں ہوا جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 1998ءکی مردم شماری کے مطابق لاہور کی آبادی 96 لاکھ تھی جو موجودہ مردم شماری میں ایک کروڑ 25 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کی رپورٹ کے مطابق لاہور میں 8لاکھ 60 ہزار یونٹس پراپرٹی ٹیکس کی مد میں آتے ہیں۔ لوکل گورنمنٹ اینڈ کمیونٹی ڈویلپمنٹ کے نمائندے نے اجلاس میں بتایا کہ لاہور کے چار اضلاع میں تقسیم کرتے ہوئے موجودہ یونین کونسلز کی حد بندیوں کو نہ چھیڑا جائے کیونکہ انکو ختم کرنے سے قانونی مسائل کو سامنا ہوگا، انہوں نے مزیدکہا کہ آیا لاہور کے چار اضلاع ایک ہی میٹروپولیٹن کے ماتحت ہوں گے جیسا کہ کراچی میٹروپولیٹن کے پانچ اضلاع اس کے ماتحت کام کرتے ہیں۔ اجلاس کو مزید بتایا گیا کہ لاہور کو مزید 9زونز میں تقسیم کیا جا رہا ہے جبکہ اس وقت لاہور میں 274 یونین کونسل کام کر رہی ہیں۔ اجلاس میں محکمہ کوآپریٹو کے نمائندے نے بتایا کہ لاہور چار اضلاع میں تقسیم کرتے ہوئے اس کی اہم حد بندیوں جن میں مال روڈ، جیل روڈ اور کینال روڈ کو مدنظررکھا جائے کیونکہ ان کی سطح پر لاہور کی تقسیم بہتر طریقے سے کی جاسکتی ہے۔ محکمہ پولیس لاہور کے سینئر افسرنے اجلاس کو بتایا کہ لاہور پولیس پہلے ہی چھ ڈویژنوں میں تقسیم کی گئی جن میں سٹی، صدر، کینٹ ، سول لائن ، اقبال ٹاﺅن اور ماڈل ٹاﺅن شامل ہیں۔

پی آئی اے ”سب بیچ کھاﺅ “کی پالیسی پر گامزن

کراچی (خصوصی رپورٹ) پی آئی اے انتظامیہ نے دنیا بھر میں موجود اپنے اربوں کے اثاثے ٹھکانے لگانے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ غیرملکی بروکرز سے بکنگ دفاتر‘ ویئر ہاﺅسز‘ فلیٹوں اور اراضی کی مارکیٹ ویلیو جاننے کیلئے رابطے کر لئے گئے ہیں ‘جنہوں نے نئی ایوالوکیشن رپورٹس مرتب کرنے کے بعد ہیڈآفس ارسال کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ قیمتوں کا تعین ہوتے ہی سمری تیار کر کے منظوری کیلئے بورڈ آف ڈائریکٹرز میں پیش کر دی جائے گی۔ قومی فضائی کمپنی کے اثاثوں کو فروخت کرنے کا ٹاسک نئے چیف ایگزیکٹو کو دیا جائے گا۔ تحقیقات پر معلوم ہوا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری نہ ہونے کی صورت میں دنیا بھر میں اس کے دفاتر‘ بنگلے‘ فلیٹس اور سینکڑوں ایکڑ اراضی جن کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے‘ کو فروخت کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ پی آئی اے کے سب سے مہنگے اثاثوں میں امریکہ اور پیرس میں موجود ہوٹلز ہیں جن کی مالیت 350ارب روپے سے زائد بتاتی جا رہی ہے جن کی فروخت منصوبے کے آخر میں کی جائے گی۔ ذرائع نے بتایا کہ حکومت پی آئی اے کی نجکاری نہ کرنے کے ساتھ ساتھ سٹرٹیجک پارٹنر کی تلاش میں ہے جس کے ذمے ایئرلائن کے آپریشنل معاملات لگائے جائیں گے۔ اس ضمن میں اب تک کسی پارٹنر کا نام سامنے نہیں آیا تاہم حکومت نے پی آئی اے کے اثاثوں کی مالیت سے متعلق دستاویزات تیار کرنا شروع کر دی ہیں۔ پی آئی اے ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ برس ایوی ایشن ڈویژن نے اثاثوں سے متعلق رپورٹ قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کو جمع کرا دی تھی‘ تاہم اس حوالے سے حکومت کو شکوک و شبہات ہیں کہ اس میں اراضی اور دیگر اثاثوں کی قیمتوں کے تعین میں بدنیتی کا مظاہرہ کیا گیا ہے اور اثاثوں کے ریٹ انتہائی کم ظاہر کئے گئے ہیں‘ جس کے بعد اب ایک بار پھر تمام اثاثوں کی قیمتوں کے تعین کیلئے غیرملکی بروکرز کو ٹاسک دیا گیا ہے۔ یہ غیرملکی بروکرز مارکیٹ ویلیو کا تعین کر کے اپنی رپورٹس پی آئی اے ہیڈآفس بھجوانا شروع کر چکے ہیں۔ معلومات کے مطابق پی آئی اے کے اثاثہ جات میں 31دسمبر کو راولپنڈی میں مال روڈ صدر میں پی آئی اے بکنگ آفس کی مالیت 3کروڑ 21لاکھ 42ہزار 500روپے ظاہر کی گئی ہے جبکہ پیرودھائی اسلام آباد میں پی آئی اے ڈی ایف ایس ایل ویئر ہاﺅس کی مالیت 3کروڑ 74لاکھ 40ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ 28مارچ 1994ءکو گوادر میں ایئرپورٹ روڈ پر پی آئی اے سیلز آفس کی مالیت 52لاکھ 4ہزار ظاہر کی گئی۔ 30جون 1983ءمیں ملتان سیلزآفس کیلئے احمد شاہ ابدالی روڈ پر دفتر خریدا گیا جس کی مالیت ایک کروڑ 86لاکھ 84ہزار 550روپے ظاہر کی گئی۔ 28مئی 1995ءمیں مظفرآباد آزادکشمیر میں سیلز آفس کیلئے جگہ لی گئی جس کی موجودہ قیمت 36لاکھ 25ہزار 200روپے ظاہر کی گئی ہے۔ 1968ءمیں پشاور حیات آباد میں ایک سیلزآفس لیا گیا تھا جس کی مالیت 6کروڑ 8لاکھ 4ہزار روپے ظاہر کی گئی۔ سیدوشریف مینگورہ میں پی آئی اے سیلز آفس کی مالیت ایک کروڑ 18لاکھ 44ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ 30جون 1988ءمیں سکردو سیلز آفس کیلئے چشمہ بازار میں جگہ لی گئی جس کی موجودہ مالیت 70لاکھ 30ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ 30جون 1978ءکو تربت میں کشمیر روڈ پر سیلز آفس بنایا گیا جس کی مالیت 31لاکھ 83ہزار 350روپے ظاہر کی گئی ہے۔۔ 1976ءمیں اسلام آباد بلیو ایریا میں سیلزآفس خریدا گیا جس کی موجودہ مالیت 5کروڑ 79لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ پنجاب اسمبلی کے بالمقابل واپڈا لاہور میں 1978ءمیں سیلزآفس لیا گیا جس کی موجودہ مالیت 14کروڑ 40لاکھ 47ہزار 875روپے ظاہر کی گئی ہے۔ 1974ءمیں کارساز کراچی میں پی آئی اے ڈائیگنوسٹک سنٹر کیلئے اراضی لی گئی‘ اس کی موجودہ مالیت 3کروڑ 17لاکھ 20ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے۔ اسی روز کراچی میں سیلز آفس کیلئے سڈکو سنٹر صدر میں دفاتر حاصل کئے گئے جن کی موجودہ مالیت 3کروڑ 17لاکھ 30ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ اسی روز کے ڈی اے سکیم ون کارساز میں پی آئی اے ایئرکریو میڈیکل سنٹر کیلئے اراضی حاصل کی گئی جس کی موجودہ مالیت ایک کروڑ 17لاکھ 7ہزار 632روپے ظاہر کی گئی ہے۔ 1980ءمیں فیصل آباد میں پی آئی اے سیلزآفس کیلئے سول لائنز میں اراضی لی گئی جس کی موجودہ مالیت ایک کروڑ 3لاکھ 72ہزار 280روپے بتائی گئی ہے۔ جون 1992ءمیں پولو گراﺅنڈ چترال میں پی آئی اے سیلزآفس لیا گیا جس کی موجودہ مالیت 29لاکھ 70ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ 1981ءمیں کوئٹہ شیراحامی میں سیلز آفس کیلئے اراضی حاصل کی گئی جس کی موجودہ مالیت 5کروڑ 28لاکھ ظاہر کی گئی۔ 1993ءمیں سوک سینٹر ٹھنڈی سڑک حیدرآباد میں سیلزآفس بنایا گیا جس کی مالیت 8 کروڑ 58 لاکھ 50 ہزار 500 روپے ظاہر کی جارہی ہے۔ بھارت کے شہر ممبئی میں بھی 1978ءمیں اراضی حاصل کی گئی جس کی موجودہ مالیت 8 کروڑ 32 لاکھ 80 ہزار روپے بتائی جاتی ہے۔ ایمسٹرڈیم میں 1978ءمیں اراضی حاصل کی گئی جس کی موجودہ مالیت 4 کروڑ 78 لاکھ 83 ہزار 459 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ایمسٹرڈیم میں پی آئی اے کی دوسری ملکیت کی موجودہ مالیت ایک کروڑ 25 لاکھ 54 299 ظاہر کی گئی ہے۔ 1980ءمیں نیویارک میں بنگلہ خریدا گیا جس کی موجودہ مالیت 5 کروڑ 93 لاکھ 14 ہزار 626 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ بھارت کے شہر دہلی میں نارائن منزل کی دو بلڈنگ خریدی گئیں جس کی موجودہ مالیت 20 کروڑ 41 لاکھ 73 ہزار 723 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ایمسٹرڈیم میں ایک اور ملکیت کی موجودہ قیمت 18 کروڑ 96 لاکھ 52 ہزار 424 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ تاشقند میں پی آئی ے سیلز آفیس کی مالیت 82 لاکھ 95 ہزار 611 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ امریکہ کے شہر نیویارک میں پی آئی اے کی ریذیڈنس نمبر 55 کی مالیت 4 کروڑ 15 لاکھ 20 ہزار 238 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ایمسٹرڈیم میں ایک اور ملکیتی اراضی 15 کروڑ 4 لاکھ 42 ہزار 913 روپے بتائی گئی ہے۔ آئزویرن ایواکوڈ میں ملکیت کی مالیت 46 لاکھ 34 ہزار 635 روپے ظاہر کی گئی ہے اور مارا میں حاصل کی گئی سیلز آفس کی اراضی کی مالیت 6 لاکھ پچاس ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ ہیڈکوارٹر کیلئے اسلام آباد د میں خریدی گئی اراضی کی مالیت ایک کروڑ اڑتالیس لاکھ 22 ہزار 585 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ سیدوشریف میں ہاﺅسنگ سوسائٹی کیلئے اراضی کی مالیت 40 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ سیدوشریف میں ہی سیلز آفس کیلئے دو کنال اراضی کی مالیت دو کروڑ بیس لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔ اسکردو میں ٹی جی ایس سیکشن کیلئے اراضی کی مالیت 78 ہزار 200 ظاہر کی گئی ہے۔ یہیں پر سیلز آفس کیلئے دو کال اراضی کی مالیت دو کروڑ تیس لاکھ 62 ہزار 500 روپے بتائی گئی ہے جبکہ ایئرپورٹ آفس کیلئے چار کنال اراضی کی مالیت 63 لاکھ ظاہر کی گئی ہے۔ گلگت میںسیلز آفس کیلئے ایک کنال 13 مرلہ اراضی کی مالیت 75 لاکھ 2 ہزار 250 روپے بتائی گئی ہے۔ ایبٹ آباد میں اراضی کی ملکیت دو کروڑ 31 لاکھ روپے ظاہر کی گئی ہے۔ چترال میں سیلز آفس کیلئے اراضی کی قیمت پانچ کروڑ 49 لاکھ 90 ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ پشاور میں دو ایکڑ سے زائد اراضی کی مالیت دو ارب 73 کروڑ 91 لاکھ 96 ہزار چھ سو دس روپے ظاہر کی گئی ہے۔ مظفرآباد میں آفس بلڈنگ کیلئے اراضی کی مالیت ایک کروڑ 77 لاکھ 78 ہزار روپے بتائی گئی ہے۔ اسی طرح راولپنڈی میں ڈیوٹی فری شاپ ویئر ہاﺅس کیلئے خریدی گئی اراضی کی مالیت 24 کروڑ 62 لاکھ 24 ہزار روپے ظاہر کی گئی ہے۔ ڈھوک کھنہ راولپنڈی میں 09.37 کنال اراضی کی مالیت 84 کروڑ ظاہر کی گئی ہے۔ 5th مال راولپنڈی میں بنگلے کی مالیت 60 کروڑ 18 لاکھ 8 ہزار 400 روپے ظاہر کی گئی ہے۔ سیالکوٹ میں سیلز آفس کیلئے زمین کی مالیت 9 کروڑ 60 لاکھ 12 ہزار ظاہر کی گئی ہے۔ لاہور میں ایک ایکڑ اراضی کی مالیت پچاس کروڑ 60 لاکھ بتائی گئی ہے۔ سول لائنز راولپنڈی میں سیلز آفس کی مالیت 19 کروڑ 57 لاکھ پچاس ہزار بتائی گئی ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ تمام مذکورہ ریٹ گزشتہ برس کی رپورٹ کے ہیں اور مذکورہ ایوالویشن میں اثاثوں کی قیمتیں انتہائی کم ظاہر کی گئی ہیں تاکہ ان کی فروخت کو آسانی سے ممکن بنایا جاسکے۔ ذرائع کے مطابق پی آئی اے کے موجودہ اباثے کھوبوں میں جاپہنچے ہیں او ر ان کی قیمتیں کم ظاہر کرکے پی آئی اے بورڈ سے منظوری حاصل کرنے کی تیاری کرلی گئی ہے۔ پی آئی اے میں نئے چیف ایگزیکٹو کے چناﺅ میں اس بات کا خیال بھی رکھا جارہا ہے کہ اس کی تقرری کے بعد یہ تمام مراحل گزار لئے جائیں۔ جن کی منصوبہ بندی کی جاچکی ہے۔ شعبہ فنانس کے ذرئع نے بتایا کہ نئی ایوالویشن رپورٹس کی آمد کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ جو غیرملکی بروکرز کنٹری منیجر کے ذریعے ہیڈ آفس پہنچا جارے ہیں۔ واضح رہے کہ کراچی کے معروف ترین علاقے صدر میں واقع سڈکو سنٹر میں قائم پی آئی اے کے دفتر کی وہاں سے منتقلی کے بعد فروخت کی خبریں گردش کررہی ہیں جبکہ ایڈمن اور فنانس کے دفاتر فوری طور پر ہیڈآفس منتقل کئے جاچکے ہیں۔ معلوم ہوا ہے کہ سڈکو سنٹر میں واقع پی آئی اے کی دو منزلہ عمارت ہے جو پی آئی اے کی ملکیت ہے۔ اس کی مالیت اربوں روپے بتائی جاتی ہے۔ اس عمارت کی ایک منزل پی آئی اے کی ریزرویشن جبکہ دوسری منزل پر مالیاتی امور کے دفاتر ہیں۔ پی آئی اے انتظامیہ نے خاموشی سے اس عمارت کو فروخت کرکے اس کے دفاتر منتقل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ پی آئی اے انتظامیہ مالیاتی امور امو ر کے دفتر کو ہیڈ آفس ایئرپورٹ پر واقع سی آر سی کی عمارت میں منتقل کررہی ہے جبکہ پی آئی اے ریزرویشن آفس ایک فائیو سٹار ہوٹل میں بھاری کرائے پر حاصل کرکے وہاں منتقل کیا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ پی آئی اے انتظامیہ اس عمارت کی مرمت کیلئے سڈکو سینئر انتظامیہ کو سالانہ صرف تین لاکھ روپے ادا کرتی ہے۔ اگر یہ دفتر کسی فائیو سٹار کسی فائیو سٹار ہوٹل میں منقل کیا گیا تو لاکھوں روپے ماہانہ کرائے اور دیگر اخراجات کی مد میں ادا کرنے پڑیں گے جو پی آئی اے پر مزید بوجھ ہوگا۔

بیرو ن ملک نوکری ،فلموں میں بھی کام ملیگا،سنسنی خیز خبر

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب کے مختلف اضلاع کی 31 لڑکیوں کو فلموں میں ہیروئن بنانے کاجھانسہ دیکر خواجہ سرا اور برطرف لیڈی پولیس کانسٹیبل پر مشتمل گروہ کا بیرون ممالک میں فروخت کرنےکا انکشاف ہوا ہے جس میں بعض تعلیمی اداروں کی طالبات بھی شامل ہیں، بیرون ملک سے گروہ کی گرفتاری کیلئے ٹاسک دیدیاگیا۔ ذرائع کے مطابق تھانہ ریس کورس میں تعینات لیڈی کانسٹیبل پروین کو چند سال قبل کرپشن اور مختلف سنگین شکایات پر نوکری سے برطرف کردیاگیا تھاپروین اور اس کی ساتھی لیڈی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ایک گروہ بنایا جس میں خواجہ سرا سنی، مون، ریشم، فیصل وغیرہ دس افرادموجود تھے اس گروہ کے خلاف اغوا، لڑکیوں کو بلیک میل کرنے، دھمکیوں اور دیگر سنگین نوعیت کے تحت مقدمات درج کیے گئے ، اس گروہ کی نشاندہی پر دیگر ملزمان کو گرفتار کیاگیا، کچھ ہی عرصہ کے بعد یہ گینگ گرفتاری کے خوف سے لاہور چھوڑ کر راولپنڈی شفٹ ہوگیا جہاں انہوں نے بیرون ملک پرکشش نوکری دلوانے اور ٹیلی فلموں میں کام کا جھانسہ دیکر پانچ لڑکیوں کو دبئی لے گئے جہاں ان کو مختلف ہوٹلوں کے مالکان کے آگے فروخت کر دیا گیا، فرح نامی ایک سیکنڈ ایئر کی طالبہ وہاںسے چندماہ بعد بھاگنے میں کامیاب ہوگئی اور واپس آ کر سارا واقعہ سابق ایس ایس پی راولپنڈی کرامت کو بتایا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس گروہ نے لاہور، فیصل آباد، جہلم، راولپنڈی، کھاریاں اور ملتان سے 31لڑکیوں کو بیرون ملک فروخت کیا ہے، اب تک کئی لڑکیوں کا کوئی سراغ نہ مل سکا ہے۔ اس پورے گینگ کا سربراہ ہاشم علی خان بتایا جاتاہے۔ جو دبئی میں مقیم ہے۔ جبکہ صوبائی دارالحکومت سمیت دیگر شہروں سے نابالغ لڑکیوں ، لڑکوں کو اغوا اور ورغلاءکر ڈانس پارٹیوں میں لیجا کر رقم وصولی کرنے والے خواجہ سراﺅں پر مشتمل گروہ کا انکشاف ہواہے۔ اس گروہ کے ارکان کے خلاف مختلف تھانوں میں ڈکیتی، اغوا، حدود، چوری، منشیات، بلیک میل جیسے سنگین نوعیت کے مقدمات درج ہیں، خواجہ سراﺅں کا یہ نیٹ ورک دبئی ، قطر، شارجہ و دیگر ممالک میں بھی موجود ہے۔

دھماکہ خیز خبر !!پاکستان کیخلاف مختصر، شدید جنگ ، امریکہ اور اسرائیل کے دورے کے بعد مودی کادماغ خراب ہو گیا

ملتان (خصوصی رپورٹ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے جنگی جنون کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے فوج کو ”مختصر شدید جنگ“ کی تیاریوں کا حکم دیا ہے اور اس کے لیے اربوں روپے کا جنگی سامان خریدنے کی بھی اجازت دے دی ہے۔ بھارتی اخبار ”انڈین ایکسپریس“ کی رپورٹ کے مطابق مودی حکومت نے گزشتہ ہفتے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا ہے جس کے تحت وائس چیف آف آرمی کو 40 ہزار کروڑ روپے تک کا جنگی ساز و سامان خریدنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ بھارتی فوج نے 46 قسم کے ہتھیار اور گولہ بارود خریدنے کی سفارش کی تھی جس پر مودی سرکار نے خطیر رقم کی منظوری دے کر اسلحہ خریداری کی اجازت دی۔ واضح رہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے دورے کے بعد نریندر مودی کے جنگی جنون میں اضافہ ہوگیا ہے اور اس نے پاکستان کے ساتھ ساتھ چین کے ساتھ بھی چھیڑ چھاڑ شروع کردی ہے۔ بھارتی اپوزیشن رہنماو¿ں نے اس پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جس ملک میں روزانہ سینکڑوں افراد بھوک افلاس، بیماریوں سے مرتے، خودکشیاں کرتے ہں اس ملک کے حکمران کو ایسے اقدامات زیب نہیں دیتے۔ عسکری ماہرین کا کہنا ہے بھارت کی طرف سے اتنی بڑی تعداد میں اسلحہ خریداری سے خطے میں طاقت کا توازن بگڑ جائے گا اور دیگر ممالک میں بھی اسلحے کی دوڑ شروع ہوسکتی ہے۔
گرین سگنل

نکیال سیکٹر پر گھمسان کا رن ۔۔پاک فوج کا سورماﺅں کیخلاف منہ توڑ اقدام

نکیال (خصوصی رپورٹ) نکیال سیکٹر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ و گولہ باری ہوئی جس سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔ تفصیل کے مطابق نکیال سیکٹر کے گاﺅں لنجوٹ، بالا کوٹ، موہڑہ دھروتی، دوہری مال، کنیٹ اور داتوٹ میں گزشتہ رات وقفے وقفے سے فائرنگ کی گئی۔ اس دوران متعدد گولے بھی داغے گئے، فائرنگ سے متعدد گولیاں سول آبادی کی طرف آئیں اور مکانوں کے اردگرد لگیں لیکن کوئی نقصان نہیں ہوا۔ پاک فوج کی بھرپور جوابی کارروائی سے دشمن کی گنیں خاموش ہو گئیں۔

پیپلز پارٹی کو بڑا جھٹکا ۔۔۔3اہم ترین رہنماءکھلاڑی بن گئے

اسلام آباد (خبرنگار خصوصی) پی ٹی آئی چیئرمین نے پی پی کی وکٹیں اڑانے کا سلسلہ نہ چھوڑا، معظم جتوئی، جہانزیب وارن اور عامر وارن کی بنی گالہ میں عمران خان سے ملاقات، کھلاڑی بننے کا اعلان۔بدھ کو معظم جتوئی، جہانزیب وارن اور عامر وارن نے بنی گالہ میں چیئرمین تحریک انصاف عمران خان سے ملاقات کی۔ اس موقع پر تینوں رہنماں نے پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت کا باضابطہ اعلان کیا۔ ملاقات میں وائس چیئرمین پی ٹی آئی شاہ محمود قریشی اور پارٹی کے سیکرٹری جنرل جہانگیر ترین بھی موجود تھے۔ملاقات میں تینوں رہنماو¿ں نے تحریک انصاف کی قیادت اور پروگرام پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا۔ عمران خان نے تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کرنے والے رہنماں کا خیر مقدم کیا۔

وزیر اعظم کا کیس عاصمہ جہانگیر کا دبنگ اعلان

اسلام آباد (آن لائن) سینئر قانون دان عاصمہ جہانگیر نے کہا ہے کہ میرے بارے میں وزیراعظم نواز شریف کا کیس لڑنے کی خبریں بے بنیاد ہیں۔ بدھ کے روز اپنے بیان میں سینئر قانون دان عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ پانامہ میری فیلڈ نہیں تو پانامہ کیس کیسے لڑ سکتی ہوں، میرے بارے میں نواز شریف کا کیس لڑنے کی خبر بے بنیاد ہے۔

وزیر اعظم کیلئے بہتر راستہ کونسا ؟سراج الحق نے بتا دیا

پشاور (آئی این پی) امیر جماعت اسلامی پاکستان سنیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ ملک میں احتساب اور جمہوریت ساتھا ساتھ چلیں گے ، جمہوریت کو احتساب سے کوئی خطرہ نہیں ، جو لوگ جمہوریت ڈی ریل ہونے کی باتیں کر رہے ہیں ، وہ احتساب کے عمل کو رکنے اور حساب کتاب سے بچنے کے لیے ہاتھ پاﺅں مار رہے ہیں ، جے آئی ٹی کی رپورٹ کے بعد حکومت کی ملک میں کوئی اخلاقی ساکھ رہی ہے نہ عالمی برادری میں ، وزیراعظم کے لیے بہترین راستہ یہ ہے کہ مستعفی ہو جائیں اور خود کو سپریم کورٹ کے سامنے پیش کر دیں ۔ ہم نے سپریم کورٹ سے ان تمام لوگوں کا احتساب کرنے کی درخواست کی ہے ، جو پانامہ سکینڈل میں ملوث ہیں اور جنہوں نے قومی بینکوں سے اربوں کھربوں کے قرضے لے کر ڈکار رکھے ہیں ، جماعت اسلامی کا اصولی مو¿قف ہے کہ موجودہ و سابقہ حکمرانوں میں سے جس نے بھی اپنے اختیارات کو ذاتی مفادات کے لیے استعمال کیا ہے ، قوم ان کا احتساب چاہتی ہے ۔ وہ بدھ کو نشتر آباد پشاور میں کارکنوں سے خطاب کر رہے تھے ۔ اس موقع پر شبیر احمد خان ، جماعت علی شاہ اور تفہیم الرحمن بھی موجود تھے ۔ سنیٹر سراج الحق نے کہاکہ اس وقت اپوزیشن جماعتوں کا متفقہ مطالبہ ہے کہ وزیراعظم کو قومی ساکھ تباہ کرنے کی بجائے اقتدار سے الگ ہو جانا چاہیے ۔ میری چوہدری شجاعت حسین اور اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ سے رابطوں میں یہی بات ہوئی ہے اور پوری اپوزیشن کا مشترکہ مو¿قف ہے کہ اب وزیراعظم کے پاس اپنے عہدے سے چمٹے رہنے کا کوئی جواز نہیں رہا۔ وزیراعظم نے اسمبلی کے وقار کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے ۔ انہوںنے کہاکہ پانامہ لیکس کے بعد کرپشن کے الزامات پر دنیا کے کئی ممالک میں حکومتیں تبدیل ہوئی ہیں اور جن لوگوں پر الزام تھا ، ان میں سے اکثریت نے از خود اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا مگر ہمارے ہاں تمام تر تحقیقات اور مصدقہ رپورٹوں کے بعد بھی وزیراعظم مستعفی ہونے سے انکار کر رہے ہیں ۔ سنیٹر سراج الحق نے کہاکہ موجودہ حکومت نے کرپشن کے ساتھ ساتھ سودی نظام کو بھی جاری رکھا اور قوم سے کیا گیا اپنا کوئی وعدہ پورا نہیں کیا ۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے اربوں ڈالر کے قرضے بھی لیے اور قوم کو غربت ، مہنگائی ، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا رکھا۔ انہوں نے کہاکہ حکومت اخبارات اور چینلز میں اشتہارات کے ذریعے مصنوعی مناظر دکھا کر قوم کی آنکھوں میں دھول نہیں جھونک سکتی ۔ جب تک عوام کو تعلیم ، صحت ، روزگار اور چھت جیسی سہولتیں نہیں ملتیں ، ترقی اور خوشحالی کے تمام دعوے بے بنیاد ہیں اور ان پر کوئی بھی یقین نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہاکہ حکمرانوں کے احتساب کا مطالبہ پوری قوم کا ہے جس سے اب کوئی صرف نظر نہیں کر سکتا ۔سنیٹر سراج الحق نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ اب لوٹی گئی دولت واپس لانے کے لیے از خود اقدامات کرے گی ۔ جب تک سوئس بنکوں سمیت بیرون ملک پڑی ہوئی اربوں ڈالر کی قومی دولت واپس نہیں آتی ، احتساب کا عمل ادھورا رہے گا۔ انہوںنے کہاکہ نیب کے پاس میگا کرپشن سیکنڈلز اور موجودہ و سابقہ حکمرانوں اور بڑے بڑے مگر مچھوں کے کیسز موجود ہیں ان میں سے کسی کو کوئی رعایت نہیں ملنی چاہیے جس نے بھی قومی خزانے کو لوٹاہے ، اس سے پائی پائی وصول ہونی چاہیے ۔

عوامی تحریک 15جولائی کو کیا کرنے جارہی ہے ،دیکھئے خبر

لاہور (وقائع نگار) عوامی تحریک نے ماڈل ٹاﺅن کے انصاف اور جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کے حصول کیلئے 15 جولائی کو پنجاب اسمبلی کے سامنے احتجاج میں شرکت کیلئے اپوزیشن رہنماﺅں کو شرکت کی دعوت دے دی ہے۔ سیکرٹری جنرل خرم نواز گنڈاپور نے مشاورتی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ احتجاج میں شرکت کیلئے چودھری شجاعت حسین، امیر جماعت اسلامی سراج الحق ، چودھری پرویز الٰہی، جہانگیر ترین، میاں منظور و ٹو، راجہ ناصر عباس، ہارون رضا، صاحبزادہ حامد رضا، ابوالٰخیرسمیت ینگ ڈاکٹرز، وکلائ، سول سوسائٹی، ایپکا کو شرکت کی دعوت دی ہے۔ خرم نواز گنڈاپور نے کہا کہ ق لیگ، پی ٹی آئی، پیپلز پارٹی، پی ایس پی، جمعیت العلمائے پاکستان، سنی اتحاد کونسل کی احتجاج میں بھرپور شرکت ہو گی، اجلاس میں مرکزی سیکرٹری اطلاعات نوراللہ صدیقی، سیکرٹری کوآرڈینیشن ساجد محمود بھٹی، مظہر محمود علوی، عرفان یوسف،عائشہ مبشر، مرتضیٰ علوی، نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ و دیگر نے شرکت کی۔ خرم نواز گنڈا پور نے کہا کہ حکمران خاندان نے پاناما پر قائم جے آئی ٹی میں جعلی دستاویزات پیش کیں اس ضمن میں ہوشربا انکشافات سامنے آئے، ہمیں خدشہ ہے کہ جسٹس باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ میں بھی ٹمپرنگ نہ کر دی جائے، انصاف کے تقاضے پورے کرنے کیلئے باقر نجفی کمیشن کی رپورٹ کا اصل حالت میں ہونا ناگزیر ہے، یہی رپورٹ قاتلوں کے چہروں سے نقاب الٹے گی۔انہوں نے کہا کہ شریف برادران پانامہ کیس میں جیل جائینگے اور ماڈل ٹاﺅن کیس میں پھانسی لگیں گے۔ نعیم الدین چودھری ایڈووکیٹ نے خطاب میں کہا کہ پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر بننے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ بغیر دستخط کے ATC میں جمع کروائی اور اختلافی نوٹ والا حصہ جے آئی ٹی کی رپورٹ میں شامل نہیں کیا گیا ۔جے آئی ٹی نے سانحہ ماڈل ٹاﺅن کے حوالے سے درج کی جانیوالی ایف آئی آر کو ناقص قرار دیتے ہوئے ختم کرنے کی سفارش کی مگر حکمرانوں کی جعل سازی کی وجہ سے اس پر عمل نہ ہو سکا ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکمران عالمی سطح کے جعل ساز ہیں ان کی جعل سازی پر گوگل والے بھی توبہ توبہ کررہے ہیں۔

اب کو ئی راستہ نہیں ۔۔شجاعت کی زیر صدارت 4جماعتی اتحاد بے واضح کر دیا

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) مسلم لیگ (ق) صدر و سابق وزیراعظم چودھری شجاعت حسین اور سینئرمرکزی رہنما و سابق نائب وزیراعظم چودھری پرویزالٰہی نے کہا ہے کہ نوازشریف کے پاس عزت سے استعفیٰ دینے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا، مینوفیکچرنگ ڈیفکٹ سیاستدانوں میں نہیں نوازشریف میں ہے، پورا شریف خاندان صرف کرپشن ہی نہیں بلکہ عوام سے جھوٹ بولنے اور دھوکہ دہی کا بھی مرتکب پایا گیا، سانحہ ماڈل ٹاﺅن پر جسٹس باقر نجفی کی رپورٹ فوری پبلک کی جائے۔ چودھری شجاعت حسین کی زیرصدارت چار جماعتی اتحاد کے اجلاس میں انہوں نے مزید کہا کہ ن لیگی وزرا جے آئی ٹی رپورٹ کے حوالے سے ابہام پھیلا کر ملک کو تصادم کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ مسلم لیگی قائدین نے کہا کہ نوازشریف کی ہٹ دھرمی ملک و قوم کیلئے بدنامی کا باعث بن رہی ہے۔ اجلاس کے دوران چودھری شجاعت حسین نے ٹیلیفون پر امیر جماعت اسلامی سینیٹر سراج الحق سے بھی رابطہ کیا اور موجودہ سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اجلاس میں طارق بشیر چیمہ ایم این اے، چودھری ظہیرالدین، محمد بشارت راجہ، سالک حسین اور پاکستان عوامی تحریک کے خرم نواز گنڈاپور شریک تھے جبکہ سنی اتحاد کونسل کے صاحبزادہ حامد رضا اور مجلس وحدت المسلمین کے راجہ ناصر عباس سے ٹیلیفون پر رابطہ کیا گیا۔