پولیس کا کارنامہ ،رکن اسمبلی کی بیٹی کیخلاف شرمناک اقدام

لاہور(کرائم رپورٹر)اکبری گیٹ کے علاقہ میں غریب کی آواز ایوانوں میں بلند کر نے والوں کے ہاتھوں قتل ہونے والے کمسن گھریلو ملازم کی نعش پوسٹمارٹم کے بعد ورثاءکے سپرد، آہوں سسکیوں میں آبائی علاقہ میں سپرد خاک کر دیا گیا ،ایف آئی آر میں نامزد ایم پی اے کی بیٹی کی عبوری ضمانت منظور، عدالت نے پولیس کو گرفتاری سے روک دیا ،غریب خاندان بااثر خاندان کے سامنے بے بسی کی تصویر بنا خوابِ انصاف کے حقیقت ہونے کا منتظر ،وزیر اعلی پنجاب نے واقعے کا نوٹس لےتے ہوئے انصاف کی یقین دہانی کروا دی۔بتایا گیا ہے کہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب اکبری گیٹ کے علاقہ میں خاتون رکن پنجاب اسمبلی بیگم شاہ جہاں کے گھر سے 16سالہ گھریلو ملازم اختر کی نعش برآمد کی تھی جس کا گزشتہ روز پوسٹمارٹم مکمل ہونے کے نعش کو ورثاءکے سپرد کر دیا گیا ہے ۔ ورثاءمقتول اختر کی نعش لیکر اپنے آبائی علاقہ اوکاڑہ کے نواحی علاقے موضع لکھاروانہ ہو گئے ہیں جہاں سینکڑوں سوگواروں کی موجودگی میں اسے سپرد خاک کر دیا گیا ہے ۔اس موقع پر ہر آنکھ اشک بار تھی جبکہ مقتول کے اہل خانہ اور عزیز اقارب نعش سے لپٹ لپٹ کر روتے رہے ۔مقتول اختر کی بہن عطیہ نے پولیس کوبیان دیتے ہوئے کہاتھا کہ وہ اور اس کا بھائی اختر گزشتہ 3 برس سے خاتون ایم پی اے بیگم شاہ جہاںکے گھر ملازمت کررہے تھے جہاں روزانہ دونوں بہن بھائیوں کو مالکن کی بیٹی فوزیہ کی جانب سے بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایاجاتا تھا جبکہ بھائی کے قتل سے 2روز قبل بھی مالکن فوزیہ بی بی نے بھائی اخترکی معمولی سی غلطی پراسے لوہے کے سریوں اورڈنڈوں سے بے پناہ تشدد کا نشانہ بنایا جس کے باعث اخترکی حالت بگڑگئی لیکن اسے اسپتال منتقل نہیں کیا گیا جوبعد ازاں اخترزخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی بازی ہارگیا ۔عطیہ کے مطابق اس کے جسم پربھی تشدد کے واضح نشانات موجود ہیں ۔مقتول اختر کے والد اسلم کا کہنا تھا کہ واقعے سے 2روز قبل مجھے بزریعہ فون اطلاع دی گئی تھی کہ میرے مقتول بیٹے اختر کی حالت انتہائی خراب ہے جس پر میں جب گزشتہ روز لاہور آیا تو معلوم ہوا ہے مجھ غریب کے ننھے پھولوں کو قانون سے بالا تر امراءنے بری طرح مسل دیا ہے جن کا شائد میرے جیسا غریب کچھ بگاڑ بھی نہ سکے ۔اسلم نے اعلی حکام سے انصاف کی اپیل کر تے ہوئے کہا ہے کہ غریب امیر کی تمیز کیئے بغیر اگر انصاف کے تمام تقاضے پورے کیئے جائیں تو ممکن ہے کہ مجھے اور میرے ناحق قتل ہونے والے معصوم بچے کو انصاف مل سکے ۔بتایا گیا ہے کہ اکبری گیٹ پولیس نے سیاسی اثررسوخ کی وجہ سے ایف آئی آر میں جرم کے مطابق دفعات شامل نہیں کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کی جانب سے وقوعے کے بعد اسے دبانے کیلئے متاثرہ خاندان کو قانونی کاروائی سے روکنے کی بھی بھرپور کوشش کی گئی جبکہ بچی کو میڈیا کے سامنے بیان نہ دینے کیلئے بھی زور لگایا گیا لیکن میڈیا کی جانب سے بروقت کوریج کے نتیجہ میں پولیس کو واقعے کی ایف آئی آر درج کر نا پڑی لیکن پولیس نے ملزمان کے وکیل کی ایماءپر درج کی جانے والی ایف آئی آر میں صرف قتل کی دفعہ 302شامل کی ہے جبکہ چائلڈ لیبرقوانین کی خلاف ورزی اور معصوم عطیہ پر تشدد کی کوئی دفعہ شامل ہی نہیں کی گئی۔زاہد شاہ ایس ایچ او اکبری گیٹ جو کہ گزشتہ تقریبا4سال سے مسلسل اکبری گیٹ میں تعینات ہیں ان کے متعلق بھی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ اسی طرح کی سیاسی مداخلت کی بجا آوری کی وجہ سے موجود ہ ایس ایچ او شپ پر براجماں ہیں ۔

الیکشن کی تیاری ،چیف الیکشن کمیشن نے اعلان کر دیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)چیف الیکشن کمشنر نے پارلیمنٹ کی انتخابی اصلاحات کمیٹی کو مجوزہ انتخابی اصلاحات کو پارلیمنٹ سے جلد از جلد منظور کرانے کی سفارش کردی ، انتخابی اصلاحات کی بر وقت منظوری کے لیے چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا کی طرف سے سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو خطوط ارسال کر دیئے گئے ۔بدھ کو چیف الیکشن کمشنر جسٹس سردار محمد رضا نے انتخابی اصلاحات کمیٹی میں شامل تما م 15 سیا سی جماعتوں کے سربراہان کے نام خطوط لکھے ہیںجن میں ان سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ جلد ازجلدمجوزہ انتخابی اصلاحات کی پارلیمنٹ سے منظور ی کرا دیں تاکہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات2018 کے لیے مطلوبہ وقت مل سکے اور وہ اپنی تیاری مکمل کر لے۔ چیف الیکشن کمشنر نے ملک کے پندرہ 15 بڑی سیاسی جماعتوں کے سربراہان کی توجہ اس عمل کی جانب مبذول کروائی ہے کہ الیکشن کمیشن کو ضروری اموروقت پر سرا نجام دینے کے لئےالیکشن ایکٹ 2017 کی بروقت پارلیمنٹ سے منظوری شدید ضروری ہے تاکہ عام انتخابات 2018کے لئے الیکشن میٹریل کی خریداری، نئے فارمز کی پرینٹنگ ، 7لاکھ پولنگ عملے کی تربیت ، مجوزہ حلقہ بندیوں کا کام ، ڈسٹرکٹ ریٹرنگ اور ریٹرنگ آفیسرز کی تعیناتی، پولنگ عملے کی تربیت کے لئے ضروری کتابچے، سیاسی جماعتوں کی انلشمنٹ اور رزلٹ منیجمنٹ سسٹم کے لئے مطلوبہ وقت مل سکے۔ نئے مجوزہ قانون کے تحت یہ تمام اموربوقت انجام پانا ناگزیر ہیں۔سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو لکھے گئے خطوط میں چیف الیکشن کمشنر نے لکھا ہے کہ الیکشن کمیشن اس سے پہلے چار اپریل 2017کو معزز سپیکر قومی اسمبلی کے نام بھی خط لکھ چکے ہیں۔ جس میں ان سے درخواست کی گئی تھی کہ پارلیمانی کمیٹی برائے اصلاحات کو جلد از جلد اپنی تجاویزات اور شفارشات مکمل کر کے پارلیمنٹ کو بھجوا دینی چاہیے۔ تاکہ الیکشن کمیشن کو تیاری کا موقع مل سکے لیکن تین ماہ گزرنے کے باوجود یہ مجوزہ بل پارلیمنٹ کے سامنے منظور ی کے لئے پیش نہ کیا جا سکا۔اپنے خط کے آخر میں چیف الیکشن کمشنر نے تما م سیاسی جماعتوں کے سربراہان کو لکھا ہے چونکہ آپ کی پارٹی انتخابی اصلاحاتی کمیٹی کا حصہ ہیں لہذا آپ سے درخواست ہے کہ یہ قومی خدمت جلد از جلد سرانجام دی جائے اور اصلاحات کو پارلیمنٹ کے سامنے فور ی طور پر منظور ی کے لیے پیش کی جائیں۔ تاکہ الیکشن کمیشن کو عام انتخابات 2018کے لئے پورا وقت مل سکے۔

خورشید شاہ کا انکار ،تحریک انصاف کے ارکان خاموش

اسلام آباد (آئی این پی) پارلیمنٹ کی پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران حکمران جماعت کے مطالبے کو نظرانداز کرتے ہوئے چیئرمین پی اے سی سید خورشید شاہ نے کالاباغ ڈیم پرکمیٹی میں”ٹیکنیکل بریفنگ“ لینے سے یکسر انکار کر دیا،چیئرمین کے مطابق پہلے ہی سے حکومت کو گالیاں پڑ رہی ہیں، مزید پنڈورا بکس نہ کھولیں، اجلاس میں کالا باغ ڈیم پر بریفنگکے معاملے پر تحریک انصاف کے اراکین خاموش بیٹھے رہے، مسلم لیگ (ن) کے اراکین نے دیگر اراکین کی حمایت نہ ملنے پر اپنے مطالبے پر زور نہیں دیا، اجلاس کے دوران نیپرا، وزارت پانی و بجلی اور واپڈا نے اعتراف کیا ہے کہ گزشتہ سال کے مقابلے میں 2016-17میں بجلی مہنگی ہوئی، 5مختلف ٹیکسوں کی وجہ سے بجلی کے صارفین کے بلز میں سستی بجلی کی پیداوار کے باوجود کمی نہیں آ سکی، موجودہ حکومت کے دورمیں فی یونٹ 1روپیہ 23پیسے کا اضافی سرچارج بجلی کے بل پر عائد کیا گیا ہے، بجلی کے شعبے کے قرضوں پر سود کی ادائیگیوں کا بوجھ بھی صارفین سے وصول کیا جا رہا ہے،سب سے زیادہ لائن لاسز سندھ کے اضلاع سکھر اور حیدر آباد میں ہیں، سکھر میں لائن لاسز کی شرح 37فیصد سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس امر کا اظہار حکام کی طرف سے پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس کے دوران کیا گیا۔پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی نے موجودہ حکومت کے آنے سے قبل کے آٹھ سالوں کے دوران پیدا ہونے والی بجلی، اس کی تقسیم اور موجودہ حکومت کے دور میں اس کی پیداور وفروختکا مکمل ڈیٹا مانگ لیا، کمیٹی گردشی قرضوں کے تناظر میں اس ڈیٹا کا جائزہ لے گی کیونکہ اجلاس کو بتایا گیا کہ موجودہ دور حکومت میں بجلی کی پیداوار میں اضافے کی وجہ سے دوبارہ 321 ارب روپے کا گردشی قرضہ ہو گیا ہے۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ توانائی کے منصوبوں کے حوالے سے ہر سال 35سے 40 ارب روپے سود کی ادائیگی میں ادا کئے جاتے ہیں،بجلی کے شعبے کے حوالے سے 2سکوک بانڈز بھی جاری کئے گئے ہیں، سیکرٹری پانی و بجلی نے کہا کہ نیلم جہلم پراجیکٹ کے حوالے سے سارے مسائل ختم ہو گئے ہیں، 68 کلو میٹر سے زائد کی سرنگ تعمیر کر لی گئی ہے، اکتوبر میں فلنگ کا کام مکمل کرلیا جائے گا، 425ٹاورز اور بجلی فراہمی کی تاریں لگانے کا 80 فیصد کام مکمل کرلیا گیا ہے، یکم فروری 2018 سے نیلم جہلم ڈیم کام شروع کر دے گا، اس منصوبے کا ابتدائی تخمینہ 80 ارب روپے تھا جو کہ بڑھ کر 500 ارب سے تجاوز کر گیا ہے، حکام نے اعتراف کیا کہ منصوبے کے پی سی ون کی تیاری کے وقت علاقے کاجیالوجیکل سروے نہیں کرایا گیا تھا،2005 کے زلزلے کے بعد یہ سروے کروایا گیا تو یہ معلوم ہوا کہ نیلم جہلم پراجیکٹ کا علاقہ سسمک زون میں موجود ہے۔ حکام کے مطابق مارچ 2018 میں چاروں یونٹس کام شروع کر دیں گے، سسمک کے سروے کے بعد پراجیکٹ کی ایک سرنگ میں اضافہ کیا گیا جس کی وجہ سے لاگت بڑھ گئی، سیکرٹری پانی و بجلی نے واضح کیا کہ اگر بھارت نے ہمارے اس منصوبے کو ناکام بنانے کی کوشش کی تو ہمارے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں، کشن گنگا ڈیم کی وجہ سے نیلم جہلم ڈیم میں 15سے 20فیصد پانی کی کمی واقع ہو سکتی ہے۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے کہا کہ پاکستان میں سالانہ 145 ملین مکعب فٹ پانی دستیاب ہو تا ہے،بدقسمتی سے بڑے ڈیم نہ ہونے کی وجہ سے صرف 14 ملین مکعب فٹ پانی ذخیرہ کر سکتے ہیں،30ملین مکعب فٹ پانی ضائع ہو کر سمندر میں جا گرتا ہے،ملک کو اگر خطرے سے بچانا ہے تو ڈیم بنانے پڑیں گے، انہوں نے اس حوالے سے دیامر بھاشا اور کالا باغ ڈیم سمیت پانچ ڈیموں کے بارے میں آگاہ کیا اور بتایا کہ تربیلا ڈیم کی صلاحیت بھی 36 فیصد کم ہو چکی ہے، ہمیں ہر صورت پانچ سے چھ سالوں میں دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کو یقینی بنانا ہو گا۔ کمیٹی نے نولانگ اور دادو پاور پراجیکٹس کی بندش پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دو ہفتوں میں ان منصوبوں کو دوبارہ شروع کرنے کےلئے وزارت پانی و بجلی اور وزارت منصوبہ بندی و ترقی سے رپورٹ مانگ لی ہے ۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ نولانگ ڈیم کےلئے 2010میں 11ارب روپے سے زائد کا پی سی ون منظور کیا گیا،12 ارب روپے سے زائد کی بڈنگ آنے پر اسے کینسل کر دیا گیا، 2013 میں 28ارب روپے کی بڈنگ آئی،2015 میں اسی کمپنی کی 20 ارب روپے کی بڈنگ آئی، مگر ایک بار بھی اس کمپنی کو بلیک لسٹ قرار نہیں دیا گیا۔ سیکرٹری پانی و بجلی نے کہا کہ کچی کینال پر 57 ارب روپے کے اخراجات کے باوجود ایک کنال زمین بھی سیراب نہ ہو سکی، یہ رقم غرق ہو گئی، سوچ و بچار کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ پانی کے وسائل کےلئے کم سے کم پیسے رکھے جاتے ہیں اور اب تو صرف یہ وسائل 32 ارب روپے تک رہ گئے ہیں۔ کمیٹی نے کہا کہ غلط منصوبہ بندی کی وجہ سے پی سی ون ناکام اور لاگت دھری کی دھری رہ جاتی ہیں، کسی پر کوئی ذمہ داری عائد نہیں کی جاتی۔ چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ حکومت کی طرف سے چھوٹے صوبوں کے منصوبوں کو ترجیح نہ دینے پر وزیراعظم کو خط لکھ چکا ہوں، منصوبوں کے بڑے بڑے پی سی ون بنتے ہیں، پیسے خرچ کر دیئے جاتے ہیں، غریبوں کے خون پسینے سے جمع ہونے والے ٹیکسوں کو استعمال کیا جاتا ہے مگر نتیجہ صفر ہے، توانائی اور آبپاشی کے منصوبوں کے حوالے سے حکومت پنجاب سے نہیں نکل رہی، کچی کینال سے کسی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا ، اس سے بڑی اور کیا ناکامی ہو سکتی ہے۔ چیئرمین واپڈا نے اس ناکامی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس منصوبے کو کارآمد بنانے کےلئے موثر منصوبہ بندی کی گئی، مزید 45 ارب روپے درکار ہیں، رواں برس کچی کینال سے 72 ہزار ایکڑ ڈیرہ بگٹی کی اراضیات سیراب ہو جائیں گی،31 اگست2017 تک 55 ہزار اور دسمبر 2018 تک مزید 17ہزار ایکڑ اراضیوں کو پانی ملنا شروع ہو جائے گا، 137 نئے پلگ لگا دیئے گئے ہیں۔ پلاننگ کمیشن کے حکام نے بتایا کہ دادو منصوبے کے لئے سندھ حکومت سات ارب روپے کا اپنا شیئر دینے کےلئے تیار ہو گئی ہے۔ وزارت پانی و بجلی کے حکام نے بتایا کہ بجلی کے مجموعی لائن لاسز 17.9فیصد ہیں،تیل کی قیمتوں میں کمی کا فائدہ صارفین کو پہنچایا گیا ہے،86فیصد گھریلو،11فیصد کمرشل،1.3فیصد انڈسٹریل،1.3فیصد ٹیوب ویلوں اور .1فیصد اسٹریٹ لائٹس و دیگر صارفین ہیں، یہ تمام صارفین بالترتیب 50،ساڑھے7فیصد،1.3،25.6،1.3 اور دیگر 6.1فیصد بجلی استعمال کر رہے ہیں،2012-13میں فی یونٹ بجلی کی قیمت13روپے 8پیسے تھی جو کہ 2016-17 میں 11روپے 57پیسے ہو گئی۔2015-16میں بجلی کی قیمت 10روپے 90پیسے تھی، ٹیکسوں کی وجہ سے صارفین کے بلز میں کمی نہیں آئی، نوید قمر، عذرا فضل اور شیخ رشید احمد نے کہا کہ بجلی پر ٹیکسوں کے اطلاق سے پارلیمنٹ لاعلم ہے۔ حکام نے بتایا کہ 2014میں بجلی کے بلز پر فی یونٹ 1روپے 23پیسے کا نیا اضافی سرچارج لگایا گیا،371 ارب روپے کے کمرشل قرضوں پر سروسز چارجز بھی صارفین سے وصول کئے جا رہے ہیں۔

جے آئی ٹی ممبر بلال رسول کو سنگین دھمکیاں دی گئیں

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جے آئی ٹی ارکان کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوگئے، بلال رسول کو سنگین دھمکیاں دی گئیں، رینجرز کا سکواڈ لیکر اسلام آباد سے روانہ ہوئے، یہ انکشافات سینئر صحافی نے نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران کئے، انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کے رکن بلال رسول کو سنگین دھمکیاں دی گئیں جس کے بعد وہ رینجرز کا سکواڈ لیکر روانہ ہوئے ، جے آئی ٹی کے تمام ارکان کی زندگیاں خطرے میں ہیں، سپریم کورٹ فوری ان کی سکیورٹی کے حوالے سے احکامات جاری کرے، رپورٹ اپنے خلاف دینے پر حکمران جماعت کے عزائم خطرناک نظر آرہے ہیں۔

نواز شریف کے پاس وزیراعظم رہنے کا کوئی اخلاقی جواز نہیں

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) بنی گالہ میں ہونے والی ملاقات میں عمران خان اور شیخ رشید نے حکومت پر دباو¿ بڑھانے کے لئے مختلف آپشنز پر غور کیا۔ دونوں رہنماو¿ں نے حکومت کے خلاف ممکنہ تحریک کے خدوخال پر مشاورت کی۔ ملاقات میں جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ میں ہونے والی پانامہ کیس کی سماعت پر بات چیت کی گئی۔ عمران خان نے کہا کہ نواز شریف کے پاس وزیر اعظم رہنے کا اب کوئی جواز نہیں رہا، وہ فی الفور مستعفی ہو جائیں۔ عمران خان نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد شریف فیملی کی کرپشن ثابت ہو گئی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ نواز شریف کے استعفے پر بیشتر اپوزیشن جماعتیں متفق ہیں، نواز شریف نوشتہ دیوار پڑھ لیں۔

ن لیگ اپنا نیا وزیراعظم منتخب کرلے

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان تحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی اور ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار نے وزیر اعظم پاکستان سے استعفے کے مطالبے کے لئے قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے پر اتفاق کر لیا ہے۔ دونوں رہنماں نے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم سے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے اب ان کے پاس کوئی قانونی جواز نہیں رہا اس لئے وہ فوری طور پر مستعفی ہوجائیں جبکہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ حکمران جماعت کے پاس اسمبلی میں اکثریت ہے اب اسے فیصلہ کرنا ہے کہ لیڈر آف دی ہاس کسے ہونا چاہئے۔ پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ شاہ محمود قریشی نے ملک کی سیاسی صورت حال پر ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار سے ملاقات کی ہے۔ ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نواز شریف نے ایوان میں وعدہ کیا تھا ثابت ہو گیا تو استعفی دےدوں گا۔ 5ججزمیں سے کوئی بھی ان کے نقطہ نظر سے متفق نہیں تھا۔ دو ججز نے کہا نواز شریف صادق اورامین نہیں ہیں۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ ایک سنجیدہ پیش رفت ہے، 6محکموں کے ذمہ دار لوگ تحقیقات کے بعدنتیجے پر پہنچے، جے آئی ٹی رپورٹ مصدقہ ہے، رپورٹ میں ایسی باتیں ہیں جنہیں جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ شاہ محمو د قریشی کا مزید کہنا تھا کہ ن لیگ ٹی اوآرکے معاملے پر طوالت سے کام لیتی رہی، جے آئی ٹی صرف حقائق بیان کر سکتی ہے،حکومت حقائق تسلیم نہیں کرنا چاہتی تو الگ بات ہے ۔ شریف خاندان کے افراد جعلی کاغذات بنا رہے تھے اسی وجہ سے انہیں 8 ماہ لگے۔ سیاستدانوں سمیت پوری قوم کی نظریں سپریم کورٹ پرلگی ہیں۔ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اخلاقی بنیادوں پر وزیراعظم عہدے پربراجمان نہیں رہ سکتے ان کی وجہ سے سیاسی جمہوری نظام پربوجھ بڑھ رہاہے اس لئے نواز شریف کو مستعفی ہو جانا چاہیئے۔ اگر حکومت کو جے آئی ٹی پر تحفظات ہیں تو سپریم کورٹ جائیں۔ بحران کے نتیجے میں اداروں میں ٹکراو نہیں ہونا چاہیے۔ ایم کیو ایم پاکستان قومی اسمبلی کا اجلاس بلانے کیلئے ریکوزیشن کے حق میں ہے ، انہوں نے مطالبہ کیا کہ کرپشن کے مکمل خاتمے کی لئے احتساب کا موثر نظام چاہیے اور نیب میں متعدد وزرا کے کیسز زیر التوا ہیں ان پر بھی نظر ثانی ہونی چاہیے۔

ٹرمپ اپنے بیٹے کی روسی وکیل سے ملاقات سے بے خبر

واشنگٹن (آن لائن) امریکی صدر ٹرمپ کو اپنے بیٹے ٹرمپ جونیئرسے گلے ملتے یہاں دیکھا جا سکتا ہے، ساتھ میں داماد اور بہو بھی نظر آ رہی ہیںامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیٹے نے کہا ہے کہ انھوں نے روسی وکیل سے اپنی ملاقات کے بارے میں اپنے والد کو کچھ نہیں بتایا تھا۔تاہم انھوں نے کہا کہ روسی وکیل نے کہا تھا کہ وہ انتخابی مہم میں ان کی مدد کر سکتی ہیں۔ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر نے ایک خبررساں ادارے کو بتایا کہ ان کی میٹنگ بس یوں ہی سی تھی لیکن انھیں اسے دوسری طرح سے ہینڈل کرنا چاہیے تھا۔انھوں نے وہ ای میلز دکھائیں جس میں انھوں نے وکیل سے ملنے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا تھا۔ وکیل کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ مبینہ طور پر وہ کریملین سے رابطے میں تھیں اور ان کے پاس ایسے مواد تھے جو ہلیری کلنٹن کو نقصان پہنچا سکتے تھے۔خیال رہے کہ امریکی تفتیش کار امریکہ کے صدارتی انتخابات میں مبینہ روسی مداخلت کی جانچ پڑتال کر رہے ہیں۔جب سے ڈونلڈ ٹرمپ صدر بنے ہیں ان پر مسلسل یہ الزام لگتے رہے ہیں کہ روس نے ہلیری کلنٹن کی انتخابی مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے جبکہ روس نے بھی باربار کسی قسم کی مداخلت کی تردید کی ہے۔

جے آئی ٹی کی مخالفت میں تقریر شیخ رشید بھی پکڑے گئے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) پاناما لیکس کی تحقیقات کرنیوالی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) سے متعلق تقاریر کرنیوالے لیگی رہنماں کی تقاریر کا سکرپٹ طلب کیے جانے کے بعد عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد اپنے بیان سے انکاری ہوگئے تاہم جے آئی ٹی سے متعلق شیخ رشید کا بیان نجی ٹی وی نے نشرکردیاجس میں انہوں نے جے آئی ٹی کو جاتی عمراہ انوسٹی گیشن اتھارٹی قراردیا تھا۔ شیخ رشید کے اس چیلنج پر میزبان نے مسکراتے ہوئے کہاکہ میں سنادوں گا،آپ کو برا نہیں لگے گاجس پر شیخ رشید نے موقف اپنایا کہ مجھے خوشی ہوگی، آپ دکھادیں ، میں آپ کو کال کروں گا، اگر کہاہوگا تو کسی اور حوالے سے کہا ہوگا، جے آئی ٹی سے متعلق نہیں کہا۔ اس چیلنج پر اینکر 21اپریل کی شیخ رشید احمد کی ویڈیو چلادی جس میں انہوں نے کہاکہ یہ جے آئی ٹی جو انہوں نے بنائی ہے، جاتی عمرہ انوسٹی گیشن اتھارٹی ہے، اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی ۔جے آئی ٹی کی مخالفت میں تقریر
شیخ رشید بھی پکڑے گئے

وزیر اعظم پر خورد برد ثابت نہیں ہوئی استعفیٰ نہیں دیں گے

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف پر سرکاری پیسے کی خرد برد کا الزام ثابت نہیں ہوا ہے اس لئے وہ استعفیٰ نہیں دیں گے۔ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر ایک صارف کا ٹوئٹ ری ٹوئٹ کیا ہے جس میں صارف انہیں مخاطب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ وزیر اعظم نواز شریف کو ہم نے پانچ سالوں کے لئے منتخب کیا ہے اس لئے انہیں کسی بھی صورت میں استعفیٰ نہیں دینا چاہیے ، جس کو جواب دیتے ہوئے مریم نواز نے ٹوئٹ کیا کہ نواز شریف کے پانچوں ادوار میں ان پر سرکاری پیسوں کی خردبرد کا ایک بھی الزام ثابت نہیں ہوا اس لئے انشااللہ وہ استعفی نہیں دیں گے۔

کسی کو شک نہیں ہونا چاہئے ، سی پیک ہر صورت کامیاب بنائیں گے

راولپنڈی (آئی این پی) چیف آف آرمی سٹاف جنرل جاوید قمر باجوہ نے کہا ہے کہ سی پیک منصوبے کے حوالے سے ہمارے عزم پر کسی کو شک نہیں ہونا چاہیے، پاک فوج منصوبے کوفو ل پروف سیکیورٹی فراہم کرے گی اور انشاءاللہ سی پیک کو ہرصورت کامیاب بنائیں گے، سی پیک خطے میں بڑے پیمانے پر تبدیلی لائے گا، سی پیک کےلئے خطے میں امن و امان ضروری ہے، تجارت اور سرمایہ کاری کےلئے قواعد و ضوابط بہتر بنانا ہو ں گے،سی پیک پاکستان مغربی چین اور خطے کےلئے گیم چینجرہے، چین کی سرمایہ کاری سے پاکستان میں ترقی آئے گی، سی پیک کی کامیابی کےلئے تمام قومی اداروں کو بھرپور تعاون کرنا پڑے گا، اس کےلئے قیادت، اجتماعی جذبہ اور بڑے پیمانے اور بڑی سطح پر اعتماد سازی کی ضرورت ہے ، چین کا ون بیلٹ ون روڈ وژن پوری دنیا کےلئے ہے،2030 تک اقتصادی شراکت داری کا کامیاب حصول میرا خواب ہے،پاکستان اور چین آئرن برادر ہیں ، پاک چین تعلقات پر امن بقائے باہمی کے اصول، مشترکہ مفادات اور عالمی و علاقائی امور پر یکساں موقف پر مبنی ہیں۔ وہ بدھ کو یہاں این ایل سی اور دیگر کی جانب سے سی پیک پر منعقدہ سیمینار سے خطاب کر رہے تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقا ت عامہ کے مطابق اس دوران انہوں نے کہا کہ سی پیک لاجسٹکس اس کے مواقع، چیلنجز اور آگے بڑھنے کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کر کے خوشی ہو رہی ہے، سی پیک کو کامیاب حقیقت میں بدلنے کی حکمت عملیوں کےلئے دور رس ثابت ہوں گی اور یہ ہمارے لئے بھی انتہائی اہم ہوں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہمیں چین کے ساتھ اپنے بہتر تعلقات پر فخر ہے جو ہمیشہ ہر گھڑی اور ہر آزمائش پر پورے اترے اور اب بھی یہ زندگی کے ہر شعبہ کا احاطہ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ملک کی برادرانہ شراکت داری ریاست سے ریاست، فوج سے فوج، کاروبار سے کاروبار اور عوام سے عوام تک کے رابطوں میں نظر آتی ہے۔آرمی چیف نے کہا کہ چین کے صدر شی چن پنگ کا ون بیلٹ ون روڈ کے عظیم وژن نے خطے کے ممالک کےلئے مواقعے کی نئی دنیا کھولی ہے، سی پیک ون بیلٹ ون روڈ کا ایک اہم منصوبہ ہونے کے ناطے پاکستان، مغربی چین اور خطے کےلئے بہتر معیشتوں کا عہد کرتا ہے، اس لئے ہم اسے گیم چینجر تصور کرتے ہیں۔ جنرل جاوید قمر باجوہ نے کہا کہ سی پیک ایک پرامن اور خوشحال خطے کی ہماری کوششوں کا واضح ثبوت بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ساﺅتھ ایشیاءمیں بعض ممالک سے ہٹ کر ہم اپنی تمام تر توانائیاں امن اور شمولیت پر مرتکز کئے ہوئے ہیں نا کہ ہم تقسیمی مسابقت میں پڑتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تمام قومی اداروں کو سی پیک کی کامیابی یقینی بنانے کےلئے کوششیں کرنا ہوں گی، ہمیں موجودہ قوانین اور قواعد و ضوابط کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے تا کہ تجارتی اور سرمایہ کاری کی سرگرمیوں کو سہولیاتی فریم ورک مہیا کیا جا سکے، ہمیں انفراسٹرکچر اور شہری منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ سی پیک ایک طرف علاقائی معیشتوں کے درمیان اقتصادی ربط میں اضافہ کرے گا اور پاکستان کے کئی علاقوں میں ترقی کے خلاءکو کم کرے گا، اس لئے ہمیں تجارتی راہداریوں کو صنعتی اور شہری ترقی کی مدد سے ایک جامع ترقیاتی فریم ورک کے تحت اقتصادی راہداریوں میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سطحی لائن یہ ہے کہ ہم نے اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ پاکستانی عوام خوشحالی کے ثمر سے محظوظ ہونے کےلئے سی پیک سے مکمل فائدہ اٹھائیں، اس کےلئے قیادت، اجتماعی جذبہ اور بڑے پیمانے اور بڑی سطح پر اعتماد سازی کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ فوج اس منصوبے کےلئے مکمل سیکیورٹی مہیا کرے گی جبکہ ملک کے دوسرے قومی اداروں کو آگے بڑھنا اور اس سلسلے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنا پڑے گا۔ سیکیورٹی کے حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ آج کا پاکستان پہلے سے کہیں زیادہ محفوظ ہے، فاٹا اور اس کے ملحقہ علاقوں میں امن بحال کر دیا گیا ہے، پاکستان کے معاشی مرکز کراچی میں صورتحال معمول پر آ رہی ہے جہاں کاروباری برادری اور عام آدمی نے اس سے فائدہ اٹھانا شروع کر دیا ہے، اسی طرح بلوچستان میں نمایاں طور پر امن و امان کی صورتحال میں بہتری آئی ہے اور وہاں بڑے پیمانے پر صوبے کی سماجی و اقتصادی ترقی پر توجہ دی جا رہی ہے، قوم کو مکمل حمایت کے ساتھ ہم ثابت قدمی اور یقینی پیش رفت کے ساتھ پاکستان کو دہشت گردی اور انتہاءپسندی سے پاک ملک بنا رہے ہیں۔ آرمی چیف نے کہا کہ میں حاضرین کو یقین دہانی کراتا ہوں کہ فوج اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں متحرک ہیں اور سی پیک کو فول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کےلئے پرعزم ہیں، کسی کو منصوبے کے حوالے سے ہمارے عزم پر شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے،کوئی بھی رکاوٹ آئے لیکن ہم سی پیک کو انشاءاللہ ہر صورت کامیاب بنائیں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ ہم خوش قسمت ہیں کہ چینی بھائی سی پیک کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے کےلئے ہماری معاونت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان 20کروڑ آبادی رکھنے والا ملک ہے،جس میں بڑے تناسب سے متحرک، قابل اور پرجوش نوجوان موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پاکستان کو آنے والے سالوں میں اقتصادی طاقت بنانے کےلئے اس موقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہو گا،میں چاہتا ہوں کہ ہمارے کاروباری افراد چینی بھائیوں کے ہاتھوں میں ہاتھ دیں اور اس خواب کو حقیقت میں بدل دیں، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ سے فرانس کی سفیر مارٹن ڈورنس نے ملاقات کی،جس میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ آئی ایس پی آرکے مطابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور فرانس کی سفیر مارٹن ڈورنس کے درمیان ملاقات ہوئی۔ملاقات میں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔