برطانوی شہری ہوں ٹرسٹی بنایا جاتا تو ٹیکس کے مسائل پیدا ہوتے

کراچی (مانیٹرنگ ڈیسک) آف شور کمپنیوں کا بینی فشل اونر کون؟ حسن نواز کو معلومات حاصل کرنے کے ذرائع دستیاب نہیں، قطری شہزادے کا دوسرا خط انٹرنیٹ اور میڈیا پر دیکھا، ٹیکس مسائل کی وجہ سے حسین نواز کو ٹرسٹی نہیں بنایا، وزیراعظم کے بیٹے نے جے آئی ٹی کو دیئے گئے جوابات منظر عام پر آگئے۔ پاناما جے آئی ٹی میں وزیراعظم کے بیٹے حسن نواز سے 7 سوالات کئے گئے جن کے جوابات منظر عام پر آگئے۔ پہلا سوال تھا کہ 1994ئ سے 2000ئ تک آف شور کمپنیوں کا بینی فشل اونر کون ہے؟، جس پر ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس کی معلومات حاصل کرنے کے ذرائع دستیاب نہیں۔ دوسرا سوال تھا کہ حسین نواز نے آپ کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرایا؟، کیا آپ نے برطانوی عدالت میں جمع کرایا گیا بیان حلفی دیکھا؟، جس پر وہ بولے کہ سپریم کورٹ میں جمع کرایا گیا جواب پہلے نہیں دیکھا، تاہم یہ جواب انٹرنیٹ کے ذریعے مجھ تک پہنچا۔ جے آئی ٹی نے پوچھا کہ حسین کی 2006ئ سے 2013ئ تک بینی فشل مالک ہونے کی دستاویزات دیکھیں؟، تو انہوں نے کہا کہ اس کا مجھ سے تعلق نہیں، دستاویزات بھی نہیں دیکھیں۔ ان سے پوچھا گیا کہ کیا حمد بن جاسم کا دوسرا خط، قطری سرمایہ کاری کی ورک شیٹ دیکھی؟، انہوں نے جواب دیا کہ قطری خط نیٹ اور میڈیا پر دیکھا، دستاویز خود جمع نہیں کرائیں، میری طرف سے جمع کرائی گئیں، قطری سرمایہ کاری کی ورک شیٹ کا جے آئی ٹی سے سن رہا ہوں۔ پاناما جے آئی ٹی نے حسن نواز سے سوال کیا کہ آپ برطانیہ میں مقیم ہیں، حسین نے آپ کو ٹرسٹی کیوں نہیں بنایا؟، جس پر ان کا جواب تھا کہ برطانوی شہری ہوں ٹرسٹی بنایا جاتا تو ٹیکس کے مسائل پیدا ہوتے۔

خواجہ آصف ،رانا تنویر نے مجھ پر جسمانی تشدد کیا ، پارٹی میں رہنے کے قابل نہ چھوڑا

ملتان(تجزیہ نگار) سینئر سیاستدان مخدوم جاوید ہاشمی نے میاں نواز شریف کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی جماعت کے کسی بھی بااعتماد آدمی کو وزیراعظم بنا دیں۔ ان میں احسن اقبال، خواجہ آصف اور نثار علی خان بھی ہوسکتے ہیں۔ کوئی آپ کا دشمن نہیں ہے۔ آپ کے ساتھی ہیں۔ وہ گزشتہ روز پریس کلب میں ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے جسے انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کی شاید آخری پریس کانفرنس قراردیا۔ جاوید ہاشمی نے کہاکہ ضیاءالحق نے اپنے مخالفین کو سیاست سے نکالنے کے لئے صادق اور امین کی اختراع کو آئین کاحصہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کوئی جنرل، جج اور سیاستدان سمیت کوئی صادق و امین نہیں ہے۔ ہمارے پیارے نبی واحد صادق اور امین شخصیت ہیں جنہیں اہل مکہ اور اہل قریش نے صادق اور امین کے لقب سے پکارا۔ انہوں نے کہا کہ وہ تحریک انصاف یا عمران خان کے مخالف نہیں ہیں، نہ انہیں نقصان پہنچانا چاہتے ہیں اگر وہ انہیں نقصان پہنچانا چاہتے تو پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک بنا سکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ مجھ پر الزام لگایا گیا کہ 25، 30کروڑ روپے لے لئے پھر کہا گیا کہ ایک ارب روپے لے لئے، میں نے تمام الزامات کا مقابلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام نے انہیں گیارہ بار منتخب کیا۔ کیا میں ان کے لئے ایک سیٹ قربان نہیں کر سکتا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان خود کو نوجوانوں کے لیڈر کہتے ہیں حالانکہ وہ مجھ سے صرف ڈیڑھ سال چھوٹے ہیں جبکہ نوازشریف تین چار ماہ چھوٹے ہیں۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی نے انہیں بیرون ملک علاج کرانے کے لئے ڈیڑھ کروڑ روپے کی پیشکش کی مگر میں نے غریبوں کے پیسے سے اپنا علاج کرانے سے انکار کردیا۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید میرا درباری رہا ہے اسے میری چیکنگ/ جاسوسی پر لگادیا گیا تاکہ گھر بیٹھے میری سرگرمیوں پر نظررکھی جاسکے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ شیخ رشید کہتا ہے کہ وہ عمرہ کرکے آیاہے وہ کبھی جاوید ہاشمی کا درباری نہیںرہا اور نہ ہی اس نے کبھی چیکنگ کا فریضہ انجام دیا تو جاوید ہاشمی نے کہا کہ وہ تازہ تازہ شیطان سے مل کرآیا ہے وہ جھوٹ بولتاہے، میرے درباری نے جب میرے مقابلے میں الیکشن لڑا تو میں نے اس کی ضمانت ضبط کرا دی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو بچانے کے لئے ہمیشہ سیاست دانوں نے قربانیاں دیں۔ اب بھی جمہوریت اور سیاست کے خلاف سازشیں عروج پر ہیں۔ سیاست کی بساط لپیٹ کر پیادے سے شاہ کو مروانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ججوں کو مافیا اور گاڈ فادر جیسے ریمارکس دینے کاکوئی حق نہیں۔ جس جج نے پانامہ میں پیسے لگائے وہ سپریم کورٹ میں بیٹھا ہے، کوئی اس جج سے پوچھ سکتا ہے کہ اس نے پانامہ میں پیسہ کہاں سے لگایا اگر سیاستدانوں کااحتساب لازمی ہے تو وہ جج سیٹ پر کیوں بیٹھا ہے جس کا پانامہ میں نام ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان پر بھی جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم بنائی گئی تھی اور مقدمات قائم کئے گئے مگر انہیں کم جائیداد ہونے پر کلیئر کردیا گیا۔ جسٹس عظمت نیب کے وکیل تھے جسے لوگ اچھا تصور نہیں کرتے جوڈیشل ان ججوں کو کیوں نہیں پکڑتی جنہوں نے تین بار جمہوریت کو اپنے پاﺅں تلے کچلنے والوں کو تحفظ فراہم کیا۔ پاکستان میں سپریم کورٹ نے بے شمار غلطیاں کیں، آئین توڑ گیا اور آئین توڑنے والوں کوعدلیہ نے تحفظ فراہم کیا۔ انہوں نے کہا کہ نواز شریف پارٹی کی صدارت سنبھال کر بیٹھ جائیں۔ اپنے ساتھیوں پر اعتماد کریں،ان سے کام لیں۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف اور جج صاحبان اپنی اَنا کو نیچے لے آئیں اور ملکی مفاد کو مقدم رکھیں۔ سی پیک کے حوالے سے جاوید ہاشمی نے کہا کہ اب آصف زرداری بھی اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش کررہے ہیں۔ نواز شریف کہتے ہیں کہ ان کی وجہ سے یہ کامیابی ہوئی جبکہ 17سال پہلے انہوں نے اپنی کتاب میں اس بات کاتذکرہ کیاتھا کہ روس، چین اور پاکستان ایک دوسرے کے قریب آجائیں گے اور ہندوستان بھی اس میں شامل ہو جائے گا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ اگلی باری آصف زرداری کی بھی ہوسکتی ہے اور عمران کی بھی ہوسکتی ہے یا وہ باری کے قریب ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ آج بھی کسی فوجی کے پاﺅں چھونے میں فخر محسوس کریں گے لیکن وہ انہیں حاکم نہیں مانتے۔ انہوں نے کہا کہ وہ نواز شریف کو چور نہیں کہتے اگر نواز شریف چور ہے تو ان کااحتساب ضرور ہونا چاہےے۔ انہوں نے کہاکہ ان کے گھر باپردہ خواتین اور بچوں کو عدالتوں میںلاکھڑا کیا تو مریم نواز کے جے آئی ٹی میں پیش ہونے میں کیا حرج ہے۔ سینئر ساتھی ہونے کے باوجود نواز شریف اور عمران خان نے ان کے ساتھ زیادتیاں کیں۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے جتنی تعریفیں ان کی کی ہیں اس سے دو جلدوں میں کتاب شائع ہوسکتی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار چودھری کو بچانے کے لئے انہوں نے جیل میں بیٹھ کر تحریک چلائی۔ وہ میرے آگے چلنے کو بھی گناہ سمجھتے تھے اور کہتے تھے میں آپ کے پیچھے چلوں گا۔ جاوید ہاشمی نے کہا کہ انہوں نے 1965ءکی پاک بھارت جنگ میں سی ایم ایچ ملتان میں آٹھ بوتل خون کا عطیہ دیا اور اپنے وظیفہ سے 2500 روپے دیئے۔ مخدوم جاوید ہاشمی نے کہا کہ نواز شریف کے سعودی عرب جانے کے بعد انہوں نے پارٹی کو بچائے رکھا مگر انہوں نے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کیں اور ان کے قریبی ساتھیوں خواجہ آصف، رانا تنویر سمیت تین وزراءنے ان پرحملہ کیا اور جسمانی تشدد کانشانہ بنایا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ مسلم لیگی ہیں اور مسلم لیگی رہیں گے، ان کی خواہش ہے کہ انہیں مسلم لیگ کے پرچم میںلپیٹ کر دفن کردیا جائے۔ میں نے کبھی یہ کہا کہ میں نون لیگی ہوں، میں نے ہمیشہ کہا کہ میں مسلم لیگی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں سپریم کورٹ کاموجودہ بنچ حق سماعت کھو چکا ہے۔

ایوب ، ضیاالحق اور اب نواز شریف ، مسلم لیگ مشکل وقت میں ٹوٹ جاتی ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوںو تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ مسلم لیگ کبھی بھی نظریاتی و مستحکم سیاسی جماعت نہیں رہی۔ ایوب خان نے کنونشن مسلم لیگ بنائی جو ان کے دور حکومت کے بعد بکھر گئی۔ مشرف نے اسی مسلم لیگ کو گود میں لیا، شجاعت حسین صدر بنے۔ ضیاءالحق نے بھی مسلم لیگ کو گود میں لیا اور نوازشریف کی زیرقیادت پنجاب میں پروان چڑھایا۔ آج مسلم لیگ ن پر بھی وہی وقت ہے البتہ ابھی حتمی فیصلہ نہیں آیا نوازشریف وزیراعظم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شیخ رشید نے کہا کہ نواز لیگ کے 40 ارکان پارٹی چھوڑنے کو تیار بیٹھے ہیں۔ ایک اینکر پرسن نے ان میں سے 21 کے نام بتا دیئے اور یہ بھی کہا کہ آئی بی کے ذریعے ان پر دباﺅ ڈال جا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ 40 ارکان نواز شریف کو چھوڑ دیں گے۔ ادھر ذوالفقار کھوسہ نے دھماکہ کیا ہے کہ ”ان کے پاس 55 ایم این ایز کی فہرست ہے جو تیار بیٹھے تھے اور بجٹ سیشن میں بھی نہیں جانا چاہتے تھے۔“ذوالفقار کھوسہ ان 55 ایم این ایز کے نام بھی بتائیں۔ یہ آخری وقت تک دیکھیں گے کہ معاملہ کدھر جاتا ہے۔ مسلم لیگیوں نے ہر دور میں ڈوبتی ہوئی کشتی سے چھلانگیں لگائی ہیں۔ اگر یہ کشتی تیرتی رہی تو بہت سارے دوبارہ نوازشریف کے ساتھی بن جائیں گے لیکن اگر ڈوب گئی تو بہت سارے چھلانگیں لگا دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ شجاعت حسین نے بھی میرے پروگرام میں نوازشریف بارے امکان ظاہر کیا تھا کہ ان پر لگے الزامات سچ ثابت ہو جائیں گے۔ گزشتہ چند روز میں خاص مسلم لیگیوں نے مجھے فون کر کے کہا کہ ہم تو قیادت کو بہت اچھا سمجھتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ چودھری نثار سمجھدار آدمی ہیں، اچھے طریقے سے فاصلہ رکھ کر چلتے ہیں۔ آخری وقت پر جدھر فائدہ دیکھیں گے ادھر شریک نظر آئیں گے۔ بدقسمتی سے اس ملک میں مسلم لیگ نے قائداعظم کی جتنی مٹی پلید کی ہے کسی نے نہیں کی۔ ایک زمانے میں کہا جانا تھا کہ کسی بھی مسلم لیگی کو پیسے سے خریدا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاہ محمود قریشی نے پیپلزپارٹی میں جانے کے سوال پر مجھے کہا تھا کہ ”میں پاگل ہوں کہ جو پارٹی عروج پر جا رہی ہے، میں اس کے دوسرے نمبر پر ہوں اور قومی اسمبلی میں لیڈ کر رہا ہوں اسے چھوڑ کر چلا جاﺅں۔“ تجزیہ کار نے کہا کہ وزیراعظم کا قانونی جنگ لڑنے کا فیصلہ اچھا ہے لیکن وہ اور کر بھی کیا سکتے تھے؟ پارٹی کے لوگ اس ڈر سے کہ شاید وزیراعظم نااہل ہو جائیں ان کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ شجاعت حسین نے کہا تھا کہ بہت جلد پرندے اڑنا شروع ہو جائیں گے اب پرندے اڑ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بے نظیر نے منظور وٹو کی چھٹی کرا دی تھی بعد میں اسی پی پی نے ان کو پنجاب کا صدر بنا دیا۔ بے نظیر کہتی تھیں کہ ”اس سے بڑا چور، ٹھگ کوئی نہیں، طے کر لیا ہے کہ اس گندگی کو نکال باہر کریں گے۔ اسی منظور وٹو کو پیپلزپارٹی نے سینے سے لگا لیا۔ اس وقت منظور وٹو کے 22 ایم این ایز تھے جن کی بنیاد پر وہ پی پی کو بلیک میل کر کے وزیراعلیٰ بنے۔ نوازشریف نے جاوید ہاشمی کو منظور وٹو کو لانے کی ذمہ داری سونپی حالانکہ اس نے نوازشریف کے والد کو دھکے دیئے اور گرفتار بھی کرایا تھا۔ منظور وٹو نے جب مسلم لیگ ن میں شمولیت کا اعلان کیا تو اس وقت ان کے ساتھ کوئی 15 لوگ ہوں گے، باقی غائب ہو گئے۔ جتنے آدمیوں کے ساتھ نواز لیگ میں شمولیت کا اعلان کیا تھا اگلے ہی روز ان میں سے بھی 3 نے تردید کر دی۔ یہ قائداعظم کی مسلم لیگ نہیں بلکہ ایوب خان، ضیاءالحق اور پرویز مشرف کی مسلم لیگ ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاوید ہاشمی نے پہلے مسلم لیگ ن چھوری پھر باغی باغی کے نعرے لگواتے پی ٹی آئی کو بھی چھوڑ دیا، انہیں اس وقت پی ٹی آئی کو نہیں چھوڑنا چاہئے تھا۔ آج یہ سن کر دکھ ہوا کہ جاوید ہاشمی کہتے ہیں کہ ”انہیں 3 وزراءنے زدوکوب کیا“ جن میں رانا تنویر، خواجہ آصف اور تیسرے کا نام نہیں بتایا شاید وہ خواجہ سعد رفیق یا اسحاق ڈار ہوں گے۔ اگر واقعی یہ بات درست ہے تو اس سے سیاست کا اصل چہرہ نظر آیا۔ یہ کہاں کی شرافت ہے کہ ایک بیمار شخص کو زدوکوب کیا۔ سیاستدان ہیں یا بدمعاش ہیں؟ جاوید ہاشمی سے اچھے تعلقات ہیں انہوں نے مجھے یہ واقعہ کبھی نہیں سنایا۔ ان کو نوازشریف کے سر پر تلوار لٹکتی نظر آ رہی ہے۔ پہلے کہتے تھے کہ میں مسلم لیگی ہوں، مشہور ہوا تھا کہ نواز لیگ میں واپس چلے جائیں گے پھر کہا کہ میں ہوں ہی مسلم لیگی آنے جانے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آج نوازشریف کو مشکل میں دیکھتے ہوئے وزراءکی جانب سے زدوکوب کرنے کا بیان دے دیا۔ جسٹس (ر) ناصرہ جاوید اقبال نے کہا ہے کہ وزیراعظم کو الزامات کا جواب دینے کا موقع ملنا چاہئے، عدالت میں جانا ان کا حق ہے۔ جے آئی ٹی کی تشکیل کو قانونی طور پر چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ جب بنی تھی تو مسلم لیگ ن نے رضامندی کا اظہار کیا تھا پھر 2 ممبران پر اعتراض اٹھایا لیکن عدالت نے مسترد کر دیا۔ جے آئی ٹی کی تفتیش ایسی ہی ہے جیسے کسی تفتیشی ادارے کی ہوتی ہے۔ اگر تفتیش درست نہیں تو وزیراعظم اپنا جواب داخل کر سکتے ہیں جو پیر کے روز کریں گے۔ فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ دیکھی ہے اس میں شہبازشریف کو نااہل قرار دینے کی کوئی بات نہیں۔ عدالت میں تو ان کا ذکر بھی نہیں ہوا۔ اگر کوئی ایسی بات ہو بھی تو شہباز شریف اپنا جواب داخل کروا سکتے ہیں۔

شاستری کی کوچنگ میں بھارتی ٹیم سے بڑی توقعات

نئی دہلی(نیوزایجنسیاں)نجومیوں نے پیشگوئیاں شروع کر دی کہ روی شاستری کی کوچنگ میں انڈین ٹیم 2019ء کے ورلڈ کپ میں بہت کامیابیاں سمیٹے گی۔ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے انیل کمبلے کی جگہ سابق کھلاڑی روی شاستری کو انڈین ٹیم کا ہیڈ کوچ مقرر کر دیا ہے۔ نجومیوں کا خیال ہے کہ روی شاستری کی کوچنگ میں بھارتی ٹیم نا صرف بین لاقوامی دوروں میں بلکہ ورلڈ کپ 2019ءمیں بھی بہت کامیابیاں سمیٹے گی۔ایک کرکٹ نیوز ویب سائٹ میں چھپنے والی رپورٹ میں بھارتی نجومیوں نے کہا ہے کہ اگر چیزیں روی شاستری کے زائچے کے مطابق رونما ہوئیں تو وہ انڈین ٹیم کیلئے موثر ثابت ہونگے۔ ان کی کوچنگ اور ویرات کوہلی کی سربراہی میں انڈین ٹیم نا صرف سری لنکا، انگلینڈ، آسٹریلیا، اور نیوزی لینڈ کے دوروں میں کامیابیاں سمیٹے گی بلکہ ورلڈ کپ 2019ء میں بھی یہ سلسلہ جاری رہے گا۔

اینجلو میتھیوز تینوں فارمیٹس میں سری لنکن ٹیم کی قیادت سے مستعفی

کولمبو (اے پی پی) اینجلو میتھیوز زمبابوے کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں شکست کے بعد تینوں فارمیٹس میں سری لنکن کرکٹ ٹیم کی قیادت سے مستعفی ہو گئے، آئی لینڈرز کو زمبابوے کے خلاف ہوم ون ڈے سیریز میں 3-2 سے شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ میتھیوز نے زمبابوے کے ہاتھوں ون ڈے سیریز میں شکست کو اپنے کیریئر کا خراب ترین لمحہ قرار دیا تھا اور کہا کہ وہ سری لنکن کرکٹ سلیکٹرز سے اپنے مستقبل کے بارے تبادلہ خیال کریں گے تاہم چند روز بعد ہی انہوں نے ٹیسٹ سیریز سے قبل ہی تینوں فارمیٹس میں ٹیم کی قیادت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔ میتھیوز نے 2013ءمیں سری لنکن ٹیم کی قیادت سنبھالی تھی اور 34 ٹیسٹ، 98 ون ڈے اور 12 ٹی ٹونٹی میچز میں ٹیم کی کپتانی کرنے کا اعزاز حاصل کیا۔ میتھیوز نے اپنے بیان میں کہا کہ رواں برس ٹیم کی اب تک کی کارکردگی مایوس کن ہے اور میں نے ٹیم کے بہتر مفاد میں فیصلہ کیا ہے، بطور پلیئر میری کوشش ہو گی کہ اپنی پرفارمنس سے ٹیم کو فتوحات دلانے میں کردار ادا کروں۔

عرفان نے نوجوان لڑکوں کو لیکچر دینا شروع کر دیئے

لاہور(آئی این پی) پی ایس ایل سپاٹ فکسنگ سکینڈل میں پابندی کا شکار ہونے والے فاسٹ باولر محمد عرفان کی واپسی کا سفر شروع ہو گیا۔ محمد عرفان نے نوجوان کرکٹرز کو فکسنگ سے بچاو¿ کیلئے لیکچر دینے شروع کر دیئے ہیں۔ کہتے ہیں خواہش ہے کوئی بھی کھلاڑی فکسنگ کا شکار نہ ہو۔باو¿لر نے پی سی بی کی جانب سے عائد 10 لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کا بھی بتایا اور مزید کہا کہ اپنے طور پر ٹریننگ جاری ہے اور موقع ملا تو کیمپ میں شرکت ضرور ہو گی۔یاد رہے فاسٹ باو¿لر پر عائد پابندی 14 مارچ سے شروع ہوئی جو ستمبر 14 تک جاری رہے گی۔

لالا ایک بار پھر ایکشن میں

لندن(آئی این پی)قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی آج ایک بار ان ایکشن ہوںگے۔ پاکستانی آل راﺅنڈر فرینڈز لائف ٹی ٹونٹی میں شرکت کیلئے انگلینڈ میں موجود ہیں جہاں آج ان کی ٹیم ہمپشائر پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے 10بجے سسیکس کیخلاف میدان میں اترے گی۔ یاد رہے کہ شاہد آفریدی نے ایونٹ کے پہلے میچ میں گلیمورگن کی ٹیم کے خلاف20رنز دے کر 4وکٹیں حاصل کی تھیں۔

پاکستانی ٹیم پر طنز بھارتی شہری کو مہنگا پڑ گیا ، آئی سی سی کا کرارا جواب

لاہور ( این این آئی) انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے ایک بھارتی کرکٹ شائق کے پاکستانی و ویمن کرکٹ ٹیم پر طنز کا منہ توڑ جواب دے دیا۔آئی سی سی کے فیس بک پوسٹ پر ایک بھارتی شائق نے کمنٹ کیا کہ پاکستانی ٹیم کو عالمی کپ میں دعوت دینا ختم کردیں کیوں کہ یہ اس کی مستحق نہیں۔ اس کے جواب میں آئی سی سی نے پاکستان کرکٹ ٹیم کی چیمپئنز ٹرافی جیتنے والی تصویر پوسٹ کردی جس کے ساتھ کمنٹ تھا کہ کیا آپ کی مراد ان سے ہے؟۔ آئی سی سی کا یہ جواب سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور پاکستانی کرکٹ شائقین نے اس کا بھرپور لطف اٹھایا۔اس خبر کو فائل کرتے وقت تک 10 ہزار سے زائد افراد آئی سی سی کے جواب کولائیک کرچکے تھے۔خیال رہے کہ نوجوانوں پر مشتمل پاکستانی ٹیم نے چیمپیئنز ٹرافی 2017ءکے فائنل میں تجربہ کار بھارتی ٹیم کو یک طرفہ مقابلے کے بعد 180رنز سے عبرت ناک شکست دی تھی۔

لیجنڈبلے بازیونس نے تاریخی بلا عطیہ کردیا

کراچی(نیوزایجنسیاں)پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان یونس خان نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز بنانے والا بیٹ نیلامی کے لئے پیش کردیا۔کراچی میں ایک تقریب کے دوران یونس خان نے وہ بیٹ جس سے انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 10 ہزار رنز مکمل کیے، ایک غیرسرکاری تنظیم (این جی او) کو نیلامی کے لیے پیش کیا۔جب کہ بیٹ کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم کو فلاحی کاموں میں استعمال کیا جائے گا۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یونس خان نے حکومت سے اپیل کی کہ بلے کی نیلامی سے حاصل ہونے والی رقم سے ٹیکس نہ کاٹا جائے کیوں کہ رقم کا کچھ حصہ ایدھی فاو¿نڈیشن اور کچھ دیگر فلاحی اداروں کو دیا جائے گا۔کرکٹ کیریئر کے بعد مستقبل کی سرگرمیوں سے متعلق یونس خان کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس بہت اچھے منصوبے ہیں، کھیلوں کے ساتھ دیگر چیزوں میں بھی کام کریں گے۔سیاست میں آنے سے متعلق پوچھے گئے سوال پر کرکٹر نے کہا کہ سارا پاکستان میرا اپنا ہے، میں کسی سیاسی جماعت میں شامل نہیں ہو رہا۔

پریتی زنٹا کا فلم”انسائڈ ایج“کی کہانی پر شدید برہمی کا اظہار

ممبئی(شوبز ڈیسک) پروڈیوسر فرحان اختر کی جانب سے تیار کی جانے والی ویب ڈرامہ فلم’ ’ انسائڈ ایج“ سے، جو انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی کرکٹ ٹیم کی خاتون مالک پریتی زنٹا کی کہانی سے متاثر ہوکر بنائی گئی۔انسائڈ ایج میں آئی پی ایل، اسکینڈل اور ایک خاتون کو کرکٹ ٹیم کے سربراہ کے طور پر دکھایا گیا ہے، اس ویب سیریز میں خاتون کا کردار اداکارہ ریچا چڈا نے ادا کیا ہے۔ اس ڈرامہ فلم کو ایکسل میڈیا اینڈ انٹرٹینمینٹ کے بینر تلے ایمازون پرائم ویڈیو کے تحت ریلیز کیا گیا۔انسائڈ ایج کو ریلیز کیے جانے کے بعد پریٹی زنٹا نے اس پر رد عمل دیتے ہوئے پروڈیوسر فرحان اختر کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ مرد کو مرد بن کر رہنا چاہیئے، خواتین پر حکمرانی نہیں کرنی چاہیئے، سچا مرد کبھی بھی خواتین کو زندگی اور خوشیوں سے محروم نہیں کرتا۔انہوں نے کہاکہ مردانہ معاشرے میں ہمیشہ ہی خواتین کو نیچا دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے۔