توانائی منصوبوں بارے وزیراعلیٰ نے بڑی خوشخبری سُنادی

لاہور (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وزےراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشرےف نے کہا ہے کہ وزےراعظم محمد نوازشرےف کی قےادت مےں اندھےروں سے روشنیوں کی جانب سفر طے ہونے کو ہے اورملک مےں دو دہائےوں سے چھائے اندھےرے دورہونے کی گھڑی آگئی ہے ۔قوم بجلی کے بحران کے خاتمے کے حوالے سے پاکستان مسلم لےگ(ن) کے تارےخی کارنامے کو ہمےشہ ےادرکھے گی اورتوانائی منصوبوں کی برق رفتاری اورشفافےت سے تکمےل کے حوالے سے نوازشرےف کے تارےخی کردارکو تارےخ مےں سنہری حروف سے لکھاجائےگا۔وزےراعلیٰ شہبازشرےف نے ان خےالات کا اظہار پاکستان مسلم لےگ(ن) کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کےا،جس نے آج ےہاں ان سے ملاقات کی۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ ملک بھر مےں توانائی کے منصوبے تےزرفتاری سے تکمےل کی جانب بڑھ رہے ہےں۔ 1320مےگاواٹ کا ساہےوال کول پاور پلانٹ 22ماہ کی رےکارڈ مدت مےں مکمل کےاگےا ہے،اسی طرح بھکھی گےس پاور پلانٹ سے بھی رےکارڈ مدت مےںبجلی کی پےداوار شروع ہوچکی ہے جبکہ حوےلی بہادرشاہ گےس پاور پلانٹ کے پہلے مرحلے مےں 760مےگاواٹ بجلی کی پےداوار شروع ہوگئی ہے اورقائد اعظم سولرپارک بہاولپور مےں 400مےگاواٹ کے بجلی کے منصوبے مکمل ہوچکے ہےں،بلاشبہ بجلی کے منصوبوں کی تےزرفتاری سے تکمےل کے عالمی رےکارڈ بن رہے ہےں ۔وزےراعلیٰ نے کہا کہ مسلم لےگ(ن) نے جب اقتدار سنبھالا تو توانائی کا مسئلہ بہت گھمبےر صورت اختےار کرچکا تھا۔ غربت،افلاس ،بے روزگاری اوربجلی کے اندھےرے سابق حکمرانوں کی کرپشن کے تحفے ہےں۔سابق کرپٹ حکمرانوں نے قومی وسائل کی لوٹ مار کر کے اپنی جےبےں تو بھریں لےکن بجلی بحران کے خاتمے پر کوئی توجہ نہ دی۔نندی پور پاورپلانٹ بھی انہےں لٹےروں کی ہوس زر کا شکار ہوا ہے ۔اگر سابق حکمران وسائل کی لوٹ مار کی بجائے بجلی بحران کے خاتمے پر توجہ دےتے تو شاےد ملک اندھےروں مےں نہ ڈوبتا۔اےک طرف وسائل کی لوٹ مار کرنے والے سابق حکمران ہےں تو دوسری طرف منفی طرز سےاست سے قوم کی مشکلات بڑھانے والے عناصر ہےں۔ملک کو اندھےروں مےں دھکےلنے اورترقی کے سفر مےں روڑے اٹکانے والوںکو قوم کبھی معاف نہےں کرے گی۔ملک کو اندھےروں مےں دھکےلنے والے آج سی پےک بنانے کے جھوٹے دعوےدار بن بےٹھے ہےں ۔وسائل کی لوٹ مار اور دھرنوں کی آڑ مےں پاکستان کی معےشت کےساتھ گھناو¿نا کھےل کھےلا گےا۔پاکستان کی قسمت کے ساتھ سفاک کھےل کھےلنے والے کسی صورت عوام کے خےر خواہ نہےں ہوسکتے ۔ان عناصر نے عوام کے مسائل مےں اضافہ کر کے عوام دشمنی کا ثبوت دےا ہے۔انہوںنے کہا کہ چےن کا اربوں ڈالر کا تارےخ ساز اقتصادی پےکےج وزےراعظم نوازشرےف کی قےادت اورپالےسےوں پر اظہار اعتماد ہے ۔36ارب ڈالر کی سرماےہ کاری توانائی کے منصوبوں مےںکی جاری ہے ۔چےن کی بے مثال سرماےہ کاری کے تحت پاکستان بھر مےں کوئلے، شمسی،ہائےڈل اوردےگر ذرائع سے بجلی کے حصول کے منصوبے لگ رہے ہےںاور بجلی کے کارخانے مکمل ہونے سے پاکستان کی پےاسی دھرتی کو توانائی مل رہی ہے ۔ وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کا اجلاس منعقد ہوا جس میں جنرل الیکٹرک کمپنی کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر اینڈریوجان لیمس(Mr. Andrew John Lammas) او ران کی ٹیم کے اراکین نے شرکت کی-اینڈریو جان لیمس اور ان کی ٹیم کے اراکین نے ریکارڈ مدت میں بھکھی اور حویلی بہادر شاہ پاور پلانٹس سے بجلی کے حصول پر وزیراعلیٰ شہبازشریف اور وفاقی حکومت کو مبارکباددی- چیف ٹیکنالوجی آفیسر جنرل الیکٹرک کمپنی نے کہا کہ گیس پاور منصوبوں کو رفتار، معیار اور شفافیت کے ساتھ آگے بڑھانے کا کریڈٹ موجودہ حکومت کو جاتا ہے اوروزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف نے بھکھی اور حویلی بہادر شاہ گیس پاور پلانٹس کی مقررہ مدت سے قبل تکمیل کیلئے بے پناہ تعاون کیاہے۔ وزیراعلی محمد شہباز شریف نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نے توانائی منصوبو ںکی تکمیل کیلئے دن رات کام کیا ہے اور گیس منصوبے لوڈشیڈنگ کے خاتمے میں ممد و معاون ثابت ہو رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ان منصوبوں کیلئے وفاقی اور پنجاب حکومت نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا ہے اور بھکھی کے بعد حویلی بہادر شاہ گیس پاور پلانٹ کے پہلے یونٹ سے 760 میگاواٹ بجلی کی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔یہ منصوبے اندھیروں کو ختم کرکے اجالے لانے کے منصوبے ہیںاور پاکستان کی تاریخ میں کوئی بھی منصوبہ اتنی کم مدت میں مکمل نہیں ہوا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے شہرہ آفاق عالمی فٹ بالرز کی پاکستان کے دل لاہورآمد پر خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم اپنے مہمانوں کی دل سے قدر کرتے ہیںاورانہیں محبتوں اور روایتوںکی تارےخی سرزمین لاہورآمد پر دل کی اتھاہ گہرائےوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔انہوںنے کہا کہ عالمی شہرت یافتہ فٹ بالرز خصوصاََ برازیل کے رونالڈینیو کی لاہور آمد باعث اعزاز ہے۔بین الاقوامی فٹ بالرز کی پاکستان آمد سے اقوام عالم میں پاکستان کا مثبت تاثر اجاگر ہواہے اورپی اےس اےل کے لاہور مےں کامےاب فائنل کے انعقاد کے بعد عالمی فٹ بالرز کا پاکستان آنا خوش آئند ہے۔انہوںنے کہا کہ پاکستانی امن پسند قوم ہے جو کھیلوں سے گہری رغبت رکھتی ہے۔دہشتگرد اور ملک دشمن عناصر ہمارے تشخص اور روایات کو مسخ نہیں کر سکتے۔ وزیر اعلیٰ پنجاب نے سینئر صحافی،ہدایت کار و ڈرامہ نگار آصف علی پوتا کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہارکےا ہے۔وزیراعلیٰ نے اپنے تعزیتی پیغام میں سوگوار خاندان سے ہمدردی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی روح کو جوار رحمت میں جگہ دے ۔

پانامہ جے آئی ٹی رپورٹ سپریم کورٹ کیا فیصلہ سنانے والی ہے ،اعتزاز احسن نے اشارہ دیدیا

لاہور، اسلام آباد، کراچی (نمائندگان خبریں) پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما سنیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ سیاسی حالات سمیت ملک کی مجموعی صورتحال پر گہری نظر ہے، حکمران جماعت پانامہ جے آئی ٹی کے معاملے پر ہر روز نیا پتہ پھینک رہی ہے لیکن ہر چال اور تدبیر ان کے اپنے گلے پڑ رہی ہے ۔ ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ وفاقی وزراءایک منصوبے کے تحت آنکھوں پر پٹی باندھ کر جے آئی ٹی کیخلاف بیانات داغ رہے ہیں جس ے ان کا اصل چہر ہ قوم کے سامنے بے نقاب ہو رہا ہے۔ انہوںنے کہا کہ پہلے دن ہی کہہ چکا ہوں کہ پانامہ لیکس حکمرانوں کے گلے کا طوق بن چکا ہے اور یہ کسی صورت بھی اس سے پیچھا نہیں چھڑا سکتے ۔اعتزاز احسن نے کہا کہ وفاقی وزراءنے ریاست کا حلف اٹھایا ہے لیکن بد قسمتی سے سار ے وزراءاپنی قیادت کی کرپشن بچانے میں لگے ہوئے ہیں ۔ دوسروں پر کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگاکر پگڑیاںں اچھالنے والے اربوں کی کرپشن پر آج خود پکڑ میںآ چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ حکمران خاندان اور وزراءایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت ایسی فضاءکو فروغ دے رہے ہیںجس سے افرا تفری کا گماں ہوں لیکن عوام ان کی کسی چال کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ پیپلزپارٹی کے رہنما قمرالزماں کائرہ نے کہا کہ پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے ججوں کی کارروائی کے دوران مسلم لیگ ن کے وزراءکی زبان بہت ہتک آمیز تھی اور جب جے آئی ٹی کی کارروائی شروع ہوئی تو ابتدا میں انہوں نے مٹھائی بانٹی لیکن جب ان سے سوالوں کا سلسلہ شروع ہوا تو ان لوگوںکو پتہ چلا کہ آخر ہوا کیا ہے تو ان لوگوں نے شور کرنا شروع کر دیا اور اس کیس کو سازش کہنا شروع کر داب یہ مانیں یا نہ مانیں جے آئی ٹی کو اس سے فرق نہیں پڑتا جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع کرا دینی ہے وزیراعظم کو اب جانا ہے لیکن اب یہ شہبازشریف اوار مریم نواز کو بچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پیپلزپارٹی لاہور کے صدر عزیز الرحمن چن نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی مسلم لیگ ن کو بادشاہت قائم نہیں کرنے دے گی پچھلے ادوار میں وزیراعظم نوازشریف اور امیر المومنین بننے کے خواب میں جدہ پہنچ گئے تھے انہوہں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو اس بار جیل سے جدہ نہیں بلکہ تختہ دار پر جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سپریم کورٹ کے لئے دھمکی آمیز رویے سے گریز کرے۔ پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ (ن) کے وزراءکی جانب سے ہفتہ کے روز جے آئی ٹی کی رپورٹ کو مسترد کرنے کی دھمکیوں کہ اگر قطری شہزادے کا بیان پاناما لیکس میں نہیں ریکارڈ کیا گیا تو وہ اس رپورٹ کو مسترد کر دیں گے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکمران خاندان ابتدا ہی سے بھاگنا چا رہا تھا۔ سابق چیرمین سینٹ اور پاکستان پیپلز پارٹی کے مر کزی  سیکرٹری جنرل سید نیر حسین بخاری نے وفاقی وزیر دفاع کے ہمراہ وفاقی وزراء کی  قومی حساس ادارے کی ساکھ متاثر کرنے کی کوشش اور حکومتی وزرا کی سرکاری خرچ پر سرکاری ملازمین کو خطاب میں ٹکراو اور تصادم کی فضائ   کوخطرناک  قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئینی عہدوں اور سرکاری فرائض کے قانونی تضاضوں کو مد نظر رکھا جانا چاہیے ممبران پارلیمنٹ اور بلخصوص اراکین پنجاب اسمبلی کی پانامہ پیپرز سے لاتعلقی دراصل جعلی شہزادوں کے تخت لاہور کے گرنے کااعلان ہے۔ سابق وزیر مملکت انصاف و پارلیمانی امور مہرین انور راجہ نے کہا ہے کہ پنجاب میں ہمارے کارکنان پرپولیس تشدد کر رہی ہے، حکومت پیپلزپارٹی کے کارکنان سے خوف زدہ ہے، سابق ایم پی اے امجد میو پر تشدد کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

48گھنٹے اہم ،گرفتاریاں ،لسٹ تیار

لاہور (خصوصی رپورٹ) پنجاب حکومت نے کرپشن میں ملوث سرکاری افسران کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف سیکرٹری پنجاب کی زیرصدارت اہم اجلاس گزشتہ روز ان کی رہائش گاہ پر منعقد ہوا‘ جس میں ہوم سیکرٹری میجر (ر) اعظم سلیمان خان‘ ایڈیشنل چیف سیکرٹری شمائل احمد خواجہ اور ڈی جی اینٹی کرپشن بریگیڈیئر (ر) مظفر علی رانجھا سمیت دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ کرپشن میں ملوث سرکاری افسران کے خلاف گھرا تنگ کیا جائے گا۔ جن اعلیٰ افسران کے خلاف محکمہ اینٹی کرپشن میں مقدمات درج ہیں ان کو فوری گرفتار کیا جائے گا۔ ان اعلیٰ افسران کو گرفتار کرنے کیلئے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے دی گئی ہیں۔ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر ان کرپشن میں ملوث افسران کو فوری گرفتار کرنے کیلئے محکمہ پولیس کی خدمات حاصل کر لی گئی ہیں۔ اگلے 48گھنٹے میں بڑے افسران کی گرفتاریاں عمل میں لائی جائیں گی۔

بھارت کی اشتعال انگیزی کا پاک فوج کے بہادر جوانوں نے ایسا جواب دیا کہ آنیوالی نسلیں بھی یاد رکھیں گی،4سورما جہنم واصل

راولپنڈی (مانیٹرنگ ڈیسک) پاک فوج نے ایل او سی پر بھارتی اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیتے ہوئے 4 انڈین فوجیوں کو ہلاک کردیا جبکہ ان کی دو چوکیاں بھی تباہ کردیں۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق شہید برہان مظفر وانی کی پہلی برسی کے موقع پر دنیا بھر میں موجود کشمیری بھارتی قبضے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس سے توجہ ہٹانے کیلئے بھارتی فوج نے ایل او سی کے راولا کوٹ سیکٹر پر بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کردیا۔ بھارتی فوج کی جانب سے تیتری نوٹ، مانوا، ستووال اور چفاڑ کے دیہاتوں میں نہتے شہریوں کو مارٹر شیل اور راکٹس کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔ بھارتی اشتعال انگیزی کے نتیجے میں 4 خواتین اور ایک بزرگ شہری سمیت 5 افراد شہید ہوگئے جبکہ تین لڑکیوں سمیت 5 افراد زخمی ہوئے۔ آئی ایس پی آر کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ پاک فوج کی جانب سے بھارت کی اس اشتعال انگیزی کا بھرپور جواب دیا گیا اور 9 جولائی (اتوار کے روز) کو بھارت کا بھاری مالی و جانی نقصان کیا۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں بھارتی فوج کی 2 چوکیاں تباہ کردی گئیں جبکہ 4 فوجیوں کو بھی ہلاک کردیا گیا۔ پاک فوج کی جانب سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے شہریوں کے تحفظ کیلئے بھارتی اشتعال انگیزی کے خلاف کسی بھی حد تک جائے گی۔

ایاز صاد ق کی پی ٹی آئی میں شمولیت بارے دھماکے دار خبر

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے کہا ہے کہ کسی بھی اسمبلی میں اسپیکر ہاﺅس کا کسٹوڈین ہوتا ہے اور اس کی پوزیشن ہر لمحہ آزمائش میں گھری رہتی ہے حکومت اور اپوزیشن کے معاملات کو عدل و انصاف کے ساتھ چلانا مشکل ترین مرحلہ ہے لیکن یہ اسپیکر کی ایسی ذمہ داری ہے جو اسے جان جوکھوں میں ڈال کر پوری کرنا پڑتی ہے ۔ مولوی تمیزالدین سے لے کر سردار ایاز صادق تک اسپیکرز کی اکثریت نے تاریخ ساز کردار ادا کر کے اپنا نام پاکستانی تاریخ میں امر کیا ۔یہ باتیں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے صحافیوں سے خصوصی گفتگو کے دوران کہیں ۔ انہو ںنے کہا کہ میرا کریڈٹ تو کچھ بھی نہیں جو کہ کریڈیٹ ہے اللہ تعالیٰ کا ہی ہے میں اللہ کے کرم سے اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے نبھا رہا ہوں میں نے قومی اسمبلی میں پروموشن اور ریکیومنٹ سو فیصد میرٹ پر کی ہیں اس وقت پاکستان کی پہلی پارلیمنٹ ہے جو سو فیصد فیئر اور مثبت طریقے سے چل رہی ہے ۔ ہم نے SDG بنایا اور پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار کام ویلتھ کی صدارت بھی جیتی ہے اپنی سیاست میں آنے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ میں سردار آئی ٹرسٹ میں بیٹھا کرتا تھا وہاں غریب اور مستحق لوگ علاج کے لئے آتے تھے وہ آنکھوں کا علاج کرانے کے ساتھ ساتھ اپنے مسائل بھی لے کر آتے تھے میں ان کے مسائل کے حل میں ان کی مدد کرتا تھا ۔ مسائل میں بچیوں کی شادیوں ‘ ملازمت اور فیملی جھگڑوں کا ایشو شامل ہوتا تھا میں ان کے یہ مسائل کم و پیش حل کرتے کرتے مجھے غریبوں کے مسائل حل کرنے کی دلچسپی بڑھ گئی کیونکہ کسی بھی مستحق کا مسئلہ حل کرنے کے بعد جو خوشی حاصل ہوتی ہے اس کا کوئی نعم البدل نہیں ہوتا ۔ یہی وجہ ہے کہ عوامی خدمت کرنے کے لئے مجھے سیاسی پلیٹ فارم حاصل کرنا پڑا اور میری سیاسی کی بنیاد ہی عوامی خدمت بنی ۔ انہوں نے کہا کہ 1997 میں میں نے پہلا الیکشن صوبائی اسمبلی کی سیٹ پر تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے لڑا اور عمران خان نے قومی اسمبلی کی سیٹ پر اسی حلقے سے لڑا ۔ اس الیکشن میں میرے صوبائی الیکشن میں 48 ہزار اور عمران خان کے قومی اسمبلی کی سیٹ پر 32 ہزار ووٹ ھے ۔ 1998 میں عمران خان کی پارٹی کو خیر آباد کہہ دیا اس کی وجہ ان کا رویہ سمجھ لیں ۔ لوگ عزت کے لئے سیاست کرتے ہیں عمران خان ٹکٹ ہولڈرز کی بہت بے عزتی کرتے ہیں میں نے پارٹی چھوڑنے کے بعد بھی عوامی خدمت جاری رکھی اور مسلم لیگ(ن) کو جوائن کر دیا ۔ انہوں نے کہاکہ 2001 جبکہ نواز شریف جلاوطن تھے اس کے باوجود میں نے 2001 میں ان کی پارٹی جوائن کی کیونکہ میرے نزدیک نواز شریف کی حکومت غیر قانونی طور پر ختم کرکے انہیں جلاوطن بھی غیر قانونی طور پر کیا گیا تھا جس وجہ سے مجھے یقین تھا کہ ایک وقت آئے گا جب نواز شریف دوبارہ پاکستان کی تقدیر بدلنے کے لئے ملک کی بھاگ دوڑ سنبھالیں گے ۔ جب میں نے مسلم لیگ(ن) میں شمولیت اختیار کی وہ پرویز مشرف کی آمریت کا سخت ترین دور تھا اس دور میں پہلی مرتبہ اور پھر کئی بار تھانوں میں سرکاری مہمان بنا ۔ لیکن میں نے مخلصانہ طو رپر مسلم لیگ(ن) کا ساتھ دیا جس وجہ سے وزیر اعظم مجھ سے زیادہ لگاﺅ رکھتے ہیں انہوں نے کہاکہ میں (ن) لیگ میں ایک ایم این اے اور ایم پی اے کی خواہش پر شامل ہوا تھا جبکہ شہباز شریف کو میں پہلے سے جانتا تھا ۔ 1995 میں اپنے گھر میں میاں محمد نواز شریف کے ایک جلسہ کا اہتمام کیا تھا ۔ پانامہ اور جے آئی ٹی کے حوالے سے سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانامہ کیس عدالت میں ہے ۔ جے آئی ٹی اور سپریم کورٹ کا تو یہ ایک SUB JUDAS کیس ہے جس پر تبصرہ کرنا یا رائے دینا نامناسب بات ہے لیکن میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ انشاءاللہ اس کیس میں میاں محمد نواز شریف سرخروں ہوں گے ۔ اگر ان کے خلاف کوئی چیزیں ہوتی تو مارشل لاءدور میں مشرف ان کو پھانسی کے پھندے پر چڑھا دیتا۔

عمران خان کیخلاف توہین عدالت کیس فائنل ،آج بڑا فیصلہ

اسلام آباد (آن لائن) الیکشن کمیشن میں آج پیر کو اہم ترین کیسز کی سماعت ہوگی۔ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس میں بڑا فیصلہ آنے کی توقع کی جارہی ہے چیف لیکشن کمیشنرسردار رضا خان کی صدارت میں پانچ رکنی بینچتحریک انصاف کے مرکزی رہنماءاکبر ایس بابر کی درخواست کی سماعت کرے گا گزشتہ سماعت پر عمران خان کی جانب سے جواب جمع نہ کرانے پر چیف الیکشن کمشنر نے واضح کیا تھا کہ اس پر فیصلہ دیں گے جبکہ تحریک انصاف کی جانب سے ایک بار پھر وکیل تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا اور اب ڈاکٹر باربر عوان پیر کو اپنا وکالت نامہ پیش کریںگے اس کے علاوہ قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 260 کوئٹہ چاغی نوشکی میں امیداور کے کاغذات نامزدگی کی منظوری کے خلاف الیکشن کمیشن میں درخواست کی سماعت بھی ہوگی واضح رہے کہ اس حلقہ میں ضمنی انتخابات کے لئے پولنگ 15جولائی کو ہوگی۔

پاناما الزامات کے باوجود بیشتر سربراہان مملکت برسراقدار

لاہور(خصوصی رپورٹ)پاکستان کی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پاناما لیکس ایک ہاٹ ایشو ہے تاہم پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کے سوا کسی حکمراں کیخلاف تحقیقات نہیں ہوئی اور پاناما الزامات کے باوجود بیشتر ممالک کے سربراہ اب بھی برسراقتدار ہیں ، آئس لینڈ کے وزیراعظم نے پاناما کو عالمی سازش قرار دیا ، مالٹا کےوزیر اعظم اہلیہ پر خفیہ اکاونٹس کے الزام پر مستعفی ہوئےمگر واضح برتری سے پھر الیکشن جیت گئے، پاناما پیپرز میں روسی صدر پوٹن کے دوستوں کے بھی نام ہیں تاہم وہ بھی سعودی ، قطری اور اماراتی شاہی خاندان کی طرح کارروائی سے بچےرہے۔ اس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔چندسربراہان مملکت سمیت کئی عالمی شخصیات آف شور کمپنیوں یا خفیہ اکاونٹس کے مالک ہیں یا ان پر مالک ہونے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔الزامات بے بنیاد بھی گردانے گئے جبکہ عوام کی عدالت نے ان الزامات سے بری کر دیا۔اس وقت کسی بھی بین الاقوامی شخصیت یا حکمران کے خلاف پاناما پرکوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے سوائے نواز شریف کے۔ پاناما کی لا فرم موزیک فانسیکا کی دستاویزات کے افشا ہونے کا فوری اثریہ ہوا کہ جنوبی یورپی ملک مالٹا میں فوری تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ 43سالہ وزیراعظم جوزف مسکاٹ کی اہلیہ مشیلے (Michelle)پر الزام لگایا گیا کہ اس کے خفیہ آف شور اکاﺅئنٹس ہیں ،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مالٹا کے سربراہ کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ اپوزیشن نے کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کر دیا۔یعنی مالٹا کے دارالحکومت میں اپوزیشن کے ہزاروں افراد کے مظاہرے کے بعد حکومت کی مدت پوری ہونے سے 10ماہ قبل ہی انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا گیا جس سے مظاہرین کوکسی حد تک ٹھنڈا کر دیاگیا۔جرمنی کے سرکاری بین الاقوامی براڈ کاسٹر ڈی ڈبلیو کے مطابق اس ایشو پر آزاد مجسٹریل انکوائری شروع کر دی گئی،تاہم جوزف مسکاٹ 3جون 2017 کو لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے دوسری بار واضح برتری سے انتخابات جیت گئے۔اس بار انہوں نے 2013 کے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کئے جس سے ثابت ہوا کہ ان کے خلاف ساری مہم منفی تھی۔ فاتح وزیراعظم کی لیبر پارٹی نے بڑے پرسکون طریقے سے مہم چلائی جس میں ان وعدوں پر بطور خاص زور دیا گیاجن کا مقصد ملک کی دولت کی بہتر تقسیم پر توجہ دینا تھا جس سے مالٹا نے 2013 کی انتظامیہ کے تحت مثالی معاشی ترقی کی۔2013 میں لیبر پارٹی نے جو عہد و پیمان کئے ان میں ورکروں کو سرکاری چھٹیوں کا حق دیا گیا،پورے ملک میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا سات سالہ منصوبہ بنایا گیا اور 60ہزار یورو سے زیادہ کمائی کرنے والے ہر ورکر کو ٹیکس بونس دیا گیا ۔ اگرچہ مالٹا میں آف شور اکاﺅنٹ کا مالک ہونا غیر قانونی نہیں لیکن وزیراعظم جوزف مسکاٹ کی اہلیہ پر آف شور اکاﺅنٹس کے مالک ہونے کے الزام نے یقینا سخت سیاسی ردعمل پیدا کر دیا تھا۔ وزیراعظم نے اس الزام کو رد کیا کہ ان کی اہلیہ نے آذر بائیجان کے صدر کی بیٹی سے شیل کمپنی کے ذریعے رقم حاصل کی جسے لا فرم موزیک فونیسکا نے قائم کیا تھا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ 2016 میں مالٹا کے وزیراعظم کے دو معاونین کے نام بھی پاناما پیپرز میں موجود ہیں اوروہ شیل کمپنیوں کے مالک ہیں۔ یہ وزیر کونارڈمزی اور وزیراعظم کے چیف آف سٹاف Keith Schembri ہیں۔ مالٹا کے وزیر مزی کی اہلیہ سائے مزی لیانگ جو چین میں مالٹا کی ٹریڈ ایلچی اور شنگھائی میں مالٹا کی قونصل جنرل ہیں، کا اپنے بچوں سمیت نیوزی لینڈ میں ایک ٹرسٹ کی بینی فشری کے طور پر بھی نام آیا۔ یہ بھی ہر کسی کو معلوم ہے کہ پاناما پیپرزمیں آف شور کمپنیوں کا ایشو منظر عام پر آنے کے محض دو دن بعد آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمنڈر گنلاگسن کو5 اپریل2016 کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا کیونکہ ان پر عوامی دبا ﺅ تھا کہ ان کے خاندان نے آف شور کاﺅنٹ سے مالی فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ 2009 سے لے کر اکتوبر2016 تک پروگریسو پارٹی کے چیئرمین بھی تھے۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے جب سے وزارت عظمی سے استعفی دیا ہے وہ مسلسل یہی کہتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ عالمی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ امریکن ٹائیکون جارج سورس، ایس وی ٹی، آئی سی آئی جے اور کچھ آئس لینڈ کے میڈیا ہاﺅسز نے ان کے خلاف سازش کی ہے۔ مارچ 2017میں آئس لینڈ کے سابق وزیراعظم سگمنڈر نے مزید الزام لگایا کہ ایس وی ٹی کو دیئے گئے انٹرویو کو جھوٹا رنگ دیا گیا اور انٹرویو لینے والے صحافی نے کنفیوژ کرنے کی پوری کوشش کی۔ (حوالہ جات:دی آئس لینڈ ریویو اینڈ دی گارڈین) ۔آئس لینڈ کے وزیراعظم کے استعفی کے بعد پوری دنیا کے بک میکرز نے شرطیں لگانا شروع کر دیں کہ آف شور اکاﺅنٹس کے راز افشا ہونے کے بعد اقتدار سے الگ ہونے والا اگلا عالمی لیڈر کون ہوگا۔ 10اپریل 2016 کو یوکرینی وزیراعظم Arseny Yatsenyuk نے اعلان کیا کہ وہ بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کی وجہ سے استعفی دے دیں گے۔ ان کا استعفی اس وقت سامنے آیا جب ان کے ملک کے صدر پیٹرو پوروشینکو جن کی پاناما پیپرز کے بعد جانچ پڑتال کی جا رہی تھی، نے کہا کہ انہوں نے ٹیکسوں سے بچنے کے لئے آف شور کمپنی بنائی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20جون 2017 کواپنے یوکرینی ہم منصب پیٹروپوروشینکو سے واشنگٹن میں ملاقات کی جس سے یہ سوال زیادہ شدت اختیار کر گئے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ روسی جارحیت کی صورت میں اپنے پارٹنرز کو تحفظ دے گی؟ ایسوسی ایٹڈ پریس لکھتا ہے کہ ٹرمپ کی یوکرینی صدر سے ملاقات کو وائٹ ہاﺅس نے بنیادی طور پر ایک مختصر ڈراپ ان قرار دیا لیکن دونوں صدور نے اوول آفس میں اکٹھے تصویر بنوائی۔ یوکرینی صدر نے امریکہ کے نائب صدر مائیک پنسی اور اعلی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرز سے بھی ملاقاتیں کی۔ جب یوکرینی صدر پاس ہی بیٹھے تھے تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ پوروشینکو سے ملاقات بڑے اعزاز کی بات ہے اور امریکہ کے یوکرین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بہت زیادہ پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب یوکرینی صدر نے 2014میں اقتدار سنبھالا تو انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنا کینڈی بزنس فروخت کر دیں گے لیکن پاناما لیکس میں یہ بات سامنے آگئی کہ 21اگست2014کو انہوں نے اور موزیک فونیسکانے برٹش ورجن آئی لینڈز میں آف شور کمپنی قائم کی۔ صدر پیٹرو نے اپنی کمپنی کو ٹیکس ہیون میں منتقل کر دیا اور یہ کام ان کے اقتدار میں آنے کے کوئی دو ماہ بعد ہوا۔6 اپریل2016 کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پر بھی آف شور سے فائدے حاصل کرنے اور ذاتی ٹیکس چوری میں مداخلت کی بنا پر استعفے کا دباﺅ تھا۔ 11 اپریل2016 نیویارک ٹائم کے مطابق برطانوی دارالعوام میں پاناما پر بحث1 گھنٹہ 27 منٹ اور 21 سیکنڈز تک جاری رہی جس میں ڈیوڈ کیمرون کے ذاتی فنانس یا دوسرے افسران کے فنانسز کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی کسی بڑی پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ جب سے پاناما پیپرز کا ایشو سامنے آیا ہے ہے تب سے پارلیمنٹ کے اندر آف شور بینک اکاﺅنٹ اور شیل کمپنیوں کی دولت چھپانے اور ٹیکس بچانے پر بھرپور بحث ہوئی اور یہ برطانیہ کی دونوں بڑی پارٹیوں کو اپنے ویژن کو آگے لانے کا بہترین موقع ہے۔

”مجھے نااہلی بھی قبول ہے“, عمران خان نے بڑا دعویٰ کردیا

اسلام آباد (نامہ نگار خصوصی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وفاقی وزراءنے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم(جے آئی ٹی) نہیں اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ نہ ماننے دھمکی دی ہے،حالات 1997 کے سپریم کورٹ پر حملے کی طرف جارہے ہیں، عوام اور وکلا سے اعلی عدلیہ کو بچانے کے لئے تیار رہنے کی اپیل کرتا ہوں ،قطری شہزادہ تلور کے شکار کیلئے پاکستان آ سکتا ہے تو گواہی دینے کیلئے کیوں نہیں آ سکتا؟، ایک خاندان نے کرپشن بچانے کیلئے ادارے تباہ کر دیئے، نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے، مریم نواز کا پیش ہونا مجھے بھی اچھا نہیں لگا، ہم عورت کی عزت کرتے ہیں،جمائماپرالزامات لگانے والے گھٹیالوگ ہیں ،میرے خلاف ایک کیس اوور سیز پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھے کرنے کا ہے، دوسرا کیس بیرون ملک سے پیسہ کمانے اور پاکستان واپس لانے کا ہے، ساری تفصیلات دے دیں، نااہل نہیں ہو سکتا۔ بنی گالہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے پانامہ کیس کے معاملے پر شریف خاندان اور مسلم لیگ نون کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ شریف فیملی جے آئی ٹی میں پیشی کے بعد پوچھتی ہے ہمارا جرم کیا ہے؟ان پر ٹیکس چوری ،منی لانڈرنگ سمیت 4بڑے جرائم ہیں،انہیں جیل جانا چاہیے،حکمران پاکستان کے عوام کو بھیڑ بکریاں سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی بننے پر چھوٹے میاں صاحب نے بڑے کو لڈو کھلایا تھا مگر اب کہہ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانیں گے، جے آئی ٹی کی مدت ختم ہونے سے ایک دن قبل کیسے کہہ دیا جاتا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نہیں مانیں گے؟ وفاقی وزرا نے گزشتہ روز جے آئی ٹی پر حملہ کیا، (ن) لیگ کے چار وزرا کو ایسی باتیں کرنے پر شرم آنی چاہیے، میں سمجھتا ہوں کہ یہ لوگ سپریم کورٹ پر حملے کی تیاریاں کر رہے ہیں، عوام تیار رہیں، یہ مستقبل کی جنگ ہونے جا رہی ہے ، عوام اور وکلا سے اعلی عدلیہ کو بچانے کے لئے تیار رہنے کی اپیل کررہا ہوں ۔ انہوں نے کہاکہ جے آئی ٹی ہمارے لئے نہیں سپریم کورٹ کی تسلی کیلئے بنائی گئی ہے پھر (ن) لیگ نے کیسے کہہ دیا کہ رپورٹ کو نہیں مانیں گے؟ ، جے آئی ٹی نے رپورٹ سپریم کورٹ کو دینی ہے، فیصلہ سپریم کورٹ نے کرنا ہے۔ انہوںنے کہا کہ قطری شہزادہ گواہ ہے تو اسے لانے کی ذمہ داری بھی شریف خاندان کی تھی، ججز نے( ن) لیگ کو قطری شہزادے کو لانے کا موقع دیا تھا قطری شہزادہ تلور کے شکار کیلئے پاکستان آ سکتا ہے تو گواہی دینے کیلئے کیوں نہیں آ سکتا؟ پورٹ قاسم کے کنٹریکٹ کے لئے بھی آسکتا ہے لیکن جے آئی ٹی کے سامنے پیشی کے لئے نہیں آسکتا ۔ انہوںنے کہا کہ نواز شریف نے چار بڑے جرم کئے، انہیں جیل جانا چاہیے، شریف خاندان کے لوگ جے آئی ٹی سے باہر نکلتے ہیں تو منہ ایسے ہوتے ہیں جیسے مکے پڑے ہوں، ان کو پتا چل گیا ہے کہ میچ جیتنے کا کوئی چانس نہیں، یہ پاکستانی قوم کو بیوقوف سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اب جے آئی ٹی کو جمہوریت کیخلاف سازش قرار دیا جا رہا ہے، یہ 30 سال سے لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہیں۔انہوں نے کہاکہ سپریم کورٹ نے نوٹس لیا تو ایف آئی اے نے کہا ٹمپرنگ پکڑی گئی، اب نون لیگ والے سپریم کورٹ اور پاکستانی فوج کے پیچھے پڑ گئے ہیں۔ چیئرمین پی ٹی آئی نے کہاکہ ایک خاندان نے کرپشن بچانے کیلئے ادارے تباہ کر دیئے، نواز شریف کا نام ای سی ایل میں ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام تیار رہیں (آج) اندازہ ہو جائے گا کہ یہ کیا کریں گے، وزرا کی پریس کانفرنس نے واضح کر دیا کہ یہ کیس ہار گئے ہیں، سپریم کورٹ نواز شریف سے استعفی لے، شریف خاندان سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں مانے گا ۔ انہوں نے کہا کہ سازش کا شور مچانے والے شریف خاندان کے کنٹرول میں تمام ادارے ہیں،وہ بتائیں ان کے خلاف کون سازش کررہا ہے؟ سارے ادارے انہوں نے بتاہ کردیے ہیں اور پھر کہتے ہیں جے آئی ٹی سے سازش ہورہی ہے،وہاں پیشی بھگتے ہی انہیں عمران خان یاد آجاتا ہے،جے آئی ٹی کی تحقیقات وہاں پہنچ گئی ہے جہاں نوازشریف کونااہل ہوجاناہے ۔انہوں نے کہاکہ میرے اوپر ایک کیس اوور سیز پاکستانیوں سے پیسہ اکٹھے کرنے کا ہے، دوسرا کیس بیرون ملک سے پیسہ کمانے اور پاکستان واپس لانے کا ہے، ساری تفصیلات دے دیں، نااہل نہیں ہو سکتا تاہم گاڈ فادر سے ملک کی جان چھڑانے کیلئے اپنی نااہلی بھی منظور ہے ۔ چیئرمین تحریک انصاف نے کہا کہ مریم نواز کا پیش ہونا مجھے بھی اچھا نہیں لگا، ہم عورت کی عزت کرتے ہیں، مجھ پر اور جمائما خان پر یہودی لابی کے الزامات لگائے گئے، جمائما پر الزامات لگانے والے گھٹیا لوگ ہیں، مریم نواز لندن فلیٹس کی مالکن ہیں، اس لئے ان کی پیشی ہوئی، اگر پانامہ کیس سازش ہے تو آئی سی آئی جے سے جا کر پوچھیں، شہباز شریف آئی سی آئی جے کیخلاف عدالت کیوں نہیں جاتے؟۔عمران خان نے کہا کہ مجھے دہشت گرد بنا دیا گیا، مافیا اسی طرح خوفزدہ کرتا ہے لیکن ہم نے پختونخوا میں امیر مقام سمیت کسی ایک خلاف مقدمہ درج نہیں کیا۔ترجمان تحریک انصاف فواد چوہدری نے کہاہے کہ عمران خان نے کارکنوں اور پارٹی رہنماﺅں کو(آج) پیر کوسپریم کورٹ جانے سے روک دیا ہے۔ایک بیان میں فواد چوہدری نے کہا کہ پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم پیر کو سپریم کورٹ میں حتمی رپورٹ جمع کرائے گی ، اس لئے انہوں نے کارکنوں کو روک دیا اور وہ خود بھی عدالت عظمیٰ نہیں جائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ کے3 رکنی بنچ نے پاناما کیس کی تحقیقات کےلئے جے آئی ٹی کو 60 دن کا وقت دیا تھاجوکہ 10جولائی کو مکمل ہوجائےگا،اسی روز جے آئی ٹی عدالت میں حتمی رپورٹ پیش کرے گی۔

اکوڑہ خٹک میں ہم جنس پرست خواتین نے وہ کام کر ڈالا کہ سب ششدررہ گئے ،خوفناک انجام

پشاور (خصوصی رپورٹ) صوبہ خیبر پختونخوا کے ضلع نوشہرہ کے شہر اکوڑہ خٹک میں دو ہم جنس پرست لڑکیوں نے محبت میں ناکامی پر خودکشی کر لی۔ جرمن نشریاتی ادارہ کے مطابق یہ دونوں لڑکیاں ایک ہی محلے میں رہتی تھیں اور ان کی ملاقات چند سال پہلے ایک مقامی مدرسے میں ہوئی تاہم ان کے تعلق کی نوعیت معلوم ہونے پر دونوں لڑکیوں کے گھر والوں نے انہیں ایک دوسرے سے الگ کرنے کی کوشش کی۔ ان کی ملاقات پر بھی پابندی لگا دی گئی جبکہ ایک لڑکی کی شادی بھی کرا دی‘ تاہم شادی کے ایک ہفتہ بعد ہی اس لڑکی نے شوہر کو چھوڑا اور واپس میکے آ گئی۔ پھر کچھ روز قبل دونوں لڑکیوں کی ملاقات ہوئی اور انہوں نے خودکشی کرنے کا فیصلہ کیا‘ پھر دونوں نے زہر کھا لیا۔ دونوں کو ہسپتال پہنچایا گیا مگر وہ جانبر نہ ہو سکیں۔

جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا نے برطانیہ میں کس سے کام لیا ؟

لندن‘ لاہور (خصوصی رپورٹ) پانامہ کیس کی تحقیقات کرنے والی جے آئی جی کے سربراہ واجد ضیا نے یوکے میں جے آئی ٹی کیلئے پی ٹی آئی کے طرفدار اپنے کزن کی خدمات حاصل کی ہیں۔ ان کے کزن کو پاکستانی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے ادائیگی بھی کی گئی۔ اختر ریاض کوئسٹ سولیسٹر کے نام سے ایک کمپنی کے مالک ہیں جن سے ہزاروں پاﺅنڈز کی ادائیگی سے بے معنی خطوط لکھوائے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اختر ریاض اور ان کی اہلیہ تحریک انصاف کے متحرک ممبرز ہیں اور اس حقیقت سے واجدضیا بھی بخوبی واقف ہیں۔ جے آئی ٹی کے ذرائع نے اس خبر کی تصدیق کی ہے کہ اختر راجہ کو واجد ضیا کی خصوصی ہدایت پر ہائر کیا گیا۔ واجد ضیا نے جے آئی ٹی ممبرز کو بتایا کہ ان کا کزن قابل اعتماد شخص ہے اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتیں رکھتا ہے۔ جے آئی ٹی کے ایک رکن کا کہنا ہے کہ واجدضیا نے واضح طور پر اپنے کزن کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کی تاکہ وہ جے آئی ٹی کی جانب سے برطانیہ میں مختلف اداروں کو نوازشریف کے بچوں کے حوالے سے خطوط لکھ سکیں۔ اختر راجہ ماضی میں دہشت گردی کے معاملات کو ڈیل کرتے رہے ہیں اور مالی یا منی لانڈرنگ کے حوالے سے کوئی تجربہ نہیں رکھتے۔ تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ اختر راجہ اور واجدضیا فرسٹ کزنز ہیں اور دونوں اصل میں مری‘ راولپنڈی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اختر راجہ کو واجدضیا کے انکل نے گود لیا تھا کیونکہ واجدضیا کے انکل کی اپنی اولاد نہیں تھی۔ معلوم ہوا ہے کہ اختر راجہ کم عمری میں ہی یوکے شفٹ ہو گئے تھے۔ انہوں نے اپنی اور واجدضیا کی مشترکہ کزن سے شادی کر رکھی ہے۔