Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • مودی ہار گیا GEN-Zجیت گئی
    • بھارت کی "کاکروچ” پارٹی نے احتجاج ختم کرنے کا اعلان کر دیا
    • قازقستان وسطی ایشیا کی پہلی ایئر ٹیکسی سروس شروع کرنے کے لیے تیار
    • آسٹرین ایئرلائنز اور آئی ٹی اے ایئرویز نے اسرائیل کے لیے پروازیں معطل کر دیں
    • ٹرمپ: اسرائیل کو تسلیم کیے بغیر سعودی جوہری پروگرام کی حمایت نہیں
    • پاکستانی بائیکر شان علی نے امریکا بھر میں تنہا موٹر سائیکل کا سفر مکمل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی
    • بھارتی وزیرِ تعلیم نے استعفیٰ دے دیا
    • سعودی اتحاد کا الحدیدہ میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملہ، بندرگاہیں کھلی رہیں
    • حمزہ شہباز کو وفاق میں اہم ذمہ داری، وزیراعظم آفس میں نیا دفتر
    • چین سے ملاقات میں ایران نے آبنائے ہرمز کشیدگی کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرا دیا
    • نابلس کے مشرق میں فلسطینی قصبے پر اسرائیلی فوج کا چھاپہ
    • عبداللہ فضل ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ ٹیسٹ سیریز سے باہر
    • ٹرمپ: ایران سے مذاکرات جاری، ایٹمی ہتھیار کی اجازت نہیں
    • ٹانک میں دہشتگردوں کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک، 15 اہلکار شہید: آئی ایس پی آر
    • ایران کا کہنا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں 55 افراد جاں بحق ہوئے ہیں
    • بنگلہ دیش کے صدر محمد شہاب الدین نے استعفیٰ دے دیا
    • مون سون کے بڑھتے خطرات کے درمیان پاکستان کے ڈیم 58 فیصد بھر گئے۔
    • امریکہ نے پاکستانی درآمدات پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا
    • شاہراہِ بلتستان پر سیلاب سے متاثرہ پل کی بحالی کا کام جاری
    • برطانیہ ایران کی دھمکیوں کے پیشِ نظر اپنے دفاع کے لیے تیار
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پاناما الزامات کے باوجود بیشتر سربراہان مملکت برسراقدار

    By Daily Khabrainجولائی 10, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Tthe panama
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور(خصوصی رپورٹ)پاکستان کی طرح دنیا کے دیگر ممالک میں بھی پاناما لیکس ایک ہاٹ ایشو ہے تاہم پاکستان کے وزیراعظم نوازشریف کے سوا کسی حکمراں کیخلاف تحقیقات نہیں ہوئی اور پاناما الزامات کے باوجود بیشتر ممالک کے سربراہ اب بھی برسراقتدار ہیں ، آئس لینڈ کے وزیراعظم نے پاناما کو عالمی سازش قرار دیا ، مالٹا کےوزیر اعظم اہلیہ پر خفیہ اکاونٹس کے الزام پر مستعفی ہوئےمگر واضح برتری سے پھر الیکشن جیت گئے، پاناما پیپرز میں روسی صدر پوٹن کے دوستوں کے بھی نام ہیں تاہم وہ بھی سعودی ، قطری اور اماراتی شاہی خاندان کی طرح کارروائی سے بچےرہے۔ اس پر گرما گرم بحث جاری ہے۔چندسربراہان مملکت سمیت کئی عالمی شخصیات آف شور کمپنیوں یا خفیہ اکاونٹس کے مالک ہیں یا ان پر مالک ہونے کا الزام عائد کیا جارہا ہے ۔الزامات بے بنیاد بھی گردانے گئے جبکہ عوام کی عدالت نے ان الزامات سے بری کر دیا۔اس وقت کسی بھی بین الاقوامی شخصیت یا حکمران کے خلاف پاناما پرکوئی کارروائی نہیں ہو رہی ہے سوائے نواز شریف کے۔ پاناما کی لا فرم موزیک فانسیکا کی دستاویزات کے افشا ہونے کا فوری اثریہ ہوا کہ جنوبی یورپی ملک مالٹا میں فوری تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ 43سالہ وزیراعظم جوزف مسکاٹ کی اہلیہ مشیلے (Michelle)پر الزام لگایا گیا کہ اس کے خفیہ آف شور اکاﺅئنٹس ہیں ،اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مالٹا کے سربراہ کو قبل از وقت انتخابات کا اعلان کرنے پر مجبور کر دیا گیا ۔ اپوزیشن نے کرپشن کا الزام عائد کرتے ہوئے وزیر اعظم کے استعفی کا مطالبہ کر دیا۔یعنی مالٹا کے دارالحکومت میں اپوزیشن کے ہزاروں افراد کے مظاہرے کے بعد حکومت کی مدت پوری ہونے سے 10ماہ قبل ہی انتخابات کرانے کا اعلان کر دیا گیا جس سے مظاہرین کوکسی حد تک ٹھنڈا کر دیاگیا۔جرمنی کے سرکاری بین الاقوامی براڈ کاسٹر ڈی ڈبلیو کے مطابق اس ایشو پر آزاد مجسٹریل انکوائری شروع کر دی گئی،تاہم جوزف مسکاٹ 3جون 2017 کو لیبر پارٹی کے پلیٹ فارم سے دوسری بار واضح برتری سے انتخابات جیت گئے۔اس بار انہوں نے 2013 کے انتخابات کے مقابلے میں زیادہ ووٹ حاصل کئے جس سے ثابت ہوا کہ ان کے خلاف ساری مہم منفی تھی۔ فاتح وزیراعظم کی لیبر پارٹی نے بڑے پرسکون طریقے سے مہم چلائی جس میں ان وعدوں پر بطور خاص زور دیا گیاجن کا مقصد ملک کی دولت کی بہتر تقسیم پر توجہ دینا تھا جس سے مالٹا نے 2013 کی انتظامیہ کے تحت مثالی معاشی ترقی کی۔2013 میں لیبر پارٹی نے جو عہد و پیمان کئے ان میں ورکروں کو سرکاری چھٹیوں کا حق دیا گیا،پورے ملک میں سڑکوں کی تعمیر و مرمت کا سات سالہ منصوبہ بنایا گیا اور 60ہزار یورو سے زیادہ کمائی کرنے والے ہر ورکر کو ٹیکس بونس دیا گیا ۔ اگرچہ مالٹا میں آف شور اکاﺅنٹ کا مالک ہونا غیر قانونی نہیں لیکن وزیراعظم جوزف مسکاٹ کی اہلیہ پر آف شور اکاﺅنٹس کے مالک ہونے کے الزام نے یقینا سخت سیاسی ردعمل پیدا کر دیا تھا۔ وزیراعظم نے اس الزام کو رد کیا کہ ان کی اہلیہ نے آذر بائیجان کے صدر کی بیٹی سے شیل کمپنی کے ذریعے رقم حاصل کی جسے لا فرم موزیک فونیسکا نے قائم کیا تھا۔ یہاں یہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ 2016 میں مالٹا کے وزیراعظم کے دو معاونین کے نام بھی پاناما پیپرز میں موجود ہیں اوروہ شیل کمپنیوں کے مالک ہیں۔ یہ وزیر کونارڈمزی اور وزیراعظم کے چیف آف سٹاف Keith Schembri ہیں۔ مالٹا کے وزیر مزی کی اہلیہ سائے مزی لیانگ جو چین میں مالٹا کی ٹریڈ ایلچی اور شنگھائی میں مالٹا کی قونصل جنرل ہیں، کا اپنے بچوں سمیت نیوزی لینڈ میں ایک ٹرسٹ کی بینی فشری کے طور پر بھی نام آیا۔ یہ بھی ہر کسی کو معلوم ہے کہ پاناما پیپرزمیں آف شور کمپنیوں کا ایشو منظر عام پر آنے کے محض دو دن بعد آئس لینڈ کے وزیراعظم سگمنڈر گنلاگسن کو5 اپریل2016 کو اقتدار سے الگ ہونا پڑا کیونکہ ان پر عوامی دبا ﺅ تھا کہ ان کے خاندان نے آف شور کاﺅنٹ سے مالی فائدہ اٹھایا ہے۔ وہ 2009 سے لے کر اکتوبر2016 تک پروگریسو پارٹی کے چیئرمین بھی تھے۔ آئس لینڈ کے وزیر اعظم نے جب سے وزارت عظمی سے استعفی دیا ہے وہ مسلسل یہی کہتے چلے آ رہے ہیں کہ وہ عالمی سازش کا شکار ہوئے ہیں۔ وہ اکثر کہتے ہیں کہ امریکن ٹائیکون جارج سورس، ایس وی ٹی، آئی سی آئی جے اور کچھ آئس لینڈ کے میڈیا ہاﺅسز نے ان کے خلاف سازش کی ہے۔ مارچ 2017میں آئس لینڈ کے سابق وزیراعظم سگمنڈر نے مزید الزام لگایا کہ ایس وی ٹی کو دیئے گئے انٹرویو کو جھوٹا رنگ دیا گیا اور انٹرویو لینے والے صحافی نے کنفیوژ کرنے کی پوری کوشش کی۔ (حوالہ جات:دی آئس لینڈ ریویو اینڈ دی گارڈین) ۔آئس لینڈ کے وزیراعظم کے استعفی کے بعد پوری دنیا کے بک میکرز نے شرطیں لگانا شروع کر دیں کہ آف شور اکاﺅنٹس کے راز افشا ہونے کے بعد اقتدار سے الگ ہونے والا اگلا عالمی لیڈر کون ہوگا۔ 10اپریل 2016 کو یوکرینی وزیراعظم Arseny Yatsenyuk نے اعلان کیا کہ وہ بڑھتے ہوئے سیاسی بحران کی وجہ سے استعفی دے دیں گے۔ ان کا استعفی اس وقت سامنے آیا جب ان کے ملک کے صدر پیٹرو پوروشینکو جن کی پاناما پیپرز کے بعد جانچ پڑتال کی جا رہی تھی، نے کہا کہ انہوں نے ٹیکسوں سے بچنے کے لئے آف شور کمپنی بنائی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 20جون 2017 کواپنے یوکرینی ہم منصب پیٹروپوروشینکو سے واشنگٹن میں ملاقات کی جس سے یہ سوال زیادہ شدت اختیار کر گئے کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ روسی جارحیت کی صورت میں اپنے پارٹنرز کو تحفظ دے گی؟ ایسوسی ایٹڈ پریس لکھتا ہے کہ ٹرمپ کی یوکرینی صدر سے ملاقات کو وائٹ ہاﺅس نے بنیادی طور پر ایک مختصر ڈراپ ان قرار دیا لیکن دونوں صدور نے اوول آفس میں اکٹھے تصویر بنوائی۔ یوکرینی صدر نے امریکہ کے نائب صدر مائیک پنسی اور اعلی نیشنل سکیورٹی ایڈوائزرز سے بھی ملاقاتیں کی۔ جب یوکرینی صدر پاس ہی بیٹھے تھے تو صدر ٹرمپ نے کہا کہ پوروشینکو سے ملاقات بڑے اعزاز کی بات ہے اور امریکہ کے یوکرین کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بہت زیادہ پیش رفت ہوئی ہے۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جب یوکرینی صدر نے 2014میں اقتدار سنبھالا تو انہوں نے عہد کیا تھا کہ وہ اپنا کینڈی بزنس فروخت کر دیں گے لیکن پاناما لیکس میں یہ بات سامنے آگئی کہ 21اگست2014کو انہوں نے اور موزیک فونیسکانے برٹش ورجن آئی لینڈز میں آف شور کمپنی قائم کی۔ صدر پیٹرو نے اپنی کمپنی کو ٹیکس ہیون میں منتقل کر دیا اور یہ کام ان کے اقتدار میں آنے کے کوئی دو ماہ بعد ہوا۔6 اپریل2016 کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پر بھی آف شور سے فائدے حاصل کرنے اور ذاتی ٹیکس چوری میں مداخلت کی بنا پر استعفے کا دباﺅ تھا۔ 11 اپریل2016 نیویارک ٹائم کے مطابق برطانوی دارالعوام میں پاناما پر بحث1 گھنٹہ 27 منٹ اور 21 سیکنڈز تک جاری رہی جس میں ڈیوڈ کیمرون کے ذاتی فنانس یا دوسرے افسران کے فنانسز کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا اور نہ ہی کسی بڑی پالیسی کا اعلان کیا گیا۔ جب سے پاناما پیپرز کا ایشو سامنے آیا ہے ہے تب سے پارلیمنٹ کے اندر آف شور بینک اکاﺅنٹ اور شیل کمپنیوں کی دولت چھپانے اور ٹیکس بچانے پر بھرپور بحث ہوئی اور یہ برطانیہ کی دونوں بڑی پارٹیوں کو اپنے ویژن کو آگے لانے کا بہترین موقع ہے۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      پاکستانی بائیکر شان علی نے امریکا بھر میں تنہا موٹر سائیکل کا سفر مکمل کر کے نئی تاریخ رقم کر دی

      حمزہ شہباز کو وفاق میں اہم ذمہ داری، وزیراعظم آفس میں نیا دفتر

      ٹانک میں دہشتگردوں کا پولیس چیک پوسٹ پر حملہ، جوابی کارروائی میں 12 دہشتگرد ہلاک، 15 اہلکار شہید: آئی ایس پی آر

      تازہ ترین

      جماعتِ اسلامی کے امیر العظیم انتقال کر گئے

      عمران خان سے مذاکرات جاری، نبیل گبول کا بڑا دعویٰ

      فیفا ورلڈکپ: انگلینڈ کو شکست، ارجنٹائن فائنل کا ہیرو بن گیا

      حکومت کی طرف سے عوام کو ایک اور تحفہ پیٹرول پھر مہنگا

      حکومت کا پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ، نوٹیفکیشن جاری

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.