Close Menu
Khabrain Group Pakistan
    Facebook X (Twitter) Instagram
    بریکنگ نیوز
    • ۔صدر ولادیمیر پوتن کا اجلاس سے خطاب
    • فلسطینیوں کی جبری بے دخلی مسترد برکس ممالک کی دو ریاستی کی حمایت
    • ماہرہ خان نے حمل کی خوشخبری سنا دی
    • حوثیوں نے گائیڈڈ ہتھیار تیار کرنے کیلئے کلاڈ کا استعمال کیا، برطانوی اخبار
    • پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس نے منظوری دے دی تو نئے صوبوں کے معاملے پر ریفرنڈم ہو گا مشیر وزیراعظم
    • حوثیوں نے گائیڈڈ ہتھیار تیار کرنے کیلئے کلاڈ کا استعمال کیا، برطانوی اخبار
    • حوثیوں کے اپنے مسائل سعودی عرب کیساتھ حالت جنگ میں نہیں مسعودپزشکیان
    • مریم نواز کی صاحبزادی ماہ نور صفدر کا اذان جبار کے ساتھ نکاح ہوگیا
    • انصاف کی بر وقت فراہمی ضروری تمام ادارے ذمہ داریاں ادا کریں چیف جسٹس
    • حوثیوں نے گائیڈڈ ہتھیار تیار کرنے کیلئے کلاڈ کا استعمال کیا، برطانوی اخبار
    • ڈیل اسٹین نے محمد حفیظ کو اپنا پسندیدہ حریف قرار دے دیا
    • وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نوازشریف نے 1965ء کی جنگ کے ہیرو میجر عزیز بھٹی شہید نشان حیدر کو خراج عقیدت
    • مریم نواز کی ہدایت پر سی ایم انسپکشن ٹیم کا ہولی فیملی ہسپتال راولپنڈی کا دورہ
    • ریڈیو پاکستان کیس رپورٹ پیش سہیل آفریدی کے ملوث ہونے کی تصدیق
    • مسلم لیگ ن کا پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریاں شروع کرنیکا فیصلہ
    • گیس سیکٹرکا 3 ہزار 600 ارب کا گردشی قرض 3 سال میں ختم کرنیکا پلان تیار
    • کل سے نادرا ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ کے بغیر بیرون ملک سفر پر پابندی
    • علی ناصر رضوی ڈائریکٹر جنرل این سی سی آئی اے ‘ خرم آغا نیشنل پولیس بیورو اور محمدسہیل چودھری آئی جی اسلام آباد تعینات
    • پیپلزپارٹی ‘(ن ) لیگ کی کوآرڈینیشن کمیٹی کا گورنر ہائوس لاہور میں مشترکہ اجلاس
    • آرمینیا کیلئے پاکستان کے پہلے سفیر شفقت علی خان نے آرمینیا کے صدر کو اپنی اسنادِ سفارت پیش کر دیں
    • Privacy Policy
    Khabrain Group Pakistan
    • ہوم
    • ای پیپر
      • لاہورایڈیشن
      • ملتان ایڈیشن
      • مظفرآباد ایڈیشن
      • نیا اخبار
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن
      • اسلامی ایڈیشن
      • سپورٹس ایڈیشن
      • سیاسی ایڈیشن
      • شوبز ایڈیشن
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Khabrain Group Pakistan
    آج کا اخبار
    • ہوم
    • ای پیپر
    • نیشنل
    • انٹر نیشنل
    • سپورٹس
    • شوبز
    • کامرس
    • سائنس و ٹیکنالوجی
    • دلچسپ و عجیب
    • صحت
    • کالم
    • آرٹیکلز
    • ایڈیشن

    پولیس نے مرغی چوری کا بہانہ بناکر حاملہ خاتون کے جڑواں بچے مار ڈالے

    By Daily Khabrainنومبر 15, 2017
    Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Share
    Facebook Twitter LinkedIn Pinterest Email

    لاہور(نادر چوہدری سے)پنجاب پولیس کے شیر جوانوں کا ا نسانیت سوز کارنامہ ،مرغی چوری کے مبینہ ملزم کی گرفتاری کے دوران حاملہ خاتون کے پیٹ میں ٹھڈے مار مار کر جڑواں بچے مار ڈالے ،واقعہ کو چھپانے کیلئے اہلکاروں سے افسران تک متحرک، عدالتی احکامات پر بچوں کا پوسٹمارٹم اور متاثرہ خاتون کا طبی معائنہ ہوا ، ایک بچے کی پسلیاں جبکہ دوسرے کی ٹانگ پیدائش سے قبل ہی ٹوٹی ہوئی تھی ،پوسٹمارٹم رپورٹ میںانکشاف ، ڈیڑھ ماہ کا عرصہ گزر جانے کے باوجود اعلی افسران ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف کاروائی کی بجائے تحفظ دینے میں مصروف ، متاثرہ خاندان کا عدالت سے رجوع کر نے پر اغواءکے جھوٹے مقدمے میں ملوث کردیا گیا، مقدمے کا اخراج صلح سے مشروط ،متاثرہ خاندان حصول انصاف کیلئے "روز نامہ خبریں”آفس پہنچ گیا ۔تفصیلات کے مطابق حبیب نے اپنے بھائی محمد سعید کے ہمراہ روز نامہ خبریں کے دفتر میں آکر اپنے ساتھ ہونے والے ظلم کی داستان بتاتے ہوئے کہا کہ وہ چک نمبر 18گ ب تحصیل و ضلع ننکانہ صاحب کا رہائشی ہے اور زمیندار ہے جبکہ اسکے 2بیٹے عاطف اور طارق شاہکوٹ کے علاقہ میں دودھ دہی کا کاروبار کرتے ہیں ۔ متاثرہ شہری کے مطابق 6ستمبر کومحمد یونس ایس ایچ او تھانہ صدر ننکانہ صاحب اور چوکی چک نمبر 5کا ا نچارج محمد بوٹا دیگر پولیس اہلکاروں سمیت سرکاری ڈالے میں علی الصباح میرے گھر ریڈ کرنے گیاتو گھر میں موجود خواتین نے بتایا کہ گھر پر کوئی مر د موجود نہیں ، آپ کیوں آئے ہو جس پر پولیس نے ان کو بتایا کہ عاطف کے خلاف مرغی چوری کا مقدمہ درج ہے جس پر ہم اسے گرفتار کر نے آئے ہیں تو گھر میں موجود خواتین نے ان کو بتایا کہ عاطف اور طارق قریبی گاﺅں سے دودھ اکھٹا کرنے جبکہ میرے بارے میں انھوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ اپنی زمینوں پر کھیتوں میں گئے ہیں لیکن پولیس نے زبر دستی گھر میں داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے تین عدد مویشی اپنے ساتھ لے گئے ۔ اگلے روز7ستمبر کو پھر انھوں نے ہمارے گھر پر چھاپہ مارا اور میرے داماد محمد نعیم کو غیر قانونی طور پر حراست میں لےتے ہوئے حوالات میں یہ کہہ کر بند کر دیا کہ عاطف کو لاﺅ اور اس کو لے جاﺅ وگرنہ ایک لاکھ روپیہ دو جس پر میں نے لے دے کر 30ہزار روپے اکھٹے کر کے اسے دیے اور معززین علاقہ کے سامنے اسے رقم دیکر اپنے داماد کو چھڑوا کر لے آیا ۔8ستمبر کو میں نے اپنے بیٹے عاطف کو معززین علاقہ کی موجودگی میں چوکی انچارج محمد بوٹا کے حوالے کیا جنہوں نے مکمل طور پر چھان بین کی اور میرا بیٹا کسی بھی فوجداری مقدمہ میں ملوث ثابت نہ ہوا لیکن اس کے باوجود پولیس اس دوران عاطف کو چھوڑنے کے عوض مجھ سے 5لاکھ روپے کا مطالبہ کرتی رہی اور انکار پر ڈکیتی کے مقدمہ میں ملوث کرکے جعلی پولیس مقابلے میں پارکرنے کی دھمکی دیتی رہی ۔ 5لاکھ روپے رشوت کے انتظار میںپولیس نے میرے بیٹے کو 8ستمبر سے 30ستمبر تک غیر قانونی طور پر حراست میں رکھ کر بہیمانہ تشدد کا نشانہ بناتے رہے ۔29ستمبر کی رات کو ایک مرتبہ پھر محمد یونس ایس ایچ او تھانہ صدر ننکانہ صاحب اور چوکی چک نمبر 5کا ا نچارج محمد بوٹا دیگر نفری کے ہمراہ ہمارے گھر میںدیواریں پھلانگ کر داخل ہوئے اور اسلحہ کی نوک پر تمام اہل خانہ کو یرغمال بنا کر پیسوں کا تقاضا کرنے لگے جس پر میری جانب سے اتنی بڑی رقم نہ ادا کرسکنے کا سن کر وہ میرے گھر کی تلاشی لینے لگے اور گھر میں موجود میرے بیٹوں محمد طارق اورمحمد عارف کی جیبوں سے بالترتیب 8ہزار اور 15سو روپے ، بیٹی صوبیہ کی ایک تولہ کی طلائی بالیاںاور موبائلز سمیت دیگر قیمتی سامان اُٹھالیا جس پر میری بہو صوبیہ بی بی نے جب انھیں ایسا کرنے سے منع کیا تو محمد یونس ایس ایچ او تھانہ صدر ننکانہ صاحب اور چوکی چک نمبر 5کا ا نچارج محمد بوٹانے میری بہو جو کہ تقریباً7ماہ کی حاملہ تھی کو دھکا دیکر زمین پر گرایا اور اسکے پیٹ میں ٹھڈے مار نے شروع کر دیے جس پر اسکی حالت غیر ہوگئی جبکہ پولیس میرے دونو ں بیٹوں کوزبر دستی اپنے ہمراہ چوکی لے گئی ۔متاثرہ شہری نے مزید بتایا کہ جب میں اپنی بہو کو ہسپتال لے کر گیا تو وہاں اس نے جڑواں بچوں کو جنم دیا جو کہ پولیس کے ٹھڈوں کی وجہ سے شدید زخمی ہونے کی وجہ سے چند منٹ سانسیں لینے کے بعد دم توڑ گئے جس پر میں نے بہو کا طبی ملاحظہ اور پوتوں کا پوسٹمارٹم کروانے کی کوشش کی تو پولیس نے کروانے سے انکار کرتے ہوئے تدفین پر زور دینا شروع کر دیا جس پر میں نے عدالت کے ذریعے طبی معائنے اور پوسٹمارٹم کے آرڈر حاصل کیئے جس پر بہو کا طبی ملاحظہ اور بچوں کا پوسٹمار تو ہو گیا لیکن پولیس کی ساز باز سے ڈاکٹروں نے بھی مکمل طور پر غیر جانبدار رپورٹ مرتب نہ کی تاہم پوسٹمارٹم رپورٹ میں یہ واضح ہو گیا کہ بچوں کی موت قبل از وقت رحم میں ہونے والے تشدد کے باعث ایک کی پسلیاں ٹوٹنے اور دوسرے کی ٹانگ ٹوٹنے سے ہوئی ہے جس کی تکلیف ننھی جانےں برداشت نہ کرپانے پر موت کی آغوش میں چلی گئیں ۔اس تمام واقعے کا علم ہوتے ہی ننکانہ صاحب کے اعلی افسران بھی حرکت میں آگئے اور معاملے کو دبانے کی کوشش کرتے ہوئے شاہکوٹ تھانے میں پولیس نے اپنے کسی آدمی کی وساطت سے میرے بیٹوں محمد عارف اور محمد طارق کے خلاف اغواءکی جھوٹی ایف آئی آر درج کر کے انھیں تھانہ شاہکوٹ لے گئی جہاں ان پر شدید تشدد کے بعد انھیں حوالات میں بند کر دیا او ر ہم پر دباﺅ ڈالناشروع کر دیا کہ عدالت میں پولیس کے خلاف تمام رٹیں ختم کرو تو تمہارے بیٹوں کے خلاف درج اغواءکی ایف آئی آر خارج کر دینگے نہیںتو وہ جیل جائیں گے یا پولیس مقابلے میں پار کر دیاجائے گا ۔

    Daily Khabrain

      Keep Reading

      لاہور، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، گجرات، نارووال شیخوپورہ، سرگودھا اور دیگر شہروں میں بارش متوقع

      قائداعظم کی 78ویں برسی قوم کا بانیٔ پاکستان کو خراجِ عقیدت

      پاکستان کا پہلا وائلڈ لائف اسپتال تیار، 12 آپریشن تھیٹرز

      تازہ ترین

      سابق پاکستانی ہاکی کپتان خالد محمود 84 برس کی عمر میں انتقال کرگئے

      27 ستمبر احتجاج؛ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کی ملاقات کیلیے رابطے، سیاسی سرگرمیاں تیز

      خوبصورت بننے کا شوق جان لیوا ثابت ہوا، کاسمیٹک سرجری کے دوران معروف انفلوئنسر ہلاک

      سونے کی قیمت میں ایک بار پھر کمی، عالمی مارکیٹ میں قیمت 4,400ڈالر سے نیچے

      نئے صوبے ،شہبازشریف متحرک ‘ممتاز صنعت کاروں,کاروباری شخصیات سے طویل ملاقات

      Khabrain Group Pakistan
      Facebook X (Twitter) Instagram
      • کالم
      • صحت
      • دلچسپ و عجیب
      • سائنس و ٹیکنالوجی
      • بزنس
      • شوبز
      • کھیل
      • انٹر نیشنل
      • پاکستان
      © 2026 Khabrain Designed by Muhammad Rashid

      Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.