اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ہائی کورٹ نے قومی احتساب (بیورو نیب) کو ہدایت کی ہے کہ وہ دو ہفتے میں پاکستانی ریگولیٹری اتھارٹی کے اس افسر کے خلاف کرپشن کے مقدمات کی تحقیقاتی رپورٹ جمع کروائیں جس کی شناخت مردہ ظاہر کی گئی تھی۔نیب کی رپورٹ میں مردہ ظاہر کیے جانے والے شخص نے عدالت میں آکر بتایا کہ وہ زندہ ہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ کے جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے مقدمے کی آئندہ 10 روز میں دوبارہ سماعت کرنے کا فیصلہ کیا۔یاد رہے کہ ستمبر میں دوا ساز کمپنی کے مالک سمیع اللہ خان درانی نے عدالت میں دعوی کیا تھا کہ شیخ اختر حسین اور ان کے چار ساتھی لاکھوں روپے کی مالی بدعنوانیوں میں ملوث تھے اور ان کے خلاف 2001 سے 2004 تک نیب نے بھی تحقیقات کیں۔
نیب کا مردہ قرار دیا گیا شخص اچانک ایسی جگہ پہنچ گیا کہ دیکھنے والے دنگ رہ گئے

