اسلام آباد(ویب ڈیسک)سپریم کورٹ میں فیض ا?باد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی جس میں دھرنے سے متعلق ا?ئی ایس ا?ئی کی رپورٹ پیش کی گئی جس پر عدالت نے عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ا?ئی ایس ا?ئی کی جانب سے 46 صفحات پر مبنی رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ تحریک لبیک نہ ہی کالعدم جماعت ہے اور نہ ہی واچ لسٹ پر ہے، مولوی خادم رضوی بظاہر کرپٹ آدمی ہیں، ان کی شخصی شہرت غیرتسلی بخش ہے، خادم رضوی کا رہن سہن بظاہر اس کی آمدنی سے مطابقت رکھتا ہے۔ڈاکٹر اشرف جلالی مذہبی انتہا پسند کارروائیوں میں ملوث، رپورٹرپورٹ میں تحریک لبیک کے ڈاکٹر اشرف آصف جلالی کو مطلبی اور موقع پرست قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہےکہ ڈاکٹر اشرف آصف جلالی مذہبی انتہا پسند کارروائیوں میں بھی ملوث ہیں۔ا?ئی ایس ا?ئی کی رپورٹ کے مطابق خادم رضوی نے مارچ سے قبل ایک کروڑ روپے سے زائد رقم اکٹھی کی، لوگوں سے کہا گیا مارچ میں شریک ہوں یا پھر 300 روپے فی کس جمع کرائیں، گروپ کے ساتھ رجسٹرڈ مدارس نے بھی مارچ کے لیے امداد جمع کی۔رپورٹ میں بتایا گیاہے کہ ایک نجی ٹی وی چینل کے مالک نے مظاہرین کو کھانا فراہم کیا۔رپورٹ میں سیاستدانوں کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ شیخ رشید، اعجاز الحق اور پی ٹی آئی علماونگ مدد فراہم کرتے رہے، پیپلزپارٹی کے شیخ حمید اور ایک نجی ٹی وی تجزیہ کار نے بھی مدد کی جب کہ 6 وکلائ اور 3 ٹریڈ یونینز کے رہنماو¿ں نے بھی دھرنا مظاہرین کی مدد کی۔رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہےکہ پنجاب حکومت نے مظاہرین کو روکنے کے لیے کوئی کوشش نہ کی، پولیس مظاہرین کی خوراک بند کرنے کے نہ قابل تھی نہ ہی کرنا چاہتی تھی، حکومت نے ہائیکورٹ کے حکم پر 25 نومبر کو آپریشن کیا جو بری طرح ناکام ہوا، جڑواں شہروں کی پولیس میں رابطوں کا فقدان آپریشن میں ناکامی کی وجہ بنا۔آئی ایس آئی نمائندوں نے حکومت اور مظاہرین میں رابطے کا کردارادا کیا: رپورٹرپورٹ میں کہا گیاہےکہ وفاقی حکومت نے آزادانہ طور پر دھرنامنتظمین سے رابطہ نہیں کیا، آئی ایس آئی نمائندوں نے حکومت اور مظاہرین کے درمیان رابطے کا کردارادا کیا۔






































