تازہ تر ین

سی پی این ای کی طرف سے چئیرمین نیب کو لاہور میں مدعو کیا ہے

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں اور تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے معروف صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہ ہے کہ نیب چیئرمین جسٹس (ر) جاوید اقبال سے پہلے والے چیئرمین کو ہم نے میٹ دی ایڈیٹرز میں بلایا تھا۔ تمام شرکاءنے ایک ہی سوال پر زور دیا کہ لگتا ہے نیب نام کا ادارہ موجود ہی نہیں۔ آپ سحت اقدام اٹھانے کو تیار نہیں؟ وقت گزرتا جا رہا ہے؟ کچھ بھی ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا۔ انہوں نے جو بھی جواب دیا۔ اس سے شرکاءمطمئن نظر نہیں آئے تھے۔ موجودہ چیئرمین کی تقرری پر پی پی پی، خورشید شاہ، مسلم لیگ (ن) کے نوازشریف صاحب نے اتفاق کیا تھا۔ توقع نہیں تھی۔ ایسے نازک دور میں جس میں نوازشریف کے خلاف پانامہ، منی لانڈرنگ کے کیسز، ان کے داماد کے کیسز، ان کے بیٹوں کے کیسز ان کی بیی کے خلاف کیسز، اسحاق ڈار کے خلاف موجود تھے۔ امید یہ تھی کہ یہ دونوں پارٹیوں کے خلاف ہاتھ (ہولا) رکھیں گے۔ شاید پہلی مرتبہ ایسا شخص چیئرمین بنا ہے جو کسی کے ساتھ رعایت کئے بغیر فیصلے کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ نیب پہلے تحقیقات کرتا ہے۔ اس میں تینوں ایجنسیاں آئی ایس آئی، ایم آئی (سول حکومت کی) آئی بی۔ اس کے علاوہ اخبارات کی فائل اور ٹی وی چینلز کے اعتراضات کو سامنے رکھا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ نیب کی اپنی تحقیقات ہوتی ہیں۔ لیکن جب تک ثبوت نہ مل جائیں وہ کسی کو فائر نہیں کرتے۔ نہ ہی پوچھ گچھ کیلئے بلاتے ہیں۔ اس کی اندر کی کہانی بھی مجھے پتا ہے لیکن بتانا نہیں چاہتا۔ ہم نے موجودہ چیئرمین کو بھی میٹ دی ایڈیٹرز میں مدعو کیا ہے۔ ابھی تاریخ نہیں ملی انہوں نے کہا ہے کہ ابھی کام کا رش ہے۔ دس پندرہ دج رک جائیں۔ دیکھئے یہ سپریم کورٹ کا معاملہ ہے جو پاکستان کی سب سے بڑی عدالت ہے اس لئے میں بہت محتاط طریقے سےے صرف جو اب تک ہو چکا ہے وہ میں چاہوں گا کہ میں ناظرین کے سامنے لاﺅں اور اس پروگرام کو جب اخبار کے ذریعے چھاپا جائے گا جو اس کے پڑھنے والے ہیں ان تک اصل صورتحال پہنچےو¿ پہلی بات یہ ہے کہ یہ کیس سوموٹو کیس تھا یعنی چیف جسٹس سپریم کورٹ نے ازحود نوٹس لیا تھا۔ نہ میں نے بطور صدر سی پی این ای کوئی رٹ دائر کی ہے نہ جناب سرمد علی صاحب جو اے پی این ایس کے صدر ہیں نے کوئی رٹ دائر کی ہے۔ اے پی این ایس ناشران اور مالکان کی تنظیم ہے جبکہ اخباری صنعت کی دوسری تنظیم جو ہے ہماری سی پی این ای (یہ کونسل آف پاکستان نیوز پیپرز ایڈیٹرز ہے) یہ صرف ایڈیٹران کی تنظیم ہے۔ یہ تو فرق ان کے درمیان۔ گزارش یہ ہے ہمیں دونوں کو نوٹسز موصول ہوئے۔ جناب سرمد علی صاحب کو بطور صدر اے پی این ایس اور مجھے بطور صدر سی پی این ای کے اور ہم اس نوٹس کے مطابق جو تھے وہاں حاضر ہوئے۔ ایک دن پہلے چاروں صوبوںکے سیکرٹریاطلاعات کو بھی چیف جسٹس صاحب طلب کر چکے تھے اور اسی مسئلے پر اظہار خیال کر چکے تھے۔ انہوں نے ایک یا دو صوبوں کے سیکرٹریز کو یہ بھی کہا کہ جہاں آپ نے ایک ٹیلی ویژن کے اشتہار کا مسئلہ تھا جس پر انہوں نے اس پر کتنے پیسے صرف ہوئے جب ان کو بتایا گیا کہ وہ پنجاب حکومت کی طرف سے تھا جب ان کو بتایا گیا کہ اس پر 55 لاکھ روپے خرچ ہوئے ہیں تو انہوں نے کہا کہ اس کی پروجیکشن اس طرح سے کی گئی ہے کہ جو پنجاب کے وزیراعلیٰ ہیں ان کی تصویر، ان کی پرسنیلٹی نمایاں نظر آتی ہے لہٰذا اس کی پے منٹ وہ اپنی جیب سے ادا کریں یا پاکستان مسلم لیگ ادا کرے اور چیف جسٹس صاحب کا نقطہ نظر یہ تھا کہ جو اخبارات کے ذریعے بھی سامنے آیا کہ پبلک منی۔ (عوام کا پیسہ ہے) وہ اس بارے بالکل واضح ہے۔ یہ کہ یہ پبلک منی ہے اور آپ اس کو کسی کی پرسنل (ذاتی پولیٹیکل پروجیکشن پر صرف نہیں کر سکتے۔ چنانچہ جب ہماری پارٹی آئی تو ہمارے دوست سرمد علی صاحب نے اے پی این ایس کی طرف سے ایک لکھا ہوا جواب لیٹر ان کے وکیل صاحب ہیں ہائر کئے ہوئے تھے انہوں نے وہ پیش کیا اور جناب سرمد علی صاحب صدر اور جنرل سیکرٹری ہمارے عزیز مجیب الرحمن شامی صاحب کے صاحبزادے عمر مجیب شامی جو سیکرٹری جنرل وہ دونوں وہاں حاضر تھے۔ سے انہوں نے پوچھا کہ یہ ہم نے بنایا ہے تو میں نے ٹیکنیکلی صحیح موقف اختیار کیا جس پر مجھے اب تک اس بات پر فخر ہے کہ میں نے سچ بولا کہ میں نے کہا جناب میں سی پی این ای کے صدر کی حیثیت سے جو ڈرافٹ انہوں نے پیش کیا ہے ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس میں وہی ساری باتیں ہیں جو آپ نے اپنے معنوں میں بھی لکھے ہیں۔ میں نے کہا ہو سکتا ہے سو فیصد درست ہوں۔ لیکن میں نے اس کو ابھی تک پڑھا نہیں ہے تو مجھے اب اس وقت عدالت کے سامنے دے رہے ہیں براہ کرم آپ مجھے دے دیں میں اسے پڑھ لوں گا اور پھر میں اس کے بعد اپنی رائے دوں گا۔ دوسری بات یہ کہ میں نے چیف جسٹس صاحب سے کہا کہ مجھے 10 منٹ اپنی بات زبانی کہنے کی اجازت دی جائے۔ میں تو کچھ تحریری طور پر نہیں لایا۔ تو انہوں نے کہا آپ بات کریں میں نے انہیں مختصراً بڑے مختصر لفظوں میں کہا کہ ایوب خان کی حکومت سے لے کر آج کی حکومت تک ہر دور میں سرکاری اشتہارات کو پولیٹیکل لیور کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے اور بعض اوقات کسی اخبار کی پالیسی سے یا بعض خبروں سے ناراض ہو کر مختلف ادوار میں حکومتی، پچھلی حکومتیں بھی اخبارات کے اشتہارات بند کر دیتے تھے۔ بعض اخبارات کے تو دو دو تین سال تک سرکاری اشتہار بند رہے ہیں۔ میں نے ان سے کہا کہ ایک زمانے میں یہ ہوتا تھا۔ (یہ بڑی بنیادی باتیں ہیں اور خود چیف جسٹس صاحب نے سراہا کہ) میں نے کہا کہ جناب یہ ایک زمانے میں اخبارات پر پابندی ہوتی تھی ہم نے آزادی صحافت کے لئے بہت جنگ لڑی اور ہمارے بہت سے سینئرز قیدیں برداشت کیں بہت سے اخبار نویسوں کی جانیں اس میں گئیں اور بہت سے لوگوں نے اخبارات بند کروائے بہت سے لوگ جیلوں میں گئے میں خود سات مرتبہ اخبارات کے سلسلے میں جیلوں میں گیا۔ میں ایک مرتبہ 7 ماہ بھی جیل میں گزارے جس میں 14 دن شاہی قلعے کے عذاب گھر میں رہا جس میں جسمانی طور پر میں نے تکلیف برداشت کی۔ میں نے کہا جناب اب وہ پوزیشن نہیں ہے اب میڈیا اپنے طور پر تھوڑا پاور فل ہو چکا ہے لیکن میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ اب جو پریشرز ہوتے ہیں اب قید و بند نہیں ہوتی۔ ضیا دور میں بعض مخالف اخبار نویسوں کو جیسے خاور نعیم ہاشمی ہیں ان کو کوڑے بھی مارے گئے تھے۔ اگرچہ میں ان کے نقطہ نظر سے متفق نہیں ہوں مگر میں نے اس وقت بھی اس کے خلاف آواز بلند کی تھی۔ میرا خیال ہے آپ کو پورا حق حاصل ہے آپ کسی نقطہ نظر پر مجھ سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن اس اختلاف کی بنیاد پر حکومت وقت کو یا کسی سرکاری محکمے کو آپ کو گرفتار کرنے کا آپ کا اخبار بند کرنے کا آپ کی مارپیٹ آپ کو کوڑے لگانے کا میں نے کہا جناب میرے خیال میں جناب چیف جسٹس کسی حکومت کو کوئی حق نہیں۔ اور دوسری اور آخری بات میں نے کہی کہ اب جناب اب پریشرز کی شکل بدل گئی ہے۔ اب جس طرح آئی ایم ایف ورلڈ بینک اور ایشین بنک اور بڑی سپر طاقتیں اپنے مالی مضبوطی کی بنیاد پر وہ ترقی پذیر اور چھوٹے ملکوں کو لیوریج کے طور پر یا مالیاتی لیوریج کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔ اب اس طرح پاکستانی صحافت اور پاکستانی میڈیا پر بھی اب سارا پریشر بھی ہے کہ اخبارات اور چینلز کے سب اشتہارات بند کر دیئے جاتے ہیں اور اگر وہ اخبارات اور چینلز حکومت کو پسند نہ آئیں تو۔ میں یہ کیا یہ ہر دور میں ہوتا آیا ہے اور ہے۔ اس پر انہوں نے ایری ٹیٹ کیا اور انہوں نے مجھے کہا کہ ضیا صاحب آزادی صحافت کے راستے میں آپ نے جو مالی دباﺅ بیان کئے ہیں اس میں سرکاری اشتہارات کا بھی مسئلہ ہے یہ اینگل میرے سامنے نہیں لایا گیا میں نے صرف سرکاری اشتہارات کو ذاتی پبلسٹی اور سیاسی پبلسٹی کی شکایت کی بنیاد پر شکایت کی تھی۔ اس کا نوٹس لیا تھا۔ لیکن جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں آپ براہ کرم اس کو لکھیں اور لکھ کر آپ اگلے پیر تک جمع کروائیں اور یہ کیس ختم نہیں ہوا بلکہ 4 تاریخ کو اس کی دوبارہ سماعت ہو گی اس سے پہلے انہوں نے کہا کہ اے پی این ایس اور سی پی این ای کو مل کر اس ہفتے کو کہا کہ لاہور میں آپ بیٹھیں اور آپ اسی اشتہارات کے مسئلے کو کھول دیا ہے تو آپ سپریم کورٹ کے لئے ایک گائیڈنس کے لئے ایک پیپر تیار کریں اور میں وفاقی سیکرٹری اطلاعات اور چاروں صوبوں کے سیکرٹری اطلاعات کو کہوں گا کہ وہ اے پی این ایس اور سی پی این ای کی مشترکہ میٹنگ میں آئیں اور وہاں آپ لوگ بحث کریں۔ اور کوئی چیز تیار کریں۔ چنانچہ 3 دن پہلے ہماری یہاں لاہور پی سی میں میٹنگ ہوئی اور اس میں صرف وفاقی سیکرٹری اطلاعات نہیں آئے تھے اس کی جگہ پی آئی او محمد سلیم صاحب اپنی پوری جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور پنجاب کے سیکرٹری اطلاعات بھی تھے اور سندھ کے سیکرٹری اطلاعات بھی تھے، اے پی این ایس کے سارے لوگ بھی تھے، چار پانچ سینئر لوگ اور سی پی این ای میں بھی میرے ساتھ چار پانچ لوگ تھے۔ میں کہنا چاہتا ہوں کہ کافی بحث مباحثہ ہوا ہمارے کچھ دوستوں کا خاص طور پر اے پی این ایس کے دوستوں کا یہ نقطہ نظر تھا کہ انہوں نے یہ دستاویز بنا لی ہے۔ میرا نقطہ نظر یہ تھا کہ جناب آپ سب سے پرپوزل لیں مثلاً اشتہارات کی بندش کے سلسلے میں میں نے سپریم کورٹ میں کہا تھا کہ حضور کوئی رولز اینڈ ریگولیشن ڈرا فرمائیں اس میٹنگ میں ہم نے یہ طے کیا کہ دو دن کے اندر اندر اپنی سفارشات ہم تحریری شکل میں دو آدمیوں پر مشتمل کمیٹی جو محمد سلیم پی آئی او اور ان کے ساتھی کو جمع کرا دیں گے۔ البتہ میں نے مذاق میں کہا تھا کہ بھائی سرکاری افسر ہیں آپ جو کچھ آپ آگے بنا کر دیں پہلے ہمیں دکھایئے گا۔ تو وہ ہنسنے لگا۔4 تاریخ کو اگلی پیشی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میرا کم از کم مطالبہ ہماری تنظیم کا مطالبہ یہ ہے کہ اس سلسلے میں کوئی قانون بننا چاہئے کہ سرکاری اشتہارات کی تقسیم پریشر کے بغیر ہو اور کوئی تو ایسا ادارہ ہو جس کے سامنے اپنی دادفریاد کر سکیں۔ ہماری تنظیموں کے ذریعے کم از کم جو شکایات ہوں وہ سامنے آ سکیں اور ان کا نوٹس لیا جا سکے۔ عامر لیاقت حسین سے بڑا اداکار ابھی تک صحافت میں پیدا نہیں ہوا وہ تو ہتھیلی پر سرسوں جما سکتے ہیں۔ ویسے وہ ناقابل اعتبار آدمی ہیں۔ وہ سودے بازی کر کے اپنے ادارے وغیرہ بدلتے رہتے ہیں کہتے ہیں یہ ان کا ”آخری مقام“ ہے۔ ایک بڑے چینل پر وہ تنخواہ نہیں لیتے تھے۔ بلکہ پروگرام کا بڑا شیئر ڈیمانڈ کرتے تھے ایم کیو ایم عامر لیاقت ایک دوسرے کو اچھی طرح ٹیکل کرنا جانتے ہیں۔ ہم اور آپ ہرگز ایسا نہیں کر سکتے۔ جب یہ پرویز مشرف کے وزیر تھے۔ پاکستان کا سب سے بڑا سکینڈل یہ تھا کہ یار لوگوں نے ان کی پی ایچ ڈی کی ڈگری جس یونیورسٹی سے تھی اس کا خط منگوا کر دکھا دیا۔ جس کے مطابق اس یونیورسٹی نے اسی سال اسی نام کی کوئی ڈگری ایشو نہیں کی۔ نامعلوم وہ کچھ کے ”ڈاکٹر“ ہیں۔ الیکشن سے قبل کا دور دھواں دار، دور ہوا کرتا ہے۔ آج نوازشریف نے عمران خان اور زرداری کو پرلے درجے کا دھوکے باز قرار دیا ہے۔ جناب عمران خان صاحب نے کہا زرداری سے بڑا فراڈیا کوئی بھی نہیں۔ جواب میں بلاول خوب اس کی دھلائی کرتا ہے۔ یہ پَری الیکشن دور ہے۔ ایک دوسرے نے کھل کر الزامات لگانے ہیں۔ سپریم کورٹ نے ”سوموٹو“ لیتے ہیں۔ نہال ہاشمی کا حشر ہو چکا ہے۔ اب دانیال اور طلال کی باری ہے۔ ابھی یہ کچھ رک گئے ہیں۔ ورنہ انہوں نے ماں بہن کی گالیوں تک پہنچ جانا تھا اب اداکار بھی سیاسی پارٹیوں میں تقسیم ہوتے جا رہے ہیں۔ طارق عزیز نے ایک ٹرانسلیٹر کے طور پرڈائجسٹ جوائن کیا تھا پھر یہ ریڈیو پر آ گئے۔ ایک اچھی آواز سمجھی جاتی تھی۔ ان کی گفتگو بھی اچھی ہوتی تھی۔ یہ ایم این اے بنے۔ انہوں نے خود کو مسلم لیگ میں جا کر برباد کر دیا۔ دوسرے ایم این اے میاں محمد منیر اچھرے سے تھے۔ انہوں نے باقاعدہ فوج کشی کی تھی۔ انہوں نے لوگ اکٹھے کئے۔ انہیں قیمے والے نان پیش کئے اور کہا بڑھے چلو مجاہدو! سپریم کورٹ پر حملہ کرنا ہے۔ یہ دونوں ہی پوائنٹ آﺅٹ ہوئے۔ سجاد علی کے جانے کے باوجود سپریم کورٹ نے ان کو نااہل کر دیا تھا۔ میں خادم رضوی کی زبان دانی سے متاثر ہوں۔ ایسی ایسی زبردست تراکیب انہوں نے نکالی ہیں ایسی ایسی اچھوتی گالیاں تجویز کی ہیں جو علماءدین سے تو تصور بھی نہیں کی جا سکتی تھیں۔ فوج، آئی ایس آئی نے انہیں گارنٹی دی تھی کہ کہیں فساد نہ ہو جائے اور سارے ملک کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔ لیکن جس ایجنسی نے ان کی گارنٹی بھی لی تھی اور یقین بھی دلایا تھا۔ صادق سنجرانی کی عمر اتنی کم ہے کہ وہ صدر بھی نہیں بن سکتے لیکن جوانی میں انہیں اتنا بڑا اعزاز مل گیا۔ وہ بلوچستان سے آگے انہوں نے دو نام تجویز کئے تھے۔ انہوں نے اچھے کپڑے پہن رکھے تھے اور ذرا سمارٹ بھی تھے۔ امریکہ کے صدر کینڈی نے سب سے زیادہ خواتین کے ووٹ لئے تھے۔ ان کے قتل ہونے کے بعد بھی آدھا امریکہ کینڈی پر فدا تھا۔ مجھے صادق سنجرانی کے گھر کاپتا معلوم نہیں۔ انہیں وزیراعلیٰ صاحب نے رمیکی فیڈ کیا تھا۔ وہ بھی اچانک ابھرے تھے۔ مسلم لیگ (ن) کے بارے ارکان نے ثناءاللہ زہری کو چھوڑ کر انہیں ووٹ دیا تھا۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain