تازہ تر ین

عوامی مفاد میں ہر قدم اٹھاﺅنگا : جسٹس ثاقب نثار

کراچی(این این آئی، مانیٹرنگ ڈیسک)چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ میں کسی ذاتی یا سیاسی ایجنڈا کا حصہ نہیں ہوں ¾آنے والی نسلوں کو تحفظ دینے کےلئے پانی کے ذخائر کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے ¾ہر پاکستانی 1 لاکھ 17 ہزار روپے کا مقروض ہے ¾کیا آپ بچوں کو وراثت میں قرض چھوڑ کر جاتے ہیں؟محتاط انداز میں گفتگو کرتا ہوں تاکہ کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں کوئی جملہ نہ نکل جائے ۔ماڑی پور سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی، سندھ اور پاکستان کےلئے کی جانے والی چھوٹی چھوٹی مثبت کاوشوں کے پیچھے کوئی ذاتی ایجنڈا یا تشہیر نہیں، سپریم کورٹ کے مد نظر صرف ایک چیز ہے کہ آنے والی نسل کو بہتر پاکستان دینا ہے‘۔انہوں نے منصوبے سے متعلق بتایا کہ سیوریج واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ 180 ملین گیلن گندے پانی کو صاف کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ منصوبے کی تعمیر میں صوبے اور وفاق نے باالترتیب 50 فیصد اور 25 فیصد فنڈز دئیے۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پانی کے بغیر ملک کی سالمیت کا خطرہ لاحق ہوسکتا ہے، آنے والی نسلوں کو تحفظ دینے کےلئے پانی کے ذخائر کو بڑھانے کی اشد ضرورت ہے۔انہوں نے بتایا کہ شمالی علاقہ جات کے دورے پر گیا تھا جہاں گلگت کے لوگوں نے بھاشا اور دیامر ڈیم کی تعمیر پر بہت خوشی کا اظہار کیا لیکن ساتھ ہی وہ اپنی شناخت کے لیے فکر مند تھے۔چیف جسٹس نے واضح کیا کہ ہمیں ان کی شناخت کےلئے بھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔دوران خطاب انہوں نے اٹارنی جنرل کو گلگت سے متعلق مسئلے کو یاد کرانے کا کہا۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے واٹر ٹریٹمنٹ منصوبے سے متعلق کہا کہ واٹر کمیشن کی سربراہی میں تشکیل پانے والے منصوبے کو جس دیانیداری، ایمانتداری اور تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا، یہ قابل ستائش ہے۔چیف جسٹس نے منصوبے کی تکمیل میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افسران اور اسٹاف اراکین کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کےلئے تالیاں بجائیں۔کراچی میں صفائی سے متعلق چیف جسٹس نے کہا کہ گزشتہ 6 ماہ قبل کراچی کے طول و عرض میں پھیلی گندھی تشویش ناک تھی تاہم اب مجھے بہت خوشی ہے کہ کراچی کی سڑکیں صاف ستھری ہیں۔انہوں نے واضح کیا کہ جس راستے سے میں گزرا ہوں وہ شاہرائیں بہت صاف تھیں۔چیف جسٹس نے بتایا کہ آج ہر پاکستانی 1 لاکھ 17 ہزار روپے کا مقروض ہے ¾کیا آپ بچوں کو وراثت میں قرض چھوڑ کر جاتے ہیں؟چیف جسٹس نے کہا کہ اگلے چند روز میں ملک میں الیکشن ہونے جارہے ہیں تاہم وہ بہت محتاط انداز میں گفتگو کررہے ہیں تا کہ کسی سیاسی جماعت کے حق یا مخالفت میں کوئی جملہ نہ نکل جائے تاہم جو کوئی بھی برسراقتدار آئے وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرے۔انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر پاکستانیوں کے انسانی حقوق متاثر ہوئے تو عدالت عظمیٰ اس امر کو یقینی بنائے گی کہ عوام کو ان کے بنیادی حقوق یکساں میسر آئیں۔ چیف جسٹس پاکستان ، جسٹس ثاقب نثار نے ماڑی پور میں گریٹر کراچی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کا افتتاح کردیا اورواٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ کے احاطے میں پودا بھی لگایا۔واٹر کمیشن کی ہدایت پرکراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ نے واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا جو یومیہ ساڑھے سات کروڑ گیلن گندے پانی کو صاف کرے گا ۔تقریب سے خطاب میں چیف جسٹس پاکستان ، جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ گلگت بلتستان والے ڈیموں کی تعمیر سے متعلق اعلان پر بہت خوش ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ میں گلگت میں تھا وہ دیامیر بھاشا ڈیم کے بنانے پر اتنے خوش تھے کہ انہوں نے میری اتنی پذیرائی کی کہ میرے پاس ان کے شکر یہ کے لیے الفاظ نہیں ہیں،گلگت بلتستان میں پانی کے چشمے بہہ رہے ہیں، گلگت بلتستان سمیت دیگر سورس آف واٹر ہمارے پاس موجود ہیں اللہ کا احسان ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ ایک چیز جس کے لیے کوئی اور فورم دستیاب ہوگا وہ اپنی شناخت بھی مانگتے ہیں ہمیں ان کی شناخت بھی ان کو دینی ہے ان کا کہنا تھا کہ اٹارنی جنرل آف پاکستان اس بات کو ذہن میں رکھیں ہمیں اس مسئلہ کو بھی دیکھنا پڑے گا میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ دیانتداری سے امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں ورلڈ کمیشن نے یہ کام کیا ہے اس کی نظیر نہیں ملتی اور میری عقل سے باہر ہے ان کا کہنا تھا کہ امیر ہانی مسلم نے قوم،ملک اور سپریم کورٹ کو مایوس نہیں کیا اور اپنے ٹارگٹس وقت سے پہلے حاصل کیے ہیں۔ جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھاکہ چھ ماہ بعد جس راستے سے میں گزرا ہو بہت صاف ستھرا راستہ تھا اور چھ ماہ قبل بہت گندگی تھی یہ چھوٹے چھوٹے کام ہیں جو ہم کراچی اور پاکستان والوں کے لیے کررہے ہیں میرا یقین کریں اس میں کوئی ذاتی ایجنڈا نہیں اور اس میں کوئی ذاتی پروجیکشن نہیں صرف ایک چیزسپریم کورٹ کے مد نظر ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم نے آنے والی نسل کو بہتر پاکستان دے کر جانا ہے ان کا کہنا تھا کہ ہر پاکستانی بچہ جو اس لمحے پیدا ہو رہا ہے وہ ایک لاکھ 17 ہزار روپے کا مقروض ہے کیا لوگ اپنے ورثہ میں بچوں کے لیے قرض چھوڑ کر جاتے ہیں لوگ تو اپنی اولاد کو کچھ دے کر جاتے ہیں ان کو تعلیم دےکر جاتے ہیں اور ہسپتال بنا کر جاتے ہیں صحت کے معاملات بہتر کر کے جاتے ہیں پانی کی سہولتیں دےکر جاتے ہیں کیا ہم اپنا فریضہ ادا کررہے ہیں ان کا کہنا تھا کہ دوتین روز بعد الیکشن بھی ہورہا ہے میں بہت محتاط ہوں کوئی ا یسی بات نہ کروں جس سے کسی کے حق میں یا خلاف اثر ہو جن لوگوں نے آج تک یہ نہیں کیا اﷲ کرے اگر وہ آئندہ آئیں تو انہیں توفیق عطا ہو کہ وہ بھی اس کو کریں چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ اور ان کے تمام ساتھی ججز ملک کے شہریوں کے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔ چیف جسٹس پاکستان میاں ثاقب نثار نے کہاہے کہ لوگوں کو بنیادی حقوق پہنچانے کے لیے سپریم کورٹ ہر قدم اٹھائے گی، تمام چیزوں میں کوئی ذاتی مفاد نہیں، آنے والی نسلوں کو بہتر پاکستان دینا چاہتے ہیں، سپریم کورٹ قوم کے مفاد میں ہر قدم اٹھانے کے لیے تیار ہے،دو دن بعدالیکشن ہیں کچھ ایسانہیں کہوں گا جس سے کسی کی دل آزاری ہو، ڈیمز پاکستان کی بقا کے لیے بہت ضروری ہیں، پانی کا ذخیرہ کرنے اور اسے بچانے کے لیے لوگوں میں شعور پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ گلگت کے لوگ بھاشا ڈیم کے فیصلے پر بہت خوش تھے لیکن اب ہم نے انہیں ان کی شناخت بھی دینی ہے۔ ہم عوام کی فلاح کے لیے چھوٹے چھوٹے کام کر رہے ہیں اور ہمارے اقدامات میں کوئی ذاتی مفاد شامل نہیں ہے، اس وقت پاکستان کا ہر بچہ ایک لاکھ روپے سے زائد کا مقروض ہے، ہم اپنے سمندر کو آلودہ کررہے ہیں جو ہم سب کے لیے خطرناک ہے۔ چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا ہے کہ 15 دن سے سویا نہیں ہوں، پورے ملک میں اس قوم کے لئے گھوم رہا ہوں، اگر کسی کے حقوق پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے تو میں اسے ہونے نہیں دوں گا۔ اتوار کو سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سرکاری کوارٹرز سے ملازمین کو بے دخل کرنے کے حوالے سے دائر درخواست کی چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں بینچ نے سماعت کی۔ سپریم کورٹ نے سندھ گورنمنٹ کے حاضر سروس ملازمین کو ہائی کورٹ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی۔ دوران سماعت درخواست گزار نے مو¿قف اختیار کیا کہ ہماری تنخواہوں سے فنڈز کاٹے جارہے ہیں اور گھروں سے بے دخل کرنے کے لئے نوٹس جاری کردیئے گئے ہیں۔ درخواست گزار نے کہا کہ صبح 6 بجے سے سپریم کورٹ کے باہر انصاف کے لئے بیٹھے ہیں۔ ریمارکس دیتے ہوئے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ میں 15 دن سے سویا نہیں ہوں۔ پورے ملک میں اس قوم کے لئے گھوم رہا ہوں۔ اگر کسی کے حقوق پر ناجائز قبضہ کیا گیا ہے تو میں اسے نہیں ہونے دوں گا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں ملک کے حالات بہتری کی طرف جائیں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain