تازہ تر ین

نواز شریف بیمار ہیں تو ان کا جم کر علاج کروائیں ، معروف صحافی ضیا شاہد کی چینل ۵ کے پروگرام ” ضیا شاہد کے ساتھ “ میں گفتگو

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک) چینل ۵ کے تجزیوں و تبصروں پر مشتمل پروگرام ”ضیا شاہد کے ساتھ“ میں گفتگو کرتے ہوئے سینئر صحافی و تجزیہ کار ضیا شاہد نے کہا ہے کہ نوازشریف کوصحت پالیسی کیلئے دُعا گو ہوں، ان کی مکمل دیکھ بھال ہونی چاہئے، ان کا طبی معائنہ کرنے والا ڈاکٹر پنجاب حکومت کی سلیکشن ہے، شہباز شریف کے مقرر کردہ ہیں اور اچھا ہوا کہ انہوں نے ان جنرل صاحب کو مقرر کیا تھا۔ ڈاکٹر کی یقینا نوازشریف کے ساتھ پوری ہمدردیاں ہوں گی کیونکہ ان کا بیٹا نون لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہا ہے۔ نوازشریف کو ان کی مرضی کے مطابق سہولیات ملنی چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب میں پہلی مرتبہ جیل گیا تو سینئر صحافی شورش کاشمیری مجھ سے ملنے آئے، انہوں نے کہا کہ تم پکڑے گئے ہو جب میرے کوئی وارنٹ لے کر آتا ہے تو میں پہلے ہی ہوم سیکرٹری کو اپنی شوگر کی بیماری کے حوالے سے درخواست بھجوا دیتا ہوں پھر جیل میں میری روبکار کے ساتھ میڈیکل سرٹیفکیٹ بھی چلا جاتا ہے کہ اسے ہسپتال منتقل کیا جائے۔ منظور وٹو کی وزارت اعلیٰ ختم ہوئی تو آصف زرداری نے ان کو پنجاب کا پارٹی صدر بنا دیا حالانکہ بے نظیر بطور وزیراعظم ان پر برستیں تھیں کہ اس نے لوٹ مار کی ہے پھر ان کو گرفتار کر لیا گیا جس کے بعد ان کو کارڈیالوجی میں رکھا گیا کہ ان کو دل کی تکلیف ہے، ہسپتال میں ان کے پاس3 کمرے تھے، اوکاڑہ میں الیکشن انہوں نے جیل میں بیٹھ کر لڑا، ان کو تمام سہولتیں ملتی تھیں۔ ایک بار میرے ساتھ جیل میں اکبر بگٹی کے صاحبزادے طلال بگٹی تھے، وہ بتاتے تھے کہ ان کو گھر سے 4 لاکھ روپے ماہانہ جیل میں ملتے ہیں۔ میں نے اپنی کتاب میں بھی لکھا ہے کہ ان کو گانا سننے کا بہت شوق تھا وہ پیسے دے کر ہسپتال سے دانت کی تکلیف کا ٹھپہ لگواتے تھے اور پھر ہیرا منڈی جا کر رات گئے تک گانے سنتے تھے کیونکہ ان کو موسیقی سے بڑا لگاﺅ تھا۔ ایک دفعہ بے نظیر کے بارے خبر چھپی کہ ان کے کان میں تکلیف ہے۔ ضیا دور میں تجویز ہوا کہ ان کا علاج بیرون ملک ہو سکتا ہے۔ کسی ریکارڈ میں نہیں ہے کہ جب وہ باہر گئیں تو انہوں نے کس ہسپتال یا کس ڈاکٹر سے کتنی دیر تک علاج کروایا وہ 11 سال تک پاکستان سے باہر رہیں۔ اسحاق ڈار، شرجیل میمن، ڈاکٹر عاصم بھی بیمار ہیں۔مفتی محمود، پروفیسرغفور، نوابزادہ نصراللہ، نصرت بھٹو، بے نظیر بھی سہالہ ریسٹ ہاﺅس میں رہیں۔ جیل میں صرف غریب آدمی جاتا ہے کیونکہ یہ کیڑے مکوڑے ہیں، امیر آدمی جیل میں نہیں ہوتا، اسے اچھے سے اچھے ہسپتال میں منتقل کیا جاتا ہے تمام سہولتیں ملتی ہیں۔ دھکے کھانا، جیلوں میں رہنا صرف غریبوں کے لئے ہے۔ غریب آدمی کا کبھی علاج نہیں ہوتا۔ جیل میں 1960ءکے بعد ناشتہ ملنا شروع ہوا تھا، اس سے پہلے ناشتے میں صرف خشک چنے و گڑ کی ڈلی ملا کرتی تھی، 70ءسے پہلے فلش سسٹم نہیں ہوتا تھا نئے آنے والے قیدی کی ذمہ داری ہوتی تھی کہ وہ صفائی کرے اور غلاظت اٹھائے۔ حاکمین نے اچھی کتاب لکھی ہے یہ ایک زمانے میں بڑا مشہور جملہ تھا وہ پنجاب کے وزیر تھے کہتے تھے کہ میں نے پنجاب میں جیلوں کا جال بچھا دیا ہے، یہ اس لئے کہتے تھے کیونکہ انہوں نے جیلوں میں فلش سسٹم لگوایا، ہسپتال بنوائے، صبح کا ناشتہ ختم کروا کر باقاعدہ کھانا دینا شروع کر دیا۔ اب تو جیل انتظامیہ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں پہلے سے بہتر کھانا ملتا ہے۔ اگر آپ بڑے آدمی ہیں تو اس ملک میں کسی قانون کی ضرورت نہیں۔ نوازشریف سابق وزیراعظم ہیں تو ان کو بڑی عزت سے جیل لایا گیا، غریب آدمی کو گھسیٹ کر جیل لے جاتے ہیں۔ بھٹو زمانے میں پیرپگاڑا بڑے آدمی تھے وہ پی سی ہوٹل راولپنڈی میں تھے وہیں ان کے کمرے کو سب جیل قرار دے دیا گیا تھا لیکن اب بہت تبدیلیاں آ چکی ہیں۔ میرے نزدیک عمران خان، شہباز شریف و بلاول 3 ہی قد آور شخصیات ہیں جنہوں نے آگے جانا ہے، مستقبل میں وزیراعظم یا اس سے بھی بڑے عہدے پر ہو سکتے ہیں جبکہ نیچے فضل الرحمن و سراج الحق بھی ہیں، فضل الرحمن کے بھائی کے بارے میں کہا گیا کہ اس کو میانوالی میں ناجائز زمینیں الاٹ ہوئی ہیں، جماعت اسلامی ان سے جا کر مل گئی، جو خود ان پر الزامات لگاتے تھے وہ بھی بھول گئے کیونکہ مل کر الیکشن لڑنا تھا۔ہمارے حلقے میں لیاقت بلوچ، شفقت محمود اور خواجہ حسان امیدوار ہیں جبکہ ملی مسلم لیگ و تحریک لبیک بھی ہے۔ سیاسی پنڈت کہتے ہیں کہ جھوٹی جماعتوں کے امیدواروں کو اس لئے کھڑا کیا گیا ہے تا کہ نواز کا ووٹ بینک توڑ سکیں اگر نہ کھڑا کرتے تو 99 فیصد نوازشریف کو ووٹ جا سکتا تھا۔ انہوں نے مزید کہا کہ عمران خان کو حکومت مل گئی تو شاید کوئی نئی تبدیلی آئے لیکن اگر شہباز شریف ہوئے تو وہی نظام چلتا رہے گا جو 10 سال سے ہے، زیادہ سے زیادہ 2 اورنج ٹرین اور 6 میٹرو اور بنا دیں گے، پانی کی کمپنیاں مزید بنا دیں گے۔ اسی طرح بلاول جو ذہین ہیں، ان کی گفتگو میں ان کے نانا کا سٹائل نظر آتا ہے لیکن ان کے سر پر زرداری و فریال تالپور ہیں لہٰذا وہ کامیاب ہو بھی گئے تو سندھ میں ان کے والد والا نظام ہی رہے گا، زیادہ سے زیادہ نیا مراد علی شاہ لے آئیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جج نے جو الزام لگائے ہیں اگر ان کے ساتھ قاضی فائز عیسیٰ اور مزید جج شامل ہو گئے تو پھر وہی ہونے والا ہے جو نواز دور میں چیف جسٹس سجاد علی شاہ کے ساتھ ہوا تھا، ان کے جونیئر ججوں نے کوئٹہ بنچ پر فیصلہ کیا اور وہ گھر چلے گئے۔ پاکستان میں کافی تبدیلیاں آنے والی ہیں۔ دُعا ہے کہ میرٹ کا نظام آئے۔ آج دکانوں سے ہر چیز امپورٹڈ ملتی ہے اور اس کے بدلے میں ہماری 35 فیصد آم کی فصل ختم، 70 فیصد کاٹن ایریا تباہ ہو گیا۔ ملک کی ایکسپورٹ کم اور امپورٹ بہت زیادہ ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 4 دن سے خبریں چھپ رہی ہیں کہ جنوبی پنجاب میں کھلم کھلا ووٹ خریدے جا رہے ہیں اور توبہ ہے کہ ووٹر سے حلف لیا جاتا ہے۔ ملک سے زیادہ اس کام میں مولوی استعمال ہو رہے ہیں وہ ووٹ کی قیمت طے کرتے ہیں۔ اب تو کھلم کھلا کہا جاتا ہے کہ نہ دو ووٹ پھر دیکھنا تمہارا کیا حال کرتے ہیں۔ دُعا ہے کہ پرامن طریقے سے الیکشن ہو جائیں۔ مغربی دنیا میں ایک تھیوری چل رہی ہے کہ پاک آرمی نے طے کیا ہے ملک سے باہر پیسہ لے جانے والوں کی دولت واپس لانے اور سکیورٹی معاملات کی خبر گیری کرنے کیلئے سیاستدانوں کے ساتھ مل کر ایک سیل بنایا جائے گا، بلاول و عمران خان کا نام لیا جا رہا ہے کہ ان سے بات کی جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف کو مشورہ ہے کہ براہ کرم ایک دفعہ قوم سے معافی مانگیں اور اپنے بیانات کی تردید کریں، کہیں کہ مجیب الرحمن اور ان کی بیٹی محب وطن نہیں، حسینہ واجد نے اب تک 21 لوگوں کو پھانسی دی ہے۔ جن میں 3 مسلم لیگ اور 19 جماعت اسلامی کے ہیں۔ قوم سے دونوں باتوں کی معافی مانگیں اور کہیں کہ آپ نے غلط کہا تھا۔تجزیہ کار لندن شمع جونیجو نے کہا ہے کہ مغربی ممالک میں پاکستانی سٹیبلشمنٹ کا کردار زیر بحث ہے۔ مغربی میڈیا کہہ رہا ہے کہ عمران خان سےڈیل ہو چکی ہے اور وہ نامزد وزیراعظم ہیں کیونکہ انہوں نے ڈیل کی ہے کہ وہ تعاون کریں گے۔ عمران خان نے سٹیبلشمنٹ کو کہا ہے کہ وہ کامیابی دلوائیں تا کہ لوٹ ہوا پیسہ واپس لایا جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیاستدانوں سے زیادہ انہوں نے پیسہ باہر بھیجا ہے جن کا ہم نام نہیں لے سکتے۔ نوازشریف سے رسیدیں مانگی جا رہی ہیں۔ مشرف سے کیوں نہیں مانگتے اس کے پاس اربوں کے اثاثہ کہاں سے آئے، اس سے بھی واپس لینے چاہئیں۔

 


اہم خبریں





دلچسپ و عجیب
   پاکستان       انٹر نیشنل          کھیل         شوبز          بزنس          سائنس و ٹیکنالوجی         دلچسپ و عجیب         صحت        کالم     
Copyright © 2021 All Rights Reserved Dailykhabrain