اسلام آباد/ لاہور/ پشاور/ کراچی/ کوئٹہ (نمائندگان خبریں) ملک بھر میں عام انتخابات کیلئے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں کےلئے انتخابی دنگل (آج) بدھ کو سجے گا، آزاد امیدواروں سمیت مختلف سیاسی جماعتوں کے 12 ہزار سے زائد امیدوار میں اتریں گے، پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوگی اور بلا تعطل شام 6 بجے تک جاری رہے گی، ملک بھر میں قائم کئے گئے 85 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں میں سے 17 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دے دیا گیا، امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے تقریباً تین لاکھ فوج سمیت 8 لاکھ کے قریب سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کئے جائیں گے، انتخابی مہم چلانے کا وقت ختم ہونے کے باعث جلسے جلوس، ریلیوں یا کارنر میٹنگز پر (آج) پابندی ہوگی، خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دو سال قید یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں، انتخابات میں 10 کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کریں گے، عمران خان قومی اسمبلی کی 5، شہباز شریف 4 قومی اور 2 صوبائی، بلاول بھٹو 3 قومی اسمبلی کی نشستوں پر الیکشن لڑیں گے، شاہد خاقان عباسی، محمود خان اچکزئی، مولانا فضل الرحمان اور اعجاز الحق2 ،2 نشستوں پر میدان میں اتریں گے ، چوہدری نثارعلی خان 2 قومی اور 2 صوبائی ، چوہدری پرویز الٰہی2 قومی اور ایک صوبائی، میاں منظور وٹو 2 قومی ایک صوبائی، جمشید دستی قومی اسمبلی کی 4 اور ایک صوبائی جبکہ عائشہ گلالئی قومی اسمبلی کی 4 نشستوں پر الیکشن لڑیں گی۔ تفصیلات کے مطابق عام انتخابات 2018 کے لئے (کل) پولنگ ہوگی، پولنگ صبح 8 بجے شروع ہوگی اور بلا تعطل شام 6 بجے تک جاری رہے گی ، امیدواروں کے لئے انتخابی مہم چلانے کا وقت پیر اور منگل کی درمیانی شب کو ختم ہوگیا، اس کے بعد کسی قسم کے جلسے جلوس، ریلیوں یا کارنر میٹنگز پر پابندی ہوگی، انتخابی قانون 2017ءکے مطابق اس کی خلاف ورزی کرنے پر ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دو سال قید یا دونوں سزائیں ہو سکتی ہیں۔ آئندہ عام انتخابات کیلئے پولنگ کل ہوگی جبکہ انتخابی مہم پولنگ سے 48 گھنٹے قبل ختم کرنا لازمی ہے۔ انتخابات کے لئے ملک بھر میں 85 ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں، 17ہزار سے زائد پولنگ اسٹیشنوں کو انتہائی حساس قرار دیا گیا ہے، بلوچستان کے 1768،خیبر پختونخوا اور فاٹا کے 3874 ،پنجاب اور اسلام آباد کے 5487 اور سندھ کے 5887 پولنگ اسٹیشن انتہائی احساس پولنگ اسٹیشنوں کی فہرستوں میں شامل ہیں۔ عام انتخابات میں 10کروڑ سے زائد رجسٹرڈ ووٹرز اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکتے ہیں، انتخابات میں امن و امان کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لئے 8 لاکھ کے قریب سیکیورٹی اہلکار پولنگ اسٹیشنوں پر تعینات کئے جائیں گے، جن میں 4 لاکھ پولیس اور ساڑھے تین لاکھ کے قریب فوجی اہلکار تعینات کئے جائیں گے، ملک بھر سے قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشستوں کے لئے 12ہزار 570کے قریب امیدوار میدان میں اتریں گے، جن میں سے قومی اسمبلی کی نشستوں کے لئے 3675امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے جبکہ صوبائی اسمبلیوں کی 728 نشستوں کےلئے 8895 امیدوار میدان میں اتریں گے، بلوچستان سے قومی اسمبلی کے 303 امیدوار میدان میں اتریں گے جن میں سے جنرل نشستوں پر 287 جبکہ خواتین کی نشستوں پر 16 امیدوار ہوں گی جبکہ صوبائی اسمبلی کی 65 نشستوں کےلئے 1007 امیدوار میدان میں اتریں گے جن میں 943 جنرل نشستوں پر ،42 خواتین کی نشستوں پر جبکہ 22 اقلیتی نشستوں پر انتخابات میں حصہ لیں گے ۔ خیبرپختونخوا سے قومی اسمبلی کےلئے 760 امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے جن میں سے 725 جنرل نشستوں پر جبکہ 35 خواتین کی نشستوں پر امیدوار ہوں گی جبکہ خیبرپختونخوا کی صوبائی اسمبلی کی 124 نشستوں کےلئے 1264 امیدوار میدان میں اتریں گے جن میں 1165 جنرل نشستوں ، 79 خواتین کی نشستوں جبکہ 20 امیدوار اقلیتوں کی نشستوں پر حصہ لیں گے۔ پنجاب سے قومی اسمبلی کےلئے 1696امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے جن میں جنرل نشستوں پر 1623 جبکہ خواتین نشستوں پر 73 امیدوار شامل ہیں۔ پنجاب کی صوبائی اسمبلی کی 371 نشستوں کےلئے 4242امیدوار ہیں جن میں 4036جنرل نشستوں پر ،174خواتین کی نشستوں پر جبکہ 32امیدواراقلیتوں کی نشستوں کےلئے انتخابات میں حصہ لیں گے ۔سندھ سے قومی اسمبلی کےلئے 872امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے جن میں جنرل نشستوں پر 824جبکہ خواتین نشستوں پر 48امیدوار شامل ہیں ۔ سندھ کی صوبائی اسمبلی کی 168نشستوںکےلے2382امیدوار ہیں جن میں 2252جنرل نشستوں پر ،91خواتین کی نشستوں پر جبکہ 39امیدواراقلیتوں کی نشستوں کےلئے انتخابات میں حصہ لیں گے ۔قومی اسمبلی کی اقلیتوں کی نشستوں کےلئے 44امیدوار انتخابات میں حصہ لیں گے ، انتخابات کے لئےکئی بڑے نام بھی میدن میں اتریں گے عمران خان ، شہباز شریف ، بلاول بھٹو اور چوہدری نثارسمیت متعدد اہم رہنماء ایک سے زائد نشستوں کے لئے میدان میں اتریں گے ، مسلم لیگ(ن) کے سینئر رہنما وسابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 53 اسلام آباد اوراین اے 57پر انتخاب لڑیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان قومی اسمبلی کے پانچ حلقوں این اے 53 اسلام آباد ،این اے 95میانوالی،این اے 131لاہور،این اے 243کراچی ایسٹ اور این اے 35بنوں سے الیکشن میں حصہ لیں گے، پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو قومی اسمبلی کی تین نشستوں این اے 200لاڑکانہ ، این اے 246کراچی ساﺅتھ اور این اے 8مالاکنڈ سے میدان میں اتریں گے ،سابق وزیرداخلہ چوہدری نثار علی خان دو قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 59اوراین اے 63جبکہ دو صوبائی کے حلقوں پی پی 10اورپی پی 12سے میدان میں اتریں گے۔ پاکستان تحریک کے رہنما غلام سرور خان قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 59اوراین اے 63سے میدان میں اتریں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف قومی اسمبلی چارحلقوں این اے 132لاہور،این اے 192ڈیرہ غازی خان ،این اے 249کراچی ویسٹ اور این اے 3سوات جبکہ دو صوبائی کے حلقوں پی پی 164اور پی پی 165پر الیکشن لڑیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی قومی اسمبلی کے حلقوں این اے 156ملتان ،این اے 220عمر کوٹ اور این اے 221تھرپارجبکہ دو صوبائی اسمبلی کے حلقہ پی پی217سے میدان میں اتریں گے۔پاکستان تحریک انصاف گلالئی کی سربراہ عائشہ گلالئی قومی اسمبلی کے چار حلقوں این اے 53اسلام آباد ،این اے 231سجاول ، این اے 25نوشہرہ اور این اے 161لودھراں سے الیکشن میں حصہ لیں گی۔عوامی راج پارٹی کے سربراہ جمشید دستی قومی اسمبلی چار حلقوں این اے 182،185،184اور189اورصوبائی اسمبلی کے حلقے پی پی 276سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ مسلم لیگ (ق) کے مرکزی سینئر رہنما چوہدری پرویز الٰہی قومی اسمبلی کے دو حلقوں این اے 65 اور69جبکہ صوبائی حلقے پی پی 30سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری قومی اسمبلی کی نشست این اے 67جہلم اور صوبائی نشست پی پی 27سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 60اور62راولپنڈی سے انتخاب میں حصہ لیں گے۔متحدہ مجلس عمل کے امیدوار میاں محمد اسلم قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 53اور54اسلام آباد سے میدان میں اتریں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنماءطاہر صادق خان این اے 55اور56اٹک اور صوبائی نشست پی پی 3سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ مسلم لیگ ضیاءکے سربراہ اعجاز الحق قومی اسمبلی کی دونشستوں این اے 167بہاولنگر اوراین اے 169سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما سید ہارون احمد قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 184اور186جبکہ دو صوبائی نشستوں پی پی 272اورپی پی275سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ میاں منظور وٹو قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 143اور144اوکاڑہ جبکہ صوبائی نشست پی پی 186سے میدان میں اتریں گے اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے رہنما رانا ثناء اللہ قومی اسمبلی کی نشست این اے 106اورصوبائی نشست پی پی 113سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما حمزہ شہباز قومی اسمبلی کی نشست این اے 124اورصوبائی نشست پی پی 146لاہور سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 38اوراین اے 39سے میدان میں اتریں گے۔ جمعیت علمائے اسلام کے امیدوار اکرم خان درانی قومی اسمبلی کی نشست این اے 35اورصوبائی نشست پی کے 90سے الیکشن لڑیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما پرویز خٹک قومی اسمبلی کی نشست این اے 25اور صوبائی نشست پی کے 61سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاورق ستار قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 245کراچی ایسٹ اور این اے 247کراچی سا?تھ سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی قومی اسمبلی کی دونشستوں این اے 263قلعہ عبداللہ اور این اے 265کوئٹہ سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما انجینئر امیر مقام قومی اسمبلی کے دوحلقوں این اے 2سوات اور این اے 29پشاور جبکہ دوصوبائی نشستوں پی کے 2اورپی کے 4سوات سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما امیر حیدر خان قومی اسمبلی کی نشست این اے 21مردان اور صوبائی نشست پی کے 53سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسد قیصر قومی اسمبلی کی نشست این اے 18صوابی اور پی کے 44سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق قومی اسمبلی کی نشست این اے 131اورصوبائی نشست پی پی 168سے الیکشن میں حصہ لیں گے۔ پولنگ کا عمل صبح 8بجے سے شام 6بجے تک بغیر کسی وقفے کے جاری رہے گا ، کسی بھی نا شگوار واقعہ سے نمٹنے کےلئے سرکاری ہسپتالوں کو پیشگی الرٹ کر کے تمام سہولیات یقینی بنانے کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں ،حساس پولنگ اسٹیشنوں پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دئیے گئے ہیں جبکہ کنٹرول رومز کو بھی آپریشنل کر دیا گیا ،الیکشن کمیشن کی جانب سے پولنگ کے عمل کو شفاف بنانے کےلئے ضابطہ اخلاق جاری کردیا گیا ہے ۔تفصیلات کے مطابق آئندہ پانچ سال کےلئے نئی حکومت کے قیام کےلئے ووٹنگ آج 25جولائی بروز( بدھ ) کو ہو گی جس کےلئے تمام تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ قومی اسمبلی کے 270اور صوبائی اسمبلیوں کی 570نشستوں کے لئے ساڑھے 12ہزار سے زائد امیدوار میدان میں ہیں۔پنجاب میں 6کروڑ 6لاکھ72ہزار870،سندھ میں 2کروڑ23لاکھ97ہزار244،خیبر پختوانخواہ میں 1 کروڑ 53 لاکھ 16 ہزار 299، بلوچستان میں 42لاکھ99ہزار494،فاٹا میں25لاکھ10ہزار154جبکہ اسلام آباد میں7لاکھ65ہزار348رجسٹرڈ ووٹرز اپنے پسندیدہ نمائندوں کا چناﺅکریں گے ۔فوج کی نگرانی میں بیلٹ پیپرز سمیت پولنگ کادیگر سامان پریذائیڈنگ آفیسرز کے حوالے کر دیا گیا ۔الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات 2018ءکےلئے ملک بھر میں مجموعی طور پر85ہزار 307پولنگ اسٹیشنز قائم کئے گئے ہیں ، عوام کی سہولت کیلئے ہر ایک کلو میٹر بعد ایک پولنگ اسٹیشن قائم کیا گیا ہے۔23ہزار 358مردانہ جبکہ 21ہزار 679پولنگ اسٹیشنز خواتین کیلئے علیحدہ بنائے گئے ہیں، خواتین اور مردوں کے 40ہزار 236مشترکہ پولنگ اسٹیشنز بھی بنائے گئے جبکہ ٹینٹ میں قائم پولنگ اسٹیشنز بھی قائم کئے گئے ہیں۔17ہزار7پولنگ اسٹیشنز کو انتہائی حساس جبکہ 20ہزار789کو حساس قرار دیا گیا ہے ۔الیکشن کمیشن نے عام انتخابات کےلئے ووٹنگ کا طریقہ کار وضع کیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پہلے مرحلے میں پولنگ افسر ووٹر کا اصل قومی شناختی کارڈ چیک کرے گا، پولنگ افسرشناختی کارڈ کی چیکنگ کے بعد ووٹرلسٹ میں درج نام چیک کرے گا اور ووٹر کا نام اور سلسلہ نمبر پولنگ ایجنٹس کے لیے بلند آواز میں پکارا جائے گا ۔الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر کا سیدھی لکیر دے کر لسٹ سے نام کاٹ دیا جائے گا جس کے بعد کاﺅنٹر فائلر پر ووٹر کے انگوٹھے کا نشان لیا جائے گا، پھر انگوٹھے کے ناخن کے جوڑ پر ان مٹ سیاہی کا نشان لگایا جائے گا۔اس کے بعد قومی و صوبائی اسمبلی کے لیے اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر بیلٹ پیپر کی پشت پر دستخط کرے گا، دستخط لینے کے بعد ووٹر کو سبز رنگ اور سفید بیلٹ پیپر جاری کیا جائے گا اور ووٹر ووٹنگ اسکرین کے پیچھے جا کر اپنے پسندیدہ امیدوار کے انتخابی نشان پر مہر لگائے گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق قومی اسمبلی کا سبز بیلٹ پیپر سبز بکس جبکہ صوبائی اسمبلی کا سفید بیلٹ پیپر سفید باکس میں ڈالا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کا عمل صبح آٹھ بجے شروع ہوگا جو بغیر کسی وقفے کے شام چھ بجے ختم ہوگا، پولنگ کا وقت ختم ہونے کے بعد پولنگ اسٹیشن کا دروازہ بند کر دیا جائے گا اور وقت ختم ہونے پر صرف پولنگ اسٹیشن کے احاطے میں موجود ووٹرز کو ووٹ ڈالنے کی اجازت ہوگی۔الیکشن کمیشن کے مطابق عام انتخابات کے لیے 22کروڑ بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں اور پہلی بار سکیورٹی فیچرز پر مبنی بیلٹ پیپرز چھاپے گئے ہیں ۔الیکشن کمیشن کے مطابق آفیشل کوڈ مارک اور اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسر کے دستخط کے بغیر بیلٹ پیپر گنتی سے خارج ہوگا۔ پی سی ایس آئی آر کی جانب سے معیاری سیاہی فراہم کی گئی ہے جو اپنی جگہ برقرار رکھے گی ۔واٹر مارک والے بیلٹ پیپر کے سوا دوسرا کوئی بیلٹ پیپر بھی گنتی سے خارج ہوگا۔الیکشن کمیشن کے مطابق صرف مخصوص 9 خانوں کی مہر والا بیلٹ پیپر ہی گنتی میں شامل ہوگا۔جبکہ وہ بیلٹ پیپر گنتی میں شامل ہوگا جس پر مہر کا نشان کسی خاص امیدوار کے لیے واضح ہو۔دوسری جانب کاغذ یا کوئی چیز لگانے سے بھی بیلٹ پیپر خارج تصور ہوگا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ایک ہی نشان پر ایک سے زائد بار یا ایک ہی نشان پر مہر والا بیلٹ پیپر تسلیم ہوگا۔الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ کے روز مجموعی طور پر 16لاکھ افراد ڈیوٹی سرانجام دیں گے میں جن میں تقریباًساڑھے چار لاکھ پولیس،ساڑھے تین لاکھ سے زائد فوج کے جوان سکیورٹی پر مامور ہوں گے اور فوجی جوان پولنگ اسٹشینز پر پریزائیڈنگ آفیسرز کے ماتحت کام کریں گے۔انتہائی حساس اورحساس پولنگ اسٹیشنز پر سی سی ٹی وی کیمرے نصب کر دئیے گئے ہیں جبکہ کنٹرول رومز کو بھی آپریشنل کر دیا گیا ہے ۔ لاہور کے 711 پولنگ سٹیشن حساس قرار دئیے گئے ہیں اور ان پولنگ سٹیشنزز پر 2886سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے گئے ہیں ۔الیکشن کمیشن کے مطابق حساس قرار دئیے گئے پولیس اسٹیشنز پر فوج اور پولیس کی اضافی نفری تعینات ہو گی۔ملک بھرمیں 85ہزار307پریزائیڈنگ افسران ڈیوٹی دیں گے،5لاکھ10ہزار356اسسٹنٹ پریزائیڈنگ افسران، 2 لاکھ 55 ہزار 178 پولنگ افسران ڈیوٹی دینگے۔الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انتخابات کے دوران ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسران (ڈی آر او) یا سیشن جج کے اختیارات کے تحت آنے والے مختلف جرائم کی نشاندہی اور اس حوالے سے ممکنہ سزا کا اعلان بھی کردیا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ووٹر کو زبردستی پولنگ اسٹیشن سے نکالنا اور ووٹر کو ووٹ ڈالے بغیر باہر جانے پر مجبور کرنا انتخابی بدعنوانی ہوگی۔بالواسطہ یا بلاواسطہ ووٹر کو ووٹ ڈالنے یا روکنے کے لیے کوئی تحفہ دینا، پیشکش یا وعدہ رشوت تصور ہوگا جبکہ کسی شخص کو ووٹ ڈالنے یا نہ ڈالنے پر مجبور اور قائل کرنے لیے طاقت یا تشدد کا استعمال بھی جرم ہوگا۔اس کے علاوہ دھمکی دینا، زخم یا نقصان پہنچانا، مذہبی شخصیت کی خوشنودی یا ناراضی سے متعلق دھمکی دینا بھی غیر قانونی جبکہ ووٹر کو اغوا، دھونس یا دھوکہ دہی اور ناجائز اثر رسوخ بھی جرم تصور ہوگا۔بیلٹ پیپر یا سرکاری مہر خراب کرنا، پولنگ اسٹیشن سے بیلٹ پیپر اٹھانا، بیلٹ باکس میں ووٹر کی پرچی کی جگہ دوسرا بیلٹ پیپر ڈالنا، بغیر اجازت کسی دوسرے کو بیلٹ پیپر مہیا کرنا اور بیلیٹ باکس یا بیلٹ پیپر اٹھالے جانا یا باکس کی سیل توڑنا بھی جرم قرار دیا گیا ہے۔پولنگ عمل میں خلل ڈالنا، جیسے انتخابی عمل کو کسی سرکاری ملازم کی مدد سے روکنا یا امیدوار کا انتخاب ممکن بنانے کی کوشش، پولنگ اسٹیشن پر بار بار ووٹ ڈالنے کی کوشش، پولنگ کے دوران آتشی اسلحہ کی نمائش یا ہتھیار رکھنا اور سرکاری ملازم کو تشدد کا نشانہ بنانا بھی غیر قانونی عمل ہو گا۔پولنگ اسٹیشن کے نزدیک شور کرنا جس سے ووٹر پریشان ہوں، انتخابی بے ضابطگی جبکہ پریزآئڈنگ افسر یا عملے کے کام پر اثر انداز ہونے کی کوشش اور پولنگ اسٹیشن کی 4 سو میٹر کی حدود میں ووٹر کو قائل کی کوشش غیر قانونی تصور کیا جائے گا۔الیکشن ایجنٹ کے لیے مخصوص جگہ یا ارد گرد 100 میٹر کے فاصلے پر کوئی نوٹس یا انتخابی نشان، بینر یا امیدوار کے خلاف پرچم لگانا جرم ہوگا۔ووٹر نے کس کو ووٹ دیا ہے، یہ جاننے کی کوشش کرنا یا ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد ایسی معلومات دینا یا ڈالے ہوئے ووٹ کی تصویر لینا یا کوشش کرنا بھی جرم تصور کیا جائے گا۔الیکشن کمیشن کے مطابق ان تمام جرائم میں سیشن جج مجرم کو 3 سال قید یا ایک لاکھ روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں سنا سکے گا۔پولیس سمیت دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار پولنگ اسٹیشنز کے اطراف میں پیٹرولنگ بھی کریں گے جبکہ ہیلی کاپٹرز کے ذریعے فضائی نگرانی بھی کی جائے گی ۔





































